Saturday, 13 July 2019

جب عورت مرد کے ساتھ ہو تو ظلم کے خلاف ان کی مزاحمت کامیاب ہوجاتی ہے

www.swatsmn.com

یہ رومنی اساطیری کہانی ہے اور کافی ترغیبی ہے۔ جب عورت مرد کے ساتھ ہو تو ظلم کے خلاف ان کی مزاحمت کامیاب ہوجاتی ہے۔
باپ بیٹی کی یہ لازوال محبت کی حیرت انگیز کہانی ہے-
اس فوٹو کو دیکھ کر آپ ہر ایک کے دماغ میں کچھ عجیب قسم کے خیالات آرہے ہوں گی، لیکن اس فوٹو کی سچائی کو جاننے کے بعد آپ کی آنکھوں میں بھی آنسو آ جائیں گے ...!
یہ فوٹو یورپ کے ایک مشہور پینٹر "Murillo" نے بنائی تھی! یورپ کے ایک ملک میں ایک شخص کو بھوک سے تڑپ تڑپ کر مرجانے کی سزا دے کر جیل میں بند کر دیا گیا، یہ سزا اُس زمانے میں سب سے زیادہ سخت تھی کیوں کہ سزا یافتہ انسان کو بھوک اور پیاس سے تڑپا تڑپا کر مرنے کے لئے چھوڑ دیا جاتا تھا اور جب وہ مرے تو وہ شدید بھوکا اور پیاسا ہونا چاہیے! اس کی بیٹی نے حکومت وقت سے درخواست کی کہ اُسے اپنے والد سے ہر روز ملاقات کرنے کی اجازت دی جائے اور حکومت وقت نے اُس کو اپنے والد سے روزانہ ملنے کی اجازت دے دی لیکن اُس کی ملاقات سے پہلے اُس کی روزانہ سخت تلاشی لی جاتی تھی کہ کہیں وہ کھانے پینے کی کوئی چیز اندر نہ لے جاسکے. اس نے ملاقات کے وقت اپنے والد کی حالت کو دیکھا تو وہ بہت پریشان ہوگئی کیونکہ اُس کا والد پانی اور بھوک کی شدد کی وجہ سے تڑپ رہا تھا۔۔۔! اس نے ایک فیصلہ کیا کہ وہ اپنے والد کو ایسے پڑتی موت مرنے نہیں دے گی اور اُس نے اپنے والد کو زندہ رکھنے کے لئے اپنا دودھ پلانا شروع کر دیا۔۔۔! جب شخص بہت دنوں کے بعد بھی نہیں مرا تو گارڈز کو اِس لڑکی پر شق ہوا اور اُنہوں نے اِس مشکوک لڑکی کی چانچ پڑتال کرنا شروع کر دیا اور ایک دن انہوں نے اُس لڑکی کو اپنا دودھ اُس آدمی کو پلاتے ہوئے پکڑ لیا۔ پھر اس لڑکی پر مقدمہ کیا گیا اور حکومت وقت کے قانون کے مطابق اُس لڑکی کو بھی یہی سزا ملنی چاہئے تھی لیکن جو جج صاحباں نے اِس مقدمے کا فیصلہ کیا وہ عجیب اور جذبات سے بھرپور تھا اُنہوں نے اِس لڑکی کو اور اُس کے والد کو آزاد کر دیا۔
عورت چاہے کسی بھی روپ میں ہو ماں، بیوی، بہن یا بیٹی وہ ہر روپ میں، ممتا کی مورت ہے اور قربانی دیتی ہے.
نوٹ: یہ پینٹنگ آج بھی یورپ میں سب سے زیادہ مہنگی پینٹنگ ہے ... !!
(انگریزی ادب سے ترجمہ)
Copied


