www.swatsmn.com
اس لیے جاتے ہی اس نے فرمائش کر ڈالی کہ مجہے ایسا عمل کر دیجیے کہ میرا خاوند میرا مطیع بن کر رہے اور مجھے ایسی محبت دے جو دنیا میں کسی عورت نے نہ پائی ہو.بندہ عامل هوتا تو جهٹ سے تعویذ لکهتا اور اپنے پیسے کهرے کرتا.لیکن وہ عالم جانتا تها کہ وہ عورت اسے کچھ اور ہی سمجہ کر آئی بیهٹی ہے.یہی سوچ کر عالم دین نے کها : محترمہ تمهاری خواہش بہت بڑی ہے اس لیے اس کی قیمت بهی بہت بڑی ہو گی.عورت نے کہا:میں بخوشی ہر طرح کی قیمت دینے کو تیار ہوں عالم نے کها: ٹهیک ہے تم مجهے شیر کی گردن سے ایک بال خود اپنے ہاتھ سے اتار کر لا دو تاکہ میں عمل شروع کرسکوں .
شیر کی گردن کا بال وہ بهی اپنے ہاتھ سے توڑ کر لادوں؟جناب آپ اس عمل کی قیمت روپوں میں مانگیے تو میں آپ کو ہر قیمت دینے کو تیار ہوں.مگر یہ تو آپ عمل نہ کر کے دینے والی بات کر رہے ہیں.آپ جانتے ہیں کہ شیر ایک خونخوار اور وحشی جانور ہے.اس سے پہلے کہ میں اس کی گردن تک پہنچ کر اس کا بال حاصل کر پاوں وہ مجهے پہلے ہی پهاڑ کهائے گا .
عالم نے کها : بی بی میں بلکل ٹهیک کہہ رہا ہوں اس عمل کے لیے شیر کی گردن کا بال لانا ہوگا.اور وہ بهی تم اپنے ہاتھ سے توڑ کر لاو گی.اس عمل کو بس اسی طرح کیا جا سکتا ہے.
عورت ویسے تو مایوس ہو کر وہاں سے چلی گئی .مگر پهر بهی اس نے اپنی چند ایک راز دان سہیلیوں سے مشورہ کیا.تو اکثر کی زبان سے سننے کو ملا کہ کام اتنا ناممکن بهی نہیں ہے، کیونکہ شیر تو اس وقت ہی خونخوار ہوتا ہے جب وہ بهوکا ہوتا ہے.شیر کو کهلا پلا کر رکهو تو اس کے شر سے بچا جا سکتا ہے اس عورت نے یہ نصیحتیں اپنے پلے باندهیں اور جنگل میں جا کر اپنی مراد پانے کے لیے آخری حد تک جانے کی ٹهان لی.
عورت شیر کے لیے گوشت پهینک کر دور چلی جاتی اور شیر آکر وہ گوشت کها لیتا وقت کے ساتھ ساتھ شیر اور اس عورت میں محبت بڑهتی چلی گئی اور فاصلے آہستہ آہستہ کم ہونا شروع ہو گئے آخر وہ دن آن پہنچا جب عورت کو اس شیر کی محبت میں کوئی شک وشبہ نہ رہا. عورت نے گوشت ڈال کر اپنا ہاته شیر کے سر پر پهیرا تو شیر نے طمانیت کے ساتھ آنکهیں موندلیں .
