Sunday, 4 January 2015

عالمی ”پشتو امن مشاعرہ“ سوات

www.swatsmn.com
عالمی ”پشتو امن مشاعرہ“ سوات
روشنی
فضل محمود رو خان
اکیس نومبر 2014ءکو ودودیہ ہال سیدو شریف میں پختو کا ایک عالمی مشاعرہ منعقد ہوا۔ اس مشاعرہ پر فیاض ظفر ، گوہر علی گوہر اور شہزاد عالم نے اپنے نقطئہ نظر سے قارئین کو آگاہ کرنے کے لئے مختلف تاریخوں سے اخبارات میں لکھے ہیں۔ آزادئی رائے اور آزادئی اظہار کی رو سے یہ ان کا حق تھااور آئین پاکستان ہر کسی کو اس کا حق دیتا ہے۔ اس سے کسی خوشی یاخفگی کوئی معنی نہیں رکھتے۔ میں بھی مذکورہ مشاعرہ پر اپنی رائے کا اظہار کرنے جا رہا ہوں۔ جو سچ ہے اور جو حقیقت ہے وہی رقم کرنے جا رہا ہوں۔ اب خواں کسے ”بڑے“ کے طبع نازک پر گراں ہی کیوں نہ گزرے۔
فیاض ظفر صاحب نے اس مشاعرے پر اپنا رونا رویا ہے۔ یہ رونا اس کے مزاج کے خلاف ہے۔ میں اس کے تحاریر کا ایک عرصہ سے قاری چلا آرہا ہوں۔وہ تحریر کا باغی ہے۔ وہ جب قلم اُٹھا تا ہے تو کسی کو خاطر میں ہیں لاتا۔ اس کا یہی انداز مجھے بھاتا بھی ہے۔لیکن اس کالم میں جو کچھ اس نے رقم کیا ہے، ایک طرح سے تاریخ لوگوں کے سامنے رکھی ہے۔ مشاعرہ فیاض ظفر کے دم قدم سے یقینی ہوا۔ یہ تو وہی بات ہوئی کہ سیج سجی ہے اور دولہا میاں غائب۔ البتہ دولہن کی ڈولی کو ڈپٹی کمشنر سوات محمود وزیر ، پارسا کے سردار زیب، عطاءاللہ جان اور عثمان اولس یار نے اپنے کاندھوں ]ر اُ ٹھا رکھا تھا۔ باراتیوں سے ودودیہ ہال کچا کچ بھرا تھا۔ کافی شعراءآئے ہوئے تھے۔ اس موقع پر اگر دولہا( فیاض ظفر) بھی ہوتا تو محفل کی رونق دوبالا ہو جاتی۔فیاض ظفر سے عرض ہے کہ اگر آپ اس مشاعرہ کے لئے ”سوات ادبی سانگہ“ کا پلیٹ فارم استعمال کرتے ، تو جا کچھ آپ کے ساتھ اس مشاعرہ میں ہوا،وہ کبھی نہ ہوتا۔ آپ کو کانٹا سمجھ کر یوں نہ پھینکا جاتا۔ کیو ں کہ ” سوات ادبی سانگہ“ ننگ، پت اور غیرت کا نام ہے۔ سوات ” ادبی سانگہ“ ایک ایسی تنظیم ہے جو سوات کے ادیبوں ، شاعروں اور دانش وروں کے حقوق کے لئے ہمیشہ سے لڑتی چلی آرہی ہے اور مستقبل میں بھی لڑے گی۔ اسے سوات کے باہر ادیب اور شاعر کی عزت کا خیا ل ہے۔ خواہ کوئی اس کا رکن ہو یا نہ ہو۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
بیس نومبر کو سوات کے ادباء و شعراء کے حق میں مذکورہ مشاعرے کے بارے میں جو بیان آیا تھا ، وہ کسی شخص مخصوص نے نہیں بلکہ ”سوات ادبی سانگہ“ہی نے جاری کیا تھا۔ ”سوات ادبی سانگہ“ نہیں چاہتی کہ سوات کا ادیب اور شاعر کسی کی نظروں میں گر جائے۔ گوہر علی گوہر صاحب (بٹ خیلہ) نے جو کالم شائع کیا ہے، وہ بھی مبنی بر حقیقت ہے۔ ”عالمی مشاعرہ“ بالکل ایسا نہیںہوتا۔ وہ ” عالمی معیار“ کا ہوتا ہے۔ میں نے کئی عالمی مشاعروں میں شرکت کی ہے۔ کوئٹہ کاعالمی مشاعرہ میں نے دیکھا ہے اور اسلام آباد کے عالمی مشاعروں اور پروگراموں میں مجھے بھی مدعو کیا جاتا رہا ہے۔ یہاں تو چراغ تلے اندھیرا تھا۔ سوات کے ادیبوںاور شاعروں کو کوئی پوچھنے والا نہ تھا۔ اس مشاعرہ کے ”بڑوں“ نے سوات کے ادیبوں اور شاعروں کو سرے سے اعتماد میں لیا ہی نہیں تھا۔ پندرہ لاکھ کی خطیر رقم میں اس کے لئے ایسی تیاریاں ہو سکتی تھی کہ دنیا یاد رکھتی۔