Wednesday, 3 July 2019

ہر موڑ پہ ابرک ہمیں ہوتا ہے گماں یہ اس موڑ پہ ہم پھر سے کہانی میں ملیں گے

www.swatsmn.com
وہ لوگ جو کچھ روز جوانی میں ملیں گے
ہر شام وہ پھر تیری کہانی میں ملیں گے
ڈھونڈو نہ ہمیں دنیا کی رنگین فضا میں
ہم لوگ کسی یاد پرانی میں ملیں گے
حالات کی تپتی ہوئی دوپہر میں بچھڑے
یہ طے ہے کسی شام سہانی میں ملیں گے
اک خواب تُلا رہتا ہے ہجرت پہ ہمہ وقت
اک روز اسی نقل مکانی میں ملیں گے
دعوی نہیں، امید نہیں، رکھتے یقیں ہیں
ہم پھر سے اسی کوچہِِ فانی میں ملیں گے
ملنا ہے اگر ہم سے تو پڑھ لیجئے ہم کو
ہم لوگ تری آنکھ کے پانی میں ملیں گے
یونہی نہ ٹٹولو ہمیں لفظوں میں ہمارے
ہم بات نہیں بات کے معنی میں ملیں گے
جب تک غمِ مطلوب ٹھکانے نہیں لگتا
لگتا ہے سخن، شعر روانی میں ملیں گے
اک بات یہی سوچ کے سنتا نہیں دل کی
کچھ اور نئے غم ہی نشانی میں ملیں گے
ہر موڑ پہ ابرک ہمیں ہوتا ہے گماں یہ
اس موڑ پہ ہم پھر سے کہانی میں ملیں گے
............. اتباف ابرک .
یہ مصرعہِ اول تو یونہی کھینچ دیا ہے
مطلب تجھے سب مصرعہِ ثانی میں ملیں گے

Monday, 1 July 2019

ﯾﮩﺎﮞ ﻗﺒﺮﺳﺘﺎﻥ ﺑﮭﺮﮮ ﭘﮍﮮ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﺟﻮﺍﻧﻮﮞ ﮐﮯ

