Friday, 4 July 2014

تشدد اور ظلم کے خلاف انصاف مانگتے ہوئے

www.swatsmn.com

، تشدد اور ظلم کے خلاف انصاف مانگتے ہوئے

 سترہ سالہ شاہدہ، جس کے شوہر نے برسوں اس پر تشدد کیا، اس کی ناک کاٹ دی اور کئی روز تک قید میں رکھا، پاکستانی عدالتوں سے انصاف کی استدعا کر رہی ہے۔
دہشت گردی سے متاثرہ علاقے سوات کی تحصیل کبل کے علاقے قلاگے میں ڈیڑھ ماہ قبل سپیشل پولیس فورس کے اہلکار نے اپنی سترہ سالہ بیوی شاہدہ پر تشدد کیا تھا اور اسے نشہ آور شے دینے کر بے ہوشی کی حالت میں اس کی ناک کاٹ ڈالی۔
شوہر کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بننے والی تین سالہ بچے کی ماں شاہدہ گزشتہ روز امداد کے لئے خواتین جرگہ کے پاس پہنچ گئی، جہاں پر ڈی ڈبلیو کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے متاثرہ لڑکی کا کہنا تھا کہ اس کی شادی دس سال قبل سات سال کی عمر میں والدین نے وٹہ سٹہ میں کرائی تھی اور گزشتہ دس سال سے اس کا شوہر اس پر مظالم ڈھاتارہا، ’16مئی 2014کو میرے شوہر نے مجھے میکے سے پیسے لانے کا کہا جس پر میں نے انکار کیا تو اس نے اپنی بہن اور ماں کی مدد سے مجھے نشیلی دوا پلا دی اور میری ناک کاٹ ڈالی۔‘
متاثرہ لڑکی کا مزید کہنا تھا کہ ناک کاٹنے کے بعد اسے 19دن تک ایک کمرے میں قید رکھا گیا، ’ایک دن گھر میں کوئی نہیں تھا تو میں کھڑکی کے ذریعے وہاں سے بھاگ گئی اور اپنے والدین کے پاس پہنچ گئی۔‘ متاثرہ لڑکی شاہدہ نے حکومت اور چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کی کہ اُسے انصاف دلایا جائے اور اس کے شوہر کو سخت سے سخت سزا دی جائے ۔
خواتین جرگہ اس نوجوان لڑکی کو انصاف دلوانے کے لیے سرگرم ہے
متاثرہ لڑکی کی پشاور میں طبی امداد جاری ہے اور اس کے دو آپریشن مکمل ہو چکے ہے جب کہ اس لڑکی کے شوہر کو جیل بھیج دیا گیا ہے۔ شاہدہ کے والد ظاہر خان کا کہنا ہے کہ بچی کے علاج پر ایک لاکھ پچاس ہزار روپے تک کا خرچہ آچکا ہے اور اب مزید ان کے پاس کچھ نہیں ہے، ’ہمارے ساتھ زیادتی ہوئی ہے مگر الٹا ہمارے اوپر پولیس اسٹیشن میں رپورٹ درج کئے جا رہے ہیں اورملزم کی جانب سے ہمیں دھمکیاں بھی دی جا رہی ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ بچپن میں اپنی بچی کی شادی کرا کر بہت بڑی غلطی کی ہے جس پر اب پچھتا رہے ہیں۔ ’’صوبائی اور مرکزی حکومت ہماری مدد کریں اور چیف جسٹس آف پاکستان واقعے کا ازخود نوٹس لیں۔‘
متاثرہ لڑکی کے لیے انصاف کے حصول کی غرض سے سوات میں خواتین جرگے نے بھی کمر کس لی ہے۔ خواتین جرگے کی چئیرپرسن تبسم عدنان نے ڈی ڈبلیوکو بتایا، ’لڑکی کو انصاف دلانے کے لئے ہم ان کے خاندان کو قانونی امداد فراہم کر رہے ہے اور متاثرہ لڑکی کے بہترین علاج کے لئے اعلیٰ افسران اور فلاحی تنظیموں سے رابطے بھی کر رہے ہیں۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا، ’صوبائی حکومت سے بھی مطالبہ ہے کہ لڑکی کی سرجری اور بہترین علاج کے لئے ٹھوس اقدامات اُٹھائیں جائیں، ‘
انہوں نے مزید کہا کہ اگر متاثرہ لڑکی اور اس کے خاندان کو انصاف نہیں ملا تو شدید احتجاج پر اترآئیں گے ۔
ایک ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود بھی متاثرہ لڑکی کوحکومتی سطح پر کسی قسم کی امداد نہیں ملی ہے اور نہ ہی کسی فلاحی تنظیم نے اس کے علاج معالجے میں ساتھ دیا ہے۔ سوات کے زیادہ تر پہاڑی علاقوں میں آج بھی وٹہ سٹہ اور سورہ رسم کے ذریعے کم سن بچیوں کی شادیاں کرائی جاتی ہے جو بعد میں تشدد اور مظالم کا شکار رہتی ہے۔

No comments:

Post a Comment

10th National Desert Hike 2025 (Rambler Badge Hike for Rover Scouts)

10th National Desert Hike 2025  (Rambler Badge Hike for Rover Scouts) Chulistan ,روحی   نیشنل ڈزرٹ ہائیک 2025 تاریخِ عالم اس امر کی شاہد ہے ...