www.swatsmn.com
مجھے یہ تو علم نہیں کہ ایرانی فوج کا عالمی رینکنگ میں کیا نمبر ہے لیکن کل ایران نے اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے امریکی ڈرون کو مار گرا کر مجھے شدید ترین احساسِ کمتری میں مبتلا کر دیا ہے۔
تمام اقسام کی عالمی پابندیوں کے باوجود ایران نے اپنے وسائل او
ر مقامی مہارت سے زمین سے فضا میں مار کرنے والا میزائل بنایا۔ اس ایرانی ساختہ میزائل نے RQ-4A Global Hawk نامی امریکہ کا ڈرون طیارہ مار گرایا۔ امریکیوں کا دعویٰ تھا کہ Raytheon کمپنی کے اس جدید ترین ڈرون کو دشمن کا ریڈار نہیں دیکھ سکتا۔ اس کی ٹیکنالوجی اتنی شاندار ہے کہ یہ اپنی طرف آنے والے میزائل یا راکٹ وغیرہ کوغچہ دے کر بچنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ اس طرح کے ایک ڈرون طیارے کی قیمت 22 کروڑ ڈالر سے زیادہ ہے۔ جبکہ اس کی تیاری کے پروگرام پر 10 ارب ڈالر سے زیادہ کا خرچ آ چکا ہے۔
امریکیوں کو اپنے جہاز پر اسقدر اعتماد تھا کہ اس کی تباہی کے ایرانی دعوے کی فوری طور پر تردید جاری کر دی۔ پھر کئی گھنٹے بعد امریکی بحریہ کے ترجمان نے اپنے ڈرون کی تباہی کا اعتراف کیا۔ دوسری جانب امریکیوں کے لیے یہ یقین کرنا بھی بہت مشکل تھا کہ یہ ایران اُن کے ڈرون کو سوچی سمجھی پلانگ کے تحت تباہ کر سکتا ہے۔ اسی لیے اپنے رد عمل میں ان کا کہنا تھا کہ یہ کسی ایرانی جنرل یا مقامی کمانڈر کی پاگل پن و حماقت پر مبنی کاروائی ہے۔
لیکن جب ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ حسین سلامی کا سامنے آیا تو امریکیوں نے بغلیں جھانکنیں لگے۔ حسین سلامی ان کا کہنا تھا، ’’امریکی ڈرون گرا کر انھوں نے ایک واضح پیغام بھیجا ہے۔ ہماری سرحدیں ہمارے لیے سرخ لکیر کی مانند ہیں اور جو بھی دشمن انھیں پار کرنے کی کوشش کرے گا اسے تباہ کر دیا جائے گا۔ ہم اعلانیہ کہتے ہیں کہ ہم کسی ملک کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے لیکن ہم اس کے لیے تیار ہیں۔‘‘
ایران کا واضع موقف سامنے آنے کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے بیان دیا، ’’ایران کی کاروائی کے نتیجے میں اگر کسی امریکی کی جان متاثر ہوئی ہوتی، تو میرا ردعمل بڑا مختلف ہوتا۔‘‘
میرے احساس کمتری کی وجہ یہ ہے کہ میرے ملک پر 2004 سے 2018 کے درمیان امریکیوں نے 4 سو29 ڈروان حملے کئے۔ جن میں عورتوں اور بچوں سمیت 5 ہزار سے زیادہ انسان مارے گئے۔ خود امریکیوں کے اعداد و شمار کے مطابق مرنے والوں میں 90 فیصد تک بے گناہ ہو سکتے ہیں۔ ہائی پروفائل ٹارگٹس صرف 84 تھے۔ امریکیوں نے سینکڑوں کلومیٹر اندر گھس کر ایبٹ آباد میں فوجی کاروائی کی۔ سلالہ میں کئی گھنٹے تک جاری رہنے والے حملے میں پاکستانی فوج کے درجنوں اہلکاروں کو بھون ڈالا۔لیکن ہم نمبر ون ہونے کے باوجود نیم دلانہ مذمت کے سوا کچھ نہ کر سکے۔

No comments:
Post a Comment