Tuesday, 15 January 2019

انسان اور انسانیت

www.swatsmn.com
 انسان اور انسانیت
تاریخی حقائق کے مطابق جب مشہور برطانوی بحری جہاز ٹائی ٹینک حادثے کا شکار ہوا تو اس کے آس پاس تین ایسے بحری جہاز موجود تھے جو ٹائی ٹینک کے مسافروں کو بچا سکتے تھے۔۔
سب سے قریب جو جہاز موجود تھا اسکا نام سیمسن (Samson) تھا اور وہ حادثے کے وقت ٹائی ٹینک سے صرف سات میل کی دوری پہ تھا۔ سیمسن کے عملے نے نہ صرف ٹائی ٹینک کے عملے کی طرف سے فائر کئے گئے سفید شعلے (جو کہ انتہائی خطرے کی صورت میں فضا میں فائر کئے جاتے ہیں) دیکھے تھے بلکہ مسافروں کی آہ و بُکا کو سُنا بھی تھا۔ لیکن کیونکہ سیمسن کے عملے کے لوگ غیر قانونی طور پہ انتہائی قیمتی سمندری حیات کا شکار کر رہے تھے اور نہیں چاہتے تھے کہ پکڑے جائیں لہذا ٹائی ٹینک کی صورتحال کا اندازہ ہوتے ہی بجائے مدد کرنے کے وہ جہاز کو ٹائی ٹینک کی مخالف سمت میں بہت دور لے گئے۔
یہ جہاز ہم میں سے ان لوگوں کی نمائندگی کرتا ہے جو اپنی گناہوں بھری زندگی میں اتنے مگن ہو جاتے ہیں کہ ان کے اندر سے انسانیت کا احساس ختم ہو جاتا ہے اور پھر وہ ساری زندگی اپنے گناہوں کو چھپاتے گزار دیتے ہیں۔
دوسرا جہاز جو قریب موجود تھا اس کا نام کیلیفورنین (Californian) تھا جو حادثے کے وقت ٹائی ٹینک سے چودہ میل دور تھا۔ اس جہاز کے کیپٹن نے بھی ٹائی ٹینک کی طرف سے مدد کی پکار کو سنا اور باہر نکل کے سفید شعلے اپنی آنکھوں سے دیکھے لیکن کیونکہ وہ اس وقت برف کی چٹانوں میں گھرا ہوا تھا اور اسے ان چٹانوں کے گرد چکر کاٹ کے ٹائی ٹینک تک پہنچنے میں خاصی مشکل صورتحال سے دو چار ہونا پڑتا لہذا کیپٹن نے اس کی بجائے دوبارہ اپنے بستر میں جانا اور صبح روشنی ہونے کا انتظار کرنا مناسب سمجھا۔ صبح جب وہ ٹائی ٹینک کی لوکیشن پہ پہنچا تو ٹائی ٹینک کو سمندر کی تہہ میں پہنچے چار گھنٹے گزر چکے تھے اور ٹائی ٹینک کے کیپٹن ایڈورڈ اسمتھ سمیت 1569 افراد موت کے گھاٹ اتر چکے تھے۔
یہ جہاز ہم میں سے ان افراد کی نمائندگی کرتا ہے جو کسی کی مدد کرنے کو اپنی آسانی سے مشروط کر دیتے ہیں اور جب تک حالات حق میں نہ ہوں کسی کی مدد کرنا اپنا فرض نہیں سمجھتے۔
تیسرا جہاز کارپیتھیا (Carpathia) تھا جو ٹائی ٹینک سے 68 میل دور تھا۔ اس جہاز کے کیپٹن نے ریڈیو پہ ٹائی ٹینک کے مسافروں کی چیخ و پکار سنی۔ صورتحال کا اندازہ ہوتے ہی باوجود اس کے کہ یہ ٹائی ٹینک کی مخالف سمت میں جنوب کی طرف جا رہا تھا، اس نے فورا اپنے جہاز کا رخ موڑا اور اللہ کا نام لے کے برف کی چٹانوں اور خطرناک موسم کی پروا کئے بغیر مدد کے لئے روانہ ہو گیا۔ اگرچہ یہ دور ہونے کے باعث ٹائی ٹینک کے ڈوبنے کے دو گھنٹے بعد لوکیشن پہ پہنچ سکا لیکن یہی وہ جہاز تھا جس نے لائف بوٹس پہ امداد کے منتظر ٹائی ٹینک کے باقی ماندہ 710 مسافروں کو زندہ بچایا تھا اور انہیں بحفاظت نیو یارک پہنچا دیا تھا۔ اس جہاز کے کیپٹن کیپٹن آرتھر روسٹرن کو برطانوی نیوی کی تاریخ کے چند بہادر ترین کیپٹنز میں شمار کیا جاتا ہے اور ان کے اس عمل پہ انہیں کئی سماجی اور حکومتی ایوارڈز سے بھی نوازا گیا تھا۔
یاد رکھیئے، ہماری زندگی میں ہمیشہ مشکلات رہتی ہیں، چیلنجز رہتے ہیں، لیکن وہ جو ان مشکلات اور چیلنجز کا سامنا کرتے ہوئے بھی انسانیت کی بھلائی کے لئے کچھ کر جائیں انہیں ہی انسان اور انسانیت یاد رکھتی ہے۔
دعا کیا کریں کہ خدا کسی کی مدد کی توفیق دے کیوں کہ یہ انسانیت کی معراج اور اعلی ترین درجہ ہے۔

