Saturday, 18 October 2014

دُعا کبھی رد نہیں ہوتی

www.swatsmn.com


دُعا کبھی رد نہیں ہوتی 
جب ہمارے بزرگ اپنے وقت کے ( آمن کی وادی) کے بارے میں بتاتے ہیں ۔ تو حیرانگی ہوتی ہیں ۔ کہ سوات اتنا پر آمن بھی تھا کبھی ۔ میرے ذہن میں اکثر ایک بات بار بار آتی جاتی تھی ۔ کہ کاش ہم بھی وہ ہجرہ ، بیٹک ، جرگہ ،اور وہ چھوٹے چھوٹے دیوار والے گھر، ڈیرے کے سماء دیکھ لیتے ۔ اس زمانے میں اگر چہ خانزم بہت ہوا کر تاتھا ۔ یہ ایک (مشکل ) فوائنٹ تھا ۔ جانزم کا تو جو اب نہیں تھا ۔مگر حقوق کے پاما لی کبھی نہیں ہوئی ۔ اس پر شکر ادا کرتے ہیں ۔ لیکن جو بات ذہین میں جگہ بنانے کی کوشش میں ہیں ۔ وہ ہے سادگی جو کہ اجکل وہ ختم ہو کر رہ گئی ہیں ۔ کبھی خوابوں میں کبھی بزرگوں کے ساتھ والی سوات کے زمانے کے واقعات ان سے سن سن کر لطف اندوز ہوتے ہیں ، بلکہ میں محمد پرویز شاہین صاحب کا نام بھی لینا چاہونگا ۔ وہ سوات کے نہایت محترم شعارا اور تاریخ دان میں اہم ستون کے حیثیت رکھتے ہیں ۔ کیونکہ وہ تاریخ سوات 

