Monday, 15 February 2016

دو سال قبل جب میں نے ایک کمپنی میں ملازمت

www.swatsmn.com

دو سال قبل جب میں نے ایک کمپنی میں ملازمت کی تو وہاں کم و بیش سب ہی
خوش مزاج لوگ تھے. مگر ایک انگریز نوجوان ایسا بھی تھا جو اکثر میری بات کا
جواب نہیں دیتا، میں اسے آواز دیتا تو بعض اوقات وہ میری طرف دیکھنا بھی گوارا نہ کرتا اور کبھی میں مذاق کرتا تو مسکراتا تک نہیں. میرے دل میں یہ بات
آگئی کہ کیسا بدمزاج آدمی ہے ، شائد اپنی گوری چمڑی پر نازاں ہے ..... یہاں تک کہ ایک سال یوں ہی گزر گیا ، پھر ایک روز اس نے کسی بات کے دوران مجھے بتایا کہ وہ سماعت سے جزوی طور پر محروم ہے ، اسلئے اکثر لوگوں
کی باتیں سن نہیں پاتا. مجھ پر گھڑوں پانی پڑ گیا کہ میں کیسے اس سے اتنا
عرصہ بدگمان رہا !
میرے گھر سے قریبی علاقے میں ایک شخص مجھے اکثر نظر آتا ، وہ ڈبل روٹی یا چپس کھاتا تو کافی سارا کونے میں پھینک دیتا. میں سوچنے لگا کہ کیسا ناشکرا ہے، رزق کی بے حرمتی کرتا ہے، اسے ضائع کر دیتا ہے ، اگر نہیں کھانا ہوتا تو تھوڑا لیا کرے. یہی سوچتے ایک روز اس سے آنکھیں چار ہوئی تو اس نے مسکرا کر چمکتی آنکھوں کے ساتھ کہا کہ 'بھائی یہ دیکھو ، یہ میں کیڑوں کو کھانا ڈالتا ہوں ، انہیں کیسے رزق دیتا ہے' .. میں ٹھٹھک کر رک گیا ، میں جسے ناشکرا سمجھتا تھا، وہ تو کی ناتواں مخلوق کو رزق دینے کا ذریعہ
بنا ہوا تھا. ندامت سے میرا سر جھک گیا.

یہاں انگلینڈ میں رواج ہے کہ ہمارے دیسی لوگ اپنا نام بدل کر انگریزو جیسا بنا لیتے ہیں. جیسے جمشید بدل کر 'جم' بن جاتا ہے یا تیمور بدل کر ' ٹم ' رہ جاتا ہے وغیرہ .. ایک روز اپنے دوستوں سے ملنے ایک دوسرے علاقے گیا تو وہاں دیکھ ا کہ
سب گورے میرے ایک دوست محمد کو 'مو' کہہ کر بلا رہے ہیں. مجھے شدید
تکلیف ہوئی کہ کائنات کے حسین ترین نام کو بدل کر کیسا کرڈالا ؟ صرف اسلئے کہ گوروں سے مناسبت ہو جائے؟ .. اسی خیال کو دل میں دبائے رکھا لیکن کہا نہیں. واپس گھر آگیا. کچھ عرصہ بعد پھر ملاقات ہوئی اسی دوست سے، اس بار نہیں رہا گیا. میں نے کہا محمد تمہارا نام تو سب سے بلند ہے اور تم نے اسے بدل
کر 'مو' کر دیا ، ایسا نہ کرو ! ... میری بات سن کر اس نے جواب دیا کہ 'عظیم بھائی ، میں نے ایسا جان کر کیا ہے، جب کام پر ہوتا ہوں تو یہ لوگ غصہ یا مذاق میں مجھے گالیاں دیتے ہیں، میں نہیں چاہتا تھا کہ میرے نبی کے نام کے ساتھ کوئی نازیبا کلمہ یہ کہیں، لہٰذا میں نے اپنا نام 'مو' لکھوا دیا تاکہ یہ 'مو' کو گالی دیں ، 'محمد' کو نہیں ! ...... یہ سن کر میری حالت ایسی تھی کہ کاٹو تو لہو نہیں ، میں دہل گیا کہ اگر
آج میری ملاقات نہ ہوتی اور میں اس سے یہ نہ پوچھتا تو ساری زندگی میں اپنے اس بھائی کے بارے میں بدگمانی سینے میں دبائے رکھتا. وہ حرکت جسکا کرنا مجھے گستاخی لگتا تھا ، وہ تو حب رسول کا اعلی نمونہ تھی.
میں اب جان گیا ہوں، میں اب سمجھ گیا ہوں کہ میری یہ آنکھ مجھے جو بھی دکھائے ، میں کسی کے بارے میں بدگمانی نہیں رکھوں گا ! میرے رب نے اپنی کتاب میں سچ کہا ہے کہ
.
سورہ الحجرات ١٢
''اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو، گمانوں سے بہت اجتناب کیا کرو، کیونکہ بعض گمان صریح گناہ ہوتے ہیں؛ اور ٹوہ میں نہ لگو، ..

Wednesday, 10 February 2016

شوہر مجھ سے محبت کرنے لگے!

