Wednesday, 19 August 2015

جب تک صرف قومی ٹی وی چینل ہوا کرتا تھا

www.swatsmn.com

مذاق یا حقیقت؟ قومی دن پر پاکستانیت پامال!

آئے دن ٹیلی ویژن پر دیکھنے اور سننے میں آتا ہے کہ ”ہم تو وہ دکھاتے ہیں جس کی ڈیمانڈ ہوتی ہے، ہم تو وہ دکھاتے ہیں جو ہمارے معاشرے میں ہو رہا ہوتا ہے، ہمارا میڈیا ہمارے معاشرے کی عکاسی کرتا ہے“۔  وغیرہ وغیرہ۔ یہ خرافات دیکھ اور سن کر ہر شخص یہی سمجھتا ہے کہ شاید واقعی ہمارا معاشرہ اب ایسا ہی ہوگیا ہے۔ میرا سوال ہے کہ جب تک صرف قومی ٹی وی چینل ہوا کرتا تھا یا جب سماجی رابطے کی ویب سائٹس نہیں ہوا کرتی تھیں تو اس وقت ہمارا معاشرہ ایسا کیوں نہیں ہوتا تھا جیسا کہ آج کل پیش کیا جاتا ہے؟
ایسا ٹی وی چینلز کی بھرمار اور سوشل میڈیا ویب سائٹس کے آنے کے بعد ہی کیوں ہوا کہ ہمارا معاشرہ اپنے مذہبی، قومی اور معاشرتی اقدار سے کنّی کاٹتا ہوا کسی تیسری مخلوق جیسا ہوگیا ہے جس کا نہ کوئی دین نہ ایمان، بس جب جدھر دل کیا منہ اٹھا کر چل دیئے، تھالی کے بینگن کی طرح جس طرف چاہا لڑھک گئے؟ چند روز قبل سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو نظر سے گذری جس میں قومی دن پر پاکستانیت کا لبادہ اوڑھے دو ’’شیطان نما‘‘ بگڑی اولادیں ایک سڑک پر بے غیرتی اور ذلالت کے تمام ریکارڈ توڑتی پائی گئیں۔ ایک برقعہ پوش خاتون جو کہ 13 یا 14 سالہ لڑکے کے ہمراہ بائیک پر سوارہیں۔ ان کے ساتھ جو سلوک ہوا وہ میں بیان کرنے سے قاصر ہوں، آپ لوگ مذکورہ منسلک ویڈیو اس تحریر کے ساتھ ملاحظہ کرسکتے ہیں۔
پاکستانی پرچم میں ملبوس یہ رذیل انسان، سر پر اپنی اصلیت کے شیطانی سینگ سجائے ہمارے قومی دن پر نہ صرف ہماری پاکستانیت کو چیلنج کر رہا تھا بلکہ ہمارے پاکستانی چہرے پر بدنما داغ بھی لگا رہا تھا اور بدقسمتی دیکھیے کہ اُن کو روکنے کی کسی نے جسارت نہیں کی۔ روکنا تو دور کی بات کوئی منہ سے ’’بھاپ‘‘ تک نکالنے کو راضی نہیں تھا۔ مجھے وقار ذکاء سے کئی اختلافات ہیں لیکن یہاں میں کھل کر یہ بات کہوں گا کہ وقار ذکاء وہ پہلا شخص ہے جس نے اس بے غیرتی کے خلاف آواز بلند کی اور ہمیں ان کی آواز میں شامل ہونے کی ضرورت ہے۔
ہمارے معاشرے میں خواتین کی حد درجہ عزت کی جاتی ہے، گوکہ خواتین کو دیکھنا بُرا نہیں سمجھا جاتا لیکن کم از کم پردہ دار خواتین کا احترام ضرور ملحوظِ خاطر رکھا جاتا ہے لیکن یہاں تو حد ہی ہوگئی کہ اگر اس طرح باپردہ خواتین کے ساتھ یہ سلوک ہو رہا ہے تو ڈوب مرنے کا مقام ایک انتہائی ہلکا استعارہ ہوگا۔ ویسے اس طرح کے واقعات کی صرف مذمت کرنا انتہائی درجے کی بزدلی ہوگی، ایسے واقعات میں ملوث افراد کو مذمت نہیں بلکہ ٹھیک ٹھاک مرمت کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو انتہائی ڈھٹائی سے اس قسم کی حرکتیں کرکے اپنے والدین کا نام ’’روشن‘‘ کرتے ہیں۔
ایسی ویڈیوز دراصل ترغیبات کے زمرے میں آتی ہیں جو اس قسم کے بے ضمیر لوگوں کو اپنے اندر کی ذلالت باہر نکالنے پر ابھارتی ہیں، جس رفتار سے ہمارے میڈیا پر بے حیائی دکھائی جارہی ہے اس سے کہیں زیادہ تیز رفتاری سے ہمارا سوشل میڈیا اس بے حیائی کا شکار ہوتا جارہا ہے۔ جس طرح ہمارے میڈیا پر پیمرا کی صورت میں جیسا بھی ہے مگر ایک چیک اینڈ بیلینس تو ہے نا با لکل اسی طرح ہمارے سوشل میڈیا پر بھی ایک مؤثر نظر کی ضرورت ہے۔
جیسے ہی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو طرح طرح کی باتیں بھی سامنے آنا شروع ہوئی جیسے کہ یہ ایک ’’پرانک‘‘ یا ’’پلانٹڈ وڈیو‘‘ ہے۔ یہ وڈیو سچی ہو یا جھوٹی ہمیں اس سے غرض نہیں ہونا چاہیئے بلکہ ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ اس سے ہمارا قومی وقار اور تشخص کس قدر مجروح ہوا ہے، جس طرح قابیل کے نامہ اعمال میں قیامت تک ہونے والے ہر قتل کا عذاب درج ہو رہا ہے۔ بالکل اسی طرح اس ترغیب کے نتیجے میں اگر خدا نخواستہ مزید ایسا کوئی واقعہ ہوا تو وہ بھی ان انسان نما شیطانوں کے بائیں کاندھے پر موجود فرشتے کے ہاتھ میں پکڑے ہوئے کاغذات کی زینت بنے گا۔

