سول ایوی ایشن اتھارٹی میں انچارج چیف سکیورٹی کا عہدہ 6 ماہ سے خالی
لاہور(نعیم مصطفےٰ)کراچی ائیرپورٹ پر حملہ نے ناقص سیکیورٹی کا پول تو کھول ہی دیا لیکن ساتھ ساتھ حکومتی نااہلی بھی کھل کر سامنے آگئی ہے۔ آپ کو یقینا جان کر حیرت ہو گی کہ حکومت نے کراچی جیسے بڑے ایئرپورٹ کے لئے چیف سیکیورٹی آفیسر سول ایوی ایشن اتھارٹی لگانا ہی مناسب نہ سمجھا اور پاکستان کا سب سے بڑا ائیر پورٹ کسی باقاعدہ چیف سیکیورٹی آفیسر سے گذشتہ چھ ماہ سے محروم تھا۔وزارت دفاع کو اس بارے میں کئی بار تحریری طور پر آگاہ بھی کیا گیا ہے لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔
کراچی کے انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر حملے کے وقت سکیورٹی انتظامات کا اندازہ اس امر سے کیا جا سکتا ہے کہ کہ حفاظتی اقدامات کی نگرانی کے انچارج چیف سکیورٹی افسر سول ایوی ایشن اتھارٹی کراچی کا عہدہ گزشتہ 6ماہ سے خالی تھا۔ ائیرکموڈور ریٹائرڈ جنجوعہ کی دسمبر2013ءمیں تبدیلی کے بعد نئے افسر کو تعینات کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری ہوا لیکن دو تین روز بعد ہی اسے منسوخ کر دیا گیا پھر سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ریگولیٹری ڈیپارٹمنٹ میں تعینات افسر ائیرکموڈر ریٹائرڈ ضیاءخان کو چیف سکیورٹی افسر کا اضافی چارج دیا گیا جو اپنے پرانے دفتر میں بیٹھ کرسیکیورٹی آفیسر کے امور انجام دیتے رہے لیکن اس دوران 6ماہ گزرنے کے باوجود بھی کسی افسر کو باقاعدہ چیف سکیورٹی آفیسر تعینات نہیں کیا گیا اس حوالے سے سول ایوی ایشن کے بعض افسروں کا کہنا ہے کہ وزارت دفاع کو اس بارے میں کئی بار تحریری طور پر آگاہ بھی کیا گیا ہے لیکن کسی آفیسر کی تعیناتی نہیں کی گئی۔
www.swatsmn.com
No comments:
Post a Comment