www.swatsmn.com
دولت اسلامی عراق و شام (داعش) جیسی ایک چھوٹی مگر خوفناک حد تک جہادی تنظیم عراق اور شام کے ان وسیع علاقوں پر اپنی بحکومت بھی قائم کر سکتی جنھیں اس نے گذشتہ کچھ عرصے میں بڑی تیزی کے ساتھ فتح کیا ہے؟
جون کے پہلے ہفتے سے داعش نے مشرقی شام میں اپنے مضبوط قلعے سے نکل کر عراقی کے دورے
بڑے شہر موصل کی جانب پیش قدمی شروع کی اور جلد ہی اس پر قبضہ کر لیا۔
دولت اسلامی کی اصل خوش بختی یہ ہے کہ اسے اب تک مقامی قبائل اور دوسرے جنگجوگروہوں کی حمایت اور مدد حاصل رہی ہے۔ اس مدد کے بغیر وہ موصل جیسے 20 لاکھ کی آبادی کے بڑے شہر کو اپنے قابو میں رکھنے کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔
عرب دنیا کے مشہور اخبار شرق الاوسط میں نائب مدیر اور موصل سے تعلق رکھنے والی مِنا الاورابی کا کہنا ہے کہ ’دولت اسلامی مختلف قصبوں اور شہروں پر اپنا کنٹرول قائم رکھنے میں اس لیے کامیاب ہے کہ وہاں اس کی ’حکومت‘ ان مقامی جنگجوؤں کے ہاتھ میں ہے جنھیں اس کی حمایت حاصل ہے۔
’مقامی قبائل اور گروہوں کے ساتھ کچھ معاہدے تو خوف کی بنیاد پر ہوئے جبکہ دیگر معاہدوں کے پیچھے دونوں فریقوں کے عارضی مفادات ہیں اور کبھی کبھی عارضی معاہدے کی بنیاد صرف اور صرف پیسہ ہوتا ہے۔‘
لیکن اگر دولت اسلامی کو زیرِ تسلط علاقوں پر اپنا کنٹرول زیادہ عرصے تک قائم رکھنا ہے تو اس کے لیے ضروری ہو جائے گا کہ وہ عارضی معاہدوں پر زیادہ تکیہ نہ کرے بلکہ دولت اسلامی کی اپنی ریاست بنانے میں ’سرمایہ کاری‘ کرے۔

No comments:
Post a Comment