Friday, 20 May 2016

نواز شریف! سوات تہ پہ خیر راغلے

www.swatsmn.com

نواز شریف! سوات تہ پہ خیر راغلے


آج 19  مئی ہے۔۔۔ کل یعنی 20 مئی کو پاکستان کے منتخب وزیراعظم اہل سوات کو شرفِ باریابی بخش رہے ہیں۔۔۔  ان کا دورۂ سوات پاناما پیپرز کے تحت ان کے خاندان پر لگائے جانے والے الزامات کے نتیجے میں ظہور پزیر ہو رہا ہے ۔۔۔  ورنہ جناب وزیراعظم صاحب کو بیرون ممالک کے دوروں سے کہاں فرصت ملنے والی تھی جس کے دوران وہ سوات اور ملک کے دوسرے حصوں کے طوفانی دوروں پر نکل پڑتے۔۔۔  یہ دورہ ان کے اس عوامی رابطہ مہم کا حصہ ہے جس میں وہ سوات کے عوام کو بھی اعتماد میں لیں گے کہ پاناما لیکس میں ان پر لگائے جانے والے الزامات کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں۔ وہ پاک اور پوتر ہیں۔  قوم کا ایک پیسا بھی انھوں نے ناجائز طریقے سے لوٹا ہے اور نہ بیرون ملک منتقل کیا ہے۔ دورۂ سوات کے دوران وزیراعظم صاحب اپنے مشیر امیر مقام کی رہائش گاہ سنگوٹہ میں کچھ دیر قیام کریں گے۔ جس کے بعد وہ پنجاب حکومت کی جانب سے سنگوٹہ میں تعمیر کردہ صوبہ کے سب سے بڑے کڈنی ہسپتال کا افتتاح کریں گے۔ افتتاح کے بعد وہ سنگوٹہ میں ایکسیلسئیر کالج کے گراؤنڈ میں ایک جلسۂ عام سے خطاب کریں گے۔۔۔  یہ وہی کڈنی ہسپتال ہے جو سعودی عرب کے عطیہ سے سوات میں تعمیر کیا گیا ہے اور اس کی تعمیر کے بعد نہ اس کو مطلوبہ میڈیکل اور ٹیکنیکل سٹاف کی فراہمی ممکن بنائی جا رہی تھی اور نہ ہی اسے عوام کے لیے مکمل طور پر آپریشنل کیا جا رہا تھا۔ پاناما پیپرز کا شکریہ کہ ان کی وجہ سے سوات کی قسمت جاگ اٹھی۔ بالآخرکڈنی ہسپتال کی طرف نظر کرم اٹھ گئی۔ اور ہسپتال کے دونوں اطرف کی ٹوٹی پھوٹی سڑک ایک ایک کلومیٹر تک راتوں رات پختہ کرائی گئی۔
وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد میاں محمد نواز شریف کا یہ پہلا دورۂ سوات نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی وہ سوات کے دورہ پر 15 جنوری 2014ء میں آ چکے ہیں جس کے دوران انھوں نے سوات میں فوجی چھاؤنی کا اعلان کیا تھا اور اس مقصد کے لیے ابتدائی طور پر دو ارب روپے مختص کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ انھوں نے اپنے اس دورہ میں سوات میں مقیم فوجی حکام سے ملاقاتیں کی تھیں اور پاک فوج کے زیرانتظام قائم کیے جانے والے ادارہ ’’سباؤن‘‘ کا دورہ کیا تھا جہاں ان افراد کی ذہنی تطہیر کی جاتی ہے جو سوات میں طالبانائزیشن میں ملوث تھے۔ اگرچہ ہمارے ملک میں یہ پختہ روایت چلی آ رہی ہے کہ جب منتخب وزیراعظم کسی علاقے کا دورہ کرتے ہیں تو وہاں کی تعمیر و ترقی کے لیے کسی بڑے منصوبے کا اعلان بھی کرتے ہیں لیکن میاں نواز شریف نے ایسا کچھ نہیں کیا بلکہ سوات کے عوام کی مرضی کے برعکس فوجی چھاؤنی کے قیام اور اس مقصد کے لیے دو ارب روپے مختص کرنے کا ’’مژدۂ جاں فرسا‘‘ سنایا تھا۔
گزشتہ عام انتخابات سے قبل بھی نواز شریف انتخابی مہم کے دوران 28 نومبر 2012ء کو سوات کے دورہ پر آچکے تھے ۔ سنگوٹہ ہی میں امیر مقام کی معیت میں انھوں نے سوات کے عوام کے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ وہ اگر برسراقتدار آگئے تو مردان سے سوات تک موٹر وے کو توسیع دیں گے اور ترجیحی بنیاد پرمینگورہ سے کالام تک دو رویہ سڑک کی تعمیر ممکن بنائیں گے۔ وزیر اعظم منتخب ہونے کے بعد 14 نومبر 2015ء کو وہ سوات کے مختصر دورہ پر آئے تو انھوں نے پھر چکدرہ سے کالام تک سڑک کی تعمیر کا اعلان کیا اور کہا کہ یہ سڑک معیار میں کسی بھی طور موٹر وے سے کم نہ ہوگی لیکن اہل سوات ابھی تک ان کے کیے گیے وعدوں کے ایفا کے منتظر ہیں۔ ان کے مشیر امیر مقام نے بھی انھیں اہل سوات کے ساتھ کیے گئے ان کےدعوے یاد کرانے کی زحمت کبھی گوارا نہیں کی۔
