Monday, 21 July 2014

کابل بھیجا کیونکہ کچھ ہونے والا تھا‘

www.swatsmn.com
پاکستان کی سیاسی جماعت پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم پاکستان نے ان کو اس لیے افغانستان بھجوایا تھا کیونکہ انھیں اطلاعات ملی تھیں کہ ’ادھر سے کچھ ہونے والا تھا‘۔
بی بی سی پشتو کو لندن میں ایک خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے میں اچکزئی نے کہا کہ پاکستان وزیر اعظم نے انھیں بتایا کہ ایسی مصدقہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ’ادھر سے کچھ ہونے والا ہے۔‘
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ دونوں ممالک کو پوری دنیا کے سامنے یہ کہنا ہوگا کہ ایک دوسرے کی خود مختاری کا احترام کیا جائے گا۔
’ایک بار یہ کہہ دیا گیا تو افغان طالبان افغانستان کی حکومت اور پاکستانی طالبان پاکستان کی حکومت سے بات چیت کریں گے۔‘
یاد رہے کہ جولائی کے شروع میں افغانستان کے آٹھ رکنی فوجی وفد نے جی ایچ کیو میں ڈی جی ملٹری آپریشن میجر جنرل عامر ریاض سے ملاقات کی تھی۔
افغان وفد کی قیادت ڈی جی ملٹری آپریشنز میجر جنرل افضان امان کر رہے تھے جبکہ وفد میں افغان نیشنل سکیورٹی کونسل، افغان ملٹری انٹیلی جنس اور افغان بارڈر پولیس کے نمائندے شامل تھے۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق اس ملاقات میں افغان صوبوں کنڑ اور نورستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور وہاں پاکستان کے سرحدی علاقوں میں حملوں کے معاملات بھی بات ہوئی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ سرحد پار سے گولہ باری کے واقعات کے بارے میں بات کرتے ہوئے پاکستانی حکام نے افغان وفد کو آگاہ کیا کہ پاکستانی علاقے سے افغانستان میں کبھی بھی بلااشتعال فائرنگ نہیں کی گئی اور پاکستان افغان علاقے سے دہشت گردوں کے حملے یا فائرنگ پر ہی اپنے دفاع میں جوابی کارروائی کرتا ہے۔
ملاقات میں سرحدی رابطوں کے نظام اور سرحد پر تعاون کے طریقۂ کار بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی جبکہ دونوں ممالک کے حکام نے موثر سرحدی میکینزم بنانے پر بھی اتفاق کیا۔

دنیا کی خطرناک ترین جگہیں

www.swatsmn.com

دنیا کی خطرناک ترین جگہیں

20 جولائی 2014 (22:38)

دنیا کی خطرناک ترین جگہیں
لندن (نیوز ڈیسک) ورکویانسک (Verkhoyansk) ماسکو سے مشرق کی جانب قریباً 3 ہزار میل سائبیریا کے دل میں واقع ہے۔ اس کا شمار دنیا کے سرد ترین شہروں میں کیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہاں سردیاں کبھی ختم نہیں ہوتیں اور یہاں بہنے والا یانا دریا سال کے 12 مہینوں میں سے 9 اہ جما رہتا ہے۔ سردیوں میں یہاں درجہ حرارت منفی 40 سے منفی 60 ڈگری تک گر جاتا ہے۔پرانے دور میں لوگوں کو جلا وطن کرکے سزا کے طور پر یہاں بھیجا جاتا تھا۔ اب یہاں قریباً 1500 لوگ رہتے ہیں۔

کیو (Kivu) جھیل کا شمار افریقہ کی عظیم جھیلوں میں کیا جاتا ہے۔ یہ کونگو اور روانڈا کی سرحد پر واقع ہے تاہم اس کی طرح کے نیچے 2.3 ٹن کیوبک فٹ سے زائد میتھین گیس اور 60 کیوبک میل سے زائد کاربن ڈائی آکسائڈ موجود ہے۔ اگر یہ گیس ریلیز ہوجائے تو میتھین کا دھماکہ ہوگا اور جھیل میں سونامی آجائے گا جس کے باعث علاقے میں رہنے والے 20 لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوجائیں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ گیس اسی صورت ریلیز ہوگی اگر کوئی آتش فشاں اس تالاب کے نیچے حرکت میں آجائے۔

