Friday, 30 May 2014

ڈاکٹر مہدی علی قمر کو علی الصبح چناب نگر

پیر کی صبح دفتر نکلنے سے پہلے حسب معمول میں اپنا ٹویٹر چیک کر رہا تھا کہ ایک ٹویٹ پر نظر پڑی. ایک سو چالیس حروف میں لکھی ایک خوفناک عبارت اور ایک خون میں لت پت تصویر ایک عجیب کہانی سنا رہی تھی.
ٹویٹ کچھ یوں تھی;
"احمدیہ مسلک سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر مہدی علی قمر کو علی الصبح چناب نگر (ربوہ) میں انکی بیوی اور بچے کی آنکھوں کے سامنے گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا"
ٹویٹ کے ساتھ ہی ایک شخص کی تصویر تھی جسکی سفید قمیض خون سے تر تھی مگر چہرے پر ایک عجیب سا سکوں تھا.... ایک طمانیت تھی. دفتر پہنچتے ہی میں نے خبر کی تفصیلات تلاش کرنے کی کوشش کی پر بے سود، چند ٹویٹس کے سوا کچھ نہ ملا. تمام اخبارات جناب نواز شریف کے دورہ ہندوستان اور نریندرامودی کی حلف برداری پر توجہ مرکوز کیے ہوئے تھے، اب اتنی اہم خبر کے مقابلے میں ظاہر ہے یہ معمول کا خون خرابہ اتنا اہم تھا بھی نہیں.
لیکن شاید اس عورت کی لیے یہی خبر سب سے اہم تھی جس کی آنکھوں کے سامنے اسکے شوہر کو گیارہ گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا یا اس بچے کے لیے جس کی آنکھوں کے سامنے اس کا باپ خاک و خوں میں لت پت پڑا تھا. وہ بچہ جسے شاید مذہب، مسلک اور فرقے کا پتا بھی نہ ہو.
سارا دن ایسے ہی سوال میرے ذہن میں گھومتے رہے، دن گزرنے کے ساتھ کچھ مزید تفصیلات سامنے آئیں؛ ڈاکٹر مہدی قمر امریکی ریاست اوہائیو کے شہر کولمبس میں کارڈیالوجسٹ تھے اور پاکستان میں انسانی ہمدردی کی بنا پر رضاکارانہ طور پر چناب نگر کے ایک ہسپتال (طاہر ہارٹ سنٹر) میں کام کرنے کی غرض سے آئے تھے.
اس ہسپتال کے بارے میں پہلے ہی مختلف اوقات میں فتوے جاری کیے جا چکے ہیں کہ یہاں علاج کروانا شریعت کی رو سے حرام ہے اور نفرت انگیز لٹریچر میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ یہاں علاج کروانا کفر کے زمرے میں آتا ہے.
ڈاکٹر مہدی امریکا میں اوہائیو کے شہر کولمبس میں رہائش پذیر تھے اور وہیں پریکٹس بھی کرتے تھے. کولمبس ایک خوبصورت اور پرامن شہر ہے، مجھے سن دو ہزار بارہ میں کچھ ہفتے وہاں رہنے کا اتفاق ہوا اور اوہائیو یونیورسٹی میں ہی ایک کورس کرنے کا موقع بھی ملا.
ڈاکٹر مہدی بھی اسی یونیورسٹی سے منسلک تھے. میں سارا دن یہی سوچتا رہا کہ ایسا کیا تھا جو انہیں پاکستان لے آیا؟
اسکا جواب تو شاید وہی شخص دے سکتا تھا لیکن جب ایک دوست جو ان حالات پر جلتا کڑھتا رہتا ہے اس سے ذکر کیا تو اس نے جل کر جواب دیا "اچھا ہوا اسے کس نے کہا تھا یہاں آ، یہ قوم اس قابل نہیں کہ ان سے ہمدردی کی جائے! یہاں پولیو کے قطرے پلانے والوں کو نہیں بخشتےاور تم ڈاکٹر کی بات کر رہا ہے اور وہ بھی......."