MQM Chief declared Proclaimed offender by the ATC Swat

www.swatsmn.com
altaf2
SWAT:-  An Anti-Terrorism Court in Swat on Tuesday has declared MQM Chief Altaf Hussain an proclaim offender and ordered the police for arrest and produce in the court  within seven days otherwise action would be taken against him as per law.
A case under section 124A, 153A, 505 and 25 telegraph act has been registered against MQM Chief, Altaf Hussain with Police Station Mingora on the complaint no 702, at 16/072015, on the charges of uttering thereat to the Pakistan Army  and instruments in spreading terror in the country by provoking speeches.
More than 100 FIR’s has been registered in across the country against MQM Chief Altaf Hussain owing to his remarks made by him against the Pakistan Army and the paramilitary force in various speeches.
The court has also ordered for publications of advertisement due to non-service for the appearance of Altaf Hussain from normal mode.
The court made it clear that if despite publication of advertisement for appearance in the court and declaring him proclaim offender. MQM Chief had not appeared in the Court within 7 days, the case shall be decided in his absence as per law.

Nagasaki in August 1945, swatsmn.com

www.swatsmn.com

 killed at least 129,000 people, remain the only use of nuclear weapons for warfare in history


The United States dropped atomic bombs on the Japanese cities of Hiroshima and Nagasaki in August 1945, during the final stage of the Second World War. The two bombings, which killed at least 129,000 people, remain the only use of nuclear weapons for warfare in history.
In this final year of the war, the Allies prepared for what was anticipated to be a very costly invasion of the Japanese mainland. This was preceded by a U.S. firebombing campaign that obliterated many Japanese cities. The war in Europe had concluded when Nazi Germany signed its instrument of surrender on May 8, 1945. The Japanese, facing the same fate, refused to accept the Allies' demands for unconditional surrender and the Pacific War continued. Together with the United Kingdom and China, the United States called for the unconditional surrender of the Japanese armed forces in the Potsdam Declaration on July 26, 1945—the alternative being "prompt and utter destruction". The Japanese response to this ultimatum was to ignore it.
In July 1945, the Allied Manhattan Project successfully detonated an atomic bomb in the New Mexico desert and by August had produced atomic weapons based on two alternate designs. The 509th Composite Group of the U.S. Army Air Forces was equipped with the specialized Silverplate version of the Boeing B-29 Superfortress, that could deliver them from Tinian in the Mariana Islands.
On August 6 the U.S. dropped a uranium gun-type atomic bomb (Little Boy) on Hiroshima. American President Harry S. Truman called for Japan's surrender 16 hours later, warning them to "expect a rain of ruin from the air, the like of which has never been seen on this earth." Three days later, on August 9, the U.S. dropped a plutonium implosion-type bomb (Fat Man) on the city of Nagasaki. Within the first two to four months of the bombings, the acute effects of the atomic bombings killed 90,000–146,000 people in Hiroshima and 39,000–80,000 in Nagasaki; roughly half of the deaths in each city occurred on the first day. During the following months, large numbers died from the effect of burns, radiation sickness, and other injuries, compounded by illness and malnutrition. In both cities, most of the dead were civilians, although Hiroshima had a sizable military garrison.
On August 15, just days after the bombing of Nagasaki and the Soviet Union's declaration of war, Japan announced its surrender to the Allies. On September 2, it signed the instrument of surrender, effectively ending World War II. The bombings' role in Japan's surrender and their ethical justification are still debated

