www.swatsmn.com
فحش فلمیں آپ کی ازدواجی زندگی تباہ کرسکتی ہیں
لندن (نیوز ڈیسک )آج کل کی نوجوان نسل انٹرنیٹ پر فحش مواد دیکھنے کی نشے کی حد تک عادی ہو چکی ہے اور بد قسمتی سے اس عادت بدکے خوفناک نتائج سے آگاہی بھی بہت کم پائی جاتی ہے۔ایک تازہ تحقیق نے یہ بات سائنسی طور پر ثابت کر دی ہے کہ فحش فلمیں دیکھنے سے کردار کی خرابیاں تو پیدا ہوتی ہی ہیں لیکن یہ عادت گھر اجاڑنے کا باعث بھی بن سکتی ہے کیونکہ فحش مواد کے عادی لوگ رفتہ رفتہ جنسی تحریک سے محروم ہو جاتے ہیں اور خصوصاََشریک حیات کے ساتھ جنسی تسکین کی جائز نعمت سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
ماہرین نے اس بیماری کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ باقاعدگی سے فحش مواد دیکھنے والوں کا دماغ ’ڈوپامین ‘نامی مادہ بڑی مقدار میں خارج کرتاہے کیونکہ فحش فلموں میں غیر فطری طریقے سے تیار کئے گئے جنسی افعال کثرت سے دیکھنے کو دستیاب ہوتے ہیں اور یہ دماغ کو غیر معمولی تحریک دیتے ہیں۔جب آپ باقاعدگی سے یہ مواد دیکھتے رہتے ہیں تو دماغ غیر معمولی مقدار میں ڈوپامین اور جنسی مناظر کی ورائٹی کا عادی ہو جاتا ہے۔ڈوپامین ہی وہ مادہ ہے جو جنسی مسرت اور تسکین کا احساس دماغ میں پیدا کرتا ہے۔فحش موادکے عادی افراد جب شریک حیات کی قربت میں ہوتے ہیں تو عادت کے مطابق ڈوپامین اور جنسی مناظر کی کثرت دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے ان کا جسم اور ذہن مطلوبہ کارکردگی سے معذور نظر آتا ہے اور وہ چاہنے کے باوجود نہ شریک حیات کا حق ادا کر پاتے ہیں اور نہ ہی خود بے اطمینانی اور مایوسی کے عذاب سے نجات پا سکتے ہیں۔
ان مسائل کا شکار جوڑوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹر جمانی کا کہنا ہے کہ فحش مواد سے فوری توبہ کر کے مکمل طور پر باز رہنے کی صورت میں مسئلہ بڑی حد تک حل ہو سکتا ہے لیکن بعض کیس زیادہ بگڑ جاتے ہیں اور اس صورت میں طویل علاج اور ادوایات کے بغیرمسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔
ماہرین نے اس بیماری کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ باقاعدگی سے فحش مواد دیکھنے والوں کا دماغ ’ڈوپامین ‘نامی مادہ بڑی مقدار میں خارج کرتاہے کیونکہ فحش فلموں میں غیر فطری طریقے سے تیار کئے گئے جنسی افعال کثرت سے دیکھنے کو دستیاب ہوتے ہیں اور یہ دماغ کو غیر معمولی تحریک دیتے ہیں۔جب آپ باقاعدگی سے یہ مواد دیکھتے رہتے ہیں تو دماغ غیر معمولی مقدار میں ڈوپامین اور جنسی مناظر کی ورائٹی کا عادی ہو جاتا ہے۔ڈوپامین ہی وہ مادہ ہے جو جنسی مسرت اور تسکین کا احساس دماغ میں پیدا کرتا ہے۔فحش موادکے عادی افراد جب شریک حیات کی قربت میں ہوتے ہیں تو عادت کے مطابق ڈوپامین اور جنسی مناظر کی کثرت دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے ان کا جسم اور ذہن مطلوبہ کارکردگی سے معذور نظر آتا ہے اور وہ چاہنے کے باوجود نہ شریک حیات کا حق ادا کر پاتے ہیں اور نہ ہی خود بے اطمینانی اور مایوسی کے عذاب سے نجات پا سکتے ہیں۔
ان مسائل کا شکار جوڑوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹر جمانی کا کہنا ہے کہ فحش مواد سے فوری توبہ کر کے مکمل طور پر باز رہنے کی صورت میں مسئلہ بڑی حد تک حل ہو سکتا ہے لیکن بعض کیس زیادہ بگڑ جاتے ہیں اور اس صورت میں طویل علاج اور ادوایات کے بغیرمسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔
No comments:
Post a Comment