Wednesday, 2 July 2014

جتنا دبو گے تو یہ تم کو اور دباتے جائیں گے

www.swatsmn.comجتنا دبو گے تو یہ تم کو اور دباتے جائیں گے
زرا تصور کریں کہ کسی ایک روز لاہور، فیصل آباد، پنڈی، کراچی یا حیدرآباد کے کچھ مخصوص علاقوں کو دہشت گردی اور دیگر خوفناک جرائم سے پاک کرنے کی اچانک عسکری کارروائی شروع ہونے کے بعد یہاں کے چھ لاکھ مکینوں سے کہا جائے کہ جتنا جلد ممکن ہو غیر معینہ عرصے کے لیے گھر بار چھوڑ کر شہر کی حدود سے نکل جاؤ اور انھیں یہ تک معلوم نہ ہو کہ یہاں سے کہاں اور کیسے جانا ہے؟ رکنا کہاں ہے۔ راستے میں اتنے لوگوں کو کوئی پانی بھی پلائے گا؟ کھانAے کا کون پوچھے گا؟ بیماروں کو کہاں لادے لادے پھریں گے؟ نوزائدہ بچوں کے دودھ ، بڑے بچوں کی تعلیم اور پردہ دار خواتین کے نہانے دھونے پکانے کا کیسا انتظام ہو گا؟
اور پھر حکومت لاہور، فیصل آباد، پنڈی، کراچی اور حیدرآباد کے ان متاثرین کو نکالے جانے کے ہفتہ بھر بعد فی خاندان پندرہ ہزار روپے کی ادائیگی اس مد میں کر دے کہ یہ آپ کے کھانے پینے اور ٹرانسپورٹ کے فوری اخراجات ہیں اور پھر ان سے یہ کہا جائے کہ اپنی مدد آپ کے تحت سو پچاس کلومیٹر پرے ایک ڈسٹری بیوشن پوائنٹ پر رجسٹریشن کروا کے مہینے بھر کا راشن لے لو۔اور پھر ان سے کہا جائے کہ یہ جو لق و دق زمین نظر آ رہی ہے یہ کوئی ویرانہ نہیں تمہارے قیام کا کیمپ ہے۔ اپنے ایک سو دس کلو وزنی راشن کے تھیلے سر سے اتار کر زمین پر رکھو اور ان تھیلوں کو تکیہ سمجھ کر دو دو تین تین سر رکھ کے سوجاؤ۔
کیا کہا خیمے؟ وہ تو ابھی پانی کے جہاز سے آ رہے ہیں۔
کیمپ میں پینے کا پانی؟ کل پرسوں انشااللہ ایک آدھ ٹینکر ضرور چکر لگائے گا یہاں۔
بجلی؟ کیا تمہارے پاس ٹارچ والا موبائل فون نہیں؟ تو پھر؟
بالکل پریشان مت ہو۔پوری قوم آزمائش کی گھڑی میں دل و جان سے تمہارے ساتھ ہے۔ بے صبری کو لگام دو۔انشااللہ دو تین ماہ میں پورا انتظام قابو میں آجائے گا۔تمہیں باقاعدہ ماہانہ مالی امداد بھی ملے گی۔تب تک یہ سمجھ لو کہ ملک کے لیے عظیم قربانی دے رہے ہو۔لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ تم کسی اور صوبے میں جانے کی فرمائش کر بیٹھو۔جو ملے گا یہیں ملے گا۔یہاں سے گئے تو کچھ نہ ملے گا۔
یقیناً یہ اچانک سے نکالے گئے لاکھوں لوگ اس نجاتیہ آپریشن سے بہت خوش ہوتے اگر انھیں معلوم پڑ جاتا کہ ریاستی نظام بہرحال طالبانی انتظام سے قدرے بہتر ہوتا ہے
تو کیا یہ ریاست اور اس کے ادارے کسی ایسی ہی ابتلا میں پاکستان کے چار پانچ بڑے شہروں کے ممکنہ پناہ گزینوں کے ساتھ ویسی ہی برابری برت سکتے ہیں جس سے فی الوقت پانچ تا چھ لاکھ شمالی وزیرستانی لطف اندوز ہو رہے ہیں؟ ایسا زرا کر کے تو دیکھیے؟ میڈیا کے نوحہ خواں سڑک سڑک احتجاجی زنجیروں کا ماتم نہ بچھوا دیں، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے اسلام آباد کے ایوانِ وزیرِاعظم تک ہڑا ہڑی نہ پڑ جائے اور جی ایچ کیو بیک فٹ کو فرنٹ فٹ نہ کہنے لگے تو پھر اس پیشہِ خبرناکی سے میرا استعفی قبول۔
یقیناً یہ اچانک سے نکالے گئے لاکھوں لوگ اس نجاتیہ آپریشن سے بہت خوش ہوتے اگر انھیں معلوم پڑ جاتا کہ ریاستی نظام بہرحال طالبانی انتظام سے قدرے بہتر ہوتا ہے۔ لیکن کیا ریاست انھیں اپنا بچہ بھی مانتی ہے؟ مگر فرق کیا پڑتا ہے ؟ بچے تو سوتیلی ماؤں کے بھی پل پلا ہی جاتے ہیں۔
وسعت اللہ خان

No comments:

Post a Comment

10th National Desert Hike 2025 (Rambler Badge Hike for Rover Scouts)

10th National Desert Hike 2025  (Rambler Badge Hike for Rover Scouts) Chulistan ,روحی   نیشنل ڈزرٹ ہائیک 2025 تاریخِ عالم اس امر کی شاہد ہے ...