www.swatsmn.com
بوسٹن (نیوز ڈیسک) بینک ڈکیتی کرنے والے عام طور پر بے حس اور سفاک مجرم ہوتے ہیں جو مال و زر کی ہوس میں کروڑوں کی لوٹ مار کرتے ہیں مگر امریکہ میں ہونے والی ایک بینک ڈکیتی میں صرف ایک ڈالر کا مطالبہ کیا گیا اور ڈکیت کا کہنا ہے کہ اس نے مال و دولت کیلئے نہیں بلکہ طبی بنیادوں پر ڈکیتی کی ہے۔
اخبار ”گیسٹن گزٹ“ کے مطابق ایک 54 سالہ شخص گیسٹونیا بینک میں داخل ہوا اور کیشیئر کو ایک پرچی تھمائی جس پر لکھا تھا کہ فوری طور پر ایک ڈالر اس کے حوالے کر دیا جائے ورنہ اس کے پاس پستول بھی ہے۔ کیشیئر اس عجیب و غریب مطالبے سے گھبرا گئی اور فوراً 911 پر ایمرجنسی کال کر دی۔ پولیس آئی تو ڈاکو آرام سے ٹوفے پر بیٹھا تھا جسے فوری طور پر گرفتار کر لیا گیا۔ ڈاکو کی کہانی اخبار کو پہلے ہی ایک خط کی صورت میں موصول ہو چکی تھی۔ اس نے لکھا تھا کہ وہ بیروزگار تھا اور اپنی کمر کے درد، پیر پر زخم اور چھاتی پر بننے والے ابھار کا علاج کروانے کیلئے نہ اس کے پاس رقم تھی اور نہ اس کی ہیلتھ انشورنس ہوئی تھی۔ اس کا خیال تھا کہ ڈکیتی کے جرم میں اسے جیل پہنچایا جائے گا اور دوران قید حکومت اس کا علاج بھی کروا دے گی۔ بیمار ڈاکو کا کہنا ہے کہ صرف ایک ڈالر کی ڈکیتی کرنے کا مقصد تھا کہ دنیا کو معلوم ہو کہ وہ دولت کی ہوس نہیں رکھتا تھا بلکہ اپنے علاج کیلئے جرم کرنے پر مجبور ہوا تھا۔ مجرم پولیس کی حراست میں ہے اور تاحال یہ واضح نہیں کہ اسے جو قید ہو گی اس مدت میں علاج ہو پائے گا یا نہیں۔ بشکریہ( پاکستان )
بوسٹن (نیوز ڈیسک) بینک ڈکیتی کرنے والے عام طور پر بے حس اور سفاک مجرم ہوتے ہیں جو مال و زر کی ہوس میں کروڑوں کی لوٹ مار کرتے ہیں مگر امریکہ میں ہونے والی ایک بینک ڈکیتی میں صرف ایک ڈالر کا مطالبہ کیا گیا اور ڈکیت کا کہنا ہے کہ اس نے مال و دولت کیلئے نہیں بلکہ طبی بنیادوں پر ڈکیتی کی ہے۔
اخبار ”گیسٹن گزٹ“ کے مطابق ایک 54 سالہ شخص گیسٹونیا بینک میں داخل ہوا اور کیشیئر کو ایک پرچی تھمائی جس پر لکھا تھا کہ فوری طور پر ایک ڈالر اس کے حوالے کر دیا جائے ورنہ اس کے پاس پستول بھی ہے۔ کیشیئر اس عجیب و غریب مطالبے سے گھبرا گئی اور فوراً 911 پر ایمرجنسی کال کر دی۔ پولیس آئی تو ڈاکو آرام سے ٹوفے پر بیٹھا تھا جسے فوری طور پر گرفتار کر لیا گیا۔ ڈاکو کی کہانی اخبار کو پہلے ہی ایک خط کی صورت میں موصول ہو چکی تھی۔ اس نے لکھا تھا کہ وہ بیروزگار تھا اور اپنی کمر کے درد، پیر پر زخم اور چھاتی پر بننے والے ابھار کا علاج کروانے کیلئے نہ اس کے پاس رقم تھی اور نہ اس کی ہیلتھ انشورنس ہوئی تھی۔ اس کا خیال تھا کہ ڈکیتی کے جرم میں اسے جیل پہنچایا جائے گا اور دوران قید حکومت اس کا علاج بھی کروا دے گی۔ بیمار ڈاکو کا کہنا ہے کہ صرف ایک ڈالر کی ڈکیتی کرنے کا مقصد تھا کہ دنیا کو معلوم ہو کہ وہ دولت کی ہوس نہیں رکھتا تھا بلکہ اپنے علاج کیلئے جرم کرنے پر مجبور ہوا تھا۔ مجرم پولیس کی حراست میں ہے اور تاحال یہ واضح نہیں کہ اسے جو قید ہو گی اس مدت میں علاج ہو پائے گا یا نہیں۔ بشکریہ( پاکستان )

No comments:
Post a Comment