www.swatsmn.com

ﺧﺎﻭﻧﺪ ﮐﻮ ﭘﮩﻠﯽ ﺭﺍﺕ ﮨﯽ ﭘﺘﺎ ﭼﻞ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﺑﯿﻮﯼ ﭘﺎﮎ ﺩﺍﻣﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺁﻧﮕﻦ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﻣﺎﮞ ﺑﺎﭖ ﺑﮩﻦ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﮐﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺧﻮﺷﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﮔﯿﺖ ﮔﺎﺗﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﭼﭗ ﮐﺮ ﮔﯿﺎ ۔ﯾﮧ ﺳﺎﻟﮧ ﺑﮭﯽ ﻋﺰﺕ ﮐﺎ ﺣﻘﺪﺍﺭ ﮨﮯ...ﻭﮦ ﺩﻥ ﺭﺍﺕ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺁﺭﺍﻡ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻣﺤﻨﺖ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍﺳﮯ ﭘﺘﺎ ﭼﻼ ﮐﮯ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﮯ ﻋﺸﻖ ﻣﯿﮟ ﻣﺒﺘﻼ ﮨﮯ ۔ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﭼﺎﺭ ﻣﻌﺼﻮﻡ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ۔۔ﺑﯿﻮﯼ ﮐﻮ ﺳﻤﺠﮭﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﭼﭗ ﮐﺮ ﮔﯿﺎ ﯾﮧ ﻣﺮﺩ ﻧﺎﻡ ﮐﯽ ﮔﮭﭩﯿﺎ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺑﮩﺖ ﻋﺰﺕ ﮐﺎ ﺣﻖ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻧﮩﯿﮟ ۔ ﺁﺷﻨﺎ ﺳﮯ ﻣﻞ ﮐﺮ ﺷﻮﮨﺮ ﮐﻮ ﻗﺘﻞ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﻣﻘﺘﻮﻝ ﭘﺎﻧﭻ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﺎ ﺑﺎﭖ ﺗﮭﺎ ۔ ﻣﺠﺎﻝ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﺱ ﺧﺒﺮ ﭘﺮ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﮐﺎﻥ ﺩﮬﺮﮮ ﮨﻮﮞ ۔ﻏﯿﺮﺕ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﻋﻮﺭﺕ ﻗﺘﻞ ﺗﻮ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﺳﺮ ﭘﺮ ۔ﯾﮩﺎﮞ ﻗﺒﺮﺳﺘﺎﻥ ﺑﮭﺮﮮ ﭘﮍﮮ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﺟﻮﺍﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﻧﺎﻣﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﺨﺘﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﺟﻮ ﻏﯿﺮﺕ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﻣﺮ ﮔﺌﮯ...ﻟﯿﮑﻦ ﮨﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺫﮐﺮ؟؟ﯾﮩﺎﮞ ﺑﺲ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﻣﻈﻠﻮﻡ ﮨﻮﻧﺎ ﮨﯽ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺑﯿﭽﻨﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺑﮏ ﺑﮭﯽ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ۔ ﺑﯿﭽﺘﮯ ﺟﺎﺅ...ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻋﺘﺮﺍﺽ ﻧﮩﯿﮟ...ﻟﯿﮑﻦ ﻣﺮﺩ ﻧﺎﻡ ﮐﯽ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺑﮩﺖ ﻋﺰﺕ ﺑﺨﺶ ﺩﻭ ۔ﮨﺮ ﺑﺎﺭ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺭ ﺑﺎﺭ ﯾﮩﯽ ﻏﻠﻂ ﻧﮩﯿﮟ ۔ﺣﺎﻝ ﮨﯽ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺍ ﻋﺎﺻﻤﮧ ﺍﻭﺭ ﻓﯿﺼﻞ ﻭﺍﻻ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﮨﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﻮ ۔ﻋﻮﺭﺕ ﺳﺮ ﻣﻨﮉﻭﺍ ﮐﺮ ﻣﯿﮉﯾﺎ ﭘﺮ ﺁﮔﺌﯽ ﮐﮧ ﺑﮍﺍ ﻇﻠﻢ ﮨﻮﺍ ۔ﻧﺎﭼﻨﮯ ﭘﺮ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ﺳﺎﺭﯼ ﺩﻧﯿﺎ ﻧﮯ ﺗﮭﻮ ﺗﮭﻮ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﻧﮑﻼ ﮐﯿﺎ ؟ ﺍﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﺳﻮ ﺑﻨﺪﻭﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻧﺎﭼﺘﮯ ﮨﻮﮮ ﻭﯾﮉﯾﻮ ﻧﮑﻞ ﺁﺋﯽ ۔ﭘﮭﺮ ﭘﺘﺎ ﭼﻼ ﻣﺨﺘﺮﻣﮧ ﺁﺋﺲ ﮐﺎ ﻧﺸﮧ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﺗﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺩﻭ ﺩﻥ ﭘﮩﻠﮯ ﺭﻭ ﺭﻭ ﮐﺮ ﺑﺘﺎ ﺭﮨﯿﮟ ﺗﮭﯿﮟ ﮐﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﺷﺮﺍﺏ ﭘﯿﻨﮯ ﭘﺮ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ....ﺧﺪﺍﺭﺍ ﻟﺒﺮﻟﺰ ﮐﯽ ﮐﺎﭘﯽ ﺷﺪﮦ ﭘﻮﺳﭧ ﮐﻮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺑﻨﺎﻧﺎ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﮟ..
ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﺑﮍﯼ ﻋﺰﺕ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﯾﮏ ﺧﺴﺎﺭ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ...ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻞ ﮐﺮ ﻭﮦ ﺟﻮ ﻣﺎﻧﮓ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺍﺳﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻞ ﺳﮑﺘﺎ...!!
source ... Waqas 