چین کی منچن (Minqin) کاﺅنٹی دو صحراﺅں کے درمیان واقع ہے۔ اس قحط زدہ علاقے کو سال میں قریباً 130 روز مٹی کے تیز جھکڑوں کا سامنا رہتا ہے۔ ماہرین کے مطابق آہستہ آہستہ صحرا اس زمین کو اپنا حصہ بناتے جارہے ہیں۔ چینی حکومت نے اس علاقے کے قریباً 20 لاکھ رہائشیوں کو متبادل جگہ پر منتقل کرنے کی تیاری شروع کردی ہے۔

دلول (Dallol) ایتھیوپیا میں واقع ہے اور اسے جہنم کا دروازہ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ دنیا کی گرم ترین جگہوں میں سے ہے جہاں انسان بستے ہیں۔ گرمیوں میں درجہ حرارت 65 ڈگری سیلسیس تک جا پہنچا ہے جبکہ اوسط درجہ حرارت 35-40 ڈگری رہتا ہے۔ یہاں بے شمار آتش فشاں موجود ہیں اور زلزے بھی باقاعدگی سے آگے ہیں۔ اس شہر کو لوگ ”بھوتوں کا شہر“ کے نام سے بھی پکارتے ہیں۔
  •  
1990ءمیں خانہ جنگی کے آغاز کے بعد سے صومالیہ دو جنگجو گروپوں میں بٹ گیا ہے۔ بیماریوں اور کمزور حکومت کے باعث دہشت گرد گروہوں نے بھی طاقت پکڑ لی ہے۔ 2010ءسے 2012ءکے درمیان قحط سالی نے 260,000 سے زائد جانیں لے لیں۔ بین الاقوامی جریدے فارن پالیسی کے مطابق صومالیہ دنیا کی ناکام ترین ریاست ہے۔

پاپوا نیوگنی کے دارالحکومت دنیا کے ان شہروں جو کہ رہنے کے قابل ہیں میں 140 میں سے 137 نمبر حاصل کیا ہے۔ ریپ، قتل اور HIV اس شہر کی پہچان ہیں۔ 2013ءمیں ”پورٹ مورسے“ میں حادثے کا شکار ہونے والی خاتون کو گھسیٹ کر گاڑی سے نکالا گیا اور ریپ کردیا گیا۔ پولیس بھی جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی کرتی ہے، ماہرین کے مطابق غربت اس جزیرے کی بدحالی کی بڑی وجہ ہے۔

  •  
یمن کا شہر ثناءایک زمانے میں دنیا کے معروف اور بہترین شہروں میں سے تھا لیکن اب یہاں دہشت گردی کا راج ہے۔ 2013ءمیں پے در پے بم دھماکوں میں 50 سے زائد افرد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اب بھی القاعدہ اور حکومت میں جنگ جاری ہے۔ دوسری جانب یہاں بچوں کی کم عمری میں شادی کا رواج بھی ہے۔ ہیومن رائٹس واج کے مطابق یمن میں قریباً 50 فیصد بچیوں کی شادی 18 سال سے قبل کردی جاتی ہے جبکہ ان میں سے 14 فیصد کو 15 سال سے قبل اس بندھن میں باندھ دیا جاتا ہے۔
مونروویا (Monrovia) لیبیا کا بدحال علاقہ ہے۔ یہاں منشیات اور بیماریوں کا راج ہے اور والدین کی جانب سے اپنی ہی بچیاں فروخت کردینا انوکھی بات نہیں، اس علاقے کی آبادی قریباً 75 ہزار ہے

مریم نواز شریف کاسگنل توڑنے پر چالان

www.swatsmn.com

مریم نواز شریف کاسگنل توڑنے پر چالان

20 جولائی 2014 (18:49)