www.swatsmn.com

شوہر مجھ سے محبت کرنے لگے!
ایک عورت گاوں کے عالم کو وہ روایتی عامل سمجهتی تهی جو گنڈے، تعویذاور عملیات کا کام کرتا ہے.
اس لیے جاتے ہی اس نے فرمائش کر ڈالی کہ مجہے ایسا عمل کر دیجیے کہ میرا خاوند میرا مطیع بن کر رہے اور مجھے ایسی محبت دے جو دنیا میں کسی عورت نے نہ پائی ہو.بندہ عامل هوتا تو جهٹ سے تعویذ لکهتا اور اپنے پیسے کهرے کرتا.لیکن وہ عالم جانتا تها کہ وہ عورت اسے کچھ اور ہی سمجہ کر آئی بیهٹی ہے.یہی سوچ کر عالم دین نے کها : محترمہ تمهاری خواہش بہت بڑی ہے اس لیے اس کی قیمت بهی بہت بڑی ہو گی.عورت نے کہا:میں بخوشی ہر طرح کی قیمت دینے کو تیار ہوں عالم نے کها: ٹهیک ہے تم مجهے شیر کی گردن سے ایک بال خود اپنے ہاتھ سے اتار کر لا دو تاکہ میں عمل شروع کرسکوں .
شیر کی گردن کا بال وہ بهی اپنے ہاتھ سے توڑ کر لادوں؟جناب آپ اس عمل کی قیمت روپوں میں مانگیے تو میں آپ کو ہر قیمت دینے کو تیار ہوں.مگر یہ تو آپ عمل نہ کر کے دینے والی بات کر رہے ہیں.آپ جانتے ہیں کہ شیر ایک خونخوار اور وحشی جانور ہے.اس سے پہلے کہ میں اس کی گردن تک پہنچ کر اس کا بال حاصل کر پاوں وہ مجهے پہلے ہی پهاڑ کهائے گا .
عالم نے کها : بی بی میں بلکل ٹهیک کہہ رہا ہوں اس عمل کے لیے شیر کی گردن کا بال لانا ہوگا.اور وہ بهی تم اپنے ہاتھ سے توڑ کر لاو گی.اس عمل کو بس اسی طرح کیا جا سکتا ہے.
عورت ویسے تو مایوس ہو کر وہاں سے چلی گئی .مگر پهر بهی اس نے اپنی چند ایک راز دان سہیلیوں سے مشورہ کیا.تو اکثر کی زبان سے سننے کو ملا کہ کام اتنا ناممکن بهی نہیں ہے، کیونکہ شیر تو اس وقت ہی خونخوار ہوتا ہے جب وہ بهوکا ہوتا ہے.شیر کو کهلا پلا کر رکهو تو اس کے شر سے بچا جا سکتا ہے اس عورت نے یہ نصیحتیں اپنے پلے باندهیں اور جنگل میں جا کر اپنی مراد پانے کے لیے آخری حد تک جانے کی ٹهان لی.
عورت شیر کے لیے گوشت پهینک کر دور چلی جاتی اور شیر آکر وہ گوشت کها لیتا وقت کے ساتھ ساتھ شیر اور اس عورت میں محبت بڑهتی چلی گئی اور فاصلے آہستہ آہستہ کم ہونا شروع ہو گئے آخر وہ دن آن پہنچا جب عورت کو اس شیر کی محبت میں کوئی شک وشبہ نہ رہا. عورت نے گوشت ڈال کر اپنا ہاته شیر کے سر پر پهیرا تو شیر نے طمانیت کے ساتھ آنکهیں موندلیں .
یہی وہ لمحہ تها جب عورت نے آہستگی کے ساته شیر کی گردن سے ایک بال توڑا اور وہاں سے بهاگتے ہوئے سیدهی عالم دین کے پاس پہنچی بال اس کے ہاتھ پر رکهتے ہی پورے جوش وخروش کے ساته بولی: یہ لیجئے شیر کی گردن کا بال.میں نے خود اپنے ہاتھ سے توڑا ہے.اب عمل کرنے میں دیر نہ لگائیے ، تاکہ میں اپنے خاوند کا دل ہمیشہ کے لیے جیت کر اس سے ایسی محبت پا سکوں جو دنیا کی کسی عورت کو نہ ملی ہو.عالم دین نے عورت سے پوچها: یہ بال حاصل کرنے کے لیے تم نے کیا کیا؟؟
عورت نے جوش وخروش کے ساتھ پوری داستان سنانا شروع کی کہ وہ کس طرح شیر کے قریب پہنچی اس نے جان لیا تها کہ بال حاصل کرنے کے لیے شیر کی رضا حاصل کرنا پڑے گی اور یہ رضا حاصل کرنے کے لیے شیر کا دل جیتنا پڑے گا جبکہ شیر کے دل کا راستہ اس کے معدے سے ہو کر جاتا ہے. پس شیر کا دل جیتنے کے لیے اس نے شیر کے معدے کو باقدگی کے ساتھ بهرنا شروع کر دیا .اس کام کے لیے ایک بہت صبر آزما انتظار کی ضرورت تهی اور آخر وہ دن آن پہنچا جب وہ شیر کا دل جیت چکی تهی اور اپنا مقصد پانا اس کے لیے آسان ہو چکا تها.
عالم دین نے عورت سے کها: اے اللہ کی بندی میں نہیں سمجهتا کہ تیرا خاوند اس شیر سے زیادہ وحشی،اجڈ اور خطرناک ہے.تو اپنے خاوند کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیوں نہیں کرتی جیسا سلوک تو نے اس شیر کے ساتھ کیا ہے؟
خاوند کے دل کو جیت،مگر صبر کے ساتھ ویسا صبر جیسا شیر جیسے جانور کو دوست بنانے کے لیے کیا تها .تمہیں کسی تعویذ،گنڈے اور جادو ٹونے کی قطعا ضرورت نہیں. تمهارا صجر،تحمل اور محبت بهرا رویہ ہی ایسی چیز ہے جو تمهارے شوہر کے دل میں تمهاری جگہ بنا سکتا ہے.