Wednesday, 28 March 2018

میرا جسم میری مرضی

www.swatsmn.com

میرا جسم میری مرضی


اسکرین پر میری نگاہ پڑی تو میں لرز کر رہ گئی ۔۔۔۔

پلے کارڈ پر لکھے الفاظ ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ الفاظ نہیں تھے دہکتے انگارے تھے ۔۔۔۔
کیا ہے یہ؟ میں نےاپنی بیٹی سے پلے کارڈز کے بارے میں پوچھا ۔ 
مما ! یہاں ہم سب احتجاج کررہے ہیں آج کی عورت مضبوط ہے وہ کسی کی غلام نہیں ہے میری بیٹی نے موم بتی والی آنٹی سے سنی ہوئی ساری تقریر مجھے سُنا ڈالی ۔۔۔
میں نے تحمل سے اپنی بیٹی کا ہاتھ تھاما اور اسے اس مجمع سے نکال کر لے آئی جو سوشل میڈیا پر جمع تھا۔
میری شہزادی ! اللہ تعالیٰ تمہیں ہر بری آفت سے بچائے شاید تمہیں نہیں معلوم یہ پلے کارڈ کوئی پلے کارڈ نہیں ہے یہ تمہاری اذیتوں کا دیباچہ ہے
اذیتوں کا دیباچہ ؟میری بیٹی نے حیرت سے میری جانب دیکھتے ہوئے پوچھا 
ہاں اذیتوں کا دیباچہ ۔۔۔۔
لیکن کیسے ؟ میری بھولی بھالی بیٹی کی آنکھیں حیرت سے پھیل چکی تھیں۔۔۔۔
میری لختِ جگر ! تمہیں لگتا ہے یہ تمہاری آزادی چاہتے ہیں نہیں میری شہزادی ! یہ تمہاری آزادی نہیں چاہتے یہ بس تم تک پہنچنے کی آزادی چاہتے ہیں پر یہ کبھی تمہیں فنکارہ کے روپ میں استیصال کریں گے ۔۔۔کبھی اینکر کے شکل میں۔۔۔۔کبھی سیلز گرل کی صورت میں کیونکہ عورت سے زیادہ سستا مزدور نہیں ملتا ۔۔۔ 
ا ن کی نجی نشستوں میں عورتوں سے متعلق گفتگو سُن لینا تمہیں اندازہ ہو جائے گا یہ عورتوں کو ایک منڈی کےمال سے زیادہ حیثیت نہیں دیتے ۔۔۔۔تم جیسی بھولی بھالی لڑکیاں آزادی کا نعرہ لگاتے لگاتے ان کی بد ترین رکھیل بنتی چلی جاتی ہے غلامی کی ایسی دلدل میں دھنستی چلی جاتی ہیں جہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہو تا ۔
لیکن مما ! یہ تو بہت مخلص نظر آتے ہیں ۔میری بیٹی نے ایک دلیل دی 
بیٹا ! جب شکاری تیتر کے شکار کے لیے جنگل میں جاتا ہے تو وہ تیتر کی آواز نکالتا ہے تیتر سمجھتاہے اس کا کوئی ساتھی ہو گا اور وہ اس کے جال میں پھنس جاتا ہے ۔۔۔۔بالکل ایسے ہی عورتوں کے یہ شکاری بھی ایسی ہی آوازیں نکالتے ہیں جو خواتین کو پر کشش معلوم ہوں ۔۔۔ 
بیٹا !
ایک ٹیچر کی مرضی کے بغیر اگر کوئی شخص علم حاصل کرنا چاہے تو وہ ناکام ہو جائے گا 
طبیب کی مرضی کے بغیر علاج کیا تو مر جائے گا ۔۔۔۔وکیل کی مرضی کے بغیر مقدمہ لڑا ہار جائے گا ۔۔۔۔ کھیل کے میدان میں اپنی مرضی چلائی ناکام ہو جائے گا ۔۔۔۔
اب خود سوچو !!!!!!جو انسان اپنے خالق کی مرضی کو پس پشت ڈال کر اپنی مرضی چلائے کامیاب ہو گا ؟
بیٹا! بازارِ حسن میں موجود عورت ’’میرا جسم میری مرضی ‘‘ کے تحت کس طرح ذلیل و رسوا ہو رہی ہیں وہ نہیں چاہتیں اس گندگی میں گرفتار رہنا ۔پوچھو بیٹا! کبھی اس عورت سے؛ وہ چاہتی ہے اپنے شوہر کو کھانا گرم کر کے دے اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ ایک اچھی اور پاکیزہ زندگی گزارے ۔۔۔۔۔
یہ روشن خیال مفکر ۔۔۔۔یہ عورتوں کی آزادی کے نقیب ۔۔۔۔۔یہ بھیڑ کی کھال میں بھیڑئیے ہیں یہ بازارِ حسن کے یہ نئے دلال ہیں ۔
اسلام نے عورت کو عزت دی یہ بھیڑئیے اب آزادی اور فیمینزم