ڈیرہ نواب کا صادق گڑھ محل
یہ قلعہ جٹ بھٹی راجپوت قبیلے کی تاریخی عظمتوں کا امین ہے۔ تاریخ دانوں کے مطابق جیسل میر اور موجودہ بہاولپور ریاست کے قدیم جٹ بھٹی راجپوت حاکم راول دیو راج بھٹی نے 800 عیسوی میں اس کی تعمیر کرائی۔ اس دور میں اس راجا کو راجا ڈیوا بھٹی بھی کہا جاتا تھا۔ قلعہ ڈیراور، بہاولپور سے 100 کلومیٹر کے فاصلے پر تحصیل احمد پور شرقی میں چولستان صحرا کے درمیان میں میلوں دور تک دیکھا جا سکتا ہے۔چولستان میں واقع اس قلعے کی دیواریں اور ان کی ساخت عہد رفتہ کی شان و شوکت کی مظہر ہیں اور اس خطے کی ماضی کی امین ہیں۔ تاریخ دانوں کے مطابق چونکہ ریاست جیسل میر اور موجودہ بہاولپور ریاست کے قدیم جٹ بھٹی راجپوت حاکم راول دیو راج بھٹی نے 800 عیسوی میں اس کی تعمیر کرائی۔ اسی لیے اس کا نام دیو راول قلعہ تھا جو بگڑ کر ڈیوا راوڑ اور اب ڈیراور ہو گیا ہے۔ ایک اور روایت کے مطابق شری کرشن جی مہاراج جن کا جنم چندر بنسی قبیلے میں ہوا اورچندر بنسی اصلا اور نسلا جاٹ بن سندھ بن حام بن نوح علیہ اسلام کی آل میں سے ہیں کی ہی نسل سے ایک انتہاٸی خوش بخت اور جنگجو راجا بھٹی کا جنم ہوا جو اصلاً اور نسلاُ جٹ ہی تھا مگر بعد ازاں وسیع وعریض راج پاٹ کی بدولت تاریخ میں راجپوت مشہور ھوا۔ اور اس راجا جٹ بھٹی کی نسل سے یکے بعد دیگرے کثیرالتعداد راجے مہاراجے ہوئے جن میں سے ایک راجے کا نام راول دیو راج جٹ بھٹی بھی تھا جو وادی ہاکڑہ (چولستان) کا عظیم الشان حکمران ہوگزراہے۔ اس خطے کی قدیم زبان وہی تھی جسے آج کل سراٸیکی کا نام دیا گیا ہے۔ اور سراٸیکی کے بہت سے الفاظ میں حرف” د“ عموماً حرف ”ڈ“کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔مثلاً دادا سے ڈاڈا،دانت سے ڈند،درانتی سے ڈاتری ،دینا سے ڈینا ،دیوا سے ڈیواوغیرہ وغیرہ لہازہ راجا دیوا بھٹی کو راجا ڈیوا بھٹی بھی کہا جاتا تھا نیز یہانپر میں آپکو یہ بھی بتاتا چلوں کہ لفظ دیوا دراصل سنسکرت یا ہندی کے لفظ دیوتا کا اختصار ہے اور اس کی مزید مختصر صورت لفظ دیو ہے۔ چنانچہ راجا دیو نے چولستان (وادیٍ ہاکڑہ)میں جو قلعہ تعمیر کیا تھا اس دور میں اسے دیو اوور یا ڈیوا اوور کہا جاتا تھا۔”اوور“ سنسکرت زبان کا لفظ ہے جس کے معنی قلعہ/کوٹ/فورٹ کے ہیں اسی طرح ڈیوا اوور سے مراد راجا ڈیوا بھٹی کا قلعہ ہے۔جو بعد ازاں قلعہ ڈیراوڑ /ڈیراول مشہور ہوا۔ (جو بعد میں راجا ڈیوا کے خاندان سے حاکم بہاولپور صادق خاں عباسی کے خاندان کی ملکیت بنا اور آج کل جس میں بہاور لپور کے حکمران عباسی خاندان کے بزرگوں کے مقبرے یا مزارات ہیں ) بالکل اسی طرح جسطرح راجا کہر یا راجا کیہار جٹ بھٹی نے اس دور میں دریاٸے بیاس اور ستلج کے سنگم پر ایک قلعہ تعمیر کیا تھا جسے اس دور میں ”کہراوور“ (راجا کہر جٹ بھٹی کا قلعہ)کہا جاتا تھا جو بعد میں کہروڑ اور پھر کہروڑ پکا مشہور ہوا ۔ جیسے راجا لہو اور راجا کسو کے قلعے ”لہواوور“,”کسواوور“ بعد ازاں لاہور اور قصور مشہور ہوٸے۔ ایک اور روایت کے مطابق یہ قلعہ بھاٹی خاندان کے حکمران رائے ججہ نے نویں صدی عیسوی میں تعمیر کروایا۔ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ رائے ججہ نے اپنے بھتیجے سے اختلاف کی وجہ سے اس قلعہ کی تعمیرومرمت رکوا دی تھی۔ جس پر رائے ججہ کی بہن نے اسے سمجھایا کہ بھٹی/بھاٹی اور بھاٹیا ایک ہی قوم ہیں لہذا قلعہ کی تعمیر جاری رکھیں۔لوک روایت میں اس واقعہ کا ذکر کچھ اس طرح ہوا ہے۔ رائے ججہ سائیں، تیکوں وڈی بھین سمجھاوے بھٹی تے بھاٹیا ہن ہکو کوٹ اسارن ڈے۔ 1733ء میں نواب صادق محمد خان اول نے اس قلعہ کو فتح کیا۔ اگرچہ 1747ء میں جیسل میر کے راجا راول سنگھ نے اس قلعہ پر دوبارہ قبضہ کر لیا لیکن 1804ء میں نواب مبارک خان نے یہ دوبارہ حاصل کر لیا۔ اس کے بعد سے یہ بہاولپور کے حکمرانوں کی شاہی رہائش گاہ بنارہا۔ نوابوں کے مختلف ادوار میں اس قلعہ کی وقتا فوقتا مرمت اور تزین و آرائیش کی جاتی رھی لیکن ریاست کا دار الحکومت بہاولپور بننے سے آہستہ آہستہ اس پر بعد میں آنے والے حکمرانوں کی توجہ کم ہوتی گئی اور اب یہ قلعہ بہت خستہ حالت میں بدلتا جا رہا ہے۔ جس کی بنیادی وجہ یہ قلعہ آج بھی نواب کی ملکیت ہے۔قلعہ ڈیراور کے اردگرد کئی آثار قدیمہ کے مقامات ہیں جو وادی سندھ کی تہذیب سے بھی پرانے ہیں لیکن آج تک یہاں پر کھدائی نہیں ہو سکی۔قلعہ کے ساتھ واقع تالاب کے بارے میں کہا جاتا کہ اس کی تہ پیتل کی دھات سے بنائی گئی ہے تاکہ بارش کا پانی صحرا میں جذب نہ ہو سکے۔ قلعہ کے پاس ہی لال قلعہ دہلی کی موتی مسجد کی طرز پر بنائی گئی شاہی مسجد قلعہ کی شان اور خوبصورتی میں اضافہ کرتی ہے۔ قلعہ میں خفیہ سرنگوں کا ایک جال بھی بچھایا گیا تھا جو جنگ کی صورت میں خفیہ راستے کے طور پر استعمال ہوتی تھیں۔ لیکن اب سکیورٹی خدشات کی وجہ سے حکومت پاکستان نے ان سرنگوں کو بند کروا دیا ہے۔ صدر لوک سیوا وارث ملک کے مطابق قلعہ ڈیراور میں دفاتر، قید خانہ، پھانسی گھاٹ، رہائش گاہیں اور پانی کا کنواں جو تالاب سے جڑا ہوا تھا، موجود تھے۔ اس قلعہ میں نواب صاحب اپنے درباریوں کے ساتھ کھلا دربار منعقد کرتے تھے اور سزاوں کے احکامات جاری کرتے تھے۔ آج بھی یہ قلعہ نواب خاندان کی ملکیت ہے۔ یہاں پر تین چوکیدار بھی انھیں کی طرف سے متعین ہیں۔ یہ قلعہ چولستان جیپ ریلی کا اختتامی پوائنٹ بھی ہے۔ جس کی وجہ سے کافی ملکی اور غیر ملکی سیاح اس تاریخی مقام کی سیر بھی کرتے ہیں۔
اصحاب رسول (ص) کے مزارات
قلعہ ڈیراور کے بالکل مغرب میں اصحاب رسول( ص) کی مزارات ہیں۔ روایت کی جاتی ہے کہ یہ چار صحابہ کرام چولستان کے اس خطے میں تبلیغ اسلام کی خاطر ائے آئے۔ یہ قبریں چند سال پہلے تک کچی حالت میں موجود تھیں، جن کے نام نہیں تھے مگر اب فرضی نام دے کر ان کی تعمیر نو کی گئی ہے ۔ عرصہ دراز سے نسل در نسل آج بھی ہندو مسلم عقیدت سے زیارات کرتے ہیں۔ کئی فٹ لمبے مزارات روحانیت سے بھر پور وہاں کے رہائشیوں کے دلوں کو منور کرتے ہیں۔ مزارات پر دور دراز سے لوگ زیارت کے لیے آتے ہیں اور اسی طرح ان مزارات کے دروازے ہمیشہ ایسے کھلے رہتے کہ وہ کبھی یہ نہیں پوچھتے ان مزارات پر آنے والا کس مذہب سے تعلق رکھتا ہے۔
