جیو اور اے آر وائی کا فرضی ٹاکرہ حامد رضا کی شمولیت کے ساتھ ..
اے آر وائی نے جیو کے گستاخانہ پروگرام کو دوبارہ دکھا کر گستاخی نہیں کی جیو کا اعتراض؟
اے آروائی...... ہمارا یہ پروگرام دکھانے کا مقصد یہ تھا کہ اسلام کے قلعے میں ایک چینل کس طرح لوگوں کے مذھبی جذبات سے کھیل رھا ہے ..
جیؤ ....ہمارے پروگرام کے ایک اینکر اور پروڈیوسر نے نادانستہ غلطی کی. لیکن آپ کے چینل نے ادارتی سطح پر دانستہ غلطی کرکے لوگوں کے مزھبی جذبات کو جان بوجھ کر ٹھیس پہنچائی..اگر یہ گناہ تھا. اگر یہ جرم تھا تو اس کا پرچار کرکے مذھب کی رو سے آپ بڑے مجرم بنتے ہیں.
اے آر وائی ......ہم نے مفاد عامہ کے خاطر یہ کام کیا ہے .تاکہ آئندہ کوئی یہ کام نہ کرے ..
جیؤ ..........یعنی آپ نے عوام کے مزھبی جزبات کو مشتعل کرکے ہمارے خلاف استعمال کیا ..حالانکہ اس سے زیادہ سخت عمل، ،، گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے دوران جس اخبار نے بھی ان خاکوں کو دوبارہ شائع کیا، وہ مجرم بنے علماء کی نظر میں. مصر اور ملائشیاء کے ان اخبارات کا انجام تو آپ کو یاد ھوگا ..یہ واقعہ ان علماء کے تضاد کو بھی واضح کرتا ہے. جو اس وقت آپ کے ساتھ ہیں..کیا اس واقعے سے صرف ایکسپریس اور اے آر وائی کا دل سب سے زیادہ دکھا، جو ہمارے پرانے کاروباری حریف ہیں ..
توھین رسالت کی توبہ بھی قبول نہیں. جس میں اب توھین اہل بیت کو بھی شامل کردیا گیا .. حامد رضا کی دلیل ..
قران میں تمام گناھوں کی معافی کا زکر ہے. سوائے شرک کے وہ بھی مرنے کے بعد. زندگی میں شرک سے بھی توبہ کی جاسکتی ہے.
یہ قانون آئمہ اور علماء حضرات کا قران وسنت سے تخریج شدہ ہے ..کیونکہ علماء انبیاء کے وارث ہیں. اسلئے قوانین کی تشریح اور تخریج کا اختیار رکھتے ہیں ..
لگتا ایسے ہے سب مفادات کا کاروبار ہے جس میں ہر ہتھیار استعمال کرنے کی اجازت ہے. ..اس مرتبہ جیو کے برے دن ہیں. پرانے گناھوں کی سزا شاید اب مل رہی ہے ..
شاہد.
اے آر وائی نے جیو کے گستاخانہ پروگرام کو دوبارہ دکھا کر گستاخی نہیں کی جیو کا اعتراض؟
اے آروائی...... ہمارا یہ پروگرام دکھانے کا مقصد یہ تھا کہ اسلام کے قلعے میں ایک چینل کس طرح لوگوں کے مذھبی جذبات سے کھیل رھا ہے ..
جیؤ ....ہمارے پروگرام کے ایک اینکر اور پروڈیوسر نے نادانستہ غلطی کی. لیکن آپ کے چینل نے ادارتی سطح پر دانستہ غلطی کرکے لوگوں کے مزھبی جذبات کو جان بوجھ کر ٹھیس پہنچائی..اگر یہ گناہ تھا. اگر یہ جرم تھا تو اس کا پرچار کرکے مذھب کی رو سے آپ بڑے مجرم بنتے ہیں.
اے آر وائی ......ہم نے مفاد عامہ کے خاطر یہ کام کیا ہے .تاکہ آئندہ کوئی یہ کام نہ کرے ..
جیؤ ..........یعنی آپ نے عوام کے مزھبی جزبات کو مشتعل کرکے ہمارے خلاف استعمال کیا ..حالانکہ اس سے زیادہ سخت عمل، ،، گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے دوران جس اخبار نے بھی ان خاکوں کو دوبارہ شائع کیا، وہ مجرم بنے علماء کی نظر میں. مصر اور ملائشیاء کے ان اخبارات کا انجام تو آپ کو یاد ھوگا ..یہ واقعہ ان علماء کے تضاد کو بھی واضح کرتا ہے. جو اس وقت آپ کے ساتھ ہیں..کیا اس واقعے سے صرف ایکسپریس اور اے آر وائی کا دل سب سے زیادہ دکھا، جو ہمارے پرانے کاروباری حریف ہیں ..
توھین رسالت کی توبہ بھی قبول نہیں. جس میں اب توھین اہل بیت کو بھی شامل کردیا گیا .. حامد رضا کی دلیل ..
قران میں تمام گناھوں کی معافی کا زکر ہے. سوائے شرک کے وہ بھی مرنے کے بعد. زندگی میں شرک سے بھی توبہ کی جاسکتی ہے.
یہ قانون آئمہ اور علماء حضرات کا قران وسنت سے تخریج شدہ ہے ..کیونکہ علماء انبیاء کے وارث ہیں. اسلئے قوانین کی تشریح اور تخریج کا اختیار رکھتے ہیں ..
لگتا ایسے ہے سب مفادات کا کاروبار ہے جس میں ہر ہتھیار استعمال کرنے کی اجازت ہے. ..اس مرتبہ جیو کے برے دن ہیں. پرانے گناھوں کی سزا شاید اب مل رہی ہے ..
شاہد.
www.swatsmn.com
No comments:
Post a Comment