کارکنان میں بڑی تعداد میں خواتین بھی شامل تھیں
www.swatsmn.com
طاہر القادری کی انتقام لینے کی دھمکی
انقلاب‘ کے نعرے کے ساتھ وطن لوٹنے والے پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری ایک طویل اور ڈرامائی سفر کے بعد پیر کی شام لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن کی اپنی رہائش گاہ پہنچ گئے ہیں۔
اپنے سفر کے آخری مرحلے میں طاہر القادری امارات فضائی کمپنی کی ایک پرواز کے ذریعے جب دبئی سے اسلام آباد پہنچے تو ان کے طیارے کو بینظیر انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اترنے کی اجازت نہیں مل سکی اور جہاز کو کچھ دیر دارالحکومت کی فضا میں چکر لگانے کے بعد لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اترنے کا حکم ملا۔
یہ وہ ہی ایئرپورٹ ہے جہاں سات سال کی جلا وطنی کے بعد موجودہ وزیراعظم نواز شریف مشرف کے دور میں لندن سے نجی ایئر لائن کے ذریعے پہنچے تھے تو جگہ جگہ پولیس ناکے تھے اور ن لیگ کے کارکنوں کے ساتھ تقرییاً ایسا ہی سلوک دیکھنے میں آیا جسیا کہ تئیس جون دو ہزار چودہ میں دیکھنے میں آیا تھا۔ تاہم اس وقت بھی ایک ڈرامائی صورتحال تھی۔ یہ ڈرامائی سفر آخر میں جدہ پر اختتام پذیر ہوا جب نواز شریف دوبارہ جلاوطن ہو کر لندن سے راولپنڈی اور راولپنڈی سے جدہ پہنچے۔
طاہر القادری کی آمد پر راولپنڈی اور اسلام آباد میں زبردست حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے اور ہوائی اڈے کو جانے والے تمام راستوں کو ’سیل‘ کر دیا گیا تھا اور ہوائی اڈہ مکمل طور پر جڑواں شہروں سے کٹ گیا تھا۔ سڑکوں کو کنٹینر لگا لگا کر بند کر دیا گیا تھا۔
راولپنڈی میں موجود پاکستان عوامی تحریک کے ہزاروں کارکنوں کی جن میں خواتین کی بھی ایک بڑی تعداد موجود تھی پولیس سے کئی جگہوں پر جھڑپیں ہوئیں۔ پولیس کی بھاری نفری نے جو طاہر القادری کے سیاسی کارکنوں کو ہوائی اڈے سے دور رکھنے کے لیے تعینات کی گئی تھی عوامی تحریک کے کارکنوں پر وقفے وقفے سے آنسو گیس کی شیلنگ کرتی رہی۔ اس دوران ہونے والی جھڑپوں میں پولیس نے اپنے سو اہلکاروں کے زخمی ہونے کا دعوی کیا۔
طاہرالقادری نے ہوائی جہاز کے لاہور پہنچنے پر طیارے سے باہر آنے سے انکار کردیا۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ وہ صرف فوج کی حفاظت میں طیارے سے باہر آئیں گے۔ کئی گھنٹوں تک طیارے میں رہنے کے بعد آخر کار پیر کی شام میں وہ گورنر پنجاب محمد سرور اور پاکستان مسلم لیگ قائد اعظم کے سربراہ چوہدری پرویز الہی کے ہمراہ طیارے سے باہر آئے۔
No comments:
Post a Comment