Wednesday, 3 February 2016

جس میں تم نہیں شامل وہ نظام بدلو

www.swatsmn.comجس میں تم نہیں شامل وہ نظام بدلو!
تحریر: آصف لاشاری |
قوموں کی زندگیوں میں، ان کی سماجی، تہذیبی اور تاریخی ترقی میں تعلیم کی اہمیت کی بات ہمیں ہر جگہ سننے اور پڑھنے کو ملتی ہے۔ آج ہم اس بات کا جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں کہ تعلیم کس طرح قوموں کی زندگی میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور تعلیم کیا ہے اور اسے کیسا ہونا چاہیے۔ ہم سب اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ پاکستان کی 60 فیصد سے زیادہ آبادی جو یومیہ 2 ڈالر سے کم پر گزارہ کرتی ہے اپنے بچوں کو غیر معیاری تعلیم دلانے کے بھی قابل نہیں اور درمیانے طبقے کیلئے بھی اب بڑھتی ہوئی مہنگائی اور تعلیمی اخراجات میں اضافے جیسے دوسرے مسائل کی وجہ سے اپنے بچوں کو تعلیم دلوانا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ 2015ء میں پاکستان میں شرح خواندگی (خواندگی کی نام نہاد تعریف کے باوجود) مزید 2 فیصد کم ہوگئی ہے۔ پنجاب اور سندھ میں نجکاری کی پالیسی کو اپنایا جا رہا ہے اور سرکاری تعلیمی اداروں کو این جی اوز کے حوالے کیا جارہا ہے۔ پنجاب حکومت پانچ ہزار پرائمری سکولو ں کو پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کو بیچنے جارہی ہے جس کے بعد آبادی کی ایک بڑی تعداد اپنے بچوں کو پرائمری تک بھی نہیں پڑھا پائے گی جس سے شرح خواندگی مزید کم ہونے کی طرف جا ئے گی۔ ہائی سکولوں اور کالجوں کو بھی بتدریج پرائیویٹائز کر کے تعلیمی شعبے کی ’خدمت‘ جاری ہے۔ اس سے ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ پاکستان کے حکمران اپنے لوگوں کو تعلیمی روشنی سے روشناس کرانے کیلئے کتنے بے چین ہیں۔ صرف تعلیم کا شعبہ ہی نہیں پاکستان کا کوئی بھی شعبہ اٹھا کے دیکھ لیں وہ دن بدن زبوں حالی کا شکار ہوتا ہوا نظر آتا ہے اور ہر طرف کرپشن کا شور سنائی دیتا ہے۔ تعلیم کا کاروبار عروج پر ہے اور اس کاروبار میں اربوں کھربوں کمائے جارہے ہیں۔ 
دوسرے تمام ریاستی اداروں کی طرح تعلیمی اداروں کو بھی جان بوجھ کر ناکام کیا گیا اور اس طرح پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو لوٹ مار کرنے کا موقع فراہم کیا گیا۔ اور اس وقت کوئی بھی سیاسی پارٹی کسی بھی بنیادی عوامی مسائل کی بات نہیں کر رہی اور نہ ہی یہ امکان موجود ہے کہ مستقبل میں یہ ان مسائل کی بات کریں گے اور پھر ان مسائل کا کوئی حل ان حکمرانوں کے پاس موجود موجود بھی نہیں اورنہ ہی وہ عوامی بنیادی مسائل حل کرنے میں سنجیدہ ہیں۔ 
ان تمام مسائل کے علاوہ جو تعلیم سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں دی جاتی ہے ہم اس تعلیم کے کردار کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سب سے پہلے ہمیں دیکھنا ہو گا کہ تعلیم یا علم کا مطلب کیا ہوتا ہے؟ علم کا مطلب ہوتا ہے جاننا اور جاننے کے عمل کو تعلیم کہا جاتاہے۔ اس سے ہمارے ذہن میں ایک سوال ابھرتا ہے کہ کیا جاننا؟ کیا جو پہلے سے جانا جا چکا ہے اسی کو جاننا علم کہلاتا ہے یا معلوم (جانے گئے سے) سے غیر معلوم (نہ جانے گئے) کی طرف بڑھنا۔ علم کا مطلب جانے گئے کو یاد کرنا اور دہرانا نہیں ہوتا بلکہ پہلے سے موجود علم اور حقائق کو سیکھتے ہوئے اور انہیں کل کی صورت میں جوڑتے ہوئے نئے علم کی طرف بڑھنا ہوتا ہے۔ علم بذات خود ایک تخلیقی عمل کا نام ہے جس میں کیا سوچنا ہے نہیں بلکہ کیسے سوچنا ہے سیکھایا جاتا ہے۔ سوچنے کا عمل سوال کرنے، تجسس اور تنقید کی آزادی سے جڑا ہوا ہے۔ 
اگر ہم اس سوال پہ غور کریں کہ علم کا ماخذ کیا ہے؟ ہماری سوچ، شعور یا علم کہاں سے برآمد ہوتا ہے؟ کیا ہمارا دماغ ٹیلی فون ریسیور کی طرح کہیں اور سے پیغامات موصول کرتا ہے؟ یا ہماری سوچ ہمارے اردگرد کے مادی حالات سے جنم لیتی ہے؟ ہماری سوچ، شعور یا علم کا ماخذ ہمارے گرد پھیلی ہوئی یہ مادی کائنات ہے اور ہم اپنی حسیات کی مدد سے اپنی مادی دنیا کا ابتدائی ادراک حاصل کرتے ہیں۔ پانچ بنیادیں حسوں سے ہم اپنے گرد کی دنیا کا ادراک حاصل کرتے ہیں اور اپنے علم کے ذریعے اس ادراک کی درستگی کا پتہ چلاتے ہیں۔ انسانوں نے آج تک کی تمام ترقی اپنی عملی جدوجہد کے ذریعے اپنے ماحول کو بدلتے ہوئے اور اپنے شعور کو پروان چڑھاتے ہوئے حاصل کی ہے۔ مارکس کے بقول عمل کے بغیر علم محض ایک عالمانہ بحث ر ہ جاتی ہے۔ آج انسانوں نے اپنی حسوں کو اور زیادہ طاقتور بنانے کے لیے بہت سے آلات ایجاد کر لیے ہیں مثلا ٹیلی سکوپ یا مائکروسکوپ جو بصارت کی حس کو مزید تقویت فراہم کرتی ہے۔ اس طرح انسان نے آج جدید ٹیکنالوجی اور ایجادات سے اپنے مشاہدات کو اور زیادہ طاقتور بنا لیا ہے مگر علم کا ماخذ ہماری مادی دنیا ہی ہے۔ 
ہمارے تعلیمی اداروں میں طلبہ کے ذہنوں سے یاد کرنے اور دہرانے کا کام لیا جاتا ہے اور سوال کرنے کی حوصلہ شکنی کر کے سیکھنے یا سوچنے کا عمل ختم کر دیا جاتا ہے۔ ہمارے نام نہاد دانشوروں، معلموں اور پروفیسروں کی اکثریت سمجھتی ہے کہ انسانی دماغ کو ئی خالی برتن ہے اور ان کا کام اسے اپنے نام نہاد علم سے بھرنا ہے اور اس طرح سے وہ طلبہ کے ذہنوں میں اپنے سمجھ بوجھ سے عاری لیکچر ٹھونسے جاتے ہیں اور کسی بھی قسم کے سوال کو رد کرنے یا اس کو روکنے کیلئے دھونس، دھمکی یا اپنے دھونس کے اوزار (سی پی، سیشنل مارکس اور ڈنڈہ وغیرہ) استعمال کئے جاتے ہیں اور اس کے علاوہ طلبہ کو کم تر ہونے یا نااہل ہونے کا مسلسل احساس دلاکر ان کی توہین کی جاتی ہے۔ اور اس طرح سوال کی حوصلہ شکنی کر کے طلبہ کو سیکھنے کے عمل سے لاتعلق اور بیگانہ کر دیا جاتا ہے۔ چونکہ اساتذہ خود اسی نظام کی پیداوار ہوتے ہیں اور اپنے سطحی اور غیرعملی علم کی وجہ سے طلبہ کے سوالوں کے تسلی بخش جواب دینے کی اہلیت نہیں رکھتے اس لیے بھی وہ سوال کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔ چونکہ وہ خود بھی سوچنے کے عمل سے دور ہوتے ہیں اس لئے اپنے طلبہ کو بھی اس سے دور رکھتے ہیں اور اس طرح ’’جیسے پڑھے ہیں ویسے پڑھائیں گے‘‘ کے اصول پر کاربند رہتے ہیں۔ اس تمام عمل سے تعلیم سے عدم دلچسپی پیدا ہوتی ہے اور طلبہ کی اکثریت پاس ہونے کیلئے رٹے لگانے پر ہی اکتفاکرتی ہے۔ جس طرح کا تعلیمی نصاب پڑھایا جاتا ہے اس سے متعلقہ موضوع کے خلاف اکتاہٹ اور بیزاری ہی پیدا ہوتی ہے اور طلبہ کی اکثریت ان مضامین کو فضول سمجھتی ہے جن کا ان کی عملی زندگی سے کوئی تعلق نہیں۔ 
اگرہم غور سے اس تمام عمل کو دیکھیں توتعلیم کے اس طرح کے غیر تخلیقی عمل سے طلبہ کو مقلد اور مطیع بنانے کا کام لیا جاتا ہے۔ جب طلبہ کو سوال کرنے کی آزادی نہیں ہوتی اور اس طرح وہ سیکھنے کے عمل میں خود بطور فاعل شریک نہیں ہوتے تو وہ بے جان مفعولوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں جن کا کام باصبر ہو کر فاعل استاد کو سننا ہوتا ہے جو ان کے دماغوں کو اپنے علم سے بھرنے کا کام کررہا ہوتاہے۔ اس طرح کے تعلیمی عمل سے وہ جو دوسروں کو پڑھانا چاہتے ہیں پڑھاتے ہیں اور اسی طرح کے دوسرے ذرائع کا استعمال کر کے لوگوں کے دماغوں کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔ یوں تعلیمی اداروں میں لوگوں کو بے جان حکم ماننے والے روبوٹس میں تبدیل کیا جاتا ہے اور غلام بننے اوربنانے کی تربیت دی جاتی ہے تاکہ جب وہ ان تعلیمی اداروں سے فارغ ہو کر فیکٹریوں، کارخانوں، کمپنیوں یا اداروں میں جائیں تو وہاں اپنے مالکوں کے احکام کو بجا لاسکیں۔ انسانوں کے سماجی حالات، معروض ان کے شعور پر اثرا نداز ہوتے ہیں اور اس میں تنقیدی شعور اجاگر کرتے ہوئے ان کے حالات کا درست ادراک فراہم کرتے ہیں۔ جب کوئی طالب علم روز بروز بڑھتی ہوئی فیسوں کو ادا کرنے میں مشکلات کا شکار ہوتا ہے یا بھاری بھر کم فیسیں ادا نہیں کر پاتا تو اس کے ذہن میں خود بخود اس نظام کے بارے میں، فیسوں کے اضافے کی وجوہات کے بارے میں سوالات جنم لیتے ہیں اور اس میں تنقیدی شعور کو اجاگر کرتے ہوئے سوچنے کے عمل کو شروع کرتے ہیں۔ اس طر ح معروضی واقعات اس کے شعور پر اثر انداز ہو کر اسے حالات کا صحیح ادراک مہیا کرنے میں مدددیتے ہیں۔ آج طلبہ کی اکثریت کے ذہنوں میں اس نظام کے متعلق سوال موجود ہیں اور روز بروز طلبہ کا ان حکمرانوں سے اور ان کے نظام سے اعتبار اٹھتا چلا جا رہا ہے اور طلبہ اور استحصال زدہ عوام کی اکثریت اپنے سوالات کا تسلی بخش جواب ڈھونڈ رہی ہے اور یہ انقلابیوں کا فریضہ ہوتا ہے کہ وہ لوگوں تک متبادل نظریات پہنچائیں، ان کے سوالات کے جوابات دیں اور انہیں اس نظام کے اند رموجود تضادات اور استحصال کوان کے سامنے بے نقاب کریں۔ 
تعلیم کا مقصد لوگوں کو مطیع اور مقلد بنانا نہیں بلکہ انہیں سوچنا سیکھانا ہونا چاہئے۔ چونکہ حکمران اور طاقتور طبقات کا فائدہ اکثریت کو جاہل اور بے شعور رکھنا ہوتا ہے اس لیے وہ تعلیم کو دوسرے ذرائع کی طرح اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں اور لوگوں کو غلام رکھنے کا کام کرتے ہیں۔ غلام داری میں زنجیریں غلاموں کے گردنوں اور پیروں میں ڈالی جاتی تھیں مگر سرمایہ داری میں وہ زنجیریں بدل کر ذہنی زنجیروں میں تبدیل ہو چکی ہیں۔ یہ ہم انقلابیوں کا فریضہ ہے کہ ہم ان طلبہ کو، جو اپنے سوالات کے جواب تلاش کرتے پھر رہے ہیں، وہ سوچ اور نظریات فراہم کریں جس سے وہ اپنے حالات کا صحیح ادراک حاصل کر پائیں اور اپنی زنجیروں کو دیکھ سکیں۔ ایسا صرف مکالمہ بخش تعلیم کے ذریعے ممکن ہے جس میں مسائل کو سوالیہ انداز میں پیش کر کے لوگوں کو سوچنے کے عمل میں بطور فاعل شریک کیا جائے اور یہ ہی وہ طریقہ ہے جس سے لوگوں کو اس دنیا کو بدلنے کی جدوجہد میں حقیقی معنوں میں شریک کیا جاسکتا ہے۔ ایسی ہی جدوجہد کے ذریعے اس سماج میں نہ صرف کروڑوں نا خواندہ افراد کوتعلیم کا بنیادی حق دلایا جا سکتا ہے بلکہ تعلیم کا معیار بھی کہیں زیادہ بلند کیا جا سکتا ہے۔
بولنے پر پابندی سوچنے پہ تعزیریں
پاؤں میں غلامی کی آج بھی ہیں زنجیریں 
آج حرف آخر ہے بات چند لوگوں کی 
دن ہے چند لوگوں کا رات چند لوگوں کی 
اٹھ کے دردمندوں کے صبح وشام بدلو بھی 
جس میں تم نہیں شامل وہ نظام بدلو بھی