میں اسکی تلخ باتیں مزید سننا نہیں چاہتا تھا اسی لیے چپ سادھ لی اور وہ بولتا رہا. ذہن میں ایک عجیب سی فلم چل رہی تھی جسکا فیتا بار بار ایک خون میں لت پت تصویر پر آکر ٹوٹ جاتا تھا اور ہر بار ڈاکٹر مہدی کے لنکڈ ان پروفائل پر لکھے شارٹ بائیو کے یہ الفاظ تارے بن کر میری آنکھوں کے سامنے ناچنے لگتے
"I believe in delivering the best possible patient care, maintaining the highest professional standards, contributing to the progress of the institutions I am affiliated with. My first priority is to deliver my professional responsibilities with competency, honesty and integrity”.
بار بار ایک سوال میرے دماغ کو جھنجھوڑ رہا تھا کہ ہم من حیث القوم کہاں جا رہے ہیں؟ عدم برداشت اور مذہبی منافرت کا ناسور ہمارے رگ و پے میں اس حد تک سرایت کرچکا ہے کی اب اس میں سے بو آنے لگی ہے اور اسکے تعفن سے اب دم گھٹنے سا لگا ہے. سوچ سوچ کر دماغ کی رگیں تن جاتی ہیں کہ آنے والی نسلوں کے لیے ہم کیسا پاکستان چھوڑے جا رہے ہیں؟ اور کیا ہماری آئندہ آنے والی نسلیں بھی آج کی بوئی ہوئ نفرتوں کی فصل کاٹیں گی؟
یہ واقعہ اور اس جسے دوسرے واقعات دیکھ کر ڈر لگتا ہے... اب تو بولنے سے بھی ڈر لگتا ہے .. قلم اٹھانے سے ڈر لگتا ہے.... بچوں کو پولیو ویکسین پلانے سے ڈر لگتا ہے.... کسی سے ہمدردی کرنے سے ڈر لگتا ہے.. گھر سے باہر نکنلے سے ڈر لگتا ہے اور تو اور اب تو ٹی وی چینلز دیکھنے سے ڈر لگتا ہے کہ کہیں فتویٰ نہ لگ جائے اور کہیں ہماری کہانی بھی ٹویٹر کے ایک سو چالیس کیریکٹرز میں نہ سما جائے.
شام گھر واپس آیا تو عجیب سی حالت تھی، اپنے دونوں بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے بار بار ایک اندیکھے بچے کا چہرہ نظروں کے سامنے گھوم رہا تھا جو اپنے باپ کی لاش کے پاس کھڑا ہے، جس کی ماں دھاڑیں مار مار کر رو رہی ہے اور اس بچے کو سمجھ نہیں آ رہا کی یہ ہوا کیا ہے؟
وہ کبھی اپنی ماں کی طرف دیکھتا ہے کبھی زمین پر پڑے اپنے باپ کی طرف اور کبھی آسمان کی طرف، اسکی معصوم آنکھوں میں کئی سوال ہیں، اسکا باپ جو کچھ ہی دیر پہلے اس سے بات کر رہا تھا، اسے سن رہا تھا، اسے جواب دے رہا تھا، یکا یک خاموش کیوں ہے... اور جو دو لوگ موٹر سائیکل پر آئے انھوں نے بابا پر گولیاں کیوں چلائیں؟ میرے بابا تو لوگوں کی زندگیاں بچاتے تھے وہ تو ڈاکٹر تھے وہ تو یہاں لوگوں کی مدد کرنے آئے تھے کیا وہ کچھ غلط کر رہے تھے؟ میرے ہی بابا کو کیوں مارا؟
اور یہ سوال صرف اس بچے کے نہیں ہیں، یہ سوال وہ سب بیگناہ کر رہے ہیں جنہیں ان کے شناختی کارڈ دیکھ کر بسوں سے اتار کر مارا گیا، جنہیں پشاور کے آل سینٹ چرچ میں مارا گیا، جنہیں گڑھی شاہو میں مارا گیا، جنہیں گوجرہ میں مارا گیا…. یہی وہ سوال ہیں جو سلمان تاثیر کی فیملی کرتی ہے اور یہی وہ سوال ہیں جو راشد رحمان کی بیوہ کر رہی ہے اور یہی وہ سوال ہیں جو ہمارے بچے ہم سے کریں گے …….
اس سے پہلے کہ نفرت کی یہ آگ پورے معاشرے کو بھسم کر ڈالے، پاکستان کو جلد ہی ان سوالوں کا جواب دینا ہو گا
www.swatsmn.com

