www.swatsmn.com
Facebook :
پنجاب مین پنجاب پولس نے طاہر قادری کے کارکنان کی کیمپ پہ دھاوا بول دیا جس مین سات اموات اور کئی زخمیون کی اطلاعات ہین.
نواز حکومت سے اور کوئی توقع بھی نہین کی جا سکتی مگر طاہر قادری خود بھی اس واقعے کے ذمیداران مین شامل ہین جس کی اپنی چکنی چپڑی باتون کی وجہ سے لوگون کا قتل عام نظر آتا ہے جس نے ایسی بھیانک حرکت پی پی حکومت مین کی تھی.
بحرحال لوگ مرے ہین ان کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے.
لیکن ذرا سوچنے کا مقام ہے کہ پنجابی خون کتنا قیمتی ہے نہ کہ سات پنجابیون کا خون بہنے پہ پورا پنجاب، پنجاب نواز چمچون اور فیس بکی دانشورون کے کلیجے پھٹنے کو آ رہے ہین اور کافیون کے پاس سے الفاظ کا ذخیرہ تک گم ہو گیا
ہے.
اچھی بات ہے دکھ ہونا بھی چاہیئے، میرا کلیجہ بھی پھٹ رہا ہے لیکن یہ کلیجہ تب کسی کا کیون نہین پھٹتا جب سندھ مین مسخ لاشین دی جاتی ہین؟
جب بلوچستان مین سو سو لوگون کی اجتمائی قبرین دریافت ہوتی ہین؟
جب بیس ہزار سے زائد بلوچ سندھی کارکنان غائب ہین جن کا کچھ اتا پتا نہین کہ وہ زندہ ہین بھی یا وہ سب بھی کسی اجتمائی قبرون مین مدفون ہو چکے ہین؟
ہزارہ اور شیعہ قتل عام بھی ہے تو کراچی مین مرتے ہزارون لوگ یا کراچی ایئرپورٹ کے کولڈ اسٹور مین تڑپ تڑپ کے آھستہ آہستہ جھلسنے والے سات جوانون کی اموات پہ؟
محض اس لیئے کہ وہ پنجابی نہین تھے.
مگر انسان تو وہ بھی تھے انسان تو تیس لاکھ بنگالی بھی تھے، یا انسان صرف پنجابی ہین؟ خدا نہ خواستہ اتنابڑا قتل عام
پنجابیون کا ہوا ہوتا تو کیا ہوا ہوتا؟

No comments:
Post a Comment