مریم نواز شریف کاسگنل توڑنے پر چالان
اسلام آباد (ویب ڈیسک) اسلام آباد ٹریفک پولیس نے وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی اور یوتھ بزنس لون سکیم کی چیئرپرسن مریم نواز کی گاڑی کا چالان کردیا۔ نجی ٹی وی چینل کے مطابق ایوب چوک میں مریم نواز کی گاڑی کو روکا گیا اور ایس ایس پی ٹریفک نے ڈرائیور کی طرف سے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر گاڑی کا چالان کیا۔ دریں اثناءایس ایس پی ٹریفک عصمت اللہ جونیجو نے میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ مریم نواز کا چالان چار ماہ قبل بھی کیا تھا، ان کے علاوہ اسلام آباد میں دیگر وی آئی پیز کے بھی چالان ہوئے تھے، قانون سب کیلئے برابر ہے۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز کا چالان انہوں نے خود کیا، جب وہ رات دو بجے کے قریب اپنی دو لینڈ کروزر گاڑیوں کے سکواڈ میں جارہی تھیں اور انہوں نے سرخ اشارہ توڑدیا۔

Sunday, 20 July 2014

ملائیشین طیارہ پرخطر راستے سے کیوں گزر

www.swatsmn.com

ملائیشین طیارہ پرخطر راستے سے کیوں گزرا، نئے انکشافات سامنے آگئے

20 جولائی 2014 (21:45)

ملائیشین طیارہ پرخطر راستے سے کیوں گزرا، نئے انکشافات سامنے آگئے
لندن (نیوز ڈیسک) یورپین کاکپٹ ایسوسی ایشن کے صدر اور انتہائی تجربہ کار پائلٹ ”نیکو ووباچ“ کا کہنا ہے کہ ممکن ہے تباہ ہونے والی پرواز ایم ایچ 17 کو خراب موسم کی بجائے اپنا روٹ تبدیل کرنا پڑا۔ انکشاف کیا گیا ہے کہ ایم ایچ 17 کی جانب سے اختیار کیا جانے والا روٹ ملائیشین ایئرلائنز کے طیاروں کی جانب سے پچھلے چند روز کے دوران استعمال کئے جانے والے روٹ سے مختلف تھا۔ اس موقع پر جہاز روٹین کے روٹ سے کئی میل شمال کی جانب سفر کررہا تھا۔ پائلٹ نیکو کا کہنا ہے کہ معمول کے راستے پر شدید بارش اور گہرے بادل تھے اور ایسے موقع پر ایئرٹریفک کنٹرول کو اطلاع دے کر راستہ تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق فلائٹ پلان کے مطابق جہاز نے یوکرائن سے 35 ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کی درخواست کی تھی لیکن دیگر ٹریفک کے باعث 33 ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کی ہدایت دی گئی۔ ملائیشین ایئرلائن کے مطابق پائلٹوں کے لئے مقامی حکام کی ہدایات پر عمل کرنا لازم ہوتا ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل متعدد بین الاقوامی اخبارات نے الزام عائد کیا تھا کہ ملائیشین ایئرلائنز کے جہاز نے تیل کی بچت کے لئے مختصر راستہ اختیار کیا تھا۔

