www.swatsmn.com
ایک دفعہ عبدالستار ایدھی صاحب ٹی وی پروگرام میں آئے۔ ان کی زندگی کے دلچسپ واقعات کا پوچھا جا رہا تھا۔ اس میں انہوں نے ایک واقعہ سنایا۔ ۔ ایک دفعہ رات کے وقت ایدھی صاحب کہیں جا رہے تھے۔ راستے میں ڈاکوؤں نے روک لیا۔ جب ڈاکو سب کچھ لے بیٹھے اور ایدھی صاحب کو جانے کا کہنے لگے تو ایک ڈاکو نے انہیں پہچان لیا۔ ڈاکو نے فوراً اپنے ساتھیوں کو کہا کہ ان کا سب کچھ واپس کر دو۔ ساتھیوں نے تجسس سے پوچھا کہ کیوں؟ ڈاکو نے اپنے ساتھیوں کو کہا کہ کمبختو! جب پولیس مقابلے میں مارے جاؤ گے، جب تمہارے قریبی رشتہ دار بھی لاشیں لینے سے انکار کر دیں گے، جب اپنے بھی تدفین نہیں کریں گے تو تب یہی آدمی انسانیت کی خاطر آگے بڑھے گا اور تدفین کا بندوبست کرے گا۔ اوئے! یہ عبدالستار ایدھی ہے۔
پیارے ایدھی صاحب! یہ سب ماضی کے قصے ہیں کہ جب چوروں اور ڈاکوؤں کے بھی کچھ اصول ہوتے تھے۔ کم سہی مگر ان میں بھی غیرت نام کی کوئی چیز ہوتی تھی۔ تب معاشرے میں تھوڑی بہت انسانیت باقی تھی۔ جبکہ حال تو جنگل سے بھی گیا گزرا ہے۔ یہ تو بس ایک اندھیر نگری ہے، اندھیر نگری۔ جہاں فلاحی ادارے تک لوٹے جا رہے ہیں۔ یہ ایک ایدھی نہیں لٹا بلکہ اس جنگل نما معاشرے سے انسانیت کی آخری سانس لٹ رہی ہیں۔
ایک دفعہ عبدالستار ایدھی صاحب ٹی وی پروگرام میں آئے۔ ان کی زندگی کے دلچسپ واقعات کا پوچھا جا رہا تھا۔ اس میں انہوں نے ایک واقعہ سنایا۔ ۔ ایک دفعہ رات کے وقت ایدھی صاحب کہیں جا رہے تھے۔ راستے میں ڈاکوؤں نے روک لیا۔ جب ڈاکو سب کچھ لے بیٹھے اور ایدھی صاحب کو جانے کا کہنے لگے تو ایک ڈاکو نے انہیں پہچان لیا۔ ڈاکو نے فوراً اپنے ساتھیوں کو کہا کہ ان کا سب کچھ واپس کر دو۔ ساتھیوں نے تجسس سے پوچھا کہ کیوں؟ ڈاکو نے اپنے ساتھیوں کو کہا کہ کمبختو! جب پولیس مقابلے میں مارے جاؤ گے، جب تمہارے قریبی رشتہ دار بھی لاشیں لینے سے انکار کر دیں گے، جب اپنے بھی تدفین نہیں کریں گے تو تب یہی آدمی انسانیت کی خاطر آگے بڑھے گا اور تدفین کا بندوبست کرے گا۔ اوئے! یہ عبدالستار ایدھی ہے۔
پیارے ایدھی صاحب! یہ سب ماضی کے قصے ہیں کہ جب چوروں اور ڈاکوؤں کے بھی کچھ اصول ہوتے تھے۔ کم سہی مگر ان میں بھی غیرت نام کی کوئی چیز ہوتی تھی۔ تب معاشرے میں تھوڑی بہت انسانیت باقی تھی۔ جبکہ حال تو جنگل سے بھی گیا گزرا ہے۔ یہ تو بس ایک اندھیر نگری ہے، اندھیر نگری۔ جہاں فلاحی ادارے تک لوٹے جا رہے ہیں۔ یہ ایک ایدھی نہیں لٹا بلکہ اس جنگل نما معاشرے سے انسانیت کی آخری سانس لٹ رہی ہیں۔
No comments:
Post a Comment