Saturday, 22 June 2019

انسان کی حیثیت ہی کیا ہے؟

Saleem Medias

تدفین کے ایک دن بعد یعنی ٹھیک 24 گھنٹے بعد انسان کی آنتوں میں ایسے کیڑوں کا گروہ سرگرم عمل ہو جاتا ہے جو مردے کے پاخانہ کے راستے سے نکلنا شروع ہو جاتا ہے،
ساتھ نا قابل برداشت بدبو پھیلنا شروع کرتا ہے،
جوکہ در اصل اپنے ہم پیشہ کیڑوں کو دعوت دیتے ہیں۔
یہ اعلان ہوتے ہی بچھو اور تمام کیڑے مکوڑے انسان کے جسم کی طرف حرکت کرنا شروع کر دیتے ہیں اور انسان کا گوشت کھانا شرو ع کر دیتے ہیں۔
تدفین کے 3 دن بعد سب سے پہلے ناک کی حالت تبدیل ہونا شرو ع ہو جاتی ہے۔
6 دن بعد ناخن گرنا شرو ع ہو جاتے ہیں۔
9 دن کے بعد بال گرنا شرو ع ہو جاتے ہیں۔
انسان کے جسم پر کوئی بال نہیں رہتا اور پیٹ پھولنا شروع ہو جاتا ہے۔
17 دن بعد پیٹ پھٹ جاتا ہے اور دیگر اجزاء باہر آنا شرو ع ہو جاتے ہیں۔
60 دن بعد مردے کے جسم سے سارا گوشت ختم ہو جاتا ہے۔ انسان کے جسم پر بوٹی کا ایک ٹکڑا باقی نہیں رہتا۔
90 دن بعد تمام ہڈیاں ایک دوسرے سے جدا ہونا شرو ع ہو جاتی ہیں۔
ایک سال بعد ہڈیاں بوسیدہ ہو جاتی ہیں،
اور بالآخر جس انسان کو دفنایا گیا تھا اس کا وجود ختم ہو جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔
۔
تو میرے دوستوں غرور، تکبر، حرص، لالچ، گھمنڈ، دشمنی، حسد، بغض، جلن، عزت، وقار، نام، عہدہ، بادشاہی،
یہ سب کہاں جاتا ہے؟
سب کچھ خاک میں مل جاتا ہے
انسان کی حیثیت ہی کیا ہے؟ 
مٹی سے بنا ہے، مٹی میں دفن ہو کر مٹی ہو جاتا ہے۔
پانچ یا چھ فٹ کا انسان قبر میں جا کر بے نام و نشان ہو جاتا ہے۔۔۔
دنیا میں اکڑ کر چلنے والا، 
اپنے آپ کو طاقت ور سمجھنے والا
دوسروں کو حقیر سمجھنے والا 
دنیا پر حکومت کرنے والا
قبر میں آتے ہی اس کی حیثیت، صرف "مٹی" رہ جاتی ہے
لہٰذا انسان کو اپنی ابدی اور ہمیشہ کی زندگی کو خوبصورت اور پرسکون بنانے کے لئے ہرلمحہ فکر کرنی چاہیئے،
اللہ کو یاد کرنا چاہیئے،
ہر نیک عمل اور عبادت میں اخلاص پیدا کرنا چاہیئے
اور
خاتمہ بالخیر کی دعا کرنی چاہیئے۔۔۔!
اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے۔۔۔آمین
منقول

