Friday, 17 October 2014

لیڈر مافیا باس تو ہوسکتا ہے سیاسی لیڈر نہیں

www.swatsmn.com

سوال نمبر۳
عمران خان نے پرانے ساتھیوں کو پس منظر میں کیوں دھکیلا؟


جواب :عمران خان جتنا بڑا سیاستدان ہے اس سے بڑا منتظم ہے ، ان پر یہ اعتراض کرنا کہ انہوں نے اپنے پرانے ساتھیوں کو پس منظر میں کیوں دھکیلا اس لئے بھی غلط ہے کہ کوئی بھی سچی جمہوری پارٹی اپنی تنظیم میں کچھ اصولوں کی پاسداری کی پاندی کرتی ہے ، غلطیوں کی گنجائش ہر ایک سے ہوتی ہے مگر سرزنش کے بعد بھی اگر کوئی شخص پارٹی کی بنیادی اصولوں اور آدرشوں کی پاسداری سے قاصر ہو تو اس کا حل یہی ہے کہ اس کو پارٹی سے نکال کر اسے کسی اور جگہ جانے کی اجازت دی جائے ، عمران خان کی اصول پسندی اتنی کڑی ہے کہ وہ اس باب میں اپنے خونی رشتہ داروں کا پاس بھی نہیں کرتا۔ اس نے اپنی زندگی کا ایک صول یہ بھی بنایا ہوا ہے کہ خواہ نقصان کتنا بھی بڑا کیوں نہ ہو مگر کسی کے ہاتھوں بلیک میل ہونا مجھے منظور نہیں ، اس کی یہی خوبی مخالفین نے اس کی برائی کے طور پر پیش کی ۔ اور تو اور معروف صحافی سلیم صافی جب یہ کہتے ہیں کہ عمران خان پرانے ساتھیوں کا لحاظ نہیں کرتے اور اپنے وزیروں تک کو طوطا چشمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے وزارت سے الگ کرتے دیتے ہیں ۔ تو درحقیقت وہ عمران خان کی اس خوبی کا اعتراف کررہے ہوتے ہیں کہ عمران خان اصولوں پر دوستی قربان کرسکتا ہے مگر دوستی پر اصول قربان نہیں کرسکتا، کیا ایسی صفت معاصر سیاستدانوں میں کسی ایک میں بھی دکھائی دیتی ہے ؟ یہاں تو اپنے ساتھیوں کی ہر جائز و ناجائز خواہشات پوری کرنا کوئی معیوب بات ہی نہیں سمجھی جاتی، عمران خان کی اس سخت اصول کاسب کو پتہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کا کوئی وزیر اور کوئی بڑا عہدیدار یہ طمع دل میں پالتا ہی نہیں کہ میں کچھ غلط کروں گا تو خیر ہے میں تو بہت پرانا ورکر ہوں یا میری تو اتنی اتنی قربانیاں ہیں جماعت کےلئے اس لئے میرے سات خون معاف۔ عمران خان سے ، کتنے ہی صحافی ہیں جو کبھی ان کے گن گاتے تھے، مگر آج خفہ ہیں ، کتنے پیر فقیر جو سوتے جاگتے عمران خان کی عظمتوں کے گیت گاتے تھے آن ان سے مایوسی کا اظہار کررہے ہین ، کتنے خونی رشتہ دار ہیں جو عمران خان کے ارد اور گرد طواف کرتے دکھائی دیتے تھے آج ان کے خلاف مضامین لکھ رہے ہیں ، وجہ ؟ فقط یہی کہ عمران خان نے ان کی غلط خواہشات کی تکمیل سے انکار کردیا ، اصولوں پر دوستی اور رشتہ داری تک قربان کردی ۔ پاکستان جس عظیم ہستی نے بنایا تھا وہ بھی ایسا ہی اصول پسند اور سخت گیر منتظم تھا جو کسی بھی قیمت پر اپنے اصول قربان نہیں کرسکتا تھا ، تو آج نیا پاکستان اگر کوئی بناسکتا ہے تو اسی طرح کا سخت منتظم اور اصول پسند لیڈر ہی بناسکتا ہے اور عمران خان نے اپنے طرز عمل سے ثابت کردیا ہے کہ وہی بابائے قوم کا صحیح جانشین ہے ۔