اوہ ۔ تمہاری ماں کی صرف ایک آنکھ ہے”

www.swatsmn.com
ایک کہانی

میری ماں کی ایک آنکھ تھی اور وہ میرے سکول کے کیفیٹیریا میں خانسامہ تھی جس کی وجہ سے میں شرمندگی محسوس کرتا تھا سو اُس سے نفرت کرتا تھا ۔ میں پانچویں جماعت میں تھا کہ وہ میری کلاس میں میری خیریت دریافت کرنے آئی ۔ میں بہت تلملایاکہ اُس کو مجھے اس طرح شرمندہ کرنے کی جُراءت کیسے ہوئی ۔ اُس واقعہ کے بعد میں اُس کی طرف لاپرواہی برتتا رہا اور اُسے حقارت کی نظروں سے دیکھتا رہا ۔
اگلے روز ایک ھم جماعت نے مجھ سے کہا “اوہ ۔ تمہاری ماں کی صرف ایک آنکھ ہے”۔ اُس وقت میرا جی چاہا کہ میں زمین کے نیچے دھنس جاؤں اور میں نے ماں سے علیحدگی کا فیصلہ کر لیا ۔ میں نے جا کر ماں سے کہا “میں تمہارھ وجہ سے سکول میں مذاق بنا ہوں ۔ تم میری جان کیوں نہیں چھوڑ دیتی ؟” لیکن اُس نے کوئی جواب نہ دیا ۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ میں کیا کہہ رہا تھا ۔ میں ماں کے ردِ عمل کا احساس کئے بغیر شہر چھوڑ کر چلا گیا ۔
میں محنت کے ساتھ پڑھتا رہا ۔ مجھے کسی غیر مُلک میں تعلیم حاصل وظیفہ کیلئے وظیفہ مل گیا ۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد میں نے اسی ملک میں ملازمت اختیار کی اور شادی کر کے رہنے لگا ۔ ایک دن میری ماں ھمیں ملنے آ گئی ۔ اُسے میری شادی اور باپ بننے کا علم نہ تھا ۔ وہ دروازے کے باہر کھڑی رہی اور میرے بچے اس کا مذاق اُڑاتے رھے ۔
میں ماں پر چیخا ” تم نے یہاں آ کر میرے بچوں کو ڈرانے کی جُراءت کیسے کی ؟” بڑی آہستگی سے اُس نے کہا “معافی چاہتی ہوں ۔ میں غلط جگہ پر آ گئی ہوں”۔ اور وہ چلی گئی ۔
ایک دن مُجھے اپنے بچپن کے شہر سے ایک مجلس میں شمولیت کا دعوت نامہ ملا جو میرے سکول میں پڑھے بچوں کی پرانی یادوں کے سلسلہ میں تھا ۔ میں نے اپنی بیوی سے جھوٹ بولا کہ میں دفتر کے کام سے جا رہا ہوں ۔ سکول میں اس مجلس کے بعد میرا جی چاہا کہ میں اُس مکان کو دیکھوں جہاں میں پیدا ہوا اور اپنا بچپن گذارہ ۔ مجھے ہمارے پرانے ہمسایہ نے بتا یا کہ میری ماں مر چکی ہے جس کا مُجھے کوئی افسوس نہ ہوا ۔ ہمسائے نے مجھے ایک بند لفافے میں خط دیا کہ وہ ماں نے میرے لئے دیا تھا ۔ میں بادلِ نخواستہ لفافہ کھول کر خط پڑھنے لگا ۔ لکھا تھا.
“میرے پیارے بیٹے ۔ ساری زندگی تُو میرے خیالوں میں بسا رہا ۔ مُجھے افسوس ہے کہ جب تم مُلک سے باہر رہائش اختیار کر چکے تھے تو میں نے تمہارے بچوں کو ڈرا کر تمہیں بیزار کیا ۔ جب مجھے معلوم ہوا کہ تم اپنے سکول کی مجلس مین شمولیت کیلئے آؤ گے تو میرا دل باغ باغ ہو گیا ۔ مُشکل صرف یہ تھی کہ میں اپنی چارپائی سے اُٹھ نہ سکتی تھی کہ تمہیں جا کر دیکھوں ۔ پھر جب میں سوچتی ہوں کہ میں نے ہمیشہ تمہیں بیزار کیا تو میرا دل ٹُوٹ جاتا ہے ۔
کیا تم جانتے ہو کہ جب تم ابھی بہت چھوٹے تھے تو ایک حادثہ میں تمہاری ایک آنکھ ضائع ہو گئی تھی ۔ دوسری ماؤں کی طرح میں بھی اپنے جگر کے ٹکڑے کو ایک آنکھ کے ساتھ پلتا بڑھتا اور ساتھی بچوں کے طعنے سُنتا نہ دیکھ سکتی تھی ۔ سو میں نے اپنی ایک آنکھ تمہیں دے دی ۔ جب جراحی کامیاب ہو گئی تو میرا سر فخر سے بلند ہو گیا تھا کہ میرا بیٹا دونوں آنکھوں والا بن گیا اور وہ دنیا کو میری آنکھ سے دیکھے گا