پاکستان تحریک انصاف کی امیدوار نگہت انتصار نے واضح برتری حاصل کرلی۔

حافظ آباد: کل تحصیل پنڈی بھٹیاں میں پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی-107 میں ضمنی انتخاب کے سلسلے میں ووٹ ڈالے گئے۔
غیر حتمی اور غیرسرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی امیدوار نگہت انتصار نے واضح برتری حاصل کرلی۔
ڈان نیوز ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اس ضمنی انتخاب میں پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ نون کے امیدواروں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہوا۔ ابتدائی غیر حتمی اور غیرسرکاری نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی امیدوار نگہت انتصار بیالس ہزار سے زائد ووٹ لے کر سبقت لے گئیں۔ جبکہ مسلم لیگ نون کے امیدوار سرفراز بھٹی سینتیس ہزار ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔
یاد رہے کہ یہ نشست ن لیگ کے شعیب شاہ کو دھاندلی کےالزام میں نااہل قرار دیے جانے کے بعد خالی ہوئی تھی۔
پولنگ کے دوران دونوں سیاسی جماعتوں کے کارکنان میں تصادم میں سات افراد زخمی ہوگئے۔ مبینہ طور پر تحریک انصاف کے کارکنوں نے نون لیگ کی پنجاب اسمبلی کی دو خواتین اراکین کے ساتھ بدتمیزی کی اور پولنگ اسٹیشن سے نکلنے پر مجبور کردیا۔

Thursday, 29 May 2014

کیا ایسے ہوتے ہیں شفاف الیکشن

کیا ایسے ہوتے ہیں شفاف الیکشن ؟؟
تحریک انصاف کے آفیشل وورکرز نے جعلی ووٹوں سے بھرا تھیلا اور جعلی مہریں پکڑ لیں
چیف سیکرٹری پنجاب عثمان سعید بسرا کے مطابق جعلی ووٹوں کی تعداد 2500 تھی
جمہوریت سیاسی ٹھگوں کے ہاتھوں اغوا ہو چکی ہے۔ اب نہ کوئی کاروائی ہو گی، نہ اس دھاندلی کا فیصلہ ہوگا
آپ کیا کہتے ہیں ؟؟
Like ·  ·  · 21786154
www.swatsmn.com

یہ روایت مسلمانوں کے خلیفہ عمر بن عبدالعزیز نے شروع کرائی


www.swatsmn.com

مودی نے الزامات کی فہرست تھمائی ،وزیراعظم کو بھی ٹھوس موقف اپنانا چاہیے تھا

مودی نے الزامات کی فہرست تھمائی ،وزیراعظم کو بھی ٹھوس موقف اپنانا چاہیے تھا،سراج الحق

29 مئی 2014 (11:34)