سوال ۴:
عمران تو سادگی کا پرچارک ہے پھر یہ جہازوں ہیلی کوپٹروں میں سواری یہ پروٹوکول کیوں ہے ؟
جواب: مجھے بڑا تعجب ہوتا ہے جب کوئی سوال کرتا ہے کہ عمران خان سواری کیلئے جدید ذرائع کیوں استعمال کرتا ہے ۔ ارے بھائیو کیا آپ عمران خان سے توقع رکھتے ہو کہ وہ اکسویں صدی مین اسلام آباد سے ملتان جانے کیلئے اونٹ پر سواری کرے ؟ اچھا اگر کار میں جیپ میں جائے تو کیا اس پر بھی اعتراض ہے ؟ نہیں ہے نا تو پھر ہوائی جہاز کے استعمال پر کیوں اعتراض ہے جب کہ عمران خان کا ایک ایک لمحہ قیمتی ہے اور ان کو بڑی تیزرفتاری کے ساتھ کسی دوسرے پروگرام میں بھی شرکت کرنی ہوتی ہے ، پاکستان تحریک انصاف نے کبھی بھی جدید ذرائع مواصلات کے استعمال سے انکار نہیں کیا ہے اس نے بات اگر کی ہے تو یہ کی ہے کہ جو بھی وسائل استعمال کرو اس کا نقصان عوام کو نہ ہو ملک کو نہ ہو ملکی خزانے کو نہ ہو، تو عمران خان کی کسی پارٹی جلسے میں یا پروگرام میں شرکت کیلئے پروائیویٹ طیارے کا خرچہ قومی خزانےسے لیا گیا ہے اب تک ؟ ورنہ ایک طرف ایک بڑے صوبے کے وزیراعلیٰ کو دیکھیں جو لاہور اور اسلام آباد کے درمیان پچاس ساٹھ مرتبہ قومی خزانے پر بوجھ ڈالتے ہوئے طیاروں کا استعمال کرتاہے مگر کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ عمران خان نے اسی طرح کا بوجھ کے پی کے حکومت کے خزانے پر ڈالا ہو؟
عمران خان نے زیادہ سے زیادہ اپنا بوجھ کسی دوست کے اوپر ڈالا ہوگا کسی پارٹی رضاکار پر ڈالا ہوگا یا زیادہ سے زیادہ اپنی پارٹی فنڈ پر ڈالا ہوگا ، تو یہ کونسی معیوب بات ہے اگر پارٹی دل وجان سے اس بات کے لئے آمادہ اور تیار ہے کہ عمران خان جہاں ضرورت سمجھیں پارٹی فنڈ کو پارٹی کے مفاد میں استعمال کرتے ہوئے چارٹرڈ طیارہ استعمال کرسکتا ہے ۔۔تو باہر کے ایک شخص کو کیا حق ہے کہ عمران خان پر یہ اعتراض اٹھائے؟
رہ گئی بات سادگی کی تو انکی سادگی کی تو ایک دنیا قائل ہے ، بسا اوقات اس کے کپڑوں کی بوسیدگی کیمروں کی آںکھوں سے بھی محفوظ نہیں رہ پاتی، کیا کوئی ثابت کرسکتا ہے کہ عمران خان نے کروڑوں کی گھڑی پہنی ہو لاکھوں کا سوٹ سلوایا ہو ،بیرون ملک خصوصی آرڈر پر اپنے ملبوسات بنوائے ہوں ، کیا آپ نے عمران خان کے پائوں پر نظر کی ہے ؟ وہی ہزار پندرسہ سو والی پشاوری اور چارسدے والی چپلی جسے آپ بھی پہنتے ہیں اور میں بھی پہنتا ہوں ، کیا کنٹینر پر سخت گرمی میں جب عمران خان ماتھے پر آئے ہوئے پسینے کو اپنے کف سے صاف کرتا تھا تو وہ ہمیں خود سے کتنا قریب لگتا تھا ۔ان کی سادگی کی داستان سنانے بیٹھ جائوں تو پوری کتاب لکھ سکتا ہوں مگر یہ مختصر مضمون مثالوں اور واقعات کا احاطہ نہیں کرسکتا۔
سوال نمبر(۵)
خان صاحب اور دوسرے لیڈروں میں کیا فرق ہے ؟