Sunday, 17 January 2016

رے حکمرانوں کو سمجھ آئے یا نہ آئے

www.swatsmn.com
جاگیردار کے ہاں قید رہنے والی پرعزم اور بلند ہمت نیپالی لڑکی کی انوکھی کہانی جس نے اپنے دن آپ بدلے اور اب باقی دنیابدلنے کیلئے چل نکلی ہے
دنیا تب بدلتی ہے جب بچے تعلیم حاصل کرناشروع کرتے ہیں۔یہ بات ہمارے حکمرانوں کو سمجھ آئے یا نہ آئے تاہم نیپال کے ایک دورافتادہ گائوں میں بیٹھی ایک ان پڑھ لڑکی سوما کو خوب سمجھ آئی۔ جس سکول سے اس نے پڑھا، وہاں جماعت دھم کے کمرہ کے باہر کھڑی اپنی کہانی سنارہی تھی۔ وہ بظاہر ایک عام سی لڑکی لگتی تھی لیکن حقیقت میں وہ انتہائی غیرمعمولی صلاحیتوں کی مالک تھی، بے مثل جدوجہد اس کی زندگی کا عنوان ہے۔ نیپال کا ضلع باردیا نہایت خوبصورت علاقہ ہے، یہاں کھیت ہوتے ہیں یاپھر جنگل ، ان دنوں کے درمیان میں مختلف دیہاتوں کی صورت میں کہیں کہیں انسانی آبادی نظرآتی ہے ۔سوماتھارو کا تعلق اسی علاقے سے ہے، وہ چٹے ان پڑھ والدین کے سات بچوں میں سب سے چھوٹی ہے۔ ابھی چھ برس کی تھی کہ اسے ایک معاہدے کے تحت ایک جاگیردارکے گھر میںکام کاج کیلئے بھیج دیاگیا۔ دراصل نیپال کے دور دراز کے دیہات میں غربت اس قدر زیادہ ہے کہ ماں باپ اپنے بچوں کی خوراک کا بندوبست کرنے میں بھی مشکل محسوس کرتے ہیں۔ چنانچہ وہ مجبوراً انھیں کسی قدر معاشی ’’سکھ ‘‘ حاصل کرنے کیلئے شہروں میں امیر یا متوسط طبقہ کے خاندانوں کے ہاتھ ’بیچ‘ دیتے ہیں حالانکہ انھیں بدلے میں رقم بھی کچھ زیادہ حاصل نہیں ہوتی، محض5000سے7000 روپے (پاکستانی)کے برابر۔ اس غلامی کی ایک دوسری قسم میں مختلف لوگ امیر خاندانوں سے ادھار رقم لیتے ہیں جو واپس کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے ، ایسے میں انھیں اپنی بچیاں ان خاندانوں کے ہاں جبری مشقت کے لئے بھیجنا پڑتی ہیں۔ ان کا مالی اعتبار سے مضبوط خاندانوں سے رابطہ کرانے کیلئے باقاعدہ ایجنٹ موجود ہوتے ہیں۔یادرہے کہ ان کے درمیان معاہدہ زبانی ہی ہوتاہے۔یہاں ان بچیوں کو کئی کئی گھنٹے کام کاج کرناپڑتا ہے۔ پھر جب وہ کچھ بڑی ہوتی ہیں تو انھیں گھر ہی میں موجود جنسی درندوں کے ہتھے چڑھنا اور اس پرخاموش بھی رہنا پڑتا ہے۔ سوما بھی تین مختلف گھروں میں کام کرتی رہی۔ پھربارہ برس کی عمر میں وہ اپنے گھر واپس آئی۔ اس وقت اس کی حالت یہ تھی کہ اسے مقامی زبان بولنا بھی نہیں آتی تھی۔ جاگیردار گھرانے میں رہتے ہوئے اس نے ان کے بچوں کو سکول اورکالج میں جاتے دیکھا، اسے ان طلبہ وطالبات کی زندگی پر خوب رشک آیا۔ گائوں واپس آئی تو اس نے بھی سکول جانے کی ضد پکڑ لی۔اس کا ایک بڑا بھائی نویں جماعت تک پڑھا، دوسرے نے ایس ایل سی(سیکنڈری سکول کا فائنل امتحان) کا امتحان دیا، ان کے علاوہ اس پورے گھرانے میں کوئی بھی پڑھا لکھا نہیں ہے۔2008ء میں سوما نے ایک این جی او ’’روم ٹو ریڈ‘‘(Room to Read) کے تعلیمی پروگرام برائے طالبات کے تحت داخلہ لے لیا۔ سولہ برس کی ہوئی تو وہ ساتویں کلاس تک پہنچ چکی تھی۔پاکستانی معاشرے میں زیادہ ترسرخی پائوڈر والی این جی اوز ہی ہوتی ہیں جو مغرب سے ڈالر کمانے کیلئے بنتی ہیں، رفاہی اور فلاحی کاموں کے بجائے سال کے چند مخصوص دنوں میں صرف شورشرابا کرتی ہیں۔ کٹھمنڈو میں ہیڈکوارٹر رکھنے والے این جی او ’’ روم ٹو ریڈ‘‘ نے سوما کی مالی مدد کیلئے بھی ایک تدبیر کی ، اسے اسی تعلیمی پروگرام کو معاشرے میں متعارف کرنے کیلئے ذمہ داری سونپ دی گئی۔ سوما نے ساتھ ہی ساتھ معاشرے کی ایک کامیاب فرد بننے اور اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کیلئے مختلف کلاسز میں شامل ہونا شروع کردیا تاکہ معاشرے کے مرکزی دھارے کا حصہ بن جائے۔موخرالذکرپروگرام میں شرکت نے سوما کی خوداعتمادی میں بے حد اضافہ کیا۔ اس نے اپنے بل بوتے پر اپنے آپ کو کھڑا کرنے کا عزم کیاہواتھا۔ وہ کہتی ہے:’’ میں نے اپنی ماں سے پوچھاکہ آپ نے اپنے بیٹوں کو بھی جنم دیا اور مجھے بھی،پھر ہمارے درمیان فرق کیوں روا رکھتی ہیں؟ ہم سب برابر ہیں، میں بھی وہی مواقع حاصل کرنا چاہتی ہوں جو انھیں حاصل ہیں۔‘‘ اس کے بعد میرے والدین کا آہستہ آہستہ کا رویہ بدلنے لگا۔ سوما اب بیس سال کی ہے۔ وہ سیکنڈری سے گریجویشن کلاسز کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اگلے سال اس کا امتحان ہوگا، وہ ہیلتھ ایجوکیٹر بننا چاہتی ہے۔ اس کے ذریعے وہ اپنے معاشرے کی باقی تمام لڑکیوں کو بھی مضبوط و مختار بنانا چاہتی ہیں۔ اب باردیا میں مزید650 سے زائد سوماکی طرح بیچ دی جانے والی لڑکیاں تعلیم حاصل کررہی ہیں۔ سوما نے ایک نظم لکھی ہے جس میں اس نے اپنی جدوجہد کا ذکر تفصیل اور خوب صورت انداز میں کیاہے۔یہ گیت ان ہزاروں لڑکیوں کی فریاد بھی ہے جو اب بھی نیپال کے دیگراضلاع بانکی، کیلائی، اور کنچان پورمیں ظلم واستحصال کی چکی میں بری طرح پس رہی ہیں۔ گزشتہ برس دنیا کو بدل دینے والی خواتین کا سالانہ اجتماع نیویارک میں ہوا، سوما اس میں بھی شریک تھی۔ اس تقریب میں پانچ فٹ کی اس لڑکی نے سٹیج کے عین وسط میں کھڑے ہوکر اپنی یہ نظم پوری دنیا کو سنائی: میرے ماں باپ بہت خودغرض تھے انھوں نے ایک بیٹی کو جنم دیا… انھوں نے ایک بیٹی کو جنم دیا ماں کیاتمہاری یہی آرزو تھی کہ میں مصائب کی آگ میں جلتی رہوں میرے باپ کیاتم بھی یہی چاہتے تھے کہ میں دکھ اٹھائوں اگرنہیں تو پھر تم نے ایک بیٹی کو کیوں جنم دیا؟ میرے بھائی سکول جاتے ہیں میں بدنصیب ہوں کہ ایک زمیندار کے گھر میں غلامی کی چکی میں پس رہی ہوں ہاں میں بدقسمت ہوں کہ ایک زمیندار نے مجھے اپنا غلام بنالیا زمیندار کی بیوی مجھے روز گالیاں دیتی ہے ہرروز مجھے کچھ دیر کے لئے پیٹا بھی جاتاہے ہرروز مجھے یہ تکلیف بھی سہنا پڑتی ہے میرے ماں باپ بہت خودغرض تھے کمال کے خودغرض انھوں نے ایک بیٹی کو جنم دیا… انھوں نے ایک بیٹی کو جنم دیا تقریب کے اختتام پر سوما سے انٹرویو لینے والے اخبارنویسوں کا جھمگٹا لگ گیا۔ایک اخبارنویس نے جب سوما سے پوچھا کہ آنے والے برسوں میں وہ اپنے آپ کو کہاں دیکھ رہی ہے؟ تو اس نے بغیر توقف جواب دیا کہ وہ ایک ایسی تنظیم بنائے گی جو خواتین کے حقوق کیلئے کام کرے۔یہ ہمہ پہلو کوششیں ہیں ایک دیہاتی لڑکی کی جس نے اپنے عزم وہمت سے اس قدر چھوٹی عمر میں خواتین کے عالمی منظرنامے پر اپنی جگہ بڑی خوب صورتی سے بنالی۔