یہی وہ لمحہ تها جب عورت نے آہستگی کے ساته شیر کی گردن سے ایک بال توڑا اور وہاں سے بهاگتے ہوئے سیدهی عالم دین کے پاس پہنچی بال اس کے ہاتھ پر رکهتے ہی پورے جوش وخروش کے ساته بولی: یہ لیجئے شیر کی گردن کا بال.میں نے خود اپنے ہاتھ سے توڑا ہے.اب عمل کرنے میں دیر نہ لگائیے ، تاکہ میں اپنے خاوند کا دل ہمیشہ کے لیے جیت کر اس سے ایسی محبت پا سکوں جو دنیا کی کسی عورت کو نہ ملی ہو.عالم دین نے عورت سے پوچها: یہ بال حاصل کرنے کے لیے تم نے کیا کیا؟؟
عورت نے جوش وخروش کے ساتھ پوری داستان سنانا شروع کی کہ وہ کس طرح شیر کے قریب پہنچی اس نے جان لیا تها کہ بال حاصل کرنے کے لیے شیر کی رضا حاصل کرنا پڑے گی اور یہ رضا حاصل کرنے کے لیے شیر کا دل جیتنا پڑے گا جبکہ شیر کے دل کا راستہ اس کے معدے سے ہو کر جاتا ہے. پس شیر کا دل جیتنے کے لیے اس نے شیر کے معدے کو باقدگی کے ساتھ بهرنا شروع کر دیا .اس کام کے لیے ایک بہت صبر آزما انتظار کی ضرورت تهی اور آخر وہ دن آن پہنچا جب وہ شیر کا دل جیت چکی تهی اور اپنا مقصد پانا اس کے لیے آسان ہو چکا تها.
عالم دین نے عورت سے کها: اے اللہ کی بندی میں نہیں سمجهتا کہ تیرا خاوند اس شیر سے زیادہ وحشی،اجڈ اور خطرناک ہے.تو اپنے خاوند کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیوں نہیں کرتی جیسا سلوک تو نے اس شیر کے ساتھ کیا ہے؟
خاوند کے دل کو جیت،مگر صبر کے ساتھ ویسا صبر جیسا شیر جیسے جانور کو دوست بنانے کے لیے کیا تها .تمہیں کسی تعویذ،گنڈے اور جادو ٹونے کی قطعا ضرورت نہیں. تمهارا صجر،تحمل اور محبت بهرا رویہ ہی ایسی چیز ہے جو تمهارے شوہر کے دل میں تمهاری جگہ بنا سکتا ہے.
شوہر مجھ سے محبت کرنے لگے!
ایک عورت گاوں کے عالم کو وہ روایتی عامل سمجهتی تهی جو گنڈے، تعویذاور عملیات کا کام کرتا ہے.اس لیے جاتے ہی اس نے فرمائش کر ڈالی کہ مجہے ایسا عمل کر دیجیے کہ میرا خاوند میرا مطیع بن کر رہے اور مجھے ایسی محبت دے جو دنیا میں کسی عورت نے نہ پائی ہو.بندہ عامل هوتا تو جهٹ سے تعویذ لکهتا اور اپنے پیسے کهرے کرتا.لیکن وہ عالم جانتا تها کہ وہ عورت اسے کچھ اور ہی سمجہ کر آئی بیهٹی ہے.یہی سوچ کر عالم دین نے کها : محترمہ تمهاری خواہش بہت بڑی ہے اس لیے اس کی قیمت بهی بہت بڑی ہو گی.عورت نے کہا:میں بخوشی ہر طرح کی قیمت دینے کو تیار ہوں عالم نے کها: ٹهیک ہے تم مجهے شیر کی گردن سے ایک بال خود اپنے ہاتھ سے اتار کر لا دو تاکہ میں عمل شروع کرسکوں .
شیر کی گردن کا بال وہ بهی اپنے ہاتھ سے توڑ کر لادوں؟جناب آپ اس عمل کی قیمت روپوں میں مانگیے تو میں آپ کو ہر قیمت دینے کو تیار ہوں.مگر یہ تو آپ عمل نہ کر کے دینے والی بات کر رہے ہیں.آپ جانتے ہیں کہ شیر ایک خونخوار اور وحشی جانور ہے.اس سے پہلے کہ میں اس کی گردن تک پہنچ کر اس کا بال حاصل کر پاوں وہ مجهے پہلے ہی پهاڑ کهائے گا .
عالم نے کها : بی بی میں بلکل ٹهیک کہہ رہا ہوں اس عمل کے لیے شیر کی گردن کا بال لانا ہوگا.اور وہ بهی تم اپنے ہاتھ سے توڑ کر لاو گی.اس عمل کو بس اسی طرح کیا جا سکتا ہے.