سوات میں جب آخری فوجی آپریشن ’’راہِ راست‘‘ کے بعد سوات میں امن قائم کیا گیا اور سوات سے ہجرت کرنے والے لوگوں کو سوات واپس جانے کی اجازت دے دی گئی تو اُس وقت کے پیپلز پارٹی کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے سوات کا دورہ کیا تھا اور ایک عوامی تقریب میں اہل سوات کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے ان سے براہِ راست پوچھا تھا کہ وہ مجھے سوات کا کوئی ایک بنیادی مسئلہ بتائیں جس پر میں فوری طور پر منظوری کے احکامات صادر کروں۔ اس وقت تقریب میں موجود عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی اسمبلی کے اراکین نے وزیراعظم صاحب سے درگئی سے مہوڈنڈ تک دو رویہ سڑک تعمیر کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور اس وقت وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے ان کا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے چک درہ سے کالام تک دو رویہ سڑک کی منظوری دی تھی لیکن بعد ازاں ان کا اعلان نقش برآب ثابت ہوا۔ ابھی تک وہ سڑک نہ بن سکی ہے۔ موجودہ وزیراعظم میاں نواز شریف نے اپنے دوسرے دورِ حکومت میں بھی درگئی سے مہو ڈنڈ تک دو رویہ سڑک کی تعمیر کا اعلان کیا تھا لیکن انھوں نے بھی اپنے اعلان کو عملی جامہ نہیں پہنایا تھا۔ یہ ہیں ہمارے منتخب وزرائے اعظم اور ان کے قول و فعل کا تضاد۔ وزارتِ عظمیٰ ملک کا سب سے بڑا اور طاقت ور جمہوری عہدہ ہے۔ اس پہ ایسے افراد کو براجمان ہونا چاہئیں جو اپنے قول کے پکے ہوں۔ جو اعلیٰ کردار کے حامل ہوں۔ ان کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ کی ایک حرمت ہوتی ہے اور اس حرمت کی پاسداری میں وہ کوئی غفلت اور کوتاہی نہیں کرتے۔ اپنے وعدوں اور اعلانات کا پاس رکھتے ہیں لیکن افسوس وطن عزیز میں عوام کے منتخب وزیراعظم بھی اپنے وعدوں کا پاس نہیں رکھتے اور اپنے کیے گیے اعلانات کا بھرم توڑ دینے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتے۔
کل وزیراعظم میاں محمد نواز شریف سوات میں ایک بار پھر عوام سے مخاطب ہوں گے۔ وہ ایک بار پھر سوات کی تعمیر و ترقی کے حوالے سے (متوقع طور پر) کوئی بڑا اعلان کریں گے لیکن ایسا کوئی اعلان کرنے سے پہلے وہ اگر کچھ دیر کے لیے سوچیں، غور کریں کہ وہ شورشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں کے مارے ہوئے سوات کے لیے جو اعلانات کرنے والے ہیں، کیا ان پر عمل درآمد بھی ہوگا یا اب بھی وہ سوات کے عوام کو محض اپنے دل خوش کن اعلانات کے ذریعے ٹرخا رہے ہیں۔ سابقہ دورِ حکومت میں طالبانائزیشن اور سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد عالمی سطح پر سوات کے لیے بڑی امداد آئی تھی لیکن اس امداد کا بیس فی صد بھی سوات کی تعمیر نو اور اہل سوات کی بحالی پر خرچ نہیں کیا گیا ہے۔ اب بھی سوات کا مجموعی انفراسٹرکچر تباہی سے دوچار ہے اور بہت سے منہدم کئے جانے والے سکول، پل اور دیگر سرکاری و نجی عمارات تعمیر نو کے منتظر ہیں۔
اس موقع پر ایک بار پھر پاناما پیپرز کا شکریہ کہ ان کی وجہ سے نہ صرف وزیراعظم میاں نواز شریف سوات کا دورہ کر رہے ہیں بلکہ 22 مئی کو تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان بھی سوات تشریف لانے والے ہیں۔ وہ بھی ایک بڑے جلسۂ عام سے خطاب کریں گے۔ صوبہ خیبرپختون خوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک متعدد بار سوات کے دورہ پر آچکے ہیں لیکن انھیں بھی سوات کے مسائل اور عوامی مشکلات نظر نہیں آرہی ہیں۔ اگرچہ ان کی حکومت کے قیام میں سوات کے صوبائی اسمبلی کے چھ منتخب عوامی نمائندوں کا بڑا ہاتھ ہے اور اہل سوات ہی نے قومی اسمبلی میں عمران خان کی پارٹی کو دو ایم این ایز دئیے ہیں لیکن عمران خان نے بھی سوات اور اہل سوات کی محبتوں کا کوئی جواب نہیں دیا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ میاں نواز شریف کے دورۂ سوات کے اثرات کم یا ختم کرنے کے لیے پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کیا جوابی اعلانات کرتے ہیں؟

