Wednesday, 22 October 2014

Access to Katasraj Temples

www.swatsmn.com

            Katas Raj Temple Complex is a Hindu Temple, situated in Katas village, northern Panjab Pakistan. It is one of the most important Hindu Pilgrimage site in Pakistan, located in the famous Salt Range "Khewra" in Potohar.
The sacred Pond

I wanted to visit these temples earlier but because of time constraint i couldn't manage and could only access to Salt range "Khewra". Any how today i am going to share about these Wonderful Hindu Temple Complex, though renovation work is carrying on but the guide helped and took us to each and every corner by describing the historical back ground. I visited in early November,  though the greenery is lacking around as its the beginning of Winter Fall, yet i tried my best to capture some clear photographs.
On 4th of November 2012, many Hindu pilgrimage visited here, and their next visit on 15th of November. During these two days the tourists are not allowed to enter the temples.

Access to Katasraj Temples: Its very convenient to reach katas Raj temples. From my home town Mardan, i  just took M2 motoway,passing islamabad, entered through Kallar Kahar interchange, just followed the straight road towards Katas village near Choa Saidan Shah. From kallar kahar interchange, it took almost 30 min drive to reach there, the road is under construction and passed through a rural area. One may have a nice views of potohar rural life style. A couple of cement factories comes in the way.
From Mardan it took approximately two hours and 45 minutes drive to reach Katas by car.


 Legend behind the Katasraj Temple:  This Temple is a sacred Hindu place and is mainly dedicated to Lord Shiva. The mention of Katas is found in Hindu religious book "Maha Bharta". One of the most interesting legend behind it is dated back to the times of Lord Shiva, when his beloved wife Satti died. It is supposed by the Hindus that Lord Shiva cried too much at the death of his wife that his tears created two holy ponds. One is located in Ajmer and another is Kataksha, known as Katas now a days. The word Katas literally mean "raining eyes" or "chain of tears" in Sansikrit. Hindus believes that taking bath in the pond on certain occasion causes forgiveness of sins.


Side view of the pool
An overview of Hindu temple, dedicated to Lord Shiva, a group of total 7 ancient temples.




Map of Katas Raj Temples Complex












For Sat Ghar Temples Just Click the link below:

In Saidpur village

www.swatsmn.com
In Saidpur village i found many local people are engaged in pottery making from last many years. I ask one such man of quite old age about his business. He told me that his father started pottery making and its been  almost a 100 years now since they first started making pottery . He showed me his family museum. In following i am sharing photographs from his collection. There were certain clay items, almost 100 years old. Usually the equipment for operating pottery making is available in each and every community , yet for a successful business, it requires certain outlets and needed to be commercialized. I found many creative items in this man collection, like an aeroplane model, a Windmill, a statue of horse, a water pump, a train, a truck etc apart from the usual pottery stuffs.
All these stuff showing the creativity of his nature.


kiranpalwasha ............with tanx

Shogran Kaghan

www.swatsmn.com

 A truly perfect summer destination for those who love the mountains excursion.
In early June 2013, i travel to Shogran Kaghan Valley , situated in Khyber Pukhtun kwa province Pakistan. One of the most picturesque and spectacular mountain scenery, some of the most worth watching places. Excursions to Siripaya meadows, Sharan valley, Lulusar Lake and Lalazar are worth visiting. 
I personally chose Shogran in Kaghan to travel around and then to Siripaya through an adventurous Jeep ride. Though i have traveled to Khunjarab Pass ( Pakistan China Border) via Gilgit and Hunza with University friends. Though it was a study tour from university equally enjoyable but travel with family is entirely a different and much more cozy and lovely experience. Shogran Kaghan is approximately 240 Km from Mardan. It took me about 5  hours drive to reach Shogran  apart from the rest timings during the way.
There are many hotels to stay comfortably. The road from Kiwai to shogran is bit damaged but still one can reach through car and any other personal vehicle but from shogran onward toSiripaya, its totally impossible to reach through car. Only jeeps can take you there to the top of siripaya , where you can view the beautiful peek of Makra top.

Here are some beautiful views of Shogran.