Sunday, 16 August 2015

غیرت ہو تو ایسی، وزیراعظم نے عوامی تنقید پر استعفیٰ دے دیا

www.swatsmn.com
غیرت ہو تو ایسی، وزیراعظم نے عوامی تنقید پر استعفیٰ دے دیا
 وزیر اعظم عبداللہ الثنی نے ٹی وی انٹرویو کے دوران استعفیٰ دے دیا، وزیر اعظم عبداللہ الثنی نے ٹی وی انٹرویو کے دوران مشتعل شہریوں کی طرف سے ان کی کابینہ کو غیر موثر قرار دینے پر استعفیٰ دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ مستعفی ہوتے ہیں اور اتوار کو اپنا استعفیٰ ایوان نمائندگان میں پیش کریں گے، لیبیا کے عوام کافی عرصے سے طبی سہولتوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے سراپا احتجاج ہیں، لیبیا میں مسلح افراد نے27 مئی کو تبروک میں پارلیمان کے اجلاس کے بعد وزیر اعظم عبداللہ الثنی پر قاتلانہ حملہ بھی کیا تھا جس میں ان کا محافظ زخمی ہوگیا تھا۔

Tuesday, 11 August 2015

خون خشک کردینے والے دنیا کے 13 خطرناک ترین

www.swatsmn.com

خون خشک کردینے والے دنیا کے 13 خطرناک ترین ائیرپورٹس


کیا آپ فضائی سفر کو پسند کرتے ہیں ؟ اگر ہاں تو یہ بات شرطیہ ہے کہ کچھ ائیر پورٹ پر طیارے کے اترنے کا منظر دیکھ کر آپ اپنے شوق سے دستبردار ہوسکتے ہیں۔
جی ہاں دنیا کے خطرناک ترین ائیر پورٹس جہاں کی فضائی پٹی پر اترنا تو دور اس کا خیال بھی کمزور دلوں کے پسینے چھڑا دینے کے لیے کافی ہے۔
اگر یقین نہ آئے تو اس کے لیے یہ چند مثالیں موجود ہیں جہاں لینڈنگ کا خیال مسافروں کو تو چھوڑیں پائلٹس تک کے ہوش اڑا دیتا ہے۔

آئس رن وے ، انٹار کٹیکا

فوٹو بشکریہ وکی میڈیا کامنز
فوٹو بشکریہ وکی میڈیا کامنز
درحقیقت یہ کوئی ایئر پورٹ نہیں بلکہ اس برفانی براعظم میں طیاروں کے اترنے کے لیے موجود تین رن ویز میں سے ایک ہے اور یہاں زیادہ بڑے طیاروں کا اترنا ممکن نہیں خاص طور پر موسم گرما میں جب یہ رن وے پگھلنے لگتا ہے، تاہم سردیوں میں یہ کنکریٹ کی طرح سخت ہوتا ہے مگر طیاروں کے پھسلنے کا خطرہ پھر بھی موجود ہوتا ہے جس کا اختتام کسی برفانی کھائی میں بھی ہوسکتا ہے۔

پرنسز جولیانا انٹرنیشنل ائیرپورٹ، سینٹ مارٹن

فوٹو بشکریہ وکی میڈیا کامنز
فوٹو بشکریہ وکی میڈیا کامنز
کیریبیئن کے خطے پر واقع اس جزیرے کا بین الاقوامی ائیرپورٹ مسافروں کے مقابلے میں وہاں کے ساحل پر موجود افراد کے لیے زیادہ خوفنکا ثابت ہوتا ہے، جس کی وجہ اس کے مختصر رن وے کا اختتام ساحل پر ہونا ہے۔ اگر کوئی طیارہ بہت نیچے پرواز کرے تو ساحل پر موجود افراد طوفائی ہواﺅں اور تیز آواز سے گھبرا کر اپنا دل تھام لیتے ہیں۔