دراصل اسے یہ طاقت اس کی تعلیم نے دی ہے جس کے بل بوتے پر اس نے نیپال کے بڑے سنگین مسئلے کو پوری دنیا والوں کی نظروں میں آشکار کیا ورنہ وہ اب بھی نیپال کی دیگر سینکڑوں لڑکیوں کی طرح ظلم، استحصال اور غربت کا شکار ہوتی۔ اس کی تعلیم نے نہ صرف اس کی بلکہ بہت سوں کی دنیا تبدیل کردی ہے۔ امریکہ جانے کا موقع کیسے پیدا ہوا؟ دراصل کچھ لوگوں کا ایک گروہ سوما کے گائوں میں ’’کام لاری ‘‘(kamlari) کی ظالمانہ روایت کے بارے میں ڈاکومنٹری فلم بنانے آیاتو ان کے سامنے سوما نے اپنا مذکورہ بالاگیت گایا جس میں اس پر ہونے والے ظلم کا بیان تھا۔اس نظم نے ڈاکومنٹری بنانے والوں کو بہت زیادہ متاثر کیا ، پھر یہی نظم اس کے امریکہ جانے کا سبب بن گئی۔ ڈاکومنٹری بنانے والی ٹیم واپس گئی تو معروف مغربی میگزین ’’نیوز ویک ‘‘ نے سوما کو دنیا کی غیرمعمولی باصلاحیت خواتین کی فہرست میں شامل کردیا۔ اور اگلے سال عالمی یوم خواتین کے موقع پر اپنے زیراہتمام منعقدہ تقریب میں اسے مدعو کرلیا۔ نیپال کے غیرترقی یافتہ گائوں میں پلنے والی یہ لڑکی جب امریکہ پہنچی تو اس نے ایک نئی دنیا دیکھی اور اس سے بہت زیادہ متاثر ہوئی، وہ سوچتی کہ یہ لوگ اتنے بڑے شہروں کو کیسے صاف ستھرا رکھ لیتے ہیں۔ امریکہ جانے سے پہلے سوما کو کبھی گھر سے باہر کا کھانا کھانے کا موقع نہیں ملا تھا، چنانچہ نیویارک میں گزرنے والے پہلے دو دنوں میں اس نے کچھ بھی نہیں کھایا۔ تب منتظمین نے خصوصی طورپر اس کیلئے ایک انڈین ریسٹورنٹ تلاش کیا، اور اس نے کھانا شروع کیا۔ اس وقت کی امریکی وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن نے اس کا گیت سن کر اسے کہا کہ ’’یہ کام جاری رکھو‘‘۔ سوما کہتی ہے کہ میں مسز ہلیری کے یہ الفاظ آج تک بھول نہیں سکی۔ ہلیری نے میرے گائوںکسی وقت آنے کا وعدہ کیا،اس نے مجھے مزید محنت کرنے کی نصیحت کی اور یہ بھی کہا کہ وہ میرے گائوں کے غریب لوگوں کی بھی مدد کرے گی‘‘۔ جب وہ امریکہ سے واپس آئی تو اخبارنویس اور الیکٹرانک میڈیا کے نمائندے اس کے گھر کے باہر جمع ہوگئے۔ وہ میڈیا کے نمائندوں کو انٹرویودینے میں اس قدرمصروف رہی کہ اپنے گھروالوں کے ساتھ ڈھنگ سے بیٹھنے کا اسے کئی دن تک بالکل موقع ہی نہ مل سکا۔ وہ اپنی سابقہ زندگی اور امریکہ میں گزرے دس دنوں کی بابت بتاتی رہی۔دوسری طرف دیہاتیوں اور دوستوں کا جھمگٹا بھی لگا ہواتھا جو سب کے سب اس سے پوچھ رہے تھے کہ امریکہ کیسا تھا؟ وہاں کیاکچھ ہوتاہے اور اس نے وہاں کیسے وقت گزارا؟ سوما کاخیال تھا کہ اپنے تجربات، مشاہدات اور خیالات ان سب لوگوں کے ساتھ شئیر کرنا میرا فرض ہے، وہ اخبار نویسوں کو مزے لے کر بتارہی تھی کہ امریکہ جانے سے پہلے اور وہاں سے آنے کے بعد یہاںدیہاتیوں کے رویے میں زمین آسمان کا فرق نظرآیا۔ پہلے وہ مجھے انتہائی حقارت سے دیکھتے تھے لیکن اب سب کے سب میری خیروعافیت جاننے کیلئے بے چین تھے۔ وہ مسلسل مختلف سکولوں میں جارہی ہے، اپنے سکول میں بھی گئی۔وہاں جا کر بھی امریکا کاسفرنامہ سناتی رہی۔وہ کہتی ہے کہ ہمارے گائوں کے کسی بھی فرد نے آج تک امریکہ نہیں دیکھا، میں پہلی مثال بنی اس لئے ہرکوئی اس ملک کے بارے میں متجسس تھا۔ سوما کے خاندان میں سے کسی نے ہوائی جہاز نہیں دیکھاتھا۔ حتیٰ کہ ان میں سے کوئی بس میں سوار ہوکر دارالحکومت کٹھمنڈو بھی نہیں گیاتھا، ایسے میں وہاں تک بس کی سواری اور پھر جہاز میں بیٹھنا ایک خواب ہی تھا۔ ان میں سے زیادہ تر لوگوں نے صرف نیپال گنج یاپھر باردیا تک کا ہی سفر کیاتھا۔ سوما کے 66سالہ والد ہریام تھارو کاکہناتھا:’’ میں نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ میری بیٹی امریکا بھی دیکھ آئے گی۔ میں ایک دوسرے آدمی کی زمین پر کام کرکے اپنے خاندان کو پال پوس رہاتھا تاہم ایک وقت ایسا آیا کہ جب گھر والوں کیلئے دووقت کے کھانے کا انتظام بھی مشکل ہوگیا، تب میں سوما کو ’’کام لاری‘‘ کی روایت کے تحت جاگیردار کے گھر میںبھیجنے پر مجبور ہوگیا۔تاہم اگلے چھ برسوں تک جاگیردار نے اس کا کوئی پیسہ ادانہ کیا۔‘‘ اس موقع پر سوما کہنے لگی :’’ بس! وہ سال میں ایک بار کپڑوں کا ایک جوڑا دیتے تھے‘‘۔ بعد ازاں ایک تنظیم’’ فرینڈز آف نیڈی چلڈرن‘‘(Friends of Needy Children) نے سوما کو جاگیردار کے گھر سے بازیاب کرایا۔اس کے بعد اسے پڑھنے کا موقع ملا۔’’ فرینڈز آف نیڈی چلڈرن‘‘ ہی نے اس کے تعلیمی اخراجات کا ذمہ لے لیا۔ سوما کہتی ہے کہ جب اس نے اپنی لکھی ہوئی نظم پڑھی تو اس کے بعد اس کے اندر آگے بڑھنے کی لگن بہت بڑھ گئی۔ جب وہ2007ء میں جاگیردار گھرانے کی قید سے رہا ہوئی تو اسے اپنے ہی گائوں کے سرسوتی ہائیرسیکنڈری سکول میں داخلہ مل گیا۔اس وقت اس کی عمر12برس تھی۔ سوما کہتی ہے:’’جب میں جاگیردار گھرانے کی قید سے رہاہوئی تو میں نے سمجھا کہ میری زندگی کی یہ بہت بڑی کامیابی ہے، تاہم جب میں امریکہ گئی تو میں نے اپنی زندگی کے لئے بہت کچھ کیا اور سیکھا۔ غربت اب بھی اس کے گھر میں موجود ہے۔ وہ جو کچھ کماتی ہے، وہ اس کی اپنی تعلیم اور گھر کے اخراجات پورے کرنے پر صرف ہوجاتاہے۔ اس کے علاوہ گھر میں کوئی اور کمانے والا بھی نہیں ہے۔ جب اس نے ہرایک کو اپنے سفرامریکہ کی پوری تفصیلی روداد سنالی تو اس نے دوبارہ سے کام پر جانا شروع کردیا۔ اسی طرح اسے ایس ایل سی بھی دینا تھا اور ’’گیٹ‘‘ کا بھی، وہ دونوں امتحانات میں شریک ہوئی حالانکہ اس کی خاص تیاری بھی نہیں تھی۔ سوما اب ’’کام لاری‘‘ کی روایت کے خلاف پوری قوت سے جدوجہد کررہی ہے۔ اس نے ’’کام لاری ڈویلپمنٹ فورم‘‘ بنالیا ہے جس کا کام ہی قید بچوں کو رہاکراناہے۔ وہ کہتی ہے’’ اب مجھے امید ہے کہ کوئی بھی جاگیرداروں کے ہاں میری طرح جبری مشقت کا شکار نہیں رہے گا۔ ایک ایسے وقت میں جب بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کیلئے جانا چاہئے، وہ مزدوری اور مشقت کرتے ہیں۔ اب بھی ایسے بچے موجود ہیں مثلاً ہمارے ہی گائوں کی مزید نو لڑکیاں اسی طرح مختلف گھرانوں میں ’ قید بامشقت ‘ ہیں۔ سوما اب بھی نظمیں لکھ اور گا رہی ہے۔ وہ کہتی ہے کہ یہ اس کے گیت ہی تھے جنھوں نے اس کی دنیا تبدیل کی، اس لئے وہ یہ کام کبھی نہیں ترک کرے گی۔ وہ جلد ہی ایک پوری کیسٹ تیارکرنا چاہتی ہے۔