مودی نے الزامات کی فہرست تھمائی ،وزیراعظم کو بھی ٹھوس موقف اپنانا چاہیے تھا،سراج الحق
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک)امیرجماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف بھارتی حکمرانوں سے اپنی بات چیت میں مسئلہ کشمیر پر واضح اور دو ٹوک موقف اپناناچاہیے تھا ۔ بھارتی وزیراعظم نے پاکستا ن پر الزامات کی ایک فہرست میاں نوازشریف کو پکڑا دی ہے۔ ملک بھر کی دینی و سیاسی جماعتیں ملک میں جمہوری اداروں کے تحفظ کے یک نکاتی ایجنڈے پر متفق ہو جائیں۔ جماعت اسلامی کسی ایسی تحریک کا حصہ نہیں بنے گی جس کے نتیجے میں جمہوریت پٹڑی سے اُترجائے۔اسلام آباد کے حکمرانوں نے طالبان سے مذاکرات کے سنہری موقع سے فائدہ نہیں اُٹھایا ۔ طاقت کے استعمال سے مسئلے حل نہیں ہو تے بلکہ نفرتیں جنم لیتی ہیں۔ جماعت اسلامی ملک میں حقیقی معنوں میں تبدیلی اور انقلاب کے لئے بہت جلد ایک عوامی ایجنڈے کو عوام کے سامنے پیش کرےگی جس کے نتیجے میں ظلم و جبر کا نظام خس و خشاک کی طرح بہہ جائے گا۔ الخدمت فاؤنڈیشن نے پشاور میں یتامیٰ کی کفالت کے لئے آغوش سنٹر کا آغاز کرکے بہت بڑی خدمت انجام دی ہے۔ الخدمت فاؤنڈیشن کے رضا کار ہر مشکل میں عوام کے درمیان موجود ہوتے ہیں جس کے لئے انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیا سیل کے پریس ریلیزکے مطابق ان خیالات کااظہار انہوں نے پشاور میں الخدمت فاؤنڈیشن خیبر پختونخوا کے زیر اہتمام یتامٰی کی کفالت کے لئے آغوش سنٹر کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے امیر پروفیسر محمد ابراہیم خان ، الخدمت فاؤنڈیشن کے مرکزی نائب صدر احسان اللہ وقاص، صوبائی صدر نور الحق، سابق عالمی سکواش چیمپیئن قمر زمان اور الخدمت فاؤنڈیشن ضلع پشاو رکے صدر خالد وقاص چمکنی نے بھی خطاب کیا۔ تقریب میں جماعت اسلامی کے رہنماؤں صوبائی وزراء عنایت اللہ، حبیب الرحمن خان، مہر تاج روغانی، ممبران صوبائی و قومی اسمبلی کے علاوہ جماعت اسلامی کے صوبائی سیکرٹری جنرل شبیر احمد خان بھی موجود تھے۔سراج الحق نے غریب اور مظلوم عوام پر زور دیا کہ وہ اپنی حالت بدلنے اور ملک کو جاگیر داروں ، سرمایہ داروں کے چنگل سے نجات دلانے کے لئے جماعت اسلامی کے پرچم تلے جمع ہو جائیں۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ نظام سے جرنیلوں کے بچے جرنیل ، بیورو کریٹ کے بچے بیور وکریٹ بنتے ہیں ،جبکہ غریبوں کے بچوں کی قسمت میں صرف چوکیداری لکھ دی گئی ہے لیکن جماعت اسلامی اس ظالمانہ نظام کو تبدیل کرکے دم لے گی۔ انہوں نے کہا کہ مدینہ کی پہلی اسلامی ریاست ہمارے لئے رول ماڈل ہے جہاں پر سوشل سیکورٹی کا ایسا نظام قائم تھا جس میں عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری تھی ۔ انہوں نے کہاکہ مغربی ممالک نے بھی اپنے عوام کے لئے سوشل سیکورٹی کا نظام دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو رہنے کے لئے گھر ، خوراک صحت اور تعلیم کی سہولیات کی فراہمی ایک فلاحی ریاست کی ذمہ داری ہے۔
www.swatsmn.com

وزیرستان اور بنوں میں دھماکے، چھ سیکیورٹی اہلکار شہید

وزیرستان اور بنوں میں دھماکے، چھ سیکیورٹی اہلکار شہید

29 مئی 2014 (12:59)

وزیرستان اور بنوں میں دھماکے، چھ سیکیورٹی اہلکار شہید
راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک) شمالی وزیرستان اور ایف آر بنوں میں سڑک کنارے نصب بارودی مواد کے دھماکوں میں چھ سیکیورٹی اہلکار شہید اورچار زخمی ہوگئے ۔ پاک فوج کے محکمہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق نوشیرقلعہ کے قریب دہشتگردوں نے سڑک کنارے دوبارودی سرنگیں نصب کررکھی تھیں ۔دھماکے سے تین اہلکار زخمی ہوگئے جن میں ایک بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ اُدھر ایف آر بنوں میں ٹودہ چینہ میں سیکیورٹی فورسز کی گاڑی بارودی سرنگ سے ٹکراگئی جس کے نتیجے میں تین اہلکار شہید اور دوزخمی ہوگئے ۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بنوںدھماکے کے شہداءمیں ناصرعلی ، جعفر خان اور مظفر شامل ہیں۔مقامی ذرائع کے مطابق دھماکے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کردیا۔
www.swatsmn.com

