آخر تک لازمی پڑھیے پلیز
www.swatsmn.com
اس کے جرائم کی تفصیل بڑی طویل ہے ۔۔۔اور ایک ایک جرم اتنا بڑا ہے کہ اسے سزا دینے والے کم پڑجاتے ہیں ۔۔۔۔
کیا اس سے سنگین جرم بھی کوئی ہوسکتا ہے کہ کوئی میٹھی نیند سو رہا ہو اور آپ اس کے سرہانے کھڑے ہوکر اسے زور زور سے پکارنے لگیں جھنجھوڑنے لگیں کہ اٹھو ڈاکو تمہارے گھرکی دہلیز تک پہنچ چکے ہیں اور تمہاری متاع حیات چھننے والی ہے
کیا اس سے بڑا جرم بھی کوئی ہوسکتا ہے کہ ایک شخص تصورات کی دنیا میں خیالی پلائو کھانے میں مگن ہو اور کوئی اس کی پلیٹ پر ہاتھ مارتے ہوئے اسے بتانے لگے کہ تمہاری محنت کی کمائی کا حقیقی پلائو چند خاندان مل کر کھارہے ہیں اور تم ادھر بیٹھ کر خود کو دھوکہ دینے مصروف ہو
اور ہاں اس سے بڑی انیہائے تو کوئی ہوہی نہیں سکتا کہ آپ ایک مدہوش قوم کو جو اپنے لیڈروں کی عبادت کرتی ہو یہ کہنے لگیں کہ یہ جو لوگ ہیں جو تمہاری قیادت کے دعویدار ہیں اور تمہیں منزل تک پہنچانے کے دعوے کررہے ہیں یہ خود ڈاکو بھی ہیں اور ڈاکئوں سے ملے ہوئے بھی ہیں ۔۔۔۔۔
جرائم تو اور بھی بہت سارے ہیں اس کے ۔۔۔۔ کیا وہ کسی ایسے خاندان سے ہے جس کے بڑوں نے انگریز سرکار کی چاکری کرکے مال و منال بنایا ہو اور جاگیریں و جائیدادیں کھڑی کی ہوں ؟ نہیں نا ۔۔۔۔تو پھر اس سرپھرے کو کیا حق ہے کہ پاکستان کی سیاست گاہ میں قدم رکھنے کی جرات کرے جہاں ایسے لوگوں کا قبضہ ہے جن کے آبائو اجداد نے دور غلامی میں اپنے آقائوں کے گدھے خصی کرنے کی خدمتیں انجام دی تھیں ۔۔۔۔
کیا اس کے بڑوں نے ماضی میں پاکستانی بینکوں سے بڑے بڑے قرضے لے کر بزنس ایمپائر کھڑے کئے تھے اور پھر ان قرضوں کو معاف کرایا تھا؟ نہیں نا ۔۔۔۔تو پھرے اسے حق کیا پہنچتا ہے کہ پاکستان کی سیاست کو ہاتھ بھی لگائے جہاں چوروں اور قومی مجرموں کی اجارہ داری ہے ۔۔۔۔۔
کیا اس نے کسی جرنیل کی بوٹ پالش کرکے اور اس کی گود میں بیٹھ کر سیاسی تربیت حاصل کی تھی؟ ۔۔۔نہیں نا۔۔۔۔تو پھر اس نامراد کو کس نے مشورہ دیا تھا کہ وہ سیاست کے کوچہ میں آوارہ گردی کرے جہاں ان لوگوں کا قبضہ ہے جنہوں نے خود یا ان کے باپ دادائوں نے جرنیلوں کی مٹھی چھاپی کرکے مسلم لیگیں بنائی تھیں اور سیاست کی اندھیر نگری میں پکے مکانات تعمیر کئے تھے ۔۔۔۔۔۔
اور ہاں اس کا سب سے ناقابل برداشت جرم تو میں بھول ہی گیا ۔۔۔۔۔۔
اس نے نئے پاکستان کا خواب کیسے دیکھ لیا ۔۔۔۔۔ایک ایسا پاکستان جس میں امن ہو بھائی چارہ ہو خوشحالی ہو روزگار ہو عدل ہو اور کسی غریب کے گھر میں بجھا ہوا چولہا نہ ہو۔۔۔۔یہ خواب تو ناقابل معافی جرم ہے کیونکہ اگر یہاں تعلیم آئی شعور آیا آگہی نے آنکھیں کھولیں ۔ روزگار نے قدم جمایا اور غریب کے گھر میں چولہا جلنے لگا تو اس ملک کے بڑے بڑے ساہوکاروں کے پائوں کون دھو دھو کر پیئے گا۔۔۔۔ بڑے بڑے قومی خائنوں کو شیر کون کہے گا اور غداروں کو تخت قیادت پر کون بٹھائے گا۔۔۔۔۔۔
سو میرے ہم وطنو!
