www.swatsmn.com
سائنسی ماہرین نے ایک ایسا معمہ حل کر لیا ہے جس نے کئی صدیوں سے دنیا کو حیران کیا ہوا تھا۔ معمہ یہ تھا کہ قدیم مصری اہراموں کے معماروں نے اپنے بے انتہاء بھاری اور بڑے بڑے بلاک تنصیب کی جگہ تک منتقل کس طرح کئے؟
سائنسدان کہتے ہیں کہ انہوں نے آخرکار ان اہراموں کی تعمیرمیں پوشیدہ اصرار کا پتہ چلا لیا ہے۔
دنیا سینکڑو ں برس سے اس سوال کا جواب تلاش کرتی رہی ہے کہ مزدور آخر 2000قبل مسیح میں بادشاہوں کی وادی کے اس پاراس قدر بڑے بڑے بلاک کس طرح لے جاتے رہے ہیں؟
اب سالہاسال کے حساب کتاب کے بعد طبیعات کے ماہرین نے محض دولفظوں کے ذریعے اس سوال کا جواب تلاش کر لیا ہے اور وہ دو لفظ ہیں، ’’گیلی ریت‘‘۔
ولندیزی محققین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اہل مصر بھاری بلاکس کو ایک ایسے بڑے سے تختے پر رکھتے تھے جسے سینکڑوں کارکن کھینچتے تھے اور اس منتقلی کے لئے وہ صرف اس بڑے سے تختے کے سامنے ریت پر پانی ڈال کر اسے گیلا کرتے جاتے تھے۔
ایمسٹرڈیم یونیورسٹی میں کئے جانے والے تجربات نے ثابت کیا ہے کہ ریت میں گیلے پن کا درست تناسب کھینچنے کے لئے مطلوب طاقت کو نصف کر دیتا ہے۔
نہایت سادگی سے، سامان کی منتقلی کے لئے استعمال ہونے والے بڑے سے تختے کے سامنے خشک ریت کا ڈھیر لگا دیا جاتا ہو گا جو اس تختے کی حرکت کو ناممکن بنا دیتا ہو گا۔
لیکن یہی تختہ اس وقت نہایت نفاست سے سرکنے لگتا ہو گا جب پانی کی درست مقدار کی حامل ریت پر اسے سرکایا جاتا ہو گا۔ تجربات ثابت کرتے ہیں کہ تختہ گیلی ریت پر نہایت آسانی سے حرکت کرتا ہے۔
ریت پر تختے کا لیبارٹری ایڈیشن تیار کرنے والی سائنسدانوں کی ٹیم کاکہنا ہے ، ’’ممکنہ طور پر اہل مصر اس آسان سے حل سے واقف تھے۔ جیہوتی ہو ٹیب کے مقبرے کی دیوار پر لگی ایک تصویر واضح طور پر ظاہر کرتی ہے کہ کھینچے جانے والے تختے کے سامنے کھڑا ایک شخص ، عین اس تختے کے سامنے ریت پر پانی ڈال رہا ہے۔‘‘
لیکن یہ تحقیق کہ قدیم لوگوں نے یہ سب کرنے کا اہتمام کس طرح کیا، ہمیں جدید دور کے نقل و حمل کے نظام کو مزید مؤثر بنانے اور دانے دار اشیاء کو پراسس کرنے میں بھی مدد دے سکتی ہے ۔اس وقت ان کاموں کے لئے استعمال ہونے والی توانائی دنیا میں توانائی کی کل کھپت کے تقریباً دس فیصد پر مشتمل ہے۔
سائنسی ماہرین نے ایک ایسا معمہ حل کر لیا ہے جس نے کئی صدیوں سے دنیا کو حیران کیا ہوا تھا۔ معمہ یہ تھا کہ قدیم مصری اہراموں کے معماروں نے اپنے بے انتہاء بھاری اور بڑے بڑے بلاک تنصیب کی جگہ تک منتقل کس طرح کئے؟
سائنسدان کہتے ہیں کہ انہوں نے آخرکار ان اہراموں کی تعمیرمیں پوشیدہ اصرار کا پتہ چلا لیا ہے۔
دنیا سینکڑو ں برس سے اس سوال کا جواب تلاش کرتی رہی ہے کہ مزدور آخر 2000قبل مسیح میں بادشاہوں کی وادی کے اس پاراس قدر بڑے بڑے بلاک کس طرح لے جاتے رہے ہیں؟
اب سالہاسال کے حساب کتاب کے بعد طبیعات کے ماہرین نے محض دولفظوں کے ذریعے اس سوال کا جواب تلاش کر لیا ہے اور وہ دو لفظ ہیں، ’’گیلی ریت‘‘۔
ولندیزی محققین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اہل مصر بھاری بلاکس کو ایک ایسے بڑے سے تختے پر رکھتے تھے جسے سینکڑوں کارکن کھینچتے تھے اور اس منتقلی کے لئے وہ صرف اس بڑے سے تختے کے سامنے ریت پر پانی ڈال کر اسے گیلا کرتے جاتے تھے۔
ایمسٹرڈیم یونیورسٹی میں کئے جانے والے تجربات نے ثابت کیا ہے کہ ریت میں گیلے پن کا درست تناسب کھینچنے کے لئے مطلوب طاقت کو نصف کر دیتا ہے۔
نہایت سادگی سے، سامان کی منتقلی کے لئے استعمال ہونے والے بڑے سے تختے کے سامنے خشک ریت کا ڈھیر لگا دیا جاتا ہو گا جو اس تختے کی حرکت کو ناممکن بنا دیتا ہو گا۔
لیکن یہی تختہ اس وقت نہایت نفاست سے سرکنے لگتا ہو گا جب پانی کی درست مقدار کی حامل ریت پر اسے سرکایا جاتا ہو گا۔ تجربات ثابت کرتے ہیں کہ تختہ گیلی ریت پر نہایت آسانی سے حرکت کرتا ہے۔
ریت پر تختے کا لیبارٹری ایڈیشن تیار کرنے والی سائنسدانوں کی ٹیم کاکہنا ہے ، ’’ممکنہ طور پر اہل مصر اس آسان سے حل سے واقف تھے۔ جیہوتی ہو ٹیب کے مقبرے کی دیوار پر لگی ایک تصویر واضح طور پر ظاہر کرتی ہے کہ کھینچے جانے والے تختے کے سامنے کھڑا ایک شخص ، عین اس تختے کے سامنے ریت پر پانی ڈال رہا ہے۔‘‘
لیکن یہ تحقیق کہ قدیم لوگوں نے یہ سب کرنے کا اہتمام کس طرح کیا، ہمیں جدید دور کے نقل و حمل کے نظام کو مزید مؤثر بنانے اور دانے دار اشیاء کو پراسس کرنے میں بھی مدد دے سکتی ہے ۔اس وقت ان کاموں کے لئے استعمال ہونے والی توانائی دنیا میں توانائی کی کل کھپت کے تقریباً دس فیصد پر مشتمل ہے۔
No comments:
Post a Comment