عورت ویسے تو مایوس ہو کر وہاں سے چلی گئی .مگر پهر بهی اس نے اپنی چند ایک راز دان سہیلیوں سے مشورہ کیا.تو اکثر کی زبان سے سننے کو ملا کہ کام اتنا ناممکن بهی نہیں ہے، کیونکہ شیر تو اس وقت ہی خونخوار ہوتا ہے جب وہ بهوکا ہوتا ہے.شیر کو کهلا پلا کر رکهو تو اس کے شر سے بچا جا سکتا ہے اس عورت نے یہ نصیحتیں اپنے پلے باندهیں اور جنگل میں جا کر اپنی مراد پانے کے لیے آخری حد تک جانے کی ٹهان لی.
عورت شیر کے لیے گوشت پهینک کر دور چلی جاتی اور شیر آکر وہ گوشت کها لیتا وقت کے ساتھ ساتھ شیر اور اس عورت میں محبت بڑهتی چلی گئی اور فاصلے آہستہ آہستہ کم ہونا شروع ہو گئے آخر وہ دن آن پہنچا جب عورت کو اس شیر کی محبت میں کوئی شک وشبہ نہ رہا. عورت نے گوشت ڈال کر اپنا ہاته شیر کے سر پر پهیرا تو شیر نے طمانیت کے ساتھ آنکهیں موندلیں .
یہی وہ لمحہ تها جب عورت نے آہستگی کے ساته شیر کی گردن سے ایک بال توڑا اور وہاں سے بهاگتے ہوئے سیدهی عالم دین کے پاس پہنچی بال اس کے ہاتھ پر رکهتے ہی پورے جوش وخروش کے ساته بولی: یہ لیجئے شیر کی گردن کا بال.میں نے خود اپنے ہاتھ سے توڑا ہے.اب عمل کرنے میں دیر نہ لگائیے ، تاکہ میں اپنے خاوند کا دل ہمیشہ کے لیے جیت کر اس سے ایسی محبت پا سکوں جو دنیا کی کسی عورت کو نہ ملی ہو.عالم دین نے عورت سے پوچها: یہ بال حاصل کرنے کے لیے تم نے کیا کیا؟؟
عورت نے جوش وخروش کے ساتھ پوری داستان سنانا شروع کی کہ وہ کس طرح شیر کے قریب پہنچی اس نے جان لیا تها کہ بال حاصل کرنے کے لیے شیر کی رضا حاصل کرنا پڑے گی اور یہ رضا حاصل کرنے کے لیے شیر کا دل جیتنا پڑے گا جبکہ شیر کے دل کا راستہ اس کے معدے سے ہو کر جاتا ہے. پس شیر کا دل جیتنے کے لیے اس نے شیر کے معدے کو باقدگی کے ساتھ بهرنا شروع کر دیا .اس کام کے لیے ایک بہت صبر آزما انتظار کی ضرورت تهی اور آخر وہ دن آن پہنچا جب وہ شیر کا دل جیت چکی تهی اور اپنا مقصد پانا اس کے لیے آسان ہو چکا تها.
عالم دین نے عورت سے کها: اے اللہ کی بندی میں نہیں سمجهتا کہ تیرا خاوند اس شیر سے زیادہ وحشی،اجڈ اور خطرناک ہے.تو اپنے خاوند کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیوں نہیں کرتی جیسا سلوک تو نے اس شیر کے ساتھ کیا ہے؟
خاوند کے دل کو جیت،مگر صبر کے ساتھ ویسا صبر جیسا شیر جیسے جانور کو دوست بنانے کے لیے کیا تها .تمہیں کسی تعویذ،گنڈے اور جادو ٹونے کی قطعا ضرورت نہیں. تمهارا صجر،تحمل اور محبت بهرا رویہ ہی ایسی چیز ہے جو تمهارے شوہر کے دل میں تمهاری جگہ بنا سکتا ہے.
No comments:
Post a Comment