ڈھونڈو ایسا ہر الزام جو اس نے چاہے کیا ہو یا نہ کیا ہو اور مل دو اس کے اجلےچہرے پر تاکہ اگلے سو برس میں بھی کوئی دوسرا خان تمہارے حقوق کیلئے کھڑا ہونے کی جرات نہ کرسکے
سرپھری قوم کے سر بیچ کے خود’’سر‘‘ بھی ہوئے
خانصاحب بھی ہوئے خان بہادر بھی ہوئے
کامرانی کا میرے سر پہ بھی سہرا ہوتا
کاش میں بھی کسی غدار کا بیٹا ہوتا۔۔۔
(ہمدرد حسینی)
www.swatsmn.com
اس کے جرائم کی تفصیل بڑی طویل ہے ۔۔۔اور ایک ایک جرم اتنا بڑا ہے کہ اسے سزا دینے والے کم پڑجاتے ہیں ۔۔۔۔
کیا اس سے سنگین جرم بھی کوئی ہوسکتا ہے کہ کوئی میٹھی نیند سو رہا ہو اور آپ اس کے سرہانے کھڑے ہوکر اسے زور زور سے پکارنے لگیں جھنجھوڑنے لگیں کہ اٹھو ڈاکو تمہارے گھرکی دہلیز تک پہنچ چکے ہیں اور تمہاری متاع حیات چھننے والی ہے
کیا اس سے بڑا جرم بھی کوئی ہوسکتا ہے کہ ایک شخص تصورات کی دنیا میں خیالی پلائو کھانے میں مگن ہو اور کوئی اس کی پلیٹ پر ہاتھ مارتے ہوئے اسے بتانے لگے کہ تمہاری محنت کی کمائی کا حقیقی پلائو چند خاندان مل کر کھارہے ہیں اور تم ادھر بیٹھ کر خود کو دھوکہ دینے مصروف ہو
اور ہاں اس سے بڑی انیہائے تو کوئی ہوہی نہیں سکتا کہ آپ ایک مدہوش قوم کو جو اپنے لیڈروں کی عبادت کرتی ہو یہ کہنے لگیں کہ یہ جو لوگ ہیں جو تمہاری قیادت کے دعویدار ہیں اور تمہیں منزل تک پہنچانے کے دعوے کررہے ہیں یہ خود ڈاکو بھی ہیں اور ڈاکئوں سے ملے ہوئے بھی ہیں ۔۔۔۔۔
جرائم تو اور بھی بہت سارے ہیں اس کے ۔۔۔۔ کیا وہ کسی ایسے خاندان سے ہے جس کے بڑوں نے انگریز سرکار کی چاکری کرکے مال و منال بنایا ہو اور جاگیریں و جائیدادیں کھڑی کی ہوں ؟ نہیں نا ۔۔۔۔تو پھر اس سرپھرے کو کیا حق ہے کہ پاکستان کی سیاست گاہ میں قدم رکھنے کی جرات کرے جہاں ایسے لوگوں کا قبضہ ہے جن کے آبائو اجداد نے دور غلامی میں اپنے آقائوں کے گدھے خصی کرنے کی خدمتیں انجام دی تھیں ۔۔۔۔
کیا اس کے بڑوں نے ماضی میں پاکستانی بینکوں سے بڑے بڑے قرضے لے کر بزنس ایمپائر کھڑے کئے تھے اور پھر ان قرضوں کو معاف کرایا تھا؟ نہیں نا ۔۔۔۔تو پھرے اسے حق کیا پہنچتا ہے کہ پاکستان کی سیاست کو ہاتھ بھی لگائے جہاں چوروں اور قومی مجرموں کی اجارہ داری ہے ۔۔۔۔۔
کیا اس نے کسی جرنیل کی بوٹ پالش کرکے اور اس کی گود میں بیٹھ کر سیاسی تربیت حاصل کی تھی؟ ۔۔۔نہیں نا۔۔۔۔تو پھر اس نامراد کو کس نے مشورہ دیا تھا کہ وہ سیاست کے کوچہ میں آوارہ گردی کرے جہاں ان لوگوں کا قبضہ ہے جنہوں نے خود یا ان کے باپ دادائوں نے جرنیلوں کی مٹھی چھاپی کرکے مسلم لیگیں بنائی تھیں اور سیاست کی اندھیر نگری میں پکے مکانات تعمیر کئے تھے ۔۔۔۔۔۔
اور ہاں اس کا سب سے ناقابل برداشت جرم تو میں بھول ہی گیا ۔۔۔۔۔۔
اس نے نئے پاکستان کا خواب کیسے دیکھ لیا ۔۔۔۔۔ایک ایسا پاکستان جس میں امن ہو بھائی چارہ ہو خوشحالی ہو روزگار ہو عدل ہو اور کسی غریب کے گھر میں بجھا ہوا چولہا نہ ہو۔۔۔۔یہ خواب تو ناقابل معافی جرم ہے کیونکہ اگر یہاں تعلیم آئی شعور آیا آگہی نے آنکھیں کھولیں ۔ روزگار نے قدم جمایا اور غریب کے گھر میں چولہا جلنے لگا تو اس ملک کے بڑے بڑے ساہوکاروں کے پائوں کون دھو دھو کر پیئے گا۔۔۔۔ بڑے بڑے قومی خائنوں کو شیر کون کہے گا اور غداروں کو تخت قیادت پر کون بٹھائے گا۔۔۔۔۔۔
سو میرے ہم وطنو!
ڈھونڈو ایسا ہر الزام جو اس نے چاہے کیا ہو یا نہ کیا ہو اور مل دو اس کے اجلےچہرے پر تاکہ اگلے سو برس میں بھی کوئی دوسرا خان تمہارے حقوق کیلئے کھڑا ہونے کی جرات نہ کرسکے
سرپھری قوم کے سر بیچ کے خود’’سر‘‘ بھی ہوئے
خانصاحب بھی ہوئے خان بہادر بھی ہوئے
کامرانی کا میرے سر پہ بھی سہرا ہوتا
کاش میں بھی کسی غدار کا بیٹا ہوتا۔۔۔
(ہمدرد حسینی)

No comments:
Post a Comment