بھوٹان کا ائیرپورٹ

رائٹرز فوٹو
رائٹرز فوٹو
بھوٹان کا واحد بین الاقوامی ائیرپورٹ سطح سمندر سے 7333 فٹ کی بلندی پر واقع ہے او ریہ ارگرد سے کوہ ہمالیہ کی چوٹیوں سے گھرا ہوا ہے جن کی اوسط بلندی ہی 16 ہزار فٹ ہے۔ اس ائیرپورٹ پر لینڈنگ اتنی خطرناک ہے کہ چند انتہائی ماہر پائلٹس کو ہی یہاں اترنے کا اہل سمجھا جاتا ہے کیونکہ کسی غلطی کا نتیجہ سیدھا پہاڑیوں سے جاٹکرانا ہے۔

برہ ایئر پورٹ، اسکاٹ لینڈ

فوٹو بشکریہ وکی پیڈیا
فوٹو بشکریہ وکی پیڈیا
یہ کسی کھائی کے کنارے تو واقع نہیں تاہم اگر آپ یہاں جانے کے خواہشمند ہیں تو وہاں ہوا کے رخ کی نشاندہی کے لیے موجود ونڈ سوک پر ضرور نظر رکھیں کیونکہ یہاں کا رن وے اکثر سمندر میں ڈوبا رہتا ہے اور اکثر یہاں پروازوں کو اترنے کے لیے کئی کئی روز کا انتظار کرنا پڑ جاتا ہے، اسی وجہ سے اسے دنیا کا واحد بیچ ایئر پورٹ بھی کہا جاتا ہے۔

جوناکو ای یاروسوقین ایئر پورٹ، کیریبیئن

فوٹو بشکریہ وکی میڈیا کامنز
فوٹو بشکریہ وکی میڈیا کامنز
کیریبیئن کے جزیرے سبا میں واقع اس ایئر پورٹ کا رن وے دنیا میں سب سے چھوٹا ہے یعنی چار سو میٹرز سے بھی کم اور اس کے اندر طیارے کے نہ روکنے کا مطلب سیدھا سمندر میں غوطہ ہے۔ یہاں صرف چھوٹے طیارے ہی قریبی جزیروں سے اترتے ہیں مگر انہیں بھی کافی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے, یہ رن وے ایک پہاڑی کے کونے میں واقع ہے جس کی وجہ سے یہاں اکثر افراد طیارے کی بجائے کسی کشتی کے ذریعے آنا پسند کرتے ہیں۔

نرساروک، گرین لینڈ

فوٹو بشکریہ وکی میڈیا کامنز
فوٹو بشکریہ وکی میڈیا کامنز
ایک تنگ کھاڑی میں گھرا ہوا گرین لینڈ کا نرساروک ائیرپورٹ میں سمندری ہچکولے اور تند و تیز ہوائیں عام ہیں جبکہ یہاں لینڈنگ اور ٹیک آف اتنا حوصلہ شکن کام ہے کہ ایسا صرف دن کے اوقات میں ہی کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔ پائلٹس کو بھی یہاں اترنے سے قبل ایک 90 ڈگری کا موڑ کاٹ کر رن وے پر آنا ہوتا ہے اور اگر تیز ہوا چل رہی ہو تو یہ کام بہت زیادہ مشکل ثابت ہوتا ہے جبکہ برفانی تودے گرنے کا خطرہ الگ ہوتا ہے۔

جبرالٹر انٹرنیشنل ائیرپورٹ، جبرالٹر

فوٹو بشکریہ وکی پیڈیا
فوٹو بشکریہ وکی پیڈیا
بندرگاہ پر اختتام اور ایک پرہجوم شہر و بڑی پہاڑی کے درمیان گھرے جبرالٹر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کا رن وے بھی اس شہر کے ایک مصروف ترین روڈ ونسٹن چرچل ایونیو پر واقع ہے اور اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کوئی گاڑی اشارے پر نہ روکے تو کیسا خوفناک حادثہ واقع پیش آسکتا ہے۔