احساسِ کمتری

www.swatsmn.com

مجھے یہ تو علم نہیں کہ ایرانی فوج کا عالمی رینکنگ میں کیا نمبر ہے لیکن کل ایران نے اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے امریکی ڈرون کو مار گرا کر مجھے شدید ترین احساسِ کمتری میں مبتلا کر دیا ہے۔
تمام اقسام کی عالمی پابندیوں کے باوجود ایران نے اپنے وسائل او
ر مقامی مہارت سے زمین سے فضا میں مار کرنے والا میزائل بنایا۔ اس ایرانی ساختہ میزائل نے RQ-4A Global Hawk نامی امریکہ کا ڈرون طیارہ مار گرایا۔ امریکیوں کا دعویٰ تھا کہ Raytheon کمپنی کے اس جدید ترین ڈرون کو دشمن کا ریڈار نہیں دیکھ سکتا۔ اس کی ٹیکنالوجی اتنی شاندار ہے کہ یہ اپنی طرف آنے والے میزائل یا راکٹ وغیرہ کوغچہ دے کر بچنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ اس طرح کے ایک ڈرون طیارے کی قیمت 22 کروڑ ڈالر سے زیادہ ہے۔ جبکہ اس کی تیاری کے پروگرام پر 10 ارب ڈالر سے زیادہ کا خرچ آ چکا ہے۔
امریکیوں کو اپنے جہاز پر اسقدر اعتماد تھا کہ اس کی تباہی کے ایرانی دعوے کی فوری طور پر تردید جاری کر دی۔ پھر کئی گھنٹے بعد امریکی بحریہ کے ترجمان نے اپنے ڈرون کی تباہی کا اعتراف کیا۔ دوسری جانب امریکیوں کے لیے یہ یقین کرنا بھی بہت مشکل تھا کہ یہ ایران اُن کے ڈرون کو سوچی سمجھی پلانگ کے تحت تباہ کر سکتا ہے۔ اسی لیے اپنے رد عمل میں ان کا کہنا تھا کہ یہ کسی ایرانی جنرل یا مقامی کمانڈر کی پاگل پن و حماقت پر مبنی کاروائی ہے۔
لیکن جب ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ حسین سلامی کا سامنے آیا تو امریکیوں نے بغلیں جھانکنیں لگے۔ حسین سلامی ان کا کہنا تھا، ’’امریکی ڈرون گرا کر انھوں نے ایک واضح پیغام بھیجا ہے۔ ہماری سرحدیں ہمارے لیے سرخ لکیر کی مانند ہیں اور جو بھی دشمن انھیں پار کرنے کی کوشش کرے گا اسے تباہ کر دیا جائے گا۔ ہم اعلانیہ کہتے ہیں کہ ہم کسی ملک کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے لیکن ہم اس کے لیے تیار ہیں۔‘‘
ایران کا واضع موقف سامنے آنے کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے بیان دیا، ’’ایران کی کاروائی کے نتیجے میں اگر کسی امریکی کی جان متاثر ہوئی ہوتی، تو میرا ردعمل بڑا مختلف ہوتا۔‘‘
میرے احساس کمتری کی وجہ یہ ہے کہ میرے ملک پر 2004 سے 2018 کے درمیان امریکیوں نے 4 سو29 ڈروان حملے کئے۔ جن میں عورتوں اور بچوں سمیت 5 ہزار سے زیادہ انسان مارے گئے۔ خود امریکیوں کے اعداد و شمار کے مطابق مرنے والوں میں 90 فیصد تک بے گناہ ہو سکتے ہیں۔ ہائی پروفائل ٹارگٹس صرف 84 تھے۔ امریکیوں نے سینکڑوں کلومیٹر اندر گھس کر ایبٹ آباد میں فوجی کاروائی کی۔ سلالہ میں کئی گھنٹے تک جاری رہنے والے حملے میں پاکستانی فوج کے درجنوں اہلکاروں کو بھون ڈالا۔لیکن ہم نمبر ون ہونے کے باوجود نیم دلانہ مذمت کے سوا کچھ نہ کر سکے۔

Tuesday, 18 June 2019

"سر ! 3 مئی 1995کادِن امریکی ہمیشہ یاد رکھیں گے"