Tuesday, 21 October 2014

امریکہ کو آئی ایس آئی کو امداد دینے کی بجائے یہ امداد سیا سی جماعت کو دینی چاہیے

www.swatsmn.com
بلاول کی محبت ’گورے دوست ‘کو پاکستان کھینچ لائی
کراچی (نیوزڈیسک)پیپلزپارٹی کے مقامی جیالے تو آپ نے سنے اور دیکھے ہوں گے لیکن آج ہم آپ کی ملاقات ایسے گورے جیالے سے کرواتے ہیں جو 4برس سے بلاول بھٹو کے ساتھ ہے۔پچھلے کئی ہفتوں سے ڈیوڈجیمز نامی ایک شخص بلاول کی وال پر اپنی تصویریں پوسٹ کررہا ہے جن پر آصفہ بھٹو زرداری نے ”گورا جیالا“ کہہ کر 
تبصرہ بھی کیا ہے۔

بلاول کی ڈیوڈ سے شناسائی آکسفورڈ یونیورسٹی سے جہاں یہ دونوں ہم جماعت تھے۔ ڈیوڈنے فلسفہ ،سیاست اور معیشت پڑھی ہے۔بلاول اور اسکی دوستی کا عکس اس مضمون سے بھی ظاہر ہوتا ہے جو اس نے پاکستان پر لکھا تھا جس میں اس نے تجویز پیش کی ہے کہ امریکہ کو آئی ایس آئی کو امداد دینے کی بجائے یہ امداد سیا سی جماعت کو دینی چاہیے ۔جب سے بلاول آکسفورڈ چھوڑ کر پاکستان آ گیا تھا تب سے جیمز مسلسل اسے یاد کرتا تھا اور بالآخر وہ بلاول سے آن ملا اور گذشتہ چار سال سے وہ پاکستان میں رہ رہا ہے۔
ڈیوڈ جیمز کا پاکستان میں ذریعہ معاش بھی دلچسپی سے خالی نہیں۔ وہ ایک نجی کمپنی جو سندھ کے ریگستانوں میں پانی کی تلاش وغیرہ پر کام کرتی ہے میں بین الاقوامی ٹریڈ منیجر کی حیثیت سے نوکری کرتا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اس کمپنی کے مالکان کا بھی پتا نہیں چلتا کہ وہ کون لوگ ہیں۔ کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ نوکری بھی اسے بلاول نے دلوائی ہے تاکہ اسے اچھا ’جیب خرچ ‘ میسر ہوتا رہے۔
جیمز کی زیادہ تر ٹیوئٹس ہم جنس پرستوں کے حقوق پر ہیں ۔ اس کے علاوہ ڈیوڈ نے ٹوئیٹر پر چار مقامات کی تصاویر بھی پوسٹ کی ہیں اور چاروں مقامات انتہائی دلچسپ ہیں جن میں وہ ان مقامات پر وہ بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ رہ چکا ہے۔ ان مقامات میں پرائم منسٹرہاﺅس اسلام آباد، دوبئی کا پرتعیش ہوٹل، چیف منسٹر ہاﺅس پشاور اور ایک کراچی کی جگہ شامل ہے۔ ڈیوڈ جیمز بلاول کے ہمراہ متعدد بار اس کے نجی ہیلی کاپٹر اور جیٹ طیارے میں نا صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی سفر بھی کر چکا ہے۔

چوروں اور ڈاکوؤں کے بھی کچھ اصول ہوتے تھے

www.swatsmn.com
ایک دفعہ عبدالستار ایدھی صاحب ٹی وی پروگرام میں آئے۔ ان کی زندگی کے دلچسپ واقعات کا پوچھا جا رہا تھا۔ اس میں انہوں نے ایک واقعہ سنایا۔ ۔ ایک دفعہ رات کے وقت ایدھی صاحب کہیں جا رہے تھے۔ راستے میں ڈاکوؤں نے روک لیا۔ جب ڈاکو سب کچھ لے بیٹھے اور ایدھی صاحب کو جانے کا کہنے لگے تو ایک ڈاکو نے انہیں پہچان لیا۔ ڈاکو نے فوراً اپنے ساتھیوں کو کہا کہ ان کا سب کچھ واپس کر دو۔ ساتھیوں نے تجسس سے پوچھا کہ کیوں؟ ڈاکو نے اپنے ساتھیوں کو کہا کہ کمبختو! جب پولیس مقابلے میں مارے جاؤ گے، جب تمہارے قریبی رشتہ دار بھی لاشیں لینے سے انکار کر دیں گے، جب اپنے بھی تدفین نہیں کریں گے تو تب یہی آدمی انسانیت کی خاطر آگے بڑھے گا اور تدفین کا بندوبست کرے گا۔ اوئے! یہ عبدالستار ایدھی ہے۔
پیارے ایدھی صاحب! یہ سب ماضی کے قصے ہیں کہ جب چوروں اور ڈاکوؤں کے بھی کچھ اصول ہوتے تھے۔ کم سہی مگر ان میں بھی غیرت نام کی کوئی چیز ہوتی تھی۔ تب معاشرے میں تھوڑی بہت انسانیت باقی تھی۔ جبکہ حال تو جنگل سے بھی گیا گزرا ہے۔ یہ تو بس ایک اندھیر نگری ہے، اندھیر نگری۔ جہاں فلاحی ادارے تک لوٹے جا رہے ہیں۔ یہ ایک ایدھی نہیں لٹا بلکہ اس جنگل نما معاشرے سے انسانیت کی آخری سانس لٹ رہی ہیں
۔