کے بارے میں ایک زندہ انسائیکو پیڈیا ہیں ۔ اگر کسی بھی قارئین کو سوات کے بارے میں معلومات لینے ہو ۔ اور وہ تاریخ سوات کے بارے میں دلچسپی رکھتے ہو۔تو لازمی طور پر وہ محمد پرویز شاہین صاحب سے ملاقات ضرور کریں ۔ہاں جی تو میں بات کر رہا تھا ۔ وادی سوات کے سادگی ،اداب ،احترام، مہمانوازی ،ایمانداری ، انصاف ، اصلوں کی وغیر ہ وغیرہ لیکن ان میں سب سے اہم پوائنٹ ، سادگی ، اداب و احترام اور انصاف تو ان چیزوں کو اکثر میں خواب میں دیکھا کر تا تھا ۔ اور ہمیشہ کے طرح سوچھتا تھا کاش ہم بھی ایسے دن دیکھ لیتے ۔ جہاں بچے کو کبھی مار نہیں پڑی کسی دوسرے بڑوں سے بلکہ ہمیشہ ایک لفظ استعمال ہوتا تھا ۔ بچے جب شرارت کر تے پکڑے جاتے تو جس بزرگ کے ہاتھو ں چڑھتے کہتے ہا ں بتاوں کس کے بیٹے ہو ۔ والد کا نام بتانے کے بعد کہتے اچھا جاو ، شا م کو تمہارے والد سے بات ہوگی ۔ یہی ڈر یہی خوف ان کو اندر اندر سے ہلا کے رکھ دیتے تھے ۔ ان سوچوں میں گم ہوجاتا تھا ۔ پاکستا ن میں جہا ں جہا ں پر ریاست حکومت رہیے ۔تقریبا مجھے وہا ں رہنے کا مواقع ملا ۔ ریاست بہاولپور جہاں میں میں دو سال گزارے ۔ ریاست دیر وہاں پر ایک سال گزارنے کا مواقع ملا ، مگر پاکستا ن بھر میں جس علاقے سے موجودہ دور میں متاثر ہوا ۔وہ طورو (مردان ) جہاں تقریبا ایک ماہ تک رہا ۔ لیکن اکثر اوقا ت مجھے یہ احساس ہوتا ۔ کہ میں پاکستان میں ہی نہیں ۔ ایک واقعہ آپ سے شیئر کرنا چاہونگا۔ ایک دن عصر کے نماز کیلئے ہم جار ہے تھے ۔ کہ وہاں پر موجود میرا دوست مجاہد خان جو کہ پیشے کے لحاظ سے ٹیچر تھا ۔ میرے ساتھ وہ اکثر طورو کے تاریخ کے بارے بتایا کر تے تھے ۔ کہہ رہے تھے کہ ہمارے امام مسجد PHDاسلامیات ہے ۔
نہایت خوش لباس ، خوش اخلاق ،سادگی، میں حیران تھا کہ PHDبھی کبھی امام مسجد ہوا کر تے ہیں ۔ یہاں تو لوگ ایم اے اسلامیات ہوکر بھی مسجد کے طرف دیہان نہیں دیتے وہ نوکریوں کے چکر میں لگے رہتے ہیں ۔ اگر کہی ایم اے اسلامیات یا کوئی ڈگری ہولڈر ، عالم فاضل ہو ، تو بھی وہ عام سطح پر اس کا بڑا روب دابدابہ ہوتا ہیں ۔ خیر چند ہی لمحوں میں ہم مسجد پہنچے دیکھا کہ سادہ لباس میں ملبوس ، میرے خیال سے استری شدہ بھی نہ تھے ۔ سر پہ پگڑی ، نہایت سادگی ، اس دوران میں نے دوست نے بتا یا کہ ابھی کھیتوں میں کام کر کے ارہے ہیں ۔یہ ضروری تو نہیں کہ جس نے PHDکر لی وہ روزمرہ کا کام نہیں کریگا۔ میں نے کہا ہاں لیکن ، PHDوالے تو عام لوگوں سے ملنا بھی گوارہ نہیں کر تے ۔انھوں نے کہاں ابھی نماز کے بعد دیکھوں ان کا کام ، نماز پڑھنے کے بعد مسجد کے ساتھ ہی ہجرے میں آئے بزرگوں کے درمیاں میں بیٹھے اور ہجرے کا بھی حال یہ تھا ، کہ 1920سے بھی پہلے کا ہے ۔ حیرا ن حجرے کے دیوار نہ ہونے کے برابر تھے ۔ گرمی کا موسم تک لوگ مسجد میں آکر غسل کرتے تھے ۔ جس بندے کو دیکھو کندے پر چادر (پختونوں) کے طرح پورانے زمانے کے نقش دیکھنے کو ملے ۔ انھوں نے بتا یا ۔ یہاں تقریبا ایم فل کے برابر مسجد کے امام ہونگے ۔ اور پورے طورومیں خواتین راستے سے گزرتے مجال ہے کس میں جو اُپر دیکھتے ۔اس عرصے میں میں نے وہاں کہی محسوس نہیں کیا نہ کسی کو دیکھ کہ بچیاں سکول کالج جار ہی ہو ۔ اور کوئی نامعلوم عاشق ذادے کسی گلی میں کسی چوک کے چوراہے پر کھڑے ہو۔ نہ کسی کو کسیخاتون کے بارے میں بات کرتے ہوئے سنا ہو۔ایک بات جس پر مجھے بہت ہی ہنسی اتی ہیں وہ ہے سبز مرچ کے دوشمن (طورو) جب بھی کھانا کھاتے تھے ۔ ہا ں ہاں ہاں میرے دوست مجاہد مرچ کوچکن پیس سمجھ کر کھانا شروع کر تے تھے ۔ جب ہم کھانے پر بیٹھتے تھے ۔ تو میرے خیال سے 5سے 10مرچ تو معمولی بات تھی ۔ پتہ نہیں کتنے کتنے وہ کھا جاتے تھے ۔ سب سے اہم اور بہترین بات کہ پورے طورو میں شاہد ہی کوئی مجھے (انپڑ )نا خواندہ ملا ہو ۔ سب ہی ما شاء اللہ تعلیم یافتہ ہنر مند سادگی ،اخلاقیات سے بھر پور انسانی زندگی آپ کو طورو میں مل سکتے ہیں ۔ شاید کسی پل میں میں نے بھی یہ دُعا کی تھی ۔ کہ مجھے سادگی زندگی گزارنے والے لوگوں سے ملا دے ۔

No comments:

Post a Comment

10th National Desert Hike 2025 (Rambler Badge Hike for Rover Scouts)

10th National Desert Hike 2025  (Rambler Badge Hike for Rover Scouts) Chulistan ,روحی   نیشنل ڈزرٹ ہائیک 2025 تاریخِ عالم اس امر کی شاہد ہے ...