www.swatsmn.com
بدرمنیری معاشرہ :
ھم ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک فوجی سنیما میں پشتو کا قلم دیکھ رھے تھے قومی ترانے کے بعد جو فلم شروع ھوئی اس میں بدرمنیر فجر کے وقت ایک گھر میں ڈاکہ ڈال رہا ھوتا ھے کہ فجر کی آذان ھوجاتی ھے تو وہ گھر کے مالک کے کمرے میں قبلہ رو کھڑے ھوکر دوسرے ڈاکو سے کہتا ھے کہ تورخانہ اقامت پڑھو۔ اور ڈاکو بدر منیر کی امامت میں نماز میں کھڑے ھوجاتے ھیں سارا سنیما ھال تالیوں اور سیٹیوں سے گونج اٹھا۔ پھر نماز کے دوران گھر کے مالک نے جب بدرمنیر کی بندوق کی طرف ھاتھ بڑھایا تو ایک روشنی کی تلوار نے اس کا ھاتھ روک لیا ایک بار پھر پورا سنیما ھال تالیوں اور سیٹیوں سے گونج اٹھا ۔ اور سبحان اللہ کی صدائیں بلند ھوئی۔ یہ اس وقت ھمارے معاشرے کی سنیما اور لاھور میں بننے والے فلم تھے۔ جس میں بدرمنیر بے شک ڈاکو لٹیرا ھو لیکن نماز قضا نہ کرے۔ اور روشنی کی تلوار بھی ڈاکے سے ناراض نہیں ھوتی لیکن شرط یہ ھے کہ ڈاکو نماز پڑھے۔ پھر جب کسی بیوہ کے ساتھ ظلم ھوتا تو جونہی بدر منیر سکرین پر نظر آجاتا ھر طرف سیٹیاں اور تالیاں بجتی۔ کسی لڑکی کے ساتھ ظلم ھوتا تو بدر منیر کے راہ تکتنے والے سنیما بین اس کے آنے کے لئے بے تاب ھوتے۔ گاوں کا خان یا غونڈہ بدمعاش جب کسی بے سہارے پر ظلم کرتا تو فلم بین بدر منیر کی راہ تکتے ، ھوتے ھوتے ھماری پوری قوم بدرمنیری قوم اور پورا معاشرہ بدر منیری معاشرہ بن گیا۔ اب جب بچیوں کا سکول بم سے اڑایا جاتا ھے تو ھم کسی بدر منیر کے انتظار کی وجہ سے اس کا ایف آئی آر بھی نہیں درج کراتے۔ کسی بچی کو جب سڑک پر سرعام کوڑے مارے جاتے ھیں تو کسی بدر منیر کی راہ تکتے ھیں۔ سوات کی مائیں بہنیں بزرگ بے سرو سامانی میں اپنے گھروں سے بے گھر ھوجاتے ھیں لیکن ھم کسی بدر منیر کا انتظار کرتے ھیں لیکن جب کوئی فوٹو فوبیک ھمارے عیرت مند پشتون ماوں بہنوں میں گھی کے ڈبے تقسیم کرتا ھے تو ھم تالی بجاتے ھیں۔ خیبر کے لوگ در بدر ھوجاتے ھیں ھم عیرت مند اپریدی بے گھروں کے کیمپ کا دورہ کرنے والے کرنل کی امد پر تالیاں بجاتے ھیں۔ خیبر کے سینکڑوں لوگ بے گناہ مارے جاتے ھیں ھم کسی بدر منیر کی راہ تکتے ھیں۔ پشاور لہو لہان ھوتا ھے ھم بدر منیر کا انتظار کرتے ھیں۔ وزیرمحسود کی سرزمین پر موت کا کھیل کھیلا جاتا ھے ھم بدر منیر کی راہ تکتے ھیں۔ بونیر میں ظلم ھوتا ھے ھم بے خبر ۔ کراچی میں پشتونوں کا قتل عام ھوتا ھے ھم پسماندگان میں قاتلوں کے ھاتھوں امدادی چیک تقسیم کرنے پر تالیاں بجاتے ھیں۔ ھم ابھی تک سنیمائی دور میں رہ رھے ھیں۔ حالانکہ ھر گاوں اور ھر قصبے میں بدر منیر کے باپ رھتے ھیں۔ لیکن سب لوگوں کا تالیاں اور سیٹیاں بجانے کی عادت ھوگئی ایک کوا کہے گا میں شاھین ھوں اور ھم تالیاں بجاتے ھیں، ایک زناکار بدکردار تقریر کرے گا ھمیں معلوم ھوتا ھے کہ یہ بدکردار ھے پھر بھی تالیاں بجاتے ھیں۔ ایک چور لٹیرا کہے گا میں قوم کا بڑا خدمتگار ھوں اور میں نے ساری زندگی قوم کی خدمت کے علاوہ کچھ نہیں کیا ھے اور ھم تالیاں بجاتے ھیں۔ حالانکہ ھمیں معلوم ھوتا ھے کہ اس نے قوم کے پیسوں پر بنگلے بنائیں ھیں۔ پتہ نہیں ھم کب اس بدرمنیری روایت سے باھر آئینگے یا ساری زندگی ملٹری پولیس کے ڈیرہ اسماعیل خان والے سنیما میں بیٹھے رھیں گے ؟؟؟ میرے ھاتھ شل ھوجائیں اگر میں کسی چور، بدکردار ، لٹیرے کی بات پر تالی بجاوں۔
محمد شعیب قادری
