www.swatsmn.com
ہندوستان جواہر لعل نہرو کی صاحبزادی اندرا گاندھی نے، جو بعد ازاں خود بھی وزیراعظم بنیں اور اس جملے کے مخاطب تھے
فضل نے اس طعنے کا جواب لکھنؤ میں کھیلے گئے اگلے ٹیسٹ میں دیا، پہلی اننگز میں 5 اور دوسری اننگزمیں 7 یعنی کل 12 وکٹیں لے کر، جس کی بدولت پاکستان نے ایک اننگز اور 43 رنز کے بڑے مارجن سے مقابلہ جیت کر کرکٹ تاریخ میں اپنی فتح درج کروائی۔
اس فتح کی اہمیت اس لیے بھی بہت زیادہ ہے کیونکہ 1948ء میں ہندوستان نے فضل محمود کو پیشکش کی تھی کہ اگر وہ راضی ہوں تو دورۂ آسٹریلیا کے لیے ٹیم میں ان کا نام بھی شامل کیا جائے لیکن فضل پر پاکستان کی محبت سوار تھی۔ انہوں نے ہندوستان کی جانب سے کھیلنے سے انکار کردیا، صرف اس امید پر کہ ایک دن ایسا آئے گا جب پاکستان کو بھی ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کا درجہ ملے گا اور وہ وطن عزیز کی نمائندگی کرسکیں گے۔ اس خواب کی تعبیر کے لیے انہیں 4 سال انتظار کرنا پڑا اور انہوں نے پہلے ہی دورے میں کارکردگی کے ذریعے اپنی اہلیت ثابت کردی۔ کسی نے کہا تھا کہ کاش فضل ہندوستان کی جانب سے آسٹریلیا کے خلاف کھیلتے تو ڈان بریڈمین کا اوسط کبھی 99 نہ ہوتا۔
ہندوستان جواہر لعل نہرو کی صاحبزادی اندرا گاندھی نے، جو بعد ازاں خود بھی وزیراعظم بنیں اور اس جملے کے مخاطب تھے
فضل نے اس طعنے کا جواب لکھنؤ میں کھیلے گئے اگلے ٹیسٹ میں دیا، پہلی اننگز میں 5 اور دوسری اننگزمیں 7 یعنی کل 12 وکٹیں لے کر، جس کی بدولت پاکستان نے ایک اننگز اور 43 رنز کے بڑے مارجن سے مقابلہ جیت کر کرکٹ تاریخ میں اپنی فتح درج کروائی۔
اس فتح کی اہمیت اس لیے بھی بہت زیادہ ہے کیونکہ 1948ء میں ہندوستان نے فضل محمود کو پیشکش کی تھی کہ اگر وہ راضی ہوں تو دورۂ آسٹریلیا کے لیے ٹیم میں ان کا نام بھی شامل کیا جائے لیکن فضل پر پاکستان کی محبت سوار تھی۔ انہوں نے ہندوستان کی جانب سے کھیلنے سے انکار کردیا، صرف اس امید پر کہ ایک دن ایسا آئے گا جب پاکستان کو بھی ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کا درجہ ملے گا اور وہ وطن عزیز کی نمائندگی کرسکیں گے۔ اس خواب کی تعبیر کے لیے انہیں 4 سال انتظار کرنا پڑا اور انہوں نے پہلے ہی دورے میں کارکردگی کے ذریعے اپنی اہلیت ثابت کردی۔ کسی نے کہا تھا کہ کاش فضل ہندوستان کی جانب سے آسٹریلیا کے خلاف کھیلتے تو ڈان بریڈمین کا اوسط کبھی 99 نہ ہوتا۔
No comments:
Post a Comment