امریکہ اپنے مغوی فوجی کی رہائی کیلئے پاکستان میں ایبٹ آباد طرز کا آپریشن کرناچاہتاتھا: امریکی وبرطانوی میڈیا کا دعویٰ
لندن ، واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی و برطانوی میڈیا نے دعویٰ کیاہے کہ ایک مرتبہ پھر امریکی فوج اپنے سارجنٹ بووی برگڈال کی رہائی کے لیے امریکی فوج پاکستانی سرحد کے اندر ایبٹ آباد طرز کی کارروائی کرنے کے لیے پوری طرح سے تیار تھی لیکن ٹھوس خفیہ معلومات کی عدم موجودگی اور پاکستان میں دکھائی دینے والے امریکی ہیلی کاپٹروں یا طیاروں کو مارگرانے کے احکامات کی وجہ سے وہ ایسا کرنے سے باز رہی۔
افغانستان پاکستان معاملات پر امریکی وزارت دفاع میں سابق نائب وزیر دفاع ڈیوڈ سڈن کے مطابق 2009ءمیں برگڈل کو یرغمال بنائے جانے کے بعد سب سے پہلے اس بات کی کوشش کی گئی تھی کہ انھیں پاکستان لے جائے جانے کو روکا جائے لیکن پاکستان پہنچنے کے بعد گڈال کی رہائی مشکل ہو گئی اور اس کے لیے پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کی مدد طلب کی گئی۔ڈیوڈ سڈن کا کہنا تھاکہ برگڈال حقانی نیٹ ورک کے قبضے میںتھے اور جہاں تک مجھے علم ہے امریکہ کو پاکستان سے کوئی مدد نہیں ملی،مستقبل میں امریکہ اور پاکستان کے مابین تعلقات کی بات ہو تو اس پر امریکہ کو غور کرنا چاہیے۔امریکی اخبارواشنگٹن پوسٹ اخبار کے مطابق فوجی حکام کو کم از کم دو بار پاکستان میں برگڈال کے ٹھکانے کا سراغ ملا تھا اور واشنگٹن میں اس بات پر بحث بھی ہوئی تھی کہ پاکستان میں گھس کر ان کو رہا کروا لیا جائے،رہائی کے بعدفوجی کے والدین بھی وائٹ ہاو¿س میں امریکی صدر براک اوباما سے ملے۔
اخبار کے مطابق اس وقت امریکی فوج کے سب سے اعلیٰ افسر ایڈمرل مائیک مولن اور امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے سربراہ لیون پنیٹا پاکستان میں اس حوالے سے کارروائی کے حق میں تھے۔ڈیوڈ سڈن کے مطابق اسامہ بن لادن کے خلاف ایبٹ آباد میں ہونے والی امریکی کارروائی کے بعد یہ فیصلہ مزید مشکل ہو گیا تھا کیونکہ پاکستانی فوج کے ساتھ تعلقات بہت خراب ہو گئے تھے۔پاکستانی فوج نے یہ حکم جاری کر دیا تھا کہ اگر پاکستانی حدود کے اندر امریکی ہیلی کاپٹر نظر آ جائیں تو انھیں مار گرایا جائے، ایسے میں کسی بھی حکمتِ عملی کے لیے ہمیں ٹھوس خفیہ معلومات کی ضرورت تھی جو دستیاب نہیں تھی۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق رہاہونیوالے امریکی فوجی کے اعزاز میں تقریب بھی اِس وجہ سے منسوخ کردی گئی کیونکہ بعض حلقوں میں اُنہیں میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنے والا کہا جا رہا ہے، مبصرین اور فوجی اُنہیں بھگوڑا قرار دیتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ وہ سزا کے مستحق ہیں۔
www.swatsmn.com
No comments:
Post a Comment