ڈپٹی کمشنر محمد اسلم وزیر صاحب کو ”سوات ادبی سانگہ“ ہی نے ڈاکٹر فیاض ظفر صاحب کی کتاب کی تقریب رونمائی (پانچ ستمبر 2104ئ) کے موقع پر مدعو کیا تھا۔ مذکورہ تقریب سوات پریس کلب میں ان کی صدارت میں تاریخ کا حصہ بن چکی ہے۔ خان محمد افضل خان لالا مہمان خصوصی تھے۔مجھے یاد کہ مذکورہ تقریب ہی میں ڈپٹی کمشنر نے عالمی مشاعرہ کی نوید سنائی تھی۔ آخر میں جب ڈپٹی کمشنر صاحب واپس جا رہے تھے، تو غلام فاروق خان جو سوات پریس کلب کے اہم عہدہ پر فائض ہیں، نے ان سے سکندر حیات کسکر کا تعارف کرایا تھا ۔ ڈپٹی کمشنر صاحب نے اس وقت کسکر سے کہا تھا کہ مجوزہ عالمی پشتو مشاعرے میں آپ کو مہمان خصوصی کے ساتھ جگہ دی جائی گی، لیکن عالمی مشاعرہ کے روز کسکر صاحب کو کسی نے گھاس تک نہیں ڈالی۔ اس طرح حمید اقبال گل رنگزئی جو کئی معیاری کتب کا مصنف ہے اورجس کی شاعری کو پسند بھی کیا جاتا ہے، وہ اس مشاعرے کے حوالے سے چیختا رہا، چلاتا رہا لیکن اسے بھی کسی نے نہیں سنا۔ میں مانتا ہوںکہ عالمی مشاعروں میں سارے مقامی شاعروں کو اسٹیج پر سنانے کے لئے نہیں بلایا جاتا، لیکن ادباءاور شعراءکو نظر انداز بھی تو نہیں کیا جاتا۔ جس طرح سوات کے بہت بڑے محقق، ادیب اوردانش ور محمد پرویش شاہین صاحب کو ایک سر نظر انداز کیا گیا۔ حالانکہ ان کی حیثیت ” نمر پہ گوتہ نہ پٹیگی“ کے مصادق ہے۔ شہزادہ برہان الدین حسرت صاحب جو بر سوات میں سوات کے ادب کی آبیاری اپنے خون سے کر رہے ہیں، اُن کو بھی کسی نے پوچھنے کی زحمت تک گوارا نہ کی۔ موضع پارڑئی سوات کے سجاد خان ، جو ایک ادبی تنظیم کی روح رواں ہیں، کبل کے نقیب احمد فطرت صاحب، عبدالطیف شاہین صاحب اور سب سے بڑھ کر بریکوٹ کی ادبی تنظیم ”ایلم ادبی ٹولنہ “ کو سرے سے نظر انداز کیا گیا ہے۔ عین موقع پر فیاض ظفر کے ساتھ جو ناروا سلوک کیا گیا ہے، سوات کے ادبا ءوشعراءکے ساتھ اس سے بھی بڑی نا انصافی کی گئی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس مشاعرہ کو ہر لحاظ سے کامیاب بنانے کے لئے اس کے منتظمین کو سوات کے ادبا ءو شعراءکو اعتماد میں لینا چاہئے تھا اور اس کے لئے ایک میٹنگ کا انتظام کرنا چاہئے تھا۔ سوات کے صحافی براداری کو اس کی اہمیت کے بارے میں آگاہ کرنا چاہئے تھا اور انھیں اعتماد میں لیا جان چاہئے تھا، تب کہیں جاکر ایک مشترکہ ٹیم بنتی اوراس کے لئے کام کرتی۔ تب شاید یہ مشاعرہ مثالی بنتا۔
لیکن اس کے باوجود میں پھر بھی ڈپٹی کمشنرسوات، یورپی یونین کے مقا می آفیسر، پارسا کے سردار زیب ، عطاءاللہ جان اور عثمان اولس یار کو اُن کی کاوشوں پر مبارکباد دیتا ہوں ۔ انسان تو ویسے بھی غلطیوں کا پتلا ہے۔ اگر اب کی بار ہونے والی غلطیوں کو آئندہ نہ دہرا جائے تو از چہ بہتر؟

No comments:

Post a Comment

10th National Desert Hike 2025 (Rambler Badge Hike for Rover Scouts)

10th National Desert Hike 2025  (Rambler Badge Hike for Rover Scouts) Chulistan ,روحی   نیشنل ڈزرٹ ہائیک 2025 تاریخِ عالم اس امر کی شاہد ہے ...