انسان کی نظر میں محبت ہے یا ہوس

www.swatsmn.com

انسان کی نظر میں محبت ہے یا ہوس، سائنس نے جاننے کا طریقہ بتا دیا



انسان کی نظر میں محبت ہے یا ہوس، سائنس نے جاننے کا طریقہ بتا دیا
شکاگو (نیوز ڈیسک) سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ آپ دیکھنے والے کی نظروں سے بتاسکتے ہیں کہ اس کے دل میں کیا ہے، محبت یا جنسی خواہش؟ یونیورسٹی آف شکاگو کی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ عورتوں اور مردوں کی ملاقات کے دوران اگر کسی کی آنکھیں براہ راست کسی کی آنکھوں میں دیکھ رہی ہوں تو یہ سچی محبت کی نشانی ہے جبکہ اگر نظر آنکھوں کی بجائے جسم کے دیگر حصوں کی طرف جارہی ہو تو یہ جنسی خواہش کی علامت ہے۔ جریدے ”سائیکولوجیکل سائنس“ میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں پہلی نظر کی محبت کے راز سے پردہ اٹھاتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ اگر پہلی نظر میں ہی آنکھوں سے آنکھیں ملیں اور دھیان کسی اور طرف نہ جائے تو غالب امکان ہے کہ پیار ہوگیا ہے اور ہم قدرتی طور پر ہی اس بات کا اندازہ محض آدھے سیکنڈ میں لگالیتے ہیں کہ کچھ خاص بات ہوگئی ہے۔ تحقیق میں سائنسدانوں نے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو خوبصورت تصاویر تیزی کے ساتھ دکھائیں اور اس دوران ان کے دماغ کا سکین بھی کیا گیا۔ نتائج سے ثابت ہو اکہ جب محبت کے جذبات دل میں ابھرے تو دیکھنے والوں کی نظریں آنکھوں کی طرف متوجہ تھیں جبکہ جنسی پسندیدگی کی صورت میں نظریں جسم کے دیگر اعضاءکی طرف تھیں اور یہ بھی ثابت ہوا کہ دماغ نے آنکھوں یا جسم کی طرف دیکھنے کا فیصلہ محض ایک لمحے میں کیا۔

تاکہ کل کو کوئی بیٹی صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے بھی سو بار سوچے