www.swatsmn.com
"سر ! 3 مئی 1995کادِن امریکی ہمیشہ یاد رکھیں گے"
3 مئی 1995 کا دِن جب امریکی بحریہ اور فضائیہ کے غرور کوپاکستان ائیر فورس کے دو شاہینوں نے خاک میں مِلا دیا۔ پاکستان ائیر فورس کا ایک انوکھا کارنامہ جس نے دُنیا کو حیرت زدہ کردیا۔
1995میں سپائڈرالرٹ کے نام سے پاکستان اور امریکہ کی مُشترقہ جنگی مشقیں شُروع ہوئیں جس میں دونوں ممالک کی بری، بحری اور فضائی افواج نے حصّہ لیا۔
جنگی مشقوں کے آخری مراحل میں فِضا سے سمندر میں حملے کا مقابلے کا انعقاد کیا گیا جِس میں پاکستان ائیرفورس کو ٹارگٹ دیا گیا کہ اُنہیں سمندر میں موجود بحری بیڑے اِبراہم لنکن (CN-72) کےانتہائی قریب جا کر اُس پر حملہ کرکے مصنوعی طور پر کے تباہ کرنا ہے اور دُوسری طرف امریکی بحری بیڑے پر موجود امریکی بحریہ کو یہ ہدف دیا گیا کہ اُنہیں ہوا میں موجود پاکستانی ہوابازوں کا بحری بیڑے کے قریب پہنچنے سے قبل سُراغ لگانا ہے تاکہ بیڑے پر موجود امریکی F-14جنگی تیارے فوری اُڑان بھر کے پاکستانی طیاروں کو ہوا میں ہی دبوچ لیں اور بحری بیڑے کے قریب آنے سے پہلے ہی ہوا میں مصنوعی طور پر گِرا کر یہ مِشن اپنے نام کرلیں۔
اس مشق میں امریکی بحری اور فضائی افسران انتہا کی حد تک مطمئن اور پُر اعتماد تھے۔ اُن کے اعتماد کی وجہ امریکی بحری بیڑے پر موجوددُنیاکاسب سے بہترین ریڈارسسٹم تھا جو میلوں دور سے کسی بھی قسم کی فضائی نقل وحرکت کی بالکل درست نشاندہی کرنے کی صلاحیت کا حامل تھا۔ امریکیوں کے اعتماد کی دُوسری اور اہم وجہ یہ تھی کہ بحری بیڑے پر موجود امریکی طیارے جدید ترین طیارے تھے جو برق رفتاری میں پاکستانی معراج طیاروں سے کہیں آگے تھے۔
دُوسری طرف پاکستان کے ایک فضائی اڈے کا منظر! جہاں پر پاکستان کے فضائی نگرانوں کو اس مُشکل ترین مشن پر جانے کےلئے پوچھا گیا اور حسبِ معمول تمام پائلٹس ایک عزم اور ولوّلے کے ساتھ اس مشن پر جانے کے لئے اگےآئے لیکن اس مِشن پر صرف دو پائلٹ مُنتخب ہونے تھے جنہوں نے اپنے معراج طیاروں کے ساتھ اس مُشکل ترین مشن پر جانا تھا۔
سینئر کمانڈ کے فیصلے کے مطابق اس مشن کےلئے وِنگ کمانڈر عاصم سلمان اور فلائٹ لیفٹیننٹ احمد حسن کا انتخاب کیا گیا۔ وِنگ کمانڈر عاصم سلمان اُن دِنوں پاکستان فضائیہ میں سکوارڈن نمبر آٹھ کے بطورکمانڈرفرائض سرانجام دے رہے تھے۔
دِن تین بجے کے وقت دونوں پاکستانی شاہین مشن پر روانہ ہونے سے قبل اپنے طیاروں کی جانچ پڑتال میں مشغول تھے جب وِنگ کمانڈر عاصم سلمان نے فلائٹ لیفٹیننٹ احمد حسن کو اپنے پاس بُلایا اور کہا۔ احمد میں اُمید کرتا ہوں آپ اس مشن کےلئے مُکمل طورپر تیارہو۔ لیفٹیننٹ احمد حسن کےچہرےپر ایک پُراعتماد اور جوش سے بھرپور مُسکراہٹ آئی اور وہ انتہائی ادب لیکن اعتماد سے بولے "سرآج تین مئی 1995کادِن امریکی ہمیشہ یاد رکھیں گے"
وِنگ کمانڈر کو اپنےنوجوان شاہین کی بات پر مُکمل اعتماد تھا کیونکہ آج اُنہوں نے اپنی زندگی کا ایک انتہائی انوکھا فیصلہ کیا جو آج تک کی فضائی تاریخ میں نہیں ہوا تھا لیکن ونگ کمانڈر عاصم سلمان نے اپنے اس فیصلے سے احمد حسن کو آگاہ نہیں کیا اور فیصلہ کیا کہ ہدایات مشن پر روانہ ہونے کے بعدطیارے کے وائرلیس سےدیں گے۔