میڈیرا ایئرپورٹ، پرتگال

فوٹو بشکریہ وکی پیڈیا
فوٹو بشکریہ وکی پیڈیا
پرتگیزی جزیرے میڈیرا میں طیارے کو اتارنا کسی ماہر سے ماہر پائلٹ کو بھی نروس زدہ کر دیتا ہے، کیونکہ گزشتہ پچاس سال سے یہ ایئر پورٹ اپنے چھوٹے سے رن وے پر پائلٹوں کی مہارت کا امتحان لے رہا ہے۔ خاص طور پر بڑے طیاروں کے لیے تو ایک کلو میٹر سے بھی چھوٹے رن وے پر اترنا کسی چیلنج سے کم نہیں خاص طور پر اس وقت جب پٹی کا اختتام سمندر میں جا کر ہوتا ہے اور مشکل میں مزید اضافہ اس طرح ہوتا ہے کہ یہ رن وے ہموار یا سیدھا ہونے کی بجائے ڈھلوان کی شکل میں ہے جس کی وجہ سے طیارے کی رفتار کو کنٹرول میں رکھنا آسان ثابت نہیں ہوتا۔

میٹیکین ائیر اسٹریپ، لیسوتھو

فوٹو بشکریہ وکی پیڈیا
فوٹو بشکریہ وکی پیڈیا
جنوبی افریقی ملک لیسوتھو میں واقع میٹیکین ائیراسٹریپ کا رن وے محض 1300 فٹ لمبا ہے مگر اس کے آخر میں 2 ہزار گہری کھائی ہے۔ یہاں سے پرواز کرنا بالکل ایسے ہی جیسے کسی پرندے کو گھونسلے سے نیچے پھینک دیا جائے اور اڑنے کا حکم دیا جائے اور پر نہ چلانے پر کیا ہوگا اس کے بارے میں بتانا ضروری نہیں۔

تن زنگ ہلیری ایئرپورٹ، نیپال

کریٹیو کامنز فوٹو
کریٹیو کامنز فوٹو
ماﺅنٹ ایورسٹ سر کرنے والے پہلے کوہ پیما کے نام پر رکھی جانے والے فضائی اڈے کو دنیا کا خطرناک ترین ایئر پورٹ بھی سمجھا جاتا ہے جس کی وجہ بھی بہت سادہ ہے وہ یہ کہ سطح سمندر سے 2800 میٹر بلندی پر واقع اس ایئر پورٹ کی لینڈنگ پٹی بس پانچ سو میٹر ہی لمبی ہے اور اس کا اختتام ایک گہری کھائی پر ہوتا ہے، اب اگر وہاں طیارہ اترنے کے دوران کوئی پائلٹ حاضر دماغی کا مظاہرہ نہ کرے تو مسافر سیدھے دو ہزار فٹ گہری وادی میں جا گریں گے اور یہ خیال ہی یہاں آنے والے مسافروں اور پائلٹس کے ہوش اڑا دیتا ہے۔

کارچویل ایئر پورٹ، فرانس

فوٹو بشکریہ وکی پیڈیا
فوٹو بشکریہ وکی پیڈیا
برف میں چھپے اس ایئر پورٹ میں کسی طیارے کو اتارنا بھول بھلیوں سے کم نہیں کیونکہ یہاں کا رن وے سیدھا ہونے کی بجائے نشیب میں جا رہا ہے اور اس طرح یہ پائلٹس کے اعصاب کے ساتھ کھیلتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈھلوان پر واقع اس رن وے کا اختتام ایک موڑ پر ہوتا ہے جہاں طیارے کو نہ موڑنے کا نتیجہ کسی کھائی میں جانے کی صورت میں نکل سکتا ہے، یہاں پائلٹ کو لینڈ کرنے سے پہلے ایک خصوصی سرٹیفکیٹ حاصل کرنا پڑتا ہے جب ہی اسے یہاں طیارہ اتارنے کی اجازت مل پاتی ہے۔

کیوٹو ائیرپورٹ، ایکواڈور

فوٹو بشکریہ وکی پیڈیا
فوٹو بشکریہ وکی پیڈیا
دنیا کے متحرک ترین آتش فشانی سلسلوں میں سے ایک ساتھ پرواز کرتے ہوئے سطح سمندر سے 9350 فٹ بلند ائیرپورٹ پر اترنا بچوں کا کھیل نہیں۔ یہ دنیا کے سب سے مشکل چیلنج سمجھے جانے والے رن ویز میں سے ایک ہے جس کی وجہ سے آس پاس گنجان آبادی اور انتہائی تنگ اینگل سے لینڈنگ کرنا اس کام کو مشکل تر بنا دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں لینڈنگ کے دوران اب تک درجن بھر حادثے بھی پیش آچکے ہیں۔

