www.swatsmn.com
آصف زرداری کا سرے محل برائے فروخت
ایکڑ اراضی پر مشتمل راک وُڈ سٹیٹ کی اندازاً قیمت ایک کروڑ پاؤنڈ ہے جس میں ایک ہوائی پٹی بھی شامل ہے۔ برطانیہ کے علاقے سرے میں واقع مشہور146راک وُڈ سٹیٹ جسے پاکستان میں سرے محل کے نام سے جانا جاتا ہے اگلے مہینے نیلام ہو رہا ہے جس کے بعد اسے گرائے جانے کا امکان ہے۔ یہ گھر ایک زمانے میں پاکستانی سیاست میں گرما گرم بحث و مباحثے کا مرکز رہا ہے کیونکہ ایک دور میں اس کے مالک سابق صدر آصف علی زرداری رہ چکے ہیں۔ ایسا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے جس سے پتا چلتا ہو کہ بینظیر بھٹو یا آصف علی زرداری اس گھر میں کبھی رہائش پذیر رہے۔ اس اسٹیٹ کی اندازاً قیمت یا گائیڈ پرائس ایک کروڑ پاؤنڈ ہے۔ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری جب میں بدعنوانی کے مقدمات کا سامنا کر رہے تھے تو انہوں نے اس کی ملکیت کو تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا۔ 2004 میں اچانک آصف علی زرداری نے یہ تسلیم کیا کہ یہ ان کی ملکیت ہے اور 2005 میں اس کی ملکیت تبدیل ہوئی مگر گذشتہ دس سال سے یہ خاندانی رہائش کے طور پر استعمال نہیں ہو رہا ہے۔ 2004 میں اچانک آصف علی زرداری نے یہ تسلیم کیا کہ یہ ان کی ملکیت ہے مقامی سٹیٹ ایجنٹ نِک فریتھ کا کہنا ہے کہ اس پراپرٹی کا ایک دلچسپ ماضی ہے ۔ 2 ستمبر 2013 کو یوٹیوب پر اپ لوڈ کی گئی کلِک ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اس مینشن میں ایک ٹرانس موسیقی کی پارٹی منعقد کی گئی تھی جبکہ برطانوی اخبار میل آن لائن نے اس جگہ ہونے والی کلِک پرائیوٹ سیکس پارٹیوں کے بارے میں بھی گذشتہ سال خبر شائع کی تھی۔ فریتھ کا کہنا ہے کہ ہر قسم کی عجیب و غریب پارٹیاں یہاں ہوتی رہیں جو اس کے کرائے داروں کی جانب سے کی جاتی تھیں جو کچھ عرصے یہاں رہے۔ میرا نہیں خیال یہاں کوئی غیر قانونی کام ہوتا رہا ہے بلکہ سبھی اچھا وقت گزرا رہے تھے۔ یہ گھر 1910 میں تعمیر کیا گیا تھا اور ابھی تک اس کی بعض ابتدائی تعمیرات باقی ہیں جیسا کہ لکڑی کی پینلز والا مطالعہ کا کمرہ ہے۔ یہ گھر1910 میں تعمیر کیا گیا تھا اور 2005 میں اسے ایک نئے خریدار نے خریدا تھا بعد میں اس میں تانبے کا دروازہ لگایا گیا جو فریتھ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ سے لایا گیا تھا۔ فریتھ کا کہنا تھا کہ یہ بہت اچھی حالت میں رکھا گیا ہے مگر اسے جدید زمانے کے مطابق لانے کے لیے آپ کو کئی ہزار پاؤنڈ خرچ کرنے پڑیں گے۔ اس گھر کے ساتھ ملحق 360 ایکڑ اراضی پر ایک ہوائی پٹی بھی ہے۔ اس گھر کو خریدنے کے لیے خریدار مشرق بعید، مشرقِ وسطی، امریکہ اور برطانیہ سے دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ 4 جولائی کو ہونے والی نیلامی میں کون اسے خریدتا ہے۔
No comments:
Post a Comment