Friday, 13 May 2016

ماں سے چوری

www.swatsmn.com
ایک تھے ہمارے ٹھیکیدار دوست۔ سرکاری ٹھیکے لیتے، رشوت خوب دیتے، مال بھی خوب بناتے اور پھر اپنے کارنامے ہمیں مزے لے لے کر سُناتے۔ ایک دن ہم نے بِھنّا کر کہا کہ یار چوری پر اِتنا فخر۔
اُنھوں نے کہا بھیا چوری کاہے کی۔ ملک اپنی ماں ہے۔ جو ماں کا ہے وہ ہمارا ہے۔ ماں سے لیا تو چوری کیسے کی؟ جب ماں کا دھیان اِدھر اُدھر ہو تو اُس کے پلّو سے دو چار روپے تو تم بھی نکال ہی لیتے ہو گے۔
گذشتہ ہفتے بلوچستان میں نوٹوں سے بھرے کمرے اور گاڑیاں، ارب پتی بریگیڈیئر اور پاناما لیکس میں لِکھے ہوئے نام پڑھ کر خیال آیا کہ یا اللہ ہماری ماں کا پّلو ہے یا قارون کا خزانہ کہ ہم نسلوں سے چرا رہے ہیں اور ختم ہونے میں ہی نہیں آتا۔
پڑھے لکھے لوگ ہمیں یہ بتا رہے ہیں کہ ہمارے سیاست دان اور سیٹھ (اور اکثر سیٹھ سیاستدان) اپنی جائیدادیں باہر اِس لیے رکھتے ہیں کیونکہ اِس ملک میں سرمایہ کاروں سے نفرت کی جاتی ہے۔ آج حکومت میں ہیں تو کل جیل میں۔ آخر وُہ اپنے بچوں کے مستقبل کی فکر نہ کریں؟
یہ دانا لوگ ہمیں یہ بتانا بھول جاتے ہیں کہ آدھے سے زیادہ پاکستان بِن ماں کا بچہ ہے۔ ایک دفعہ سینیئر تجزیہ کار سِرل المیڈا نے کہا تھا کہ پاکستان میں زیادہ تعداد ایسے لوگوں کی ہے جنھوں نے کبھی یہ دیکھا ہی نہیں کہ سکول اندر سے کیسا دِکھائی دیتا ہے یا ہسپتال کے اندر کیا مزے ہوتے ہیں۔
لیکن ظاہر ہے اِس مخلوق کو ہم ٹی وی پر کم کم دیکھتے ہیں۔ٹی وی پر آج کل چوروں کا شور جاری ہے۔ کوئی کہتا ہے تم تو ہو ہی عادی چور۔ دوسرا کہتا ہے تمہارا باپ بھی چور تھا۔ پھر کوئی کہتا ہے لیکن پکڑے تو تم گئے ہو۔
کرپشن پر بحث ایسی ہی ہے جیسے جمعے کے خطبوں میں علما حضرات گناہ گاروں کا دِل گرمانے کے لیے حور و غلمان کا ذکر کرتے ہیں۔
ہم سے ووٹ مانگنے والوں نے تو لندن اور نیویارک میں گھر بنا رکھے ہیں۔ ہمیں اندر سے یہ سُن کر خوشی ہوتی ہے کہ ہم نہ سہی ہمارے کسی فوجی بھائی نے ارب پتی بننے کا طریقہ سیکھ لیا ہے۔
ہم سب کو اندر سے یقین ہے پیسے بنانے کا کوئی سیدھا اور ایمانی طریقہ نہیں ہے۔ کسی سیانے نے کہا تھا کہ آپ 50 ہزار تو حلال طریقے سے کما سکتے ہیں شاید 5 لاکھ بھی لیکن 50 کروڑ بنانے کے لیے تو چوری کرنی پڑتی ہے۔
اگر ہمارے ملک میں کرپشن کی سرایت کو سمجھنا ہو تو دارالحکومت اسلام آباد پر ہی نظر ڈال لیں۔ نِصف صدی پہلے کچھ جرنیلوں، سرکاری افسروں اور سیاستدانوں نے ایک خوبصورت جنگل چن کر دھڑا دھڑ ایک دوسرے کو الاٹ کرنا شروع کر دیا اور دو نسلوں بعد پاکستان کا سب سے مہنگا شہر وجود میں آ گیا۔ جِس ملک کے دارالحکومت کی بنیادیں ہی ایسے کھڑی ہوں اُس میں کسی سیاستدان یا چند سرکاری ملازمین کا نام اُچھالنے سے کچھ نہیں ہو گا۔
Image caption’جِس ملک کے دارالحکومت کی بنیادیں ہی کرپشن پر کھڑی ہوں اُس میں کسی سیاستدان یا چند سرکاری ملازمین کا نام اُچھالنے سے کچھ نہیں ہو گا‘
سُنا ہے اسلام آباد کا علاقہ چک شہزاد اِس لیے بنا تھا کہ کھیتی باڑی کرنے والوں کو دیا جا سکے۔ آج وہاں رہنے والوں سے پوچھیں کہ پیاز زیرِ زمین اُگتا ہے کہ درختوں پر لگتا ہے تو وہ کہیں گے کیا ’ہم تمہیں کمّی کمین لگتے ہیں۔‘
سیٹھوں، ججوں، جرنیلوں اور سرکاری ملازمین کو تو چھوڑیں ہم جو اپنے آپ کو قلم کا مزدور کہتے ہیں، مساوات اور اِنسانی حقوق کی چھابڑی لگا کر بیٹھے ہیں۔ ہمارے پریس کلب بھی اس انتظار میں رہتے ہیں کہ کوئی راہِ خدا کچھ دے جائے۔ ہمارے ہر چارٹر میں بھی مطالبہ ہوتا ہے کہ صحافیوں کو پلاٹ دیے جائیں۔
ہمارے شہروں کی آرٹ کونسل میں ہر طرح کے آرٹسٹ ہیں لیکن زیادہ تر ظاہر ہے شاعر ہیں۔ آرٹ کونسل بھی مطالبہ کرتی ہے کہ ہمیں بھی پلاٹ دیے جائیں۔ سوچتا ہوں کہ اگر ریاست کو ہر شاعر کو پلاٹ دینا پڑ گیا تو ہندوستان کے ساتھ دو چار اور ملک بھی فتح کر لیں پھر بھی زمین کم پڑ جائے گی۔
سچ تو یہ ہے کہ ہم جیسے خواب بیچنے والے بھی ایک آنکھ سے ستاروں پر کمند ڈالتے ہیں، دوسری آنکھ ماں کے پرس پر رکھتے ہیں۔



shukria ...محمد حنیف

Saturday, 23 April 2016

خالی پیٹ لہسن کھانا۔۔ نا قابل یقین فوائد

www.swatsmn.com

اکثر سننے میں آیا ہے کہ لہسن کا استعمال بلڈ پریشر کے مریضوں کے لئے بیحد مفید ہے۔ یہ بات یقینا درست ہے مگر اس کے علاوہ یہ بہت سے دوسرے مسائل کا بھی مفید حل ہے۔ خاص کر خالی پیٹ لہسن کا استعمال ایک خاص قسم کی افادیت رکھتا ہے۔ لہسن ایک خاص قسم کا قدرتی انٹی بائیوٹک ہے جو کئی بیماریوں سے محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
لہسن کو خالی پیٹ کھانے کے بہت سے فائدے ہیں۔
خالی پیٹ لہسن کھائیں گے تو پیٹ میں موجود بیکٹیریا ختم ہو جائیں گے،جس سے آپ صحت مند اور کئی بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں گے۔
لہسن کا  استعمال سےجسم کا مدافعتی نظام میں بہتری آتی ہے۔
 لہسن خون کو پتلا کرتا ہے جس سے آپ کے خون کا نظام تیز رہتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ آپ بلڈ پریشر کنٹرول کرنے میں بھی  مددگار ثابت ہوتا ہے۔
اگر آپ کو جلدی بیماری کا مسئلہ درپیش ہو تو کھانے میں لہسن کی مقدار بڑھادیں۔ اس سے آپ کے جسم میں زہریلے مادے کم ہوں گے اور جلد تر وتازہ رہے گی۔
اگر خون کی شریانیں بند ہونے لگیں تو روزانہ خالی پیٹ لہسن کا استعمال کریں بہت جلد آپ کو محسوس ہوگا کہ آپ کی طبیعت بحال ہو رہی ہے۔
لہسن ایک قدرتی انٹی بائیوٹک ہے اور سردیوں میں اس کے استعمال سے انسان کھانسی، نزلہ اور زکام سے محفوظ رہتا ہے۔
اگر اعصابی کمزوری کا مسئلہ ہو تب بھی لہسن انتہائی مفید ثابت ہوتا ہے۔
نوٹ: یہ مضمون محض معلومات عامہ کے لئے ہے۔
thanx , Aaj