گلگت ائیرپورٹ، پاکستان

فوٹو بشکریہ وکی پیڈیا
فوٹو بشکریہ وکی پیڈیا
دنیا میں جنت نظیر سمجھے جانے والے گلگت بلتستان کے خطے میں واقع گلگت انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر اترنا بھی کوئی آسان کام نہیں۔ بلند و بالاپہاڑوں کے دامن میں واقع مختصر رن جو ایک ڈھلان پر واقع ہے، کی وجہ سے بوئنگ 737 اور چھوٹے سائز کے جیٹ طیاروں کے لیے بھی یہاں اترنا ممکن نہیں۔ اس وقت پی آئی اے کی جانب سے اے ٹی آر 42 طیاروں کو یہاں اتارنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

Monday, 10 August 2015

جب موت واقع ہونے کا خدشہ لاحق ہو جائے تو اسلام میں حرام اشیاء کو کھا لینا بھی جائز قرار دیا گیا ہے

www.swatsmn.com
دبئی(مانیٹرنگ ڈیسک) بھوک کے باعث جب موت واقع ہونے کا خدشہ لاحق ہو جائے تو اسلام میں حرام اشیاء کو کھا لینا بھی جائز قرار دیا گیا ہے۔ اسی حکم کے تحت جب کسی خاتون کی زندگی کا سوال ہو تو اس وقت محرم اور نامحرم کی بحث بھی بے کار ہو جاتی ہے۔ لیکن دبئی میں ایک ایشیائی باپ نے ’’نامحرم‘‘ ریسکیو ورکرز کے ہاتھوں بیٹی کو بچائے جانے کی بجائے اس کے سمندر میں ڈوب کر جاں بحق ہونے جانے کو ترجیح دی۔
ایک ایشیائی شخص اپنے بیوی بچوں کے ہمراہ ساحل سمندر پر پکنک منانے کے لیے گیا۔ اس کے بچے سمندر میں نہا رہے تھے کہ اس دوران اس کی 20سالہ بیٹی تیز لہر کی نذر ہو گئی اور ڈوبنے لگی۔ لڑکی نے مدد کے لیے آواز دی۔ پاس ہی 2ریسکیوورکرز موجود تھے، وہ تیزی کے ساتھ لڑکی کو بچانے کے لیے آئے لیکن لڑکی کا باپ ان کے سامنے کھڑا ہو گیا اور انہیں کہا کہ وہ کسی نامحرم کو اپنی بیٹی کو ہاتھ نہیں لگانے دے گا۔ 
دبئی پولیس کے سرچ اینڈ ریسکیو ڈیپارٹمنٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر لیفٹننٹ کرنل احمد برقیباح کا کہنا ہے کہ لڑکی کا باپ خاصا طاقتور آدمی تھا، دونوں ریسکیوورکرز کی اس کے سامنے ایک نہ چلی اور اس دوران لڑکی ڈوب کر جاں بحق ہو گئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ ان چند واقعات میں سے ایک ہے جنہیں میں زندگی بھر نہیں بھلا پاؤں گا۔ بعد ازاں ریسکیوورکرز کو روکنے اور ان کے کام میں مداخلت کرنے پر لڑکی کے والد کو گرفتار کرکے اس کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔

Wednesday, 5 August 2015

آفریدی کو متنازع نہ بنائیں

www.swatsmn.com

یہ درست ہے کہ آفریدی کی حالیہ فارم زیادہ اچھی نہیں تھی مگر سری لنکا سے آخری میچ میں ان کی اننگز نے بھی فتح میں اہم کردار ادا کیا،فوٹو فائل
٭جناب آج پاکستانی ٹیم ہار گئی، اس کا ذمہ دار کون ہے؟
میں سمجھتا ہوں کہ آفریدی کی وجہ سے ہارے، اس نے خراب شاٹ کھیلا جو ہمیں لے ڈوبا۔
٭ جناب آفریدی نے آج ففٹی بنائی آپ کیا کہیں گے؟
اس میں کون سے بڑی بات ہے پچ سیدھی تھی ففٹی تو کوئی بھی بنا لیتا۔
قارئین آپ لوگوں نے ٹی وی چینلز پر شاہد آفریدی کے بارے میں اس قسم کے تبصرے ضرور سنے ہونگے، زیادہ تر ایسی باتیں سابق کپتان یوسف کی جانب سے سامنے آتی ہیں،انھیں آفریدی پسند نہیں،وہ نجانے ان سے کیا بغض رکھتے ہیں کہ نیچا دکھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے، کرکٹ کھیلتے وقت اور اب بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔
گذشتہ دنوں انھوں نے ایک انٹرویو میں سرفراز احمد کو ٹوئنٹی  20 میچز میں نہ کھلانے کا ذمہ دار بھی کپتان کو قرار دے دیا،ساتھ ہی یہ دعویٰ کیا کہ ’’آل راؤنڈر اپنی قیادت کیلیے خطرہ سمجھتے ہوئے وکٹ کیپر کو نہیں کھلا رہے‘‘، اسی کے ساتھ بعض دیگر حلقوں کی جانب سے بھی آفریدی پر انگلیاں اٹھائی گئیں،اس سے صاف ظاہر ہے کہ آفریدی کو متنازع بنانے کی کوششیں ہو رہی ہیں، ورلڈٹی ٹوئنٹی اب چند ماہ کے فاصلے پر ہے اس قسم کی باتیں پاکستانی مہم کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
یہ درست ہے کہ آفریدی کی حالیہ فارم زیادہ اچھی نہیں تھی مگر سری لنکا سے آخری میچ میں ان کی اننگز نے بھی فتح میں اہم کردار ادا کیا، ویسے بھی اب اتنا وقت نہیں کہ قیادت میں کوئی تبدیلی کی جائے، سرفراز یقیناً بہت اچھے کھلاڑی ہیں لیکن ان کا ابھی آفریدی کے ساتھ موازنہ ممکن نہیں، آل راؤنڈر نے اپنی عمدہ کارکردگی سے بے تحاشا میچز میں ملک کو فتوحات دلائیں، سرفراز نے تو آغاز ہی کیا ہے لہذا یہ کہنا کہ آفریدی ان سے ڈرتے ہیں یقیناً اس سال کا سب سے بڑا لطیفہ ثابت ہو گا، سب جانتے ہیں کہ آل راؤنڈر ون ڈے کرکٹ چھوڑ چکے اور آئندہ برس مختصر طرز کے مقابلوں کو بھی خیرباد کہہ دیں گے۔
اب ان کا کھیل میں کوئی طویل مستقبل نہیں کہ وہ کسی سے خوف محسوس کریں ،ماضی میں بھی یہ ان کا طرہ امتیار نہیں رہا،جہاں تک سرفراز کا تعلق ہے یقیناً ان کے ساتھ ناانصافی ہوئی لیکن کپتان اکیلا فیصلہ سازی میں شامل نہیں ہوتا، کوچ اور منیجر بھی اس کا حصہ ہیں، اگر وہ دونوں مل جائیں تو آفریدی کی کیسے چلتی، درحقیقت سرفراز کے ساتھ ناانصافیوں کا سلسلہ طویل عرصے سے جاری ہے، ورلڈکپ میں ان کے ساتھ جو کچھ ہوا سب واقف ہیں۔
اس وقت تو آفریدی کپتان نہ تھے تو انھیں کیوں نہ کھلایا گیا؟ پھر جب موقع ملنے پر پرفارم کیا تو بیٹنگ آرڈر سے کس نے چھیڑ چھاڑ کی؟ کون انھیں ٹیم میں سیٹ نہیں ہونے دے رہا؟ یہ ایک کھلا راز ہے اس کے باوجود لوگ اسے تسلیم کرنے کو تیار نہیں،میں یہ نہیں کہتا کہ انھیں اب ڈراپ کرنے کے فیصلے میں کپتان شامل نہیں تھے ، انھیں بھی کوچ نے اپنے دلائل سے قائل کیا ہوگا، اسی کے ساتھ میں آپ کو ٹیم کے اندر کی کچھ باتیں بتاتا ہوں۔