Saturday, 7 November 2015

پاکستان کے خلاف فتنہ پیدا کیا جا رہا ہے کچھ کر لو "

www.swatsmn.com
1981 میں عراق کے ایٹمی ری ایکٹر کو کامیابی سے تباہ کرنے کے بعد اسرائیل کا حوصلہ بہت بڑھ گیا اور اس نے انڈیا کے ساتھ ملکر پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا ۔
دی ایشین ایج کی دو جرنلسٹس کی لکھی ہوئی ایک مشہور کتاب Deception Pakistan, the US and the Global Weapons Conspiracy میں اس سارے واقعے کی کافی تصیلات موجود ہیں ۔
یہ 80 کی دہائی کا درمیان عرصہ تھا ۔
انڈین گجرات کے جمان گڑھ ائر فیلڈ پر اسرائیلی جہازوں کا ایک سکواڈرن پاکستان کے کہوٹہ ایٹمی پلانٹ پر حملہ کرنے کے لیے بلکل تیار تھا ۔ انہوں نے پاکستان کا ایک بڑا مسافر بردار جہاز گرانے کا ارادہ کیا تھا جو صبح سویرے بحر ہند کے اوپر سے پرواز کرتا ہوا اسلام آباد جانے والا تھا ۔ ان کا پلان تھا کہ وہ ایک کومبیٹ یا ٹائٹ گروپ کی شکل میں پرواز کرتے ہوئے پاکستان میں داخل ہونگے تاکہ پاکستانی ریڈارز کو دھوکہ دیا جا سکے اور ریڈار آپریٹرز یہ سمجھیں کہ شائد یہ کوئی ایک ہی بڑا مسافر بردار جہاز ہے ۔ پھر وہ کہوٹہ پر بمباری کر کے اسکو تباہ کر دینگے اور وہاں سے سیدھے جموں کشمیر جاکر ری فیولنگ کرینگے اور نکل جائینگے !
کہا جاتا ہے کہ اس حملے کی اطلاع جنرل ضیاء الحق کو پاکستان کی کسی روحانی شخصیت نے دی تھی ۔ میں نے تبلیغی حلقوں میں یہ بات سنی ہے کہ اسی عشرے میں ایک بار تبلیغ کے امیر حاجی عبد الوھاب صاحب نے جنرل ضیاء کو خبردار کیا تھا کہ ۔۔۔ " پاکستان کے خلاف فتنہ پیدا کیا جا رہا ہے کچھ کر لو " ۔۔۔۔۔۔ ( واللہ اعلم )

آئی ایس آئی نے اپنی بھاگ دوڑ تیز کر دی اور بالاآخر حملے سے صرف چند گھنٹے پہلے حملے اور سازش کا سراغ لگا لیا گیا ۔ یعنی حملہ صبح 4 بجے ہونا تھا اور جنرل ضیاءالحق کو رات 12 بجے اطلاع دی گئی ۔
جنرل ضیاء نے ساری صورت حال کا تیزی سے جائزہ لیا اور فوری فیصلہ کیا کہ حملے کو روکا نہیں جائیگا بلکہ ناکام بنایا جائیگا تاکہ پاکستان کو جوابی حملے کا جواز مل سکے ۔ اور فوراً ہی ایک بھرپور جوابی حملے کا پلان بنایا گیا ۔

پاکستانی ائر فورس کے تین دستے تشکیل دئیے گئے ۔
پہلے کے ذمے یہ کام تھا کہ وہ اسرائیلی جہازوں کے حملے کو ناکام بنائے اور ان کو مار گرائے ( اس معاملے میں اسرائیل کے خلاف پاکستان کا ریکارڈ 100 فیصد ہے smile emoticon )
دوسرے دستے کو ممبئ ٹرومبے میں موجود انڈیا کے بھا بھا نیوکلئیر پلانٹ کو تباہ کرنے کا ٹاسک ملا ۔
جبکہ تیسرے دستے کو نجیو ڈیزرٹ میں موجود اسرائیل کے ڈیمونا نیوکلئیر پلانٹ کو تباہ کرنے ٹاسک دیا گیا ۔
لیکن اسرائیل پر حملے میں مسئلہ یہ تھا کہ پاکستانی جہاز وہاں ری فیولنگ نہ کر پاتے اور انکا گرنا لازمی تھا ۔ یعنی واپسی نہیں تھی اور یہ ایک فدائی مشن تھا ۔ اس کے لیے 4 جوانوں کی ضرورت تھی ۔ جب ائیر فورس کے جوانوں سے پوچھا گیا تو 10 تیار ہوگئے اور ان میں 4 کا انتخاب کرنے کے لیے قرعہ ڈالنا پڑا ۔ ہر جوان یہ اعزاز حاصل کرنے کے لیے بے چین تھا ۔
کہا جاتا ہے کہ جنرل ضیاءالحق کی عظم و ہمت ، قوت فیصلہ اور جنگی حکمت عملیوں سے خوف زدہ انڈین جنرلز اس حملے کے حق میں نہ تھے اور اسکو خودکشی قرار دے رہے تھے ۔ انکو قائل کرنے میں اسرائیل اور اندارا گاندھی سے بہت محنت کی تھی ۔

جنرل ضیاء اور پاکستانی ائیر فورس شدت سے حملے کے منتظر تھے ۔ وہ اس کو عالم اسلام کے دو بڑے دشمنوں کو انکی ایٹمی قوت سے محروم کرنے کا ایک سنہری موقع سمجھ رہے تھے ۔