Sunday, 3 April 2016

ملاکنڈ ڈویژن یا پاٹا میں کسٹم ایکٹ کا نفاذ- ایک نظر۔

www.swatsmn.com

کل پرسوں سے پرنٹ اور سوشل میڈیا پر ملاکنڈ ڈویژن یا پاٹا میں کسٹم ایکٹ کے نفاذ پر لوگوں کا رد عمل دیکھنے کو مل رہا ہے۔ بعض دوست اس کو حکومتی چالبازی اور چوری چھپے کا عمل قرار دے رہے ہیں تو کچھ دوست اس فعل کو اچھا قدم قرار دے رہے ہیں۔ اس حوالے سے میں کچھ گذارشات اپنے نکتہ نظر کے طور پر بتانا چاہ رہا ہوں۔
سب سے پہلے اس امر ضرورت ہے کہ یہ قانون اتنی دیری سے کیوں نافذ کیا جا رہا ہے؟ ملاکنڈ ڈویژن و ضلع کوہستان کی ایک خصوصی آِئینی حثیت ہے۔ جس کو پاکستان کے آِیئن کے دفعہ 246 کے تحت بیان کیا جاتا ہے۔ یہ قبایئلی علاقے ہیں جنکو مختلف درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ یعنی فاٹا، پاٹا، ایف آرز۔ صوبہ خیبر پختونخوا میں سابقہ نوابی ریاستوں دیر، چترال، سوات، امب، اور کوہستان اور مانسہرہ کے قبایئلی علاقوں اور ملاکنڈ پروٹیکٹڈ ایئریا کو صوبائ قبایئلی علاقوں یعنی پاٹا کے طور پر دستور پاکستان میں درج ہیں۔
اس طرح پاکستان کے آیئن کی دفعہ 247 کے تحت ان علاقوں میں قانون کی عملداری کے طریقے بیان کرتی ہے۔ جس کے رو سے صوبے کی ایکزیکٹیو اتھارٹی کا اختیار ہے کی قوانین بنا ئے، ان علاقوں میں مختلف قوانین کی عملداری / نفاذ کا اختیار صدر مملکت کے پاس ہے اور وہ صوبے کے گورنر کے ذریعے ان قوانین کا نفاذ کرے گا۔ پارلیمنٹ [قومی اسمبلی و سینٹ] و صوبائ اسمبلی کی طرف سے منظور شدہ کوئ قانون صدر مملکت کے خصوصی حکم نامے کے بغیر ان قبائیلی علاقوں میں نافذ نہیں ہو سکتے۔ خواہ وہ قانون ان علاقوں کے حوالے سے کیوں نہ ہو۔ یا وہ ان علاقوں میں کسی یونیورسٹی کے قیام کے لئے اسمبلی سے پاس شدہ ایکٹ کیوں نہ ہو۔ صدر مملکت کے پاس یہ اختیار ہے کہ کسی ایک قبایئلی علاقے یا تمام علاقوں کی قبایئلی حثیت کو ختم کرے۔ ان علاقوں کے قبائیلی حثیت کے حوالے ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے پاس کوئ اختیار نہیں اور اس کو ختم نہیں کرسکتی۔
میرے خیال میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہماری یعنی ملاکنڈ ڈویژن کی خصوصی آیئنی حثیت کو ختم کیا جائے جس کی تعریف آیئن پاکستان کے دفعہ 246 کے تحت کی گئی ہے اور طرز حکمرانی 247 کے تحت فرد واحد کے تابع ہے۔ اس وجہ سے ہم اس ریاست میں دوسرے درجے کے شہری ہیں۔ بہت سارے عوامی مفاد کے قوانین یہاں نافذ نہیں ہیں۔ پی ٹی آئ کو بر سر اقتدار آئے ہوئے تین سال گذر گئے۔ اس دوران صرف دو قوانین پاٹا میں نافذ ہو سکیں ہیں جو لوکل گورنمنٹ اور رایئٹ ٹو پبلک سروسز ایکٹ ہیں ۔ عوام کے لئے ایک کار آمد قانون اطلاعات تک فراہمی کا قانون ہے جو ابھی تک پاٹا میں نافذ نہیں ہو سکا ہے ۔ یونیورسٹیوں کا ماڈل ایکٹ پاٹا کے یونیورسٹیوں پر نافذ نہیں ہے۔ ہم پچھلے دو دہائیوں میں دیکھ چکے ہیں کہ اسی پاٹا میں قوانین کے نفاذ کی آڑ لے کر یہاں کے امن کو کئی بار تباہ کیا گیا۔ اور حکومت کھبی نظام عدل تو کھبی شرعی نظام عدل، کھبی قاضی عدالتیں تو کھبی معاون قاضی عدالتیں اور کھبی دار القضا وغیرہ جیسے قوانین کا نفاذ کرتی آرہی ہے۔ جب پاٹا میں لا قانونیت عروج پر پہنچی تھی تو اس میں ایف ایم ریڈیو کا بڑا کردار تھا۔ حکومت ان غیر لایئسنس یافتہ ایف ایم چینلز کے خلاف کاروائ سے گریزاں تھی کیونکے یہاں پیمرا قوانین نافذ نہیں تھیں۔ اکیسویں صدی میں ہم پاٹا کے شہری جمہوری حق سے محروم ہیں کہ ہم اپنے لئے خود اسمبلیوں میں قانون سازی کر سکیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے عوامی نمائندے خواہ وہ صوبائ اسمبلی میں ہوں یا پارلیمنٹ میں وہ ہمارے لئے قانون سازی کا حق استعمال کرے۔ اور وہ فوری نافذ ہوں وہ ربڑ سٹیمپ کا کردار ادا نہ کرے۔ اور پاٹا کے عوام و عوامی نمائندگان فرد واحد یعنی صدر مملکت کے مرضی و منشا کے محتاج نہ ہوں۔ حکومت فوری طور پر پاٹا کی خصوصی آیئنی حثیت ختم کرے اور اس مکمل سیٹلڈ علاقوں میں تبدیل کرے۔
اور باقی رہی ٹیکسوں کی بات تو ٹیکس کے دو اقسام ہوتے ہیں ڈائریکٹ اور ان ڈائریکٹ۔ ان ڈائریکٹ پہلے سے نافذ ہیں جو ہر کوئ یہاں ادا کررہا ہے۔ یعنی ہم لوگ تمام اشیائے ضروریہ از قسم تیل، گھی، چینی، ادویات، کپڑا وغیرہ پر سیلز ٹیکس و دیگر ڈیویٹیز ادا کرتے ہیں۔ کیونکے یہ تمام ٹیکس ان اشیاء کے قیمت میں شامل ہیں اور غریب یا صاحب حثیت سب اس کو ادا کرتے ہیں۔ ڈائریکٹ ٹیکس صاحب حثیت لوگوں پر لاگو ہوتے ہیں مثلاً کسٹم، انکم ٹیکس، پراپرٹی ٹیکس وغیرہ۔ غریبوں کے پاس چونکہ قابل ٹیکس امدن نہیں ہوتی لہذا غریبوں کو اس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ شکریہ ابراش پاشا

