www.swatsmn.com
میاںوالی نے اپنی رت بدلی۔ دریائے سندھ کے پانی میں گندھی ہوئی مٹی نے کہا {توجہاں بھی پھرتا رہے ، جن آسمانوں پر بھی پرواز کرتا رہے ، تجھ سے میرے خمیر کی خوشبوکی چہکار ضرور اٹھےگی} عمران خان کا خمیر بھی میانوالی سے اٹھا ہے ۔ میانوالی ایک عجیب سرزمین کا نام ہے ۔ یہ تیس میل چوڑی اورتقریبا پچاس میل لمبی ایک سرسبز و شاداب وادی ہے ، جس کے تین اطراف میں بے آب و گیاہ پہاڑی سلسلے ہیں اور ایک طرف صحرا ہے ۔ ریت ہی ریت ہے ۔ دریائے سندھ پہاڑوں سے نکل کر پہلی بار جس میدانی علاقہ میں اترتا ہے وہ یہی میانوالی کی وادی ہے ۔ اقبال کا کہا یاد آرہا ہے کہ فطرت کے مقاصد کی نگہبانی یا مرد کوہستانی کرتا ہے یابندہ صحرائی اور میانوالی کے لوگ تو صرف بندہ صحرائی اور مرد کوہستانی ہی نہیں مرد میدانی اور مرد دریائی بھی ہیں ۔ یعنی جیون کے خوبصورت مقاصد کی نگہبانی کے لئے عمران خان کا انتخاب کوئی اتفاق نہیں بلکہ قدرت کا ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہے ۔ میں ویسے {اتفاق} کا قائل ہی نہیں ہوں ۔ میرے نزدیک کہیں بھی کوئی اتفاق نہیں ہوتا ۔ وہی کچھ ہوتا ہے جو ہونا ہوتا ہے ۔
یعنی یہ بات آسمانوں پر کہیں طے کردی گئی تھی کہ اس زوال آمادہ قوم نے عمران خان کے پیچھے پیچھے چل کر آخر ایک دن اندھیروں بھری پستیوں سے باہر نکلنا ہے ۔ اگر چہ عمران خان کے راستے میں راتوں کے پولیس مین خندقیں کھودتے پھرتے ہیں مگر وہ مسلسل شاہرا قائداعظم پر آگے بڑھتےچلے جارہے ہیں۔ یعنی نواز حکومت کی پریشانیوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ حکومت کی حالت کا اندازہ میں اپنے بہت محترم دوست عطاء الحق قاسمی کے کالموں سے لگایا کرتا ہوں اور قاسمی صاحب جب کسی شخصیت کے خلاف اس کا نام لے کر کچھ لکھتے ہیں تو مجھے معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ[بدمعاش] اب [شریفوں] کی برداشت سے باہر ہوگیا ہے وگرنہ قاسمی صاحب حتی المقدور کوشش کرتے ہیں کہ وہ صرف ایسے کالم لکھیں جن سے لوگوں کو مسرتوں کی کمک ملتی رہے۔
وفاقی وزیراطلاعات پرویز رشید اگر چہ بہت سمجھدار شخص ہیں ۔ ان کے دامن پر کرپشن کا بھی کوئی داغ دکھائی نہیں دیتا مگر حکومت کی سرگردانی اکثر ان کے چہرے سے ظاہر ہوجاتی ہے ۔ گذشتہ روز جب انہوں نے کہا کہ عمران خان اگلا الیکشن بھی ہار جائیں گے تو میرے جیسے سیدھے سادھے لوگ بھی کھلکھلا کر ہنس پڑے ۔ انہوں نے اس طرف دھیان ہی نہیں دیا کہ اگر عمرا خان اگلا الیکشن ہار جائیں گے تو پھر جیتے گا کون ؟