سب سے بڑا فرق تو یہی ہے کہ قوم دوسرے لیڈروں سے مایوس ہوچکی ہے اور عمران خان سے اپنی امیدیں لگا بیٹھی ہے ۔
دوسرے لیڈر کیا کرتے ہیں؟ مال بنانے کیلئے سیاست کرتے ہیں اور سیاست کرنے کیلئے مال بناتے ہیں ، دوسرے لیڈروں کی تمام جدوجہد کا ماحصل یہ ہے کہ کسی طریقے سے اختیارات ، قوت اور طاقت حاصل کرکے اپنے ذاتی مفادات کے تحفظ کو یقینی بنایاجائے مگر عمران خان میں یہ بات نہیں، دیگر پارٹیوں کے قایدین کسی نرسری میں یا میراث میں ملنے والی سیاست کے بل بوتے پر لیڈر بنے بیٹھے ہین مگر عمران خان اس ملک کا واحد لیڈر ہے جو اپنی محنت کے بل بوتے پر آگے آیا ہے ۔ نواز شریف کو دیکھیں ، کس نے اوپر اٹھایا ؟ ایک آمر نے ۔ ذاتی صلاحیت کیا ہے لیڈر بننے کی ؟ کچھ بھی نہیں ، نہ وجاہت ، نہ فراست ، نہ جرات، نہ بین الاقوامی مجالس میں اپنے ہم منصبوں کے ساتھ مل کر بات تک کرنے کی ہمت، مگر عمران خان کو دیکھیں ، دنیا کے جس بھی لیڈر کے ساتھ ان کو بٹھائیں یہ کبھی مرعوب نہیں ہوگا، کبھی جیب سے پرچی نکال کر میں میں کی گردان نہیں کرے گا، کبھی کمتری کا احساس اس کے ماتھے پر پسینے کی بوندیں نہیں بکھیرے گی۔
زرداری کو دیکھیں ، اس کی کل خاصیت مال بنانا، خود بھی کھانا ، اور دوسروں کو بھی کھلاناِ کیا لیڈرشپ کے کسی بھی معیار پر یہ انسان پورا اترتا ہے ؟ چلو یہ بتائیں اگر زرداری بے نظر سے شادی نہ کرتا تو آج کیا ہوتا؟ چند سینمائوں کا مالک ، یا چند بلنڈنگوں کا مالک ۔۔کیا اس کی ذاتی صلاحیت اسے پاکستان کے کسی بھی درجے کا لیڈر بناسکتی تھی؟
کراچی کے الطاف حسین سے موازنہ نہ ہی کریں تو بہتر ہے کیونکہ بیس پچیس سال تک کارکنوں کی شکل تک نہ دیکھنے والا لیڈر مافیا باس تو ہوسکتا ہے سیاسی لیڈر نہیں ،
آتے ہیں مذہبی سیاسیون کی طرف، مولانا فضل الرحمن کو لے لیں ، اگر مولانا مفتی محمود کے فرزند نہ ہوتے تو کیا ان کی ذاتی صلاحیت ان کو اس کو اس عہدے تک پہنچا سکتی تھی یا وہ خود سے کوئی جماعت کھڑی کرسکتے تھے ؟ ہر گز نہیں آج مولانا کو اس عہدے سے ہٹادیں تو کل کسی خلیجی مسجد کی کسی جامع مسجد میں امامت ڈھونڈ رہے ہوں گے اور وہ بھی اگرملے گی تو مشکل سے ملے گی۔
پشاور میں ڈرون حملوں کے خلاف دھرنا ہے رات کا وقت ہے سردی بڑھ گئی تو میں کنٹینر کے سامنے لگی ہوئی کرسیوں کے نیچے اوس سے بچنے کیلئے زمین پر لیٹ گیا، اور مجھ سے پندرہ فٹ کے فاصلے پر میرا لیڈر کنٹینر کے اوپر چادر اوڑھےسورہا تھا، کیا اس کی مثال پاکستان کی کسی بھی پارٹی کی لیڈرشپ پیش کرسکتی ہے ؟
(جاری ہے)

No comments:

Post a Comment

10th National Desert Hike 2025 (Rambler Badge Hike for Rover Scouts)

10th National Desert Hike 2025  (Rambler Badge Hike for Rover Scouts) Chulistan ,روحی   نیشنل ڈزرٹ ہائیک 2025 تاریخِ عالم اس امر کی شاہد ہے ...