ایک اعلیٰ شخصیت سرفراز سے نجانے کیا عناد رکھتی ہے کہ انھیں سیٹ نہیں ہونے دیا جا رہا، عینی شاہدین بتاتے ہیں کہ وکٹ کیپر جب انھیں سلام کریں تو اس کا جواب بھی نہیں ملتا، نیٹ سیشنز میں بھی کم آزمایا گیا، رضوان سے کہا جاتا کہ وکٹ کیپنگ گلوز لے کر آیا کرو، ابھی کوئی سرفراز سے پوچھے تو ان باتوں کو غلط قرار دینگے کیونکہ اس بیچارے کو اپنا کیریئر بنانا ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ بولنگ کوچ مشتاق احمد کی معرفت جب سرفراز نے ڈراپ کیے جانے کی وجہ جاننا چاہی تو کوئی معقول جواب نہ ملا جس سے وہ انتہائی دلبرداشتہ ہیں، اس قسم کی باتیں ’’دال میں کچھ کالا ہے‘‘ کا ثبوت پیش کرتی ہیں۔
بعض لوگ تو یہ بھی سوچتے ہیں کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ سرفراز نے کسی منصوبے کا حصہ بننے سے انکار کر دیا جس کی وجہ سے انھیں پریشان کیا جا رہا ہے، وجہ جو بھی ہو چیئرمین بورڈ شہریارخان کو اس کی ضرور تحقیقات کرانی چاہئیں، ورنہ ایسا نہ ہو کہ بعد میں دیگر اچھا پرفارم کرنے والوں کے ساتھ بھی یہ سلوک کیا جائے، دنیا بھر میں لوگ اپنے ہیروز کو سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں ہم آفریدی اور سرفراز کیخلاف سازشیں کر رہے ہیں، اس سے کوئی فائدہ نہیں نقصان ہی ہوگا۔
اب بات کچھ انور علی کی ہوجائے،انھوں نے سری لنکا کیخلاف دوسرے ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان کو یادگار فتح دلائی، وہ کافی عرصے سے انٹرنیشنل کرکٹ کھیل رہے ہیں مگر قومی ٹیم میں مستقل جگہ نہیں بنا سکے، اب موقع ملا ہے تو اس سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے، انور کی کہانی بھی نوجوان کھلاڑیوں کیلیے اعلیٰ مثال ہے، وہ کراچی کے علاقے میٹروول میں رہتے ہیں، ایک دن پاکستان کرکٹ کلب کے نیٹ پر گئے، وہاں کوچ اعظم خان نے ان کا ٹیلنٹ جانچ لیا اور اگلے دن پھر آنے کو کہا ،مگر انور نے انکار کر دیا کہ انھیں مقامی فیکٹری میں موزوں پر استری کرنے کیلیے ڈیڑھ سو روپے یومیہ ملتے ہیں غیرحاضری سے نقصان ہوگا۔
کلب سے پیسے ملنے پر وہ دوسرے روز آئے، پھر کے ای ایس سی (موجودہ کے الیکٹرک) کے کوچ ظفر احمد نے انھیں ساڑھے چار ہزار روپے ماہانہ کی ملازمت دلا دی، یوں وہ فل ٹائم کرکٹ سے وابستہ ہوئے، سرفراز احمد کے ساتھ انڈر 19 ورلڈکپ میں بھی عمدہ پرفارم کیا، اب قومی ٹیم کیلیے بھی خدمات انجام دے رہے ہیں، دیگر نوجوان کھلاڑی بھی ایسے ہی محنت کرتے رہیں تو انھیں ایک دن اس کا صلہ ضرور ملے گا۔
البتہ سلیکشن کمیٹی کو بھی اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، اگر ڈھونڈا جائے تو کئی انور علی، سرفراز احمد، یاسر شاہ اور اظہر علی ملک بھر میں موجود ہونگے، انھیں مواقع دیں تو ٹیم کو اچھا ٹیلنٹ ملے گا، ساتھ ہی جو موجودہ باصلاحیت کرکٹرز ہیں ان کا بھی خاص خیال رکھا جائے، کسی نے سلام نہ کیا یا انٹرویو میں تعریف نہ کی تو اس سے ناراض ہو کر نشان عبرت بنانے میں اس پلیئر سے زیادہ ملک کا نقصان ہے، یہ بات کسی کو فراموش نہیں کرنی چاہیے۔

10th National Desert Hike 2025 (Rambler Badge Hike for Rover Scouts)

10th National Desert Hike 2025  (Rambler Badge Hike for Rover Scouts) Chulistan ,روحی   نیشنل ڈزرٹ ہائیک 2025 تاریخِ عالم اس امر کی شاہد ہے ...