قلعہ ڈیر اور اصحاب رسول (ص ) کے مزارات ، شاہی مسجد ، شیو جی کا مندر ، راما پیر کا میلہ ، ایسی مذہبی ہم آہنگی کی مثال ہے ،جو بہت کم کہیں دیکھائی دیتی ہے۔ مقامی روہیلے سینکڑوں سالوں سے مکمل طورپر انسانیت اور بھائی چارہ کی مثال ہیں۔ لوگوں نے غیر محسوس طریقہ سے آج بھی ریت،پریت،محبت،مہمان نوازی،رواداری اور عاجزی جیسے اوصاف بھر پور طریقے سے نبھاتے ہیں۔ چولستان میں آپ کو ہزاروں سالوں سے روایت پسندی و مہمان نوازی کے سچے جذبہ میں گندے حقیقی دھرتی زاد چولستانی دیکھائی دیں گے۔
اگر ہم تاریخ کے پنوں کی ورق گردانی کریں تو ہمیں ایک سے بڑھ کر ایک قابل رشک مناظر نظر آئیں گے، تقسیم پاک و ہند سے پہلے کے آباد شدہ تقریباً ڈھائی سو گھروں پر مشتمل بندوں اور تقریباً 600 مسلم گھروں میں بسنے والے تعلیم یافتہ نا ہونے کے باوجود انسانیت سے بھر پور زندگی گزار رہے ہیں۔
صدیوں سے تاریخ کے ہزاروں راز اپنے سینہ میں دفن کئے قلعہ ڈیراور کے ہر برج سے کہانیاں پھوٹ رہی ہیں۔
انسان دوست رویئے،بین المذاہب ہم آہنگی اور جرات کی جیتی جاگتی تصویریں آپ کو قلعہ کے اردگرد نظر آئیں گی۔مثلاً
قلعہ کی شاہی مسجد اور شیو جی کا مندر
محمد اعجاز الرحمٰن جو کہ ریسرچ سکالر آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے ہیں، انہوں نے اپنی ریسرچ کے مطابق گفتگو میں بتایا کہ قلعہ کے بلکل متصل جنوب میں تاریخی مندر بھگوان شیو جی کے مندر کی عمارت ہے۔ ہندو مت میں بھگوان شیوا جی کو دیوتاؤں کے دیوتا سمجھا جاتا ہے۔ بھولے ناتھ،شنکر،نیل کنٹھ اور مہیش یہ سب نام بھگوان شیوا جی کے ہیں۔
اسی طرح قلعہ کے بلکل قریب شرقی جانب تاریخی شاہی جامع مسجد موجود ہے۔ اس مسجد کی شبہات بہاولپور کی جامع مسجد،لاہور کی مغل پیریڈ کی جامع مسجد اور دہلی کی جامع مسجد جیسی ہے۔
اسی طرح اس مسجد کا فن تعمیر بھی شاندار اور تاریخی ہے۔ یہاں کا نظارہ آپ کو خوشگوار حیرت میں مبتلا کر سکتا ہے۔ جہاں پر آنے والے سیاحوں اور ہندو ازم سے تعلق رکھنے والے سب بے خوف آ سکتے ہیں۔ انہیں کوئی روکتا نہیں ہے ، نا ہی کوئی فتویٰ لگا تا ہے۔ عقیدت مند بے فکر ہو کر آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ یہ سب جیسے صدیوں سے چل رہا تھا آج بھی ویسے ہی چل رہا ہے
چولستان میں واقع قلعہ نواں کوٹ 156مربع میٹر پر اندر کی طرف پھیلا ہوا ہے۔ اس کی تعمیر میں گارے کے ساتھ کچی اینٹوں کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس کے چاروں کونوں پر 45ڈایا میٹر کے برج بنائے گئے تھے مگر عدم توجہی کے باعث یہ تاریخی ورثہ تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا۔
اس کا داخلی دروازہ 10فٹ چوڑا ہے اور اس کے دونوں اطر اف ایک قطار کی صورت میں محافظوں کے کمرے بنائے گئے تھے۔ ان کمروں کی تعمیر میں پختہ اینٹوں کا استعمال کیا گیا۔ قلعہ کے وسط میں مغربی دیوار کے ساتھ پانچ کمروں کے آثا ر ملتے ہیں۔



















.jpeg)













.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)