، شاید ان کا خیال ہو کہ جس طرح پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ کو اپنی باری بڑی فراخ دلی سے دیدی ہے اسی طرح مسلم لیگ نون پھر پیپلز پارٹی کو ایک اننگ اور کھیلنے کا موقع دیگی ۔ پرویز رشید صاحب ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ کیونکہ پیپلز پارٹی کو آصف علی زرداری نے جہاں دفن کردیا ہے وہاں سے بلاول تو کجا اس کا نانا ذوالفقار علی بھٹو بھی اپنی پارٹی کو دوبارہ زندہ نہیں کرسکتا۔
ممکن ہے آپ کے دماغ نے کہا ہو کہ الیکشن جب ہوں گے تو لوگ ایک بار پھر ہمیں ووٹ دیں گے ۔ تقریبا تمام حکمران جب حکومت میں آجاتے ہیں تو پھر ان کا یہی خیال ہوتا ہے کہ بس اب زندگی بھر انہوں نے ہی اقتدار میں رہنا ہے ۔ ان کے اس خیال کے بارے میں صرف اتنا تبصرہ ہے کہ ممکن ہے کہ کبھی پیپلز پارٹی زندہ ہوجائے مگر یہ طے ہے کہ نون لیگ کی حکومت پھر اس ملک پر کبھی مسلط نہیں ہوسکتی ۔ غربت ، مہنگائی ، لوڈشیڈنگ ، بھارتی حکمرانوں کی کاسہ لیسی اور ناانصافی اس حکومت کے ایسے جرائم ہیں جنہیں قوم کبھی معاف نہیں کرسکتی ۔
مستقبل قریب میں قدرت نے قوم کو اس تباہ حالی سے نکالنے کیلئے عمران خان کا انتخاب کیا ہے ۔ یقینا کسی بزرگ کی دعا قبول ہوئی ہے ۔ کسی دوائی کو ترستی ہوئی بڑھیا کی فریاد رب نے سن لی ہے ۔ کسی اندھیرے گھر کے سرد چولہے پر بیٹھی ہوئی کسی ماں کی آہ فلک کو چیر گئی ہے ۔۔۔۔۔ مجھے پورا یقین ہے کہ لوڈ شیڈنگ کی یہ رات بس اب ختم ہونے والی ہے ، مہنگائی کی یہ سلگتی ہوئی دوپہر ڈھلنے والی ہے ، غربت سے رہائی کا جذبہ اک شوخ پرچم میں بدلنے والا ہے ۔ سونے کے قفس کے کڑیوں میں پھڑکتے ہوئے مجبور آزاد ہونے والے ہیں ۔ سچ مچ جمہور کی سلطانی کا دور منور آنے والا ہے ۔ بہت جلد سچ مچ کے انتخابات ہونے والے ہیں جس میں غریب آدمی کو صرف ووٹ دینے کا حق نہیں ووٹ لینے کا حق بھی حاصل ہوگا ، یعنی جیون کی سہانی گھڑیوں میں دل اور طرح سے دھڑکنے والے ہیں۔
میانوالی کی مٹی سرخرو ہونے والی ہے ۔ اس وقت پوری قوم عمران خان کی آواز پر لبیک کہہ رہی ہے ۔ یہ آوازہ اگر کسی کو سنائی نہیں دے رہی تو اسے اپنی سماعت کا علاج کرانا چاہیئے۔ اگر کسی کو عمران خان کا یہ کہنا اچھا نہیں لگتا کہ [راحیل سن لو] تو اس کے لئے عرض ہے کہ اب عمران خان کسی فرد واحد کا نام نہیں ۔ ایک زندہ و تابندہ تحریک کانام ہے ۔ پاکستانی قوم کے دھڑکتےہوئے دل کا نام ہے ، اجتماعی ضمیر کا نام ہے بلکہ پوری پاکستانی قوم کا نام ہے ۔ یقینا میانوالی کے اسی سرخیل نے فطرت کے مقاصد کی نگہبانی کرنی ہے ۔اسی نے کھجور کی ٹہنی کی طرح افق کی گود میں گرتے ہوئے پاکستان کو پھر سے مطلع الفجر پر طلوع کرنا ہے
No comments:
Post a Comment