www.swatsmn.com
’انصاف‘‘ ایسے بھی ہوتا ہے جیسے حلیمہ رفیق کے ساتھ ہوا!
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا!
’’چچ، چچ۔۔۔ اوہو۔۔۔ بہت افسوس ہوا۔۔۔ بہت غلط ہوا‘‘ اور بس، اپنی زندگی میں کھو گئے
خاتون کرکٹر حلیمہ رفیق نے تیزاب پی کر زندگی وار دی۔کارن اس کا ہوا عدالتی سمن اور عدالتی سمن کی وجہ، اس مصیبت کی ماری کی آہ وزاری، جو اس نے سماج کے ان درندہ صفت بھیڑیوں کے خلاف کی۔ وڈیرانہ ذہنیت کو بجا طور پر کالے انگریزوں کی کسی صنف سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ 2 کروڑ روپے ہرجانے کا دعوا کیا گیا تھا اس بیمارذہنیت نے، تاکہ کل کو کوئی بیٹی صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے بھی سو بار سوچے کہ عدالت الٹا اسے اس ہرجانے کے لیے کٹہرے میں بلائے گی، کہ اس کی نسلوں کی کل پونجی بھی اتنی قیمت کی نہ ہو گی۔ کیا ہوگا پھر؟ ہرجانہ نہ بھی دینا پڑے تو وکیل کرنے کے چکروں میں کتنی جان نکل جائے گی!۔
کھوکھلے نہیں ہو گئے، ہماری طرح ہمارے رویے بھی۔ انتظار میں بیٹھے ہوتے ہیں کہ کوئی سانحہ ہو اور گریہ کرنے بیٹھ جائیں۔ نوحہ کہیں ، لفظوں سے الم کہیں، مگر سمجھ نہیں آتا کہ یہ لفاظی آخر جاتی کہاں ہے؟۔
پتھروں پر بھی کچھ نہ کچھ اثر ہو ہی جاتا ہے، میں نے پچھلے بلاگ میں یہی لکھا تھا کہ ہم اپنی بیٹیوں کو عربوں کے زمانہ جاہلیت کی طرح زندہ نہیں دفناتے، لیکن اسے جیون بھر کی موت ضرور دیتے ہیں۔ افسوس، چند ہی دن بیتے کہ ایک اور مثال سامنے آگئی۔ فرق اس میں یہ تھا کہ واردات بہ ذریعہ عدالت ہوئی!۔
خدا جانے یہ انصاف کے کارخانے کیا ہوئے۔ فرض ان کا یہ تھا کہ ظالم کو بیچ چوراہے پر ٹانگ دیں، نشان عبرت بنا دیں! مظلوم کی داد رسی ہو، سماج میں چین کا راج ہو۔ کمزور کی طرف اٹھنے والی طاقت ور کی میلی آنکھ نکال پھینکی جائے! مگر خدا جانے کہ قانون اور عدل کے یہ لگے بندھے اصول کیسے ہیں کہ لوگوں کو دعا دی جاتی ہے کہ اللہ عدالت، تھانہ، کچہری کے چکروں سے بچائے۔
لوگوں کا حافظہ کمزور نہ ہو تو انہیں یاد ہوگا کہ 2007ء میں ’’آزاد عدلیہ‘‘ کا شور ایسا مچا تھا کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ عوام پاگل ہوئے جاتے تھے، کہ چلو زندگی آسان ہوگی، مگر کیا ہوا؟ کیا ہوئی وہ آزاد عدلیہ؟ سماج کی کمزور حلیمہ کل بھی مر رہی تھی اور آج بھی وہ اپنی عزت بچانے کے جرم میں فنا کے گھاٹ اترنے پر مجبور ہے!۔
’’ہمیں انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں!‘‘
حقیقت ہے سیانے اُس وقت بھی کہہ رہے تھے کہ صاحبو، یہ عدلیہ کی نہیں اپنی آزادی کی جنگ ہے۔ تم جوان لوگ ہو ، نہیں جانتے کہ اتنی آسانی سے تبدیلی کسی پکے ہوئے پھل کی طرح جھولی میں آکر نہیں گرا کرتی! اب سمجھ میں آتا ہے کہ سارے ازخود نوٹس، عدالت طلبی، فرد جرم اور سلگتے ہوئے ریمارکس کس کی خوشنودی کے لیے تھے، نہیں پتا۔
حلیمہ مرگئی، نوحہ ہوگیا، کھاتے پیتے گھرانوں کی آنٹیاں شاید آج شام پریس کلب پر دیے بھی جلا ئیں۔ کل کوئی حقوق نسواں کی تنظیم موم بتیوں کی روشنیوں میں منرل واٹر کے جلو میں اس کی مذمت بھی کرے اور اللہ اللہ خیر صلا!
دوسروں پر کیا موقوف، اس لکھنے والے کی بساط اور اوقات بھی بس اتنی کہ جب بھی کوئی حلیمہ جبر کا شکار ہوئی اور قلم لے کر ماتم کیا اور یہ لکھی ہوئی سینہ کوبی آگے بڑھا دی۔ شائع ہو گئی، قارئین نے دل تھام کر پڑھی۔
’’چچ، چچ۔۔۔ اوہو۔۔۔ بہت افسوس ہوا۔۔۔ بہت غلط ہوا‘‘ اور بس، اپنی زندگی میں کھو گئے۔ حقیقت میں بے حسی اور غفلت کی نیند سو گئے۔ کسی اگلی حلیمہ رفیق کی موت ہو جانے تک

