اگرچہ کمیٹی کے ممبران کھل کر بات کرنے سے گریز کر رہے ہیں لیکن جن سے بھی بات ہوئی ان کا یہی سوال تھا کہ کس بنیاد پر پاکستان کے دیرینہ دوست سعودی عرب نے اتنی مدد کی۔
عوامی نیشنل پارٹی کے راہنما سینیٹر حاجی عدیل کہتے ہیں کہ ہمارے سوالات کے جوابات دیےگئے لیکن مطمئن نہ ہونے کی وجہ یہی ہے کہ ہم نے اس پیسے کے بدلے کیا دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ سرتاج عزیز نے کمیٹی کو بتایا ہے کہ یہ پیسہ سعودی عرب نے دیا ہے جو قرض نہیں تحفہ ہے، واپس نہیں کرنا پڑے گا لیکن اس کے بدلے میں پاکستان شام کے حوالے سے اپنی پالیسی نھیں بدلے گا اور نہ ہی سعودی عرب کو شام کے لیے ہتھیار دیے جائیں گے۔
حاجی عدیل نے بتایا کہ ہماری کوشش ہے کہ کمیٹی کی اگلی ملاقات تک ہماری کوشش ہے کہ ایک ایسابل پاس کروا لیں جو حکومت کو پابند کرے کہ وہ بیرونی ممالک سے ہونے والے معاہدوں کو پارلیمنٹ کے سامنے پیش کرنے کی پابند ہو جائے۔
No comments:
Post a Comment