امریکی سیٹلائیٹ نے پاکستانی جہازوں کی غیر معمولی نقل و حرکت کو نوٹ کیا اور فوراً اسرائیل اور انڈیا کو آگاہ کیا اور انہوں نے نہایت بھونڈے انداز میں اپنے مشن سے پسپائی اختیار کرلی ۔
اسکو چھپایا بھی نہ جا سکا نتیجے میں پوری دنیا میں دونوں کی سبکی ہوئی ۔

تب پاکستان نے اسرائیل کو خبردار کیا کہ نہ پاکستان عراق ہے اور نہ ہی پاکستانی فوج عراقی فوج ہے ۔ آئندہ ایسی کسی بھی مہم جوئی کو اسرائیل کے لیے ایک بھیانک خواب میں تبدیل کر دیا جائیگا۔

تحریر شاہدخان

Thursday, 5 November 2015

مجھے سو فیصد یقین ہوگیا ہے

www.swatsmn.com


میں تحریک انصاف میں شامل دوسری جماعتوں کے کچرے، عمران خان کی غلطیوں پر لکھنا چاہ رہا تھا لیکن آج سوشل میڈیا پر ریحام خان کے ساتھ مشتاق منہاس اور عطاء الحق قاسمی کی تصویریں دیکھ کر کھٹک گیا۔ ایک بار پھر 1997 کے الیکشن کی یاد تازہ ہوگئی جب عطاء الحق قاسمی بلاناغہ عمران خان اور سیتاوائٹ سکینڈل پر کالم لکھتے تھے اور خوب عمران خان کی مٹی پلید کرتے تھے۔بدلے میں انہیں ناروےمیں سفیر بنادیا گیا جہاں اکثر نیکر پہن کر بیچ میں نہایا کرتے تھے۔ آج کل سنا ہے کہ عطاء الحق قاسمی کو پی ٹی وی کا سربراہ بنایا جارہا ہے۔


مجھے یاد ہے کہ 1988 میں نوازشریف نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے آبادیوں پر بے نظیر اور نصرت بھٹو کی بنائی گئی جعلی برہنہ تصاویر پھینکوائی تھیں۔ ہم بچے تھے ہیلی کاپٹر سے گرے پمفلٹ پکڑنے کیلئے بھاگا کرتے تھے لیکن نوازشریف کی بدقسمتی دیکھئے کہ اتنی گھٹیا حرکت کرنے کے باوجود بے نظیر اقتدار میں آگئیں ۔پھر 1993 میں نوازشریف نے مولانا فضل الرحمان کو لانچ کیا جس نے یہ منجن بیچا کہ اسلام میں عورت کی حکمرانی جائز نہیں۔ یہ سب کرنے کے باوجود بے نظیر دوبارہ حکومت میں آگئیں اور مولانا فضل الرحمان جو کہتے تھے کہ ایک عورت کی اسلام میں حکمرانی جائز نہیں وہ ایک عورت کے ہی اتحادی بن گئے۔

پھر 1996 میں عمران خان نے تحریک انصاف لانچ کی۔ لانچنگ بہت شاندارتھی لیکن نوازشریف نے اسکا حشر نشر کروادیا۔ پرویز رشید اور مشاہد حسین سید کی زیرنگرانی ایک میڈیا سیل تشکیل دیا گیا جس کا کام عمران خان کی کردار کشی تھا۔اس میڈیا سیل نے عمران خان کو یہودیوں کا ایجنٹ ثابت کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی، اسحاق ڈار کے ذریعے سیتاوائٹ سکینڈل نکالا گیا اور سیتاوائٹ سےباقاعدہ انٹرویو دلوایا گیا۔ جمائما خان کی کردارکشی کروائی گئی، عمران خان پر چندہ کھانے کا الزام لگاکر شوکت خانم بند کروانے کی کوشش کی گئی اور حکومت میں آکر عمران خان پر غداری کے مقدمے، سیتاوائٹ کو انصاف دینے ،شوکت خانم پر انکوائری بٹھانے کا وعدہ کیا گیا۔ساتھ ساتھ عمران خان کے سسر کے نام سے ایک چیک بھی میڈیا پر گردش کروایا گیا جو بعد میں جعلی ثابت ہوا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جس نے عمران خان کوووٹ ڈالنا تھا وہ پیچھے ہٹ گیا۔

نوازشریف کے منظورنظر صحافیوں مشتاق منہاس اور عطاء الحق قاسمی کو ریحام خان کے ساتھ بیٹھے دیکھا تو مجھے سو فیصد یقین ہوگیا ہے کہ مسلم لیگ ن اب عمران خان کے خلاف ریحام خان کو لانچ کرے گی۔مشتاق منہاس کے ضلع میں جاکر نوازشریف نے میگاپراجیکٹس کا اعلان کیا ہے اور مشتاق منہاس ضلع باغ سے آئندہ آزادکشمیر الیکشن میں ن لیگ کا متوقع امیدوار بھی ہے۔ جبکہ عطاء الحق قاسمی اس وقت لاہور آرٹس کونسل کاچئیرمین ہے اور اب ایم ڈی پی ٹی وی بننے جارہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ کیسی انٹرنیشنل میڈیا کانفرنس ہے جس میں کوئی انٹرنیشنل صحافی ہی نہیں۔ اس کانفرنس میں پاکستان سے کوئی نمایاں نام ہی شرکت کیلئے نہیں گیا۔انٹرنیشنل میڈیا کانفرنس کچھ دن پہلے تھی جس میں ریحام خان نہیں گئی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دوبارہ کانفرنس کیوں بلائی گئی؟ اس کانفرنس میں عطاء الحق قاسمی، مشتاق منہاس، مبین رشید، غریدہ فاروقی جیسے لوگ ہی نظر آئے، کوئی نمایاں نام نظر کیوں نہیں آ یا؟

یہ کانفرنس خود ہی چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ ریحام خان استعمال ہونے جارہی ہے۔ریحام خان کو ن لیگ کیسے استعمال کرے گی اور کونسا سکرپٹ اس سے کہلوائے گی اسکا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ بہر حال میرا تحریک انصاف کے دوستوں کو مشورہ ہے کہ اب عمران خان کے خلاف پروپیگنڈا کام نہیں کرے گا ۔ عمران خان کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ایک ہی صورت میں عمران خان کو فرق پڑے گا اگر اس نے خیبرپختونخوا میں ریفارمز نہ کیں، گراس روٹ لیول پر لوگوں کے مسائل حل نہ کئے۔ اپنی پارٹی کی تطہیر اور پارٹی کو منظم نہ کا اور اپنے غلطیوں کا ازالہ نہ کیا۔ مونیکا لیونیسکی سکینڈل کے باوجود بل کلنٹن دوبارہ الیکشن جیت گیا کیونکہ اس نے اپنی عوام کیلئے کچھ کیا تھا۔ نئی ریفارمز لیکر آیا تھا، معیشت مضبوط کی تھی، نئی نوکریاں پیدا کی تھیں۔ عمران خان سے گزارش یہی ہے کہ وہ بجائے الجھنے کے پارٹی ٹھیک کرلیں ، عوام سے رشتہ جوڑ لیں اور خیبرپختونخوا کو مثالی بنادیں اور پنجاب اور سندھ کی عوام کو کہیں کہ میں نے یہ کچھ کیا ہے، اگر آپ اپنے صوبے میں یہ کچھ چاہتے ہو تو مجھے ووٹ دو۔ عوام ووٹ دے گی۔

10th National Desert Hike 2025 (Rambler Badge Hike for Rover Scouts)

10th National Desert Hike 2025  (Rambler Badge Hike for Rover Scouts) Chulistan ,روحی   نیشنل ڈزرٹ ہائیک 2025 تاریخِ عالم اس امر کی شاہد ہے ...