Monday, 15 February 2016

دو سال قبل جب میں نے ایک کمپنی میں ملازمت

www.swatsmn.com

دو سال قبل جب میں نے ایک کمپنی میں ملازمت کی تو وہاں کم و بیش سب ہی
خوش مزاج لوگ تھے. مگر ایک انگریز نوجوان ایسا بھی تھا جو اکثر میری بات کا
جواب نہیں دیتا، میں اسے آواز دیتا تو بعض اوقات وہ میری طرف دیکھنا بھی گوارا نہ کرتا اور کبھی میں مذاق کرتا تو مسکراتا تک نہیں. میرے دل میں یہ بات
آگئی کہ کیسا بدمزاج آدمی ہے ، شائد اپنی گوری چمڑی پر نازاں ہے ..... یہاں تک کہ ایک سال یوں ہی گزر گیا ، پھر ایک روز اس نے کسی بات کے دوران مجھے بتایا کہ وہ سماعت سے جزوی طور پر محروم ہے ، اسلئے اکثر لوگوں
کی باتیں سن نہیں پاتا. مجھ پر گھڑوں پانی پڑ گیا کہ میں کیسے اس سے اتنا
عرصہ بدگمان رہا !
میرے گھر سے قریبی علاقے میں ایک شخص مجھے اکثر نظر آتا ، وہ ڈبل روٹی یا چپس کھاتا تو کافی سارا کونے میں پھینک دیتا. میں سوچنے لگا کہ کیسا ناشکرا ہے، رزق کی بے حرمتی کرتا ہے، اسے ضائع کر دیتا ہے ، اگر نہیں کھانا ہوتا تو تھوڑا لیا کرے. یہی سوچتے ایک روز اس سے آنکھیں چار ہوئی تو اس نے مسکرا کر چمکتی آنکھوں کے ساتھ کہا کہ 'بھائی یہ دیکھو ، یہ میں کیڑوں کو کھانا ڈالتا ہوں ، انہیں کیسے رزق دیتا ہے' .. میں ٹھٹھک کر رک گیا ، میں جسے ناشکرا سمجھتا تھا، وہ تو کی ناتواں مخلوق کو رزق دینے کا ذریعہ
بنا ہوا تھا. ندامت سے میرا سر جھک گیا.

یہاں انگلینڈ میں رواج ہے کہ ہمارے دیسی لوگ اپنا نام بدل کر انگریزو جیسا بنا لیتے ہیں. جیسے جمشید بدل کر 'جم' بن جاتا ہے یا تیمور بدل کر ' ٹم ' رہ جاتا ہے وغیرہ .. ایک روز اپنے دوستوں سے ملنے ایک دوسرے علاقے گیا تو وہاں دیکھ ا کہ
سب گورے میرے ایک دوست محمد کو 'مو' کہہ کر بلا رہے ہیں. مجھے شدید
تکلیف ہوئی کہ کائنات کے حسین ترین نام کو بدل کر کیسا کرڈالا ؟ صرف اسلئے کہ گوروں سے مناسبت ہو جائے؟ .. اسی خیال کو دل میں دبائے رکھا لیکن کہا نہیں. واپس گھر آگیا. کچھ عرصہ بعد پھر ملاقات ہوئی اسی دوست سے، اس بار نہیں رہا گیا. میں نے کہا محمد تمہارا نام تو سب سے بلند ہے اور تم نے اسے بدل
کر 'مو' کر دیا ، ایسا نہ کرو ! ... میری بات سن کر اس نے جواب دیا کہ 'عظیم بھائی ، میں نے ایسا جان کر کیا ہے، جب کام پر ہوتا ہوں تو یہ لوگ غصہ یا مذاق میں مجھے گالیاں دیتے ہیں، میں نہیں چاہتا تھا کہ میرے نبی کے نام کے ساتھ کوئی نازیبا کلمہ یہ کہیں، لہٰذا میں نے اپنا نام 'مو' لکھوا دیا تاکہ یہ 'مو' کو گالی دیں ، 'محمد' کو نہیں ! ...... یہ سن کر میری حالت ایسی تھی کہ کاٹو تو لہو نہیں ، میں دہل گیا کہ اگر
آج میری ملاقات نہ ہوتی اور میں اس سے یہ نہ پوچھتا تو ساری زندگی میں اپنے اس بھائی کے بارے میں بدگمانی سینے میں دبائے رکھتا. وہ حرکت جسکا کرنا مجھے گستاخی لگتا تھا ، وہ تو حب رسول کا اعلی نمونہ تھی.
میں اب جان گیا ہوں، میں اب سمجھ گیا ہوں کہ میری یہ آنکھ مجھے جو بھی دکھائے ، میں کسی کے بارے میں بدگمانی نہیں رکھوں گا ! میرے رب نے اپنی کتاب میں سچ کہا ہے کہ
.
سورہ الحجرات ١٢
''اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو، گمانوں سے بہت اجتناب کیا کرو، کیونکہ بعض گمان صریح گناہ ہوتے ہیں؛ اور ٹوہ میں نہ لگو، ..

Wednesday, 10 February 2016

شوہر مجھ سے محبت کرنے لگے!

