پچھلے ہفتے لاہور کی سڑکوں پر ایک پورا دن گزارنے کا موقع ملا۔ نہر کنارے واقع بحریہ ٹاؤن میں زرداری کا بم پروف گھر ایک شاہکار ھے جس کے آس پاس چڑیا بھی پر نہیں مار سکتی۔
آگے جائیں، رائے ونڈ میں شریف فیملی کے عظیم الشان محلات کی موجودگی کا احساس دور سے ہی پولیس کے ناکے دلانا شروع کردیتے ہیں۔
نہر سے ہی واپس آئیں تو پوری ظہور الہی روڈ پر چوہدری برادران کے عالیشان گھر بنے ہیں جہاں ایلیٹ پولیس کے چوکس دستے تیار کھڑے رہتے ہِیں۔
وہاں سے ڈیفنس کو چلے جائیں، شہبازشریف اور گیلانی کی رہائشگاہیں پولیس کے کڑے حصار میں نظر آتی ہیں۔
وہاں سے ماڈل ٹاؤن آئیں، ایم بلاک جہاں شیخ الاسلام کا منہاج القرآن واقع ھے، وہاں جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کرکے تمام راستوں کو بند کردیا گیا ھے تاکہ شیخ الاسلام کے فیملی ممبرز خطرات کے بغیر آجا سکیں۔
واپس مال روڈ آئیں، کئی ایکڑ پر بنا گورنر ہاؤس بھی پولیس کی سیکورٹی میں دور غلامی کی یاد دلا رہا ہوتا ھے۔
تھوڑا آگے آئیں، مال روڈ کے دل میں واقع زمان پارک عمران خان کی رہائشگاہ ھے جہاں پولیس زیادہ تعداد میں نظر نہیں آتی لیکن زرا ایک منٹ، خان صاحب کا اسلام آباد میں تین سو کنال کا گھر بھی کسی محل سے کم نہیں اور وہاں پولیس بھی تعینات ہوتی ھے۔
پاکستان کا اصل مسئلہ انتخابات میں دھاندلی یا لوڈشیڈنگ نہیں، اصل مسئلہ ان بے غیرتوں کا طرز زندگی ھے جسے بدلنے کی نہ تو کوئی کوشش کرتا ھے اور نہ ہی ارادہ۔
باقی احتجاج کرکے دل پشوری کئے جائیں، کیا فرق پڑنے والا ھے!!!
www.swatsmn.com
No comments:
Post a Comment