چند لمحوں بعد دونوں شاہین اپنے اپنے معراج طیاروں کے کاک پٹ میں موجود تھے۔ پھر اُن کے طیاروں نے نعرہ تکبیر کی صداؤں کی گونج میں ہوا میں اُڑان بھری اور ایک مُشکل ترین فضائی مشن پر روانہ ہوگئے۔
اِس مشن میں ونگ کمانڈر عاصم سلمان لیڈر جبکہ فلائٹ لیفٹیننٹ احمدحسن ونگ مین کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔
امریکی بحری بیڑے پر موجود تمام بحری اور فضائی افسران انتہائی اطیمنان سے پاکستانی طیاروں کی ریڈار پر نشاندہی کا انتظار کررہے تھے کہ جیسے ہی پاکستانی طیاروں کی نشاندہی ہو اُن کے جدید ترین ایف چودہ طیارے فوری اُڑان بھر کے پاکستانی معراج طیاروں کو بحری بیڑے سے میلوں دُور دبوچ لیں اور امریکی اپنی فتح کا جشن منائیں۔
تمام امریکی افسران ریڈرا روم میں موجود تھے اور امریکی پائلٹ اپنے طیاروں میں موجود اگلے حُکم کے مُنتظر تھے۔
دونوں پاکستانی شاہین اپنے اپنے طیاروں کو ہدف کی طرف لے جا رہے تھے جب اچانک فلائٹ لیفٹیننٹ احمد حسن کو طیارے کے وائرلیس پر اپنے لیڈر کا ایک انوکھا اور پُر خطر حُکم سُنائی دیا اور پھربیک وقت دونوں طیارے بجلی کی رفتار سےنیچے کی طرف جانا شُروع ہوگئے۔
امریکی بحری بیڑے پر اُس وقت سناٹا چھا گیا جب پاکستان کے دونوں شاہینوں نےامریکیوں کو حرکت کا موقع دئیے بغیرامریکی بحری بیڑے کی بالائی سطح کے بھی نیچےسے سمندر سے محض چند فُٹ اوپر سے اپنے معراج طیارے برق رفتاری سے فضاء میں بُلند کئے اور امریکی بحری بیڑے کو کامیابی سے مصنوعی طور ہراپنے ہدف کا نشانہ بناکر پاکستان کی امریکیوں پر فتح کا پیغام کنٹرول روم کو دیا۔
پاکستانی ہوائی اڈہ ایک بار پھر نعرہ تکبیر کی صداؤں سے گونج اُٹھا جبکہ دُوسری جانب امریکی بحری بیڑے پر ایک سناٹا چھا چُکا تھا اور امریکی ایک صدمے کی کیفیت میں ایک دوسرے کا مُنہ دیکھ رہے تھے۔ امریکی سوچ رہے تھے کہ آخر ایسا کیسے ممکن ہوا کہ پاکستانی معراج طیارے جدید ترین ریڈار پر نظرآئے بغیر کامیابی سے بحری بیڑے کے اُوپر سے گُزر گئے اور اُنہیں سنبھلنے کا موقع بھی نہیں دِیا۔
ونگ کمانڈر عاصم سلمان نے ہوائی اڈے سے اُڑان بھرنے سےقبل ہی فیصلہ کر لیا تھا کہ امریکی ریڈار سے بچنےکےلئے اُنہیں دونوں طیاروں کو انتہائی نِچلی اور خطرناک سطح پر تیزرفتاری سے پرواز کرنا پڑے گی چُنانچہ اُنہوں نے اُڑان بھرنے کے چند لمحوں بعد ہی فلائٹ لیفٹیننٹ احمد حسن کو اچانک یہ حُکم دیا۔ قارئینِ کرام اتنی نچلی سطح پر یہ پرواز معراج طیاروں کے ساتھ نامُمکن تھی اوردُنیا میں آج تک کسی پائلٹ نے جدیدترین طیارےپربھی ایسی خطرناک پرواز نہیں کی تھی۔ سطح سمندر پر یہ پرواز اور بھی مُشکل تھی کیونکہ زمین اور پانی پر ہوا کا دباؤ مُختلف ہوتا ہے لیکن آفرین کہ پاکستان کے بہادر اور نڈرسپوتوں نے ایسے نامُمکن کو ایک جذبے سے مُمکن کر دِکھایا اور امریکیوں کے غرور کوخاک میں مِلا کر فضائی معرکوں میں ایک تاریخ رقم کر دی اور اپنےسبزہِلالی پرچم کی لاج رکھ کر اقبال (رح) کے اس قول کی کو سچ کر دِکھایا "مومن ہو تو بےتیغ بھی لڑتا ہے سِپاہی"
ہمارا سلام ہو وطن کے تمام بہادر سپوتوں پر۔
افواجِ پاکستان زندہ باد
پاکستان پائندہ باد۔

10th National Desert Hike 2025 (Rambler Badge Hike for Rover Scouts)

10th National Desert Hike 2025  (Rambler Badge Hike for Rover Scouts) Chulistan ,روحی   نیشنل ڈزرٹ ہائیک 2025 تاریخِ عالم اس امر کی شاہد ہے ...