www.swatsmn.com

شوہر مجھ سے محبت کرنے لگے!
ایک عورت گاوں کے عالم کو وہ روایتی عامل سمجهتی تهی جو گنڈے، تعویذاور عملیات کا کام کرتا ہے.
اس لیے جاتے ہی اس نے فرمائش کر ڈالی کہ مجہے ایسا عمل کر دیجیے کہ میرا خاوند میرا مطیع بن کر رہے اور مجھے ایسی محبت دے جو دنیا میں کسی عورت نے نہ پائی ہو.بندہ عامل هوتا تو جهٹ سے تعویذ لکهتا اور اپنے پیسے کهرے کرتا.لیکن وہ عالم جانتا تها کہ وہ عورت اسے کچھ اور ہی سمجہ کر آئی بیهٹی ہے.یہی سوچ کر عالم دین نے کها : محترمہ تمهاری خواہش بہت بڑی ہے اس لیے اس کی قیمت بهی بہت بڑی ہو گی.عورت نے کہا:میں بخوشی ہر طرح کی قیمت دینے کو تیار ہوں عالم نے کها: ٹهیک ہے تم مجهے شیر کی گردن سے ایک بال خود اپنے ہاتھ سے اتار کر لا دو تاکہ میں عمل شروع کرسکوں .
شیر کی گردن کا بال وہ بهی اپنے ہاتھ سے توڑ کر لادوں؟جناب آپ اس عمل کی قیمت روپوں میں مانگیے تو میں آپ کو ہر قیمت دینے کو تیار ہوں.مگر یہ تو آپ عمل نہ کر کے دینے والی بات کر رہے ہیں.آپ جانتے ہیں کہ شیر ایک خونخوار اور وحشی جانور ہے.اس سے پہلے کہ میں اس کی گردن تک پہنچ کر اس کا بال حاصل کر پاوں وہ مجهے پہلے ہی پهاڑ کهائے گا .
عالم نے کها : بی بی میں بلکل ٹهیک کہہ رہا ہوں اس عمل کے لیے شیر کی گردن کا بال لانا ہوگا.اور وہ بهی تم اپنے ہاتھ سے توڑ کر لاو گی.اس عمل کو بس اسی طرح کیا جا سکتا ہے.
عورت ویسے تو مایوس ہو کر وہاں سے چلی گئی .مگر پهر بهی اس نے اپنی چند ایک راز دان سہیلیوں سے مشورہ کیا.تو اکثر کی زبان سے سننے کو ملا کہ کام اتنا ناممکن بهی نہیں ہے، کیونکہ شیر تو اس وقت ہی خونخوار ہوتا ہے جب وہ بهوکا ہوتا ہے.شیر کو کهلا پلا کر رکهو تو اس کے شر سے بچا جا سکتا ہے اس عورت نے یہ نصیحتیں اپنے پلے باندهیں اور جنگل میں جا کر اپنی مراد پانے کے لیے آخری حد تک جانے کی ٹهان لی.
عورت شیر کے لیے گوشت پهینک کر دور چلی جاتی اور شیر آکر وہ گوشت کها لیتا وقت کے ساتھ ساتھ شیر اور اس عورت میں محبت بڑهتی چلی گئی اور فاصلے آہستہ آہستہ کم ہونا شروع ہو گئے آخر وہ دن آن پہنچا جب عورت کو اس شیر کی محبت میں کوئی شک وشبہ نہ رہا. عورت نے گوشت ڈال کر اپنا ہاته شیر کے سر پر پهیرا تو شیر نے طمانیت کے ساتھ آنکهیں موندلیں .
یہی وہ لمحہ تها جب عورت نے آہستگی کے ساته شیر کی گردن سے ایک بال توڑا اور وہاں سے بهاگتے ہوئے سیدهی عالم دین کے پاس پہنچی بال اس کے ہاتھ پر رکهتے ہی پورے جوش وخروش کے ساته بولی: یہ لیجئے شیر کی گردن کا بال.میں نے خود اپنے ہاتھ سے توڑا ہے.اب عمل کرنے میں دیر نہ لگائیے ، تاکہ میں اپنے خاوند کا دل ہمیشہ کے لیے جیت کر اس سے ایسی محبت پا سکوں جو دنیا کی کسی عورت کو نہ ملی ہو.عالم دین نے عورت سے پوچها: یہ بال حاصل کرنے کے لیے تم نے کیا کیا؟؟
عورت نے جوش وخروش کے ساتھ پوری داستان سنانا شروع کی کہ وہ کس طرح شیر کے قریب پہنچی اس نے جان لیا تها کہ بال حاصل کرنے کے لیے شیر کی رضا حاصل کرنا پڑے گی اور یہ رضا حاصل کرنے کے لیے شیر کا دل جیتنا پڑے گا جبکہ شیر کے دل کا راستہ اس کے معدے سے ہو کر جاتا ہے. پس شیر کا دل جیتنے کے لیے اس نے شیر کے معدے کو باقدگی کے ساتھ بهرنا شروع کر دیا .اس کام کے لیے ایک بہت صبر آزما انتظار کی ضرورت تهی اور آخر وہ دن آن پہنچا جب وہ شیر کا دل جیت چکی تهی اور اپنا مقصد پانا اس کے لیے آسان ہو چکا تها.
عالم دین نے عورت سے کها: اے اللہ کی بندی میں نہیں سمجهتا کہ تیرا خاوند اس شیر سے زیادہ وحشی،اجڈ اور خطرناک ہے.تو اپنے خاوند کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیوں نہیں کرتی جیسا سلوک تو نے اس شیر کے ساتھ کیا ہے؟
خاوند کے دل کو جیت،مگر صبر کے ساتھ ویسا صبر جیسا شیر جیسے جانور کو دوست بنانے کے لیے کیا تها .تمہیں کسی تعویذ،گنڈے اور جادو ٹونے کی قطعا ضرورت نہیں. تمهارا صجر،تحمل اور محبت بهرا رویہ ہی ایسی چیز ہے جو تمهارے شوہر کے دل میں تمهاری جگہ بنا سکتا ہے.

