Monday, 9 June 2014

حساس تنصیبات پر ہونے والے چند بڑے حملے

کراچی کے ہوائی اڈے کے اندر سے براہِ راست نشریات بند ہونی چاہیئں کیونکہ یہ کارروائی میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔ اس کی مدد سے فوجیوں کی موجودگی اور اہم مقامات کی نشاندہی ہو رہی ہے جو دہشت گردوں کی مدد کے مترادف ہے۔"
ڈی جی آئی ایس پی آر، عاصم باجوہ

حساس تنصیبات پر ہونے والے چند بڑے حملے

  • دسمبر 2012 میں، پشاور میں باچہ خان ہوائی اڈے پر شدت پسندوں نے دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی، راکٹوں اور بھاری اسلحے کے ساتھ حملہ کیا تھا۔ جوابی کارروائی میں حملہ آوروں سمیت نو افراد ہلاک ہوئے۔
  • اگست 2012 میں، ضلع اٹک میں، پاک فضائیہ کی کامرہ ائر بیس کو شدت پسندوں نے ایک منظم کارروائی کا نشانہ بنایا۔ان کے پاس راکٹ پروپیلڈ گرینیڈ اور خودکار ہتھیار تھے۔ حملے میں فضائیہ کے دو اہلکار اور نو حملہ آور مارے گئے جبکہ ایک کو حراست میں لیا گیا۔
  • مئی 2011 میں، کراچی میں پاکستانی بحریہ کی مہران بیس پر حملہ ہوا۔ جدید اسلحے سے لیس ایک درجن کے قریب دہشتگردوں نے پی این ایس مہران پر حملہ کیا تھا۔ پاکستانی بحریہ کا ایک اہم جہاز اوریئین تباہ ہوا۔ دس اہلکار اور تین شدت پسند مارے گئے۔
  • اکتوبر 2009 میں، پاکستانی فوج کے راولپنڈی میں صدر دفتر پر حملہ آوروں نے دھاوا بولا۔ بائیس گھنٹوں تک جھڑپیں جاری رہیں اور بائیس افراد ہلاک ہوئے۔
مندرجہ بالا تمام حملوں کی ذمہ داری کالعدم تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان نے قبول کی
کسی جہاز کو اغوا نہیں کیا گیا ہے۔ ایئر پورٹ کے ایک حصے میں چند ناکارہ طیارے کھڑے تھے جن میں سے ایک کو گولیاں لگی ہیں اور اس مقام سے دھواں اٹھ رہا ہے۔"
سول ایوی ایشن کے ترجمان عابد قائم خانی

www.swatsmn.com

No comments:

Post a Comment

10th National Desert Hike 2025 (Rambler Badge Hike for Rover Scouts)

10th National Desert Hike 2025  (Rambler Badge Hike for Rover Scouts) Chulistan ,روحی   نیشنل ڈزرٹ ہائیک 2025 تاریخِ عالم اس امر کی شاہد ہے ...