Saturday, 19 July 2014

ouGov ranked Khan as the most admired person in Pakistan

www.swatsmn.com

a Pakistani production house announced to produce a film based on Khan's life named as Kaptaan: The Making of a Legend (Urduکپتان افسانوی کردار کی تشکیل‎). The title is Urdu for 'Captain' indicating his captaincy of the Pakistan cricket team which led them to victory in the 1992 cricket world cup. It follows the events that have shaped up his life. From being ridiculed in Cricket to being labeled as a playboy. From the tragic death of his mother, to his efforts and endeavors in building the first cancer hospital in Pakistan. From being the first Chancellor of the University of Bradford, to the building of Namal University.
He was Pakistan's most successful cricket captain,[3] leading his country to victory at the 1992 Cricket World Cup, playing for the Pakistani cricket teamfrom 1971 to 1992, and serving as its captain intermittently throughout 1982–1992.[4] After retiring from cricket at the end of the 1987 World Cup in 1988, owing to popular demand he was requested to come back by the president of Pakistan Zia ul Haq to lead the team once again. At the age of 39, Khan led his team to Pakistan's first and only One Day World Cup victory in 1992. With 3807 runs and 362 wickets in Test cricket, he is one of eight world cricketers to have achieved an 'All-rounder's Triple' in Test matches.[5]On 14 July 2010, Khan was inducted into the ICC Cricket Hall of Fame.[6]
In April 1996, Pakistan Tehreek-e-Insaf ("Movement for Justice") political party was established[7] and Khan became its chairman. He representedMianwali as a member of the National Assembly from November 2002 to October 2007, he was again elected on 11 May 2013, while his party gained 35 seats in the National Assembly.[8][9][10] Global Post mentioned him third in a list of nine world leaders of 2012 and recognized Khan as the face of the anti-drone movement in Pakistan.[11] According to Asia Society, Khan was voted as Asia’s Person of the Year 2012.[12] As the Pew Research Center, in 2012 a majority of Pakistani respondents offered a favorable opinion of Khan, the survey also revealed Khan's unparalleled popularity among youth.[13] On January 2014, YouGov ranked Khan as the most admired person in Pakistan and 12th globally.[14] In June 2014, American journalReal Clear named Khan as the eighth most attractive politician in the world

Awards and honours[edit]

Khan in Germany
  • Khan is featured in the University of Oxford's Hall of Fame and has been an honorary fellow of Oxford's Keble College.[82]
  • In 1976 as well as 1980, Khan was awarded The Cricket Society Wetherall Award for being the leading all-rounder in English first-class cricket.
  • In 1983, he was also named Wisden Cricketer of the Year
  • In 1983, he received the president’s Pride of Performance Award
  • In 1985, Sussex Cricket Society Player of the Year
  • In 1990, Indian Cricket Cricketer of the Year[31]
  • In 1992, Khan was given Pakistan's civil award, the Hilal-i-Imtiaz
  • On 8 July 2004, Khan was awarded the Lifetime Achievement Award at the 2004 Asian Jewel Awards in London, for "acting as a figurehead for many international charities and working passionately and extensively in fund-raising activities."[145]
  • On 7 December 2005, Khan was appointed the fifth Chancellor of the University of Bradford, where he is also a patron of the Born in Bradford research project.
  • On 13 December 2007, Khan received the Humanitarian Award at the Asian Sports Awards in Kuala Lumpur for his efforts in setting up the first cancer hospital in Pakistan.[146]
  • On 5 July 2008, he was one of several veteran Asian cricketers presented special silver jubilee awards at the inaugural Asian Cricket Council (ACC) award ceremony in Karachi.[147]
  • In 2009, at the International Cricket Council's centennial year celebration, Khan was one of fifty-five cricketers inducted into the ICC Hall of Fame.[148]
  • In 2011 he was given the Jinnah Award.
  • On 28 July 2012, Imran Khan was awarded an honorary fellowship by the Royal College of Physicians of Edinburgh in recognition of his services for cancer treatment in Pakistan, through the Shaukat Khanum Memorial Cancer Hospital and Research Centre.[149]
  • In 2012 according to Pew Research Center, seven out of ten Pakistani respondents offered a favourable opinion about Khan. The survey also revealed that Khan enjoys incomparable popularity among youth.[13]
  • He was the Asia Society's Person of the Year 2012.
  • In December 2012, GlobalPost ranked him third in a list of the top nine world leaders who influenced the world the most in 2012, behind Christine Lagarde and Barack Obama while more influential than Hillary ClintonKim Jong Unand Aung San Suu Kyi.[11]

10th National Desert Hike 2025 (Rambler Badge Hike for Rover Scouts)

10th National Desert Hike 2025  (Rambler Badge Hike for Rover Scouts) Chulistan ,روحی   نیشنل ڈزرٹ ہائیک 2025 تاریخِ عالم اس امر کی شاہد ہے ...