سوات سوشل میڈیا نیوز

سوات سوشل میڈیا نیوز

www.swatsmn.com

Saturday, 18 October 2014

دُعا کبھی رد نہیں ہوتی

www.swatsmn.com


دُعا کبھی رد نہیں ہوتی 
جب ہمارے بزرگ اپنے وقت کے ( آمن کی وادی) کے بارے میں بتاتے ہیں ۔ تو حیرانگی ہوتی ہیں ۔ کہ سوات اتنا پر آمن بھی تھا کبھی ۔ میرے ذہن میں اکثر ایک بات بار بار آتی جاتی تھی ۔ کہ کاش ہم بھی وہ ہجرہ ، بیٹک ، جرگہ ،اور وہ چھوٹے چھوٹے دیوار والے گھر، ڈیرے کے سماء دیکھ لیتے ۔ اس زمانے میں اگر چہ خانزم بہت ہوا کر تاتھا ۔ یہ ایک (مشکل ) فوائنٹ تھا ۔ جانزم کا تو جو اب نہیں تھا ۔مگر حقوق کے پاما لی کبھی نہیں ہوئی ۔ اس پر شکر ادا کرتے ہیں ۔ لیکن جو بات ذہین میں جگہ بنانے کی کوشش میں ہیں ۔ وہ ہے سادگی جو کہ اجکل وہ ختم ہو کر رہ گئی ہیں ۔ کبھی خوابوں میں کبھی بزرگوں کے ساتھ والی سوات کے زمانے کے واقعات ان سے سن سن کر لطف اندوز ہوتے ہیں ، بلکہ میں محمد پرویز شاہین صاحب کا نام بھی لینا چاہونگا ۔ وہ سوات کے نہایت محترم شعارا اور تاریخ دان میں اہم ستون کے حیثیت رکھتے ہیں ۔ کیونکہ وہ تاریخ سوات 