پی پی 107میں ضمنی انتخابات، دھاندلی کا راج ، بیلٹ پیپر سے بھری گاڑی پکڑی گئی

پی پی 107میں ضمنی انتخابات، دھاندلی کا راج ، بیلٹ پیپر سے بھری گاڑی پکڑی گئی

29 مئی 2014 (13:07)

پی پی 107میں ضمنی انتخابات، دھاندلی کا راج ، بیلٹ پیپر سے بھری گاڑی پکڑی گئی
حافظ آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ) پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 107 پنڈی بھٹیاں میں پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں نے مبینہ طور پر لاہور سے بیلٹ پیپر لانے والی ن لیگ کی خواتین کارکنان کی گاڑی کو روک لیا اور بتا یا گیا کہ گاڑی میں سوار یہ خواتین پولنگ سٹیشن نمبر 109پر دھاندلی کے لیے بیلٹ باکس لے کر جا رہی تھیں جبکہ دوسری طرف پولنگ سٹیشن نمبر 111پر انگوٹھوں پر لگانے والی سیاہی ختم ہونے کے با وجود پولنگ جاری ہے ۔ نجی ٹی وی کے مطابق پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 107 پنڈی بھٹیاں میں پولنگ جاری تھی جس کے دوران پولنگ سٹیشن نمبر 109پر پاکستان تحریک انصاف کے کا رکنوں نے پولنگ سٹیشن کے باہر ن لیگ کی خواتین کارکنان کی ایک گاڑی کو روک لیا جس میں مبینہ طور پر دھاندلی کے لیے بیلٹ پیپر بھر کر لائے گئے تھے ،اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری بھی وہاں پہنچ گئی، تحریک انصاف کے کارکنوں پولیس کی موجودگی کے باوجود اس گاڑی پر پتھراﺅ کیا اور جعلی ووٹ بر آمد کرنے کا مطالبہ بھی کیا تاہم پولیس کے تعاون سے گاڑی میں سوارن لیگ کی خواتین کارکن ،جو مبینہ طور پر لاہور سے دھاندلی کے لیے بیلٹ پیپرز لے کر آئیں تھیں ،وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہوگئیں ۔ دوسری جانب پولنگ سٹیشن نمبر 111پر انگو ٹھوں پر لگانے والی سیاہی ختم ہوگئی لیکن اس کے با وجود پولنگ جاری تھی ۔علاوہ ازیں پی پی 107پر ضمنی انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل شام 5 بجے تک جاری ہے ، حلقے میں 154 پولنگ سٹیشن قائم کئے گئے ہیں جن میں سے20 کو حسا س قرار دیئے گئے ہیں۔ پی پی 107 میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد ایک لاکھ 75 ہزار 339 ووٹر اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں گے۔ضمنی انتخابات میں مجموعی طور پر 6 امیدوار حصہ لے رہے ہیں لیکن ن لیگ کے سرفرار بھٹی اور تحریک انصاف کی خاتون امیدوار نگہت انتصار بھٹی کے درمیان سخت مقابلے کی توقع ہے۔ ووٹنگ کو پر امن بنانے کے لیے سیکیورٹی کے بھی سخت انتظامات کئے گئے ہیں جب کہ اسلحہ کی نمائش پر بھی پابندی ہے۔واضح رہے کہ 11 مئی کے عام انتخابات میں مسلم لیگ ن کے پیر سید شعیب شاہ کامیاب ہوئے تھے لیکن ان کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی کہ کچھ پولنگ سٹیشنز پر خالی بیلٹ پیپرز کو بھی گنتی میں شامل کیا گیا جس پر ہائی کورٹ نے حلقے میں دوبارہ انتخابات کرانے کا حکم دیا تھا
www.swatsmn.com

10th National Desert Hike 2025 (Rambler Badge Hike for Rover Scouts)

10th National Desert Hike 2025  (Rambler Badge Hike for Rover Scouts) Chulistan ,روحی   نیشنل ڈزرٹ ہائیک 2025 تاریخِ عالم اس امر کی شاہد ہے ...