Wednesday, 23 July 2014

کاش میری شادی نہ ہوتی‘

www.swatsmn.com
جبری اور کم عمری کی شادیاں بنگلہ دیش میں بہت پرانا سماجی مسئلہ ہے۔
گو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان میں کمی واقع ہوئی ہے لیکن دیہی علاقوں میں یہ مسئلہ آج بھی پوری شدت کے ساتھ موجود ہے۔
سلہٹ ایک ایسا علاقہ ہے جہاں یہ سماجی برائی موجود ہے۔
برطانیہ میں رہنے والے زیادہ تر بنگالیوں کا تعلق سلہٹ سے ہے اور برطانیہ میں بھی بنگلہ دیشی برادری میں کم عمری اور زبردستی کی شادیوں کے واقعات پیش آتے ہیں۔
اگر مجھ میں اتنی جرت ہوتی کہ میں نہ کہہ سکتی۔ میں ہر روز اور ہر وقت یہ سوچی ہوں کہ کاش میں یہ کہہ سکتی کہ میری شادی کی عمر نہیں ہے اور میرے گھر والوں نے عقلمندی سے کام لیا ہوتا تو میری پڑھائی مکمل ہو گئی ہوتی اور آج میں اپنے پیروں پر کھڑی ہوتی۔‘"
شیلا
میں ایک ایسی لڑکی سے ملنے گیا جنھیں سیکنڈری سکول میں تعلیم کے دوران ایک بنگلہ دیشی نژاد برطانوی نوجوان سے شادی کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔
گو کہ ان کا خاندان پڑھا لکھا اور خوشحال تھا لیکن پھر بھی بہتر مستقبل کے لیے ان کی شادی برطانیہ میں کر دی گئی۔
وہ بھی اپنا نام ظاہر کرنا نہیں چاہتی تھیں اس لیے ان کو شیلا کا فرضی نام دیا جا رہا ہے۔ جب وہ برطانیہ پہنچیں تو انھیں علم ہوا کہ ان کے شوہر کے ایک عورت سے ناجائز تعلقات ہیں جس سے اس کا ایک ناجائز بچہ بھی ہے۔
شیلا کے ہاں جب بچہ پیدا ہوا تو وہ بنگلہ دیش واپس آ گئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ شادی کے لیے تیار نہیں تھیں اور یہ سب کچھ تین چار دن میں ہو گیا اور انھیں سوچنے تک کا موقع نہیں دیا گیا۔
شیلا اب بہت بیمار ہیں اور برطانیہ اپنے بچے کے پاس واپس جانا چاہتی ہیں۔
تاہم بنگلہ دیشی نژاد برطانوی شہریوں میں جبری اور کم سنی کی شادیوں کے واقعات میں حالیہ برسوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔ سلہٹ میں برطانوی ہائی کمیشن بھی اس مسئلے کے حل کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔
سلہٹ میں خواتین وکلا کی ایک تنظیم کی علاقائی صدر سیدہ شیریں کا کہنا ہے ایسے واقعات کم تو ہوئے ہیں لیکن یہ کافی نہیں ہے۔
شیرین کا کہنا ہے کہ انتظامیہ اور غیر سرکاری تنظیمیں اس بارے میں بہت چوکس اور سنجیدہ ہیں۔ لڑکیوں میں بھی آگہی پیدا ہوئی ہے۔ ایسے بہت سے واقعات ہوئے ہیں جہاں لڑکیوں نے اپنے دوستوں کو مطلع کر دیا اور انھوں نے شادیاں رکوا دیں۔ لیکن غریب اور دیہاتوں میں بسنے والے طبقات میں اب بھی یہ سماجی برائی موجود ہے اور ابھی ایسے واقعات تسلی بخش حد تک کم نہیں ہوئے۔
سلہٹ شہر میں شادیوں کا اندراج کرنے والے میاں الدین احمد کا کہنا ہے اب برطانیہ سے بنگلہ دیشی اپنے بچوں کی شادیوں کے لیے بنگلہ دیش نہیں آ رہے جس طرح ماضی میں آتے تھے۔
لیکن وہ لڑکیاں جو کم عمری میں زبردستی کی شادی کا شکار ہوئی ہیں ان کی ساری زندگی اذیت بن جاتی ہے۔ شومی اور شیلا دونوں کو ایسے ہی تجربے سے گزرنا پڑا۔ شادی کے دس سال بعد بھی شیلا سوچتی ہیں کہ اگر ان کی کم عمری میں زبردستی شادی نہ کی جاتی تو آج ان ی زندگی کتنی مختلف ہوتی۔
شیلا کہتی ہیں: ’اگر مجھ میں اتنی جرات ہوتی کہ میں نہ کر سکتی۔ میں ہر روز اور ہر وقت یہ سوچتی ہوں کہ کاش میں یہ کہہ سکتی کہ میری شادی کی عمر نہیں ہے اور میرے گھر والوں نے عقلمندی سے کام لیا ہوتا تو میری پڑھائی مکمل ہو گئی ہوتی اور آج میں اپنے پیروں پر کھڑی ہوتی۔ میری زندگی تباہ ہو گئی اور اب میں اور میرا بچہ دونوں اس کی سزا بھگت رہے ہیں۔‘

No comments:

Post a Comment

10th National Desert Hike 2025 (Rambler Badge Hike for Rover Scouts)

10th National Desert Hike 2025  (Rambler Badge Hike for Rover Scouts) Chulistan ,روحی   نیشنل ڈزرٹ ہائیک 2025 تاریخِ عالم اس امر کی شاہد ہے ...