کے بارے میں ایک زندہ انسائیکو پیڈیا ہیں ۔ اگر کسی بھی قارئین کو سوات کے بارے میں معلومات لینے ہو ۔ اور وہ تاریخ سوات کے بارے میں دلچسپی رکھتے ہو۔تو لازمی طور پر وہ محمد پرویز شاہین صاحب سے ملاقات ضرور کریں ۔ہاں جی تو میں بات کر رہا تھا ۔ وادی سوات کے سادگی ،اداب ،احترام، مہمانوازی ،ایمانداری ، انصاف ، اصلوں کی وغیر ہ وغیرہ لیکن ان میں سب سے اہم پوائنٹ ، سادگی ، اداب و احترام اور انصاف تو ان چیزوں کو اکثر میں خواب میں دیکھا کر تا تھا ۔ اور ہمیشہ کے طرح سوچھتا تھا کاش ہم بھی ایسے دن دیکھ لیتے ۔ جہاں بچے کو کبھی مار نہیں پڑی کسی دوسرے بڑوں سے بلکہ ہمیشہ ایک لفظ استعمال ہوتا تھا ۔ بچے جب شرارت کر تے پکڑے جاتے تو جس بزرگ کے ہاتھو ں چڑھتے کہتے ہا ں بتاوں کس کے بیٹے ہو ۔ والد کا نام بتانے کے بعد کہتے اچھا جاو ، شا م کو تمہارے والد سے بات ہوگی ۔ یہی ڈر یہی خوف ان کو اندر اندر سے ہلا کے رکھ دیتے تھے ۔ ان سوچوں میں گم ہوجاتا تھا ۔ پاکستا ن میں جہا ں جہا ں پر ریاست حکومت رہیے ۔تقریبا مجھے وہا ں رہنے کا مواقع ملا ۔ ریاست بہاولپور جہاں میں میں دو سال گزارے ۔ ریاست دیر وہاں پر ایک سال گزارنے کا مواقع ملا ، مگر پاکستا ن بھر میں جس علاقے سے موجودہ دور میں متاثر ہوا ۔وہ طورو (مردان ) جہاں تقریبا ایک ماہ تک رہا ۔ لیکن اکثر اوقا ت مجھے یہ احساس ہوتا ۔ کہ میں پاکستان میں ہی نہیں ۔ ایک واقعہ آپ سے شیئر کرنا چاہونگا۔ ایک دن عصر کے نماز کیلئے ہم جار ہے تھے ۔ کہ وہاں پر موجود میرا دوست مجاہد خان جو کہ پیشے کے لحاظ سے ٹیچر تھا ۔ میرے ساتھ وہ اکثر طورو کے تاریخ کے بارے بتایا کر تے تھے ۔ کہہ رہے تھے کہ ہمارے امام مسجد PHDاسلامیات ہے ۔
نہایت خوش لباس ، خوش اخلاق ،سادگی، میں حیران تھا کہ PHDبھی کبھی امام مسجد ہوا کر تے ہیں ۔ یہاں تو لوگ ایم اے اسلامیات ہوکر بھی مسجد کے طرف دیہان نہیں دیتے وہ نوکریوں کے چکر میں لگے رہتے ہیں ۔ اگر کہی ایم اے اسلامیات یا کوئی ڈگری ہولڈر ، عالم فاضل ہو ، تو بھی وہ عام سطح پر اس کا بڑا روب دابدابہ ہوتا ہیں ۔ خیر چند ہی لمحوں میں ہم مسجد پہنچے دیکھا کہ سادہ لباس میں ملبوس ، میرے خیال سے استری شدہ بھی نہ تھے ۔ سر پہ پگڑی ، نہایت سادگی ، اس دوران میں نے دوست نے بتا یا کہ ابھی کھیتوں میں کام کر کے ارہے ہیں ۔یہ ضروری تو نہیں کہ جس نے PHDکر لی وہ روزمرہ کا کام نہیں کریگا۔ میں نے کہا ہاں لیکن ، PHDوالے تو عام لوگوں سے ملنا بھی گوارہ نہیں کر تے ۔انھوں نے کہاں ابھی نماز کے بعد دیکھوں ان کا کام ، نماز پڑھنے کے بعد مسجد کے ساتھ ہی ہجرے میں آئے بزرگوں کے درمیاں میں بیٹھے اور ہجرے کا بھی حال یہ تھا ، کہ 1920سے بھی پہلے کا ہے ۔ حیرا ن حجرے کے دیوار نہ ہونے کے برابر تھے ۔ گرمی کا موسم تک لوگ مسجد میں آکر غسل کرتے تھے ۔ جس بندے کو دیکھو کندے پر چادر (پختونوں) کے طرح پورانے زمانے کے نقش دیکھنے کو ملے ۔ انھوں نے بتا یا ۔ یہاں تقریبا ایم فل کے برابر مسجد کے امام ہونگے ۔ اور پورے طورومیں خواتین راستے سے گزرتے مجال ہے کس میں جو اُپر دیکھتے ۔اس عرصے میں میں نے وہاں کہی محسوس نہیں کیا نہ کسی کو دیکھ کہ بچیاں سکول کالج جار ہی ہو ۔ اور کوئی نامعلوم عاشق ذادے کسی گلی میں کسی چوک کے چوراہے پر کھڑے ہو۔ نہ کسی کو کسیخاتون کے بارے میں بات کرتے ہوئے سنا ہو۔ایک بات جس پر مجھے بہت ہی ہنسی اتی ہیں وہ ہے سبز مرچ کے دوشمن (طورو) جب بھی کھانا کھاتے تھے ۔ ہا ں ہاں ہاں میرے دوست مجاہد مرچ کوچکن پیس سمجھ کر کھانا شروع کر تے تھے ۔ جب ہم کھانے پر بیٹھتے تھے ۔ تو میرے خیال سے 5سے 10مرچ تو معمولی بات تھی ۔ پتہ نہیں کتنے کتنے وہ کھا جاتے تھے ۔ سب سے اہم اور بہترین بات کہ پورے طورو میں شاہد ہی کوئی مجھے (انپڑ )نا خواندہ ملا ہو ۔ سب ہی ما شاء اللہ تعلیم یافتہ ہنر مند سادگی ،اخلاقیات سے بھر پور انسانی زندگی آپ کو طورو میں مل سکتے ہیں ۔ شاید کسی پل میں میں نے بھی یہ دُعا کی تھی ۔ کہ مجھے سادگی زندگی گزارنے والے لوگوں سے ملا دے ۔

10th National Desert Hike 2025 (Rambler Badge Hike for Rover Scouts)

10th National Desert Hike 2025  (Rambler Badge Hike for Rover Scouts) Chulistan ,روحی   نیشنل ڈزرٹ ہائیک 2025 تاریخِ عالم اس امر کی شاہد ہے ...