بدرمنیری معاشرہ :
ھم ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک فوجی سنیما میں پشتو کا قلم دیکھ رھے تھے قومی ترانے کے بعد جو فلم شروع ھوئی اس میں بدرمنیر فجر کے وقت ایک گھر میں ڈاکہ ڈال رہا ھوتا ھے کہ فجر کی آذان ھوجاتی ھے تو وہ گھر کے مالک کے کمرے میں قبلہ رو کھڑے ھوکر دوسرے ڈاکو سے کہتا ھے کہ تورخانہ اقامت پڑھو۔ اور ڈاکو بدر منیر کی امامت میں نماز میں کھڑے ھوجاتے ھیں سارا سنیما ھال تالیوں اور سیٹیوں سے گونج اٹھا۔ پھر نماز کے دوران گھر کے مالک نے جب بدرمنیر کی بندوق کی طرف ھاتھ بڑھایا تو ایک روشنی کی تلوار نے اس کا ھاتھ روک لیا ایک بار پھر پورا سنیما ھال تالیوں اور سیٹیوں سے گونج اٹھا ۔ اور سبحان اللہ کی صدائیں بلند ھوئی۔ یہ اس وقت ھمارے معاشرے کی سنیما اور لاھور میں بننے والے فلم تھے۔ جس میں بدرمنیر بے شک ڈاکو لٹیرا ھو لیکن نماز قضا نہ کرے۔ اور روشنی کی تلوار بھی ڈاکے سے ناراض نہیں ھوتی لیکن شرط یہ ھے کہ ڈاکو نماز پڑھے۔ پھر جب کسی بیوہ کے ساتھ ظلم ھوتا تو جونہی بدر منیر سکرین پر نظر آجاتا ھر طرف سیٹیاں اور تالیاں بجتی۔ کسی لڑکی کے ساتھ ظلم ھوتا تو بدر منیر کے راہ تکتنے والے سنیما بین اس کے آنے کے لئے بے تاب ھوتے۔ گاوں کا خان یا غونڈہ بدمعاش جب کسی بے سہارے پر ظلم کرتا تو فلم بین بدر منیر کی راہ تکتے ، ھوتے ھوتے ھماری پوری قوم بدرمنیری قوم اور پورا معاشرہ بدر منیری معاشرہ بن گیا۔ اب جب بچیوں کا سکول بم سے اڑایا جاتا ھے تو ھم کسی بدر منیر کے انتظار کی وجہ سے اس کا ایف آئی آر بھی نہیں درج کراتے۔ کسی بچی کو جب سڑک پر سرعام کوڑے مارے جاتے ھیں تو کسی بدر منیر کی راہ تکتے ھیں۔ سوات کی مائیں بہنیں بزرگ بے سرو سامانی میں اپنے گھروں سے بے گھر ھوجاتے ھیں لیکن ھم کسی بدر منیر کا انتظار کرتے ھیں لیکن جب کوئی فوٹو فوبیک ھمارے عیرت مند پشتون ماوں بہنوں میں گھی کے ڈبے تقسیم کرتا ھے تو ھم تالی بجاتے ھیں۔ خیبر کے لوگ در بدر ھوجاتے ھیں ھم عیرت مند اپریدی بے گھروں کے کیمپ کا دورہ کرنے والے کرنل کی امد پر تالیاں بجاتے ھیں۔ خیبر کے سینکڑوں لوگ بے گناہ مارے جاتے ھیں ھم کسی بدر منیر کی راہ تکتے ھیں۔ پشاور لہو لہان ھوتا ھے ھم بدر منیر کا انتظار کرتے ھیں۔ وزیرمحسود کی سرزمین پر موت کا کھیل کھیلا جاتا ھے ھم بدر منیر کی راہ تکتے ھیں۔ بونیر میں ظلم ھوتا ھے ھم بے خبر ۔ کراچی میں پشتونوں کا قتل عام ھوتا ھے ھم پسماندگان میں قاتلوں کے ھاتھوں امدادی چیک تقسیم کرنے پر تالیاں بجاتے ھیں۔ ھم ابھی تک سنیمائی دور میں رہ رھے ھیں۔ حالانکہ ھر گاوں اور ھر قصبے میں بدر منیر کے باپ رھتے ھیں۔ لیکن سب لوگوں کا تالیاں اور سیٹیاں بجانے کی عادت ھوگئی ایک کوا کہے گا میں شاھین ھوں اور ھم تالیاں بجاتے ھیں، ایک زناکار بدکردار تقریر کرے گا ھمیں معلوم ھوتا ھے کہ یہ بدکردار ھے پھر بھی تالیاں بجاتے ھیں۔ ایک چور لٹیرا کہے گا میں قوم کا بڑا خدمتگار ھوں اور میں نے ساری زندگی قوم کی خدمت کے علاوہ کچھ نہیں کیا ھے اور ھم تالیاں بجاتے ھیں۔ حالانکہ ھمیں معلوم ھوتا ھے کہ اس نے قوم کے پیسوں پر بنگلے بنائیں ھیں۔ پتہ نہیں ھم کب اس بدرمنیری روایت سے باھر آئینگے یا ساری زندگی ملٹری پولیس کے ڈیرہ اسماعیل خان والے سنیما میں بیٹھے رھیں گے ؟؟؟ میرے ھاتھ شل ھوجائیں اگر میں کسی چور، بدکردار ، لٹیرے کی بات پر تالی بجاوں۔
محمد شعیب قادری
No comments:
Post a Comment