Wednesday, 3 February 2016

جس میں تم نہیں شامل وہ نظام بدلو

www.swatsmn.comجس میں تم نہیں شامل وہ نظام بدلو!
تحریر: آصف لاشاری |
قوموں کی زندگیوں میں، ان کی سماجی، تہذیبی اور تاریخی ترقی میں تعلیم کی اہمیت کی بات ہمیں ہر جگہ سننے اور پڑھنے کو ملتی ہے۔ آج ہم اس بات کا جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں کہ تعلیم کس طرح قوموں کی زندگی میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور تعلیم کیا ہے اور اسے کیسا ہونا چاہیے۔ ہم سب اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ پاکستان کی 60 فیصد سے زیادہ آبادی جو یومیہ 2 ڈالر سے کم پر گزارہ کرتی ہے اپنے بچوں کو غیر معیاری تعلیم دلانے کے بھی قابل نہیں اور درمیانے طبقے کیلئے بھی اب بڑھتی ہوئی مہنگائی اور تعلیمی اخراجات میں اضافے جیسے دوسرے مسائل کی وجہ سے اپنے بچوں کو تعلیم دلوانا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ 2015ء میں پاکستان میں شرح خواندگی (خواندگی کی نام نہاد تعریف کے باوجود) مزید 2 فیصد کم ہوگئی ہے۔ پنجاب اور سندھ میں نجکاری کی پالیسی کو اپنایا جا رہا ہے اور سرکاری تعلیمی اداروں کو این جی اوز کے حوالے کیا جارہا ہے۔ پنجاب حکومت پانچ ہزار پرائمری سکولو ں کو پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کو بیچنے جارہی ہے جس کے بعد آبادی کی ایک بڑی تعداد اپنے بچوں کو پرائمری تک بھی نہیں پڑھا پائے گی جس سے شرح خواندگی مزید کم ہونے کی طرف جا ئے گی۔ ہائی سکولوں اور کالجوں کو بھی بتدریج پرائیویٹائز کر کے تعلیمی شعبے کی ’خدمت‘ جاری ہے۔ اس سے ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ پاکستان کے حکمران اپنے لوگوں کو تعلیمی روشنی سے روشناس کرانے کیلئے کتنے بے چین ہیں۔ صرف تعلیم کا شعبہ ہی نہیں پاکستان کا کوئی بھی شعبہ اٹھا کے دیکھ لیں وہ دن بدن زبوں حالی کا شکار ہوتا ہوا نظر آتا ہے اور ہر طرف کرپشن کا شور سنائی دیتا ہے۔ تعلیم کا کاروبار عروج پر ہے اور اس کاروبار میں اربوں کھربوں کمائے جارہے ہیں۔ 
دوسرے تمام ریاستی اداروں کی طرح تعلیمی اداروں کو بھی جان بوجھ کر ناکام کیا گیا اور اس طرح پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو لوٹ مار کرنے کا موقع فراہم کیا گیا۔ اور اس وقت کوئی بھی سیاسی پارٹی کسی بھی بنیادی عوامی مسائل کی بات نہیں کر رہی اور نہ ہی یہ امکان موجود ہے کہ مستقبل میں یہ ان مسائل کی بات کریں گے اور پھر ان مسائل کا کوئی حل ان حکمرانوں کے پاس موجود موجود بھی نہیں اورنہ ہی وہ عوامی بنیادی مسائل حل کرنے میں سنجیدہ ہیں۔ 
ان تمام مسائل کے علاوہ جو تعلیم سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں دی جاتی ہے ہم اس تعلیم کے کردار کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سب سے پہلے ہمیں دیکھنا ہو گا کہ تعلیم یا علم کا مطلب کیا ہوتا ہے؟ علم کا مطلب ہوتا ہے جاننا اور جاننے کے عمل کو تعلیم کہا جاتاہے۔ اس سے ہمارے ذہن میں ایک سوال ابھرتا ہے کہ کیا جاننا؟ کیا جو پہلے سے جانا جا چکا ہے اسی کو جاننا علم کہلاتا ہے یا معلوم (جانے گئے سے) سے غیر معلوم (نہ جانے گئے) کی طرف بڑھنا۔ علم کا مطلب جانے گئے کو یاد کرنا اور دہرانا نہیں ہوتا بلکہ پہلے سے موجود علم اور حقائق کو سیکھتے ہوئے اور انہیں کل کی صورت میں جوڑتے ہوئے نئے علم کی طرف بڑھنا ہوتا ہے۔ علم بذات خود ایک تخلیقی عمل کا نام ہے جس میں کیا سوچنا ہے نہیں بلکہ کیسے سوچنا ہے سیکھایا جاتا ہے۔ سوچنے کا عمل سوال کرنے، تجسس اور تنقید کی آزادی سے جڑا ہوا ہے۔ 
اگر ہم اس سوال پہ غور کریں کہ علم کا ماخذ کیا ہے؟ ہماری سوچ، شعور یا علم کہاں سے برآمد ہوتا ہے؟ کیا ہمارا دماغ ٹیلی فون ریسیور کی طرح کہیں اور سے پیغامات موصول کرتا ہے؟ یا ہماری سوچ ہمارے اردگرد کے مادی حالات سے جنم لیتی ہے؟ ہماری سوچ، شعور یا علم کا ماخذ ہمارے گرد پھیلی ہوئی یہ مادی کائنات ہے اور ہم اپنی حسیات کی مدد سے اپنی مادی دنیا کا ابتدائی ادراک حاصل کرتے ہیں۔ پانچ بنیادیں حسوں سے ہم اپنے گرد کی دنیا کا ادراک حاصل کرتے ہیں اور اپنے علم کے ذریعے اس ادراک کی درستگی کا پتہ چلاتے ہیں۔ انسانوں نے آج تک کی تمام ترقی اپنی عملی جدوجہد کے ذریعے اپنے ماحول کو بدلتے ہوئے اور اپنے شعور کو پروان چڑھاتے ہوئے حاصل کی ہے۔ مارکس کے بقول عمل کے بغیر علم محض ایک عالمانہ بحث ر ہ جاتی ہے۔ آج انسانوں نے اپنی حسوں کو اور زیادہ طاقتور بنانے کے لیے بہت سے آلات ایجاد کر لیے ہیں مثلا ٹیلی سکوپ یا مائکروسکوپ جو بصارت کی حس کو مزید تقویت فراہم کرتی ہے۔ اس طرح انسان نے آج جدید ٹیکنالوجی اور ایجادات سے اپنے مشاہدات کو اور زیادہ طاقتور بنا لیا ہے مگر علم کا ماخذ ہماری مادی دنیا ہی ہے۔ 
ہمارے تعلیمی اداروں میں طلبہ کے ذہنوں سے یاد کرنے اور دہرانے کا کام لیا جاتا ہے اور سوال کرنے کی حوصلہ شکنی کر کے سیکھنے یا سوچنے کا عمل ختم کر دیا جاتا ہے۔ ہمارے نام نہاد دانشوروں، معلموں اور پروفیسروں کی اکثریت سمجھتی ہے کہ انسانی دماغ کو ئی خالی برتن ہے اور ان کا کام اسے اپنے نام نہاد علم سے بھرنا ہے اور اس طرح سے وہ طلبہ کے ذہنوں میں اپنے سمجھ بوجھ سے عاری لیکچر ٹھونسے جاتے ہیں اور کسی بھی قسم کے سوال کو رد کرنے یا اس کو روکنے کیلئے دھونس، دھمکی یا اپنے دھونس کے اوزار (سی پی، سیشنل مارکس اور ڈنڈہ وغیرہ) استعمال کئے جاتے ہیں اور اس کے علاوہ طلبہ کو کم تر ہونے یا نااہل ہونے کا مسلسل احساس دلاکر ان کی توہین کی جاتی ہے۔ اور اس طرح سوال کی حوصلہ شکنی کر کے طلبہ کو سیکھنے کے عمل سے لاتعلق اور بیگانہ کر دیا جاتا ہے۔ چونکہ اساتذہ خود اسی نظام کی پیداوار ہوتے ہیں اور اپنے سطحی اور غیرعملی علم کی وجہ سے طلبہ کے سوالوں کے تسلی بخش جواب دینے کی اہلیت نہیں رکھتے اس لیے بھی وہ سوال کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔ چونکہ وہ خود بھی سوچنے کے عمل سے دور ہوتے ہیں اس لئے اپنے طلبہ کو بھی اس سے دور رکھتے ہیں اور اس طرح ’’جیسے پڑھے ہیں ویسے پڑھائیں گے‘‘ کے اصول پر کاربند رہتے ہیں۔ اس تمام عمل سے تعلیم سے عدم دلچسپی پیدا ہوتی ہے اور طلبہ کی اکثریت پاس ہونے کیلئے رٹے لگانے پر ہی اکتفاکرتی ہے۔ جس طرح کا تعلیمی نصاب پڑھایا جاتا ہے اس سے متعلقہ موضوع کے خلاف اکتاہٹ اور بیزاری ہی پیدا ہوتی ہے اور طلبہ کی اکثریت ان مضامین کو فضول سمجھتی ہے جن کا ان کی عملی زندگی سے کوئی تعلق نہیں۔ 
اگرہم غور سے اس تمام عمل کو دیکھیں توتعلیم کے اس طرح کے غیر تخلیقی عمل سے طلبہ کو مقلد اور مطیع بنانے کا کام لیا جاتا ہے۔ جب طلبہ کو سوال کرنے کی آزادی نہیں ہوتی اور اس طرح وہ سیکھنے کے عمل میں خود بطور فاعل شریک نہیں ہوتے تو وہ بے جان مفعولوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں جن کا کام باصبر ہو کر فاعل استاد کو سننا ہوتا ہے جو ان کے دماغوں کو اپنے علم سے بھرنے کا کام کررہا ہوتاہے۔ اس طرح کے تعلیمی عمل سے وہ جو دوسروں کو پڑھانا چاہتے ہیں پڑھاتے ہیں اور اسی طرح کے دوسرے ذرائع کا استعمال کر کے لوگوں کے دماغوں کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔ یوں تعلیمی اداروں میں لوگوں کو بے جان حکم ماننے والے روبوٹس میں تبدیل کیا جاتا ہے اور غلام بننے اوربنانے کی تربیت دی جاتی ہے تاکہ جب وہ ان تعلیمی اداروں سے فارغ ہو کر فیکٹریوں، کارخانوں، کمپنیوں یا اداروں میں جائیں تو وہاں اپنے مالکوں کے احکام کو بجا لاسکیں۔ انسانوں کے سماجی حالات، معروض ان کے شعور پر اثرا نداز ہوتے ہیں اور اس میں تنقیدی شعور اجاگر کرتے ہوئے ان کے حالات کا درست ادراک فراہم کرتے ہیں۔ جب کوئی طالب علم روز بروز بڑھتی ہوئی فیسوں کو ادا کرنے میں مشکلات کا شکار ہوتا ہے یا بھاری بھر کم فیسیں ادا نہیں کر پاتا تو اس کے ذہن میں خود بخود اس نظام کے بارے میں، فیسوں کے اضافے کی وجوہات کے بارے میں سوالات جنم لیتے ہیں اور اس میں تنقیدی شعور کو اجاگر کرتے ہوئے سوچنے کے عمل کو شروع کرتے ہیں۔ اس طر ح معروضی واقعات اس کے شعور پر اثر انداز ہو کر اسے حالات کا صحیح ادراک مہیا کرنے میں مدددیتے ہیں۔ آج طلبہ کی اکثریت کے ذہنوں میں اس نظام کے متعلق سوال موجود ہیں اور روز بروز طلبہ کا ان حکمرانوں سے اور ان کے نظام سے اعتبار اٹھتا چلا جا رہا ہے اور طلبہ اور استحصال زدہ عوام کی اکثریت اپنے سوالات کا تسلی بخش جواب ڈھونڈ رہی ہے اور یہ انقلابیوں کا فریضہ ہوتا ہے کہ وہ لوگوں تک متبادل نظریات پہنچائیں، ان کے سوالات کے جوابات دیں اور انہیں اس نظام کے اند رموجود تضادات اور استحصال کوان کے سامنے بے نقاب کریں۔ 
تعلیم کا مقصد لوگوں کو مطیع اور مقلد بنانا نہیں بلکہ انہیں سوچنا سیکھانا ہونا چاہئے۔ چونکہ حکمران اور طاقتور طبقات کا فائدہ اکثریت کو جاہل اور بے شعور رکھنا ہوتا ہے اس لیے وہ تعلیم کو دوسرے ذرائع کی طرح اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں اور لوگوں کو غلام رکھنے کا کام کرتے ہیں۔ غلام داری میں زنجیریں غلاموں کے گردنوں اور پیروں میں ڈالی جاتی تھیں مگر سرمایہ داری میں وہ زنجیریں بدل کر ذہنی زنجیروں میں تبدیل ہو چکی ہیں۔ یہ ہم انقلابیوں کا فریضہ ہے کہ ہم ان طلبہ کو، جو اپنے سوالات کے جواب تلاش کرتے پھر رہے ہیں، وہ سوچ اور نظریات فراہم کریں جس سے وہ اپنے حالات کا صحیح ادراک حاصل کر پائیں اور اپنی زنجیروں کو دیکھ سکیں۔ ایسا صرف مکالمہ بخش تعلیم کے ذریعے ممکن ہے جس میں مسائل کو سوالیہ انداز میں پیش کر کے لوگوں کو سوچنے کے عمل میں بطور فاعل شریک کیا جائے اور یہ ہی وہ طریقہ ہے جس سے لوگوں کو اس دنیا کو بدلنے کی جدوجہد میں حقیقی معنوں میں شریک کیا جاسکتا ہے۔ ایسی ہی جدوجہد کے ذریعے اس سماج میں نہ صرف کروڑوں نا خواندہ افراد کوتعلیم کا بنیادی حق دلایا جا سکتا ہے بلکہ تعلیم کا معیار بھی کہیں زیادہ بلند کیا جا سکتا ہے۔
بولنے پر پابندی سوچنے پہ تعزیریں
پاؤں میں غلامی کی آج بھی ہیں زنجیریں 
آج حرف آخر ہے بات چند لوگوں کی 
دن ہے چند لوگوں کا رات چند لوگوں کی 
اٹھ کے دردمندوں کے صبح وشام بدلو بھی 
جس میں تم نہیں شامل وہ نظام بدلو بھی

10th National Desert Hike 2025 (Rambler Badge Hike for Rover Scouts)

10th National Desert Hike 2025  (Rambler Badge Hike for Rover Scouts) Chulistan ,روحی   نیشنل ڈزرٹ ہائیک 2025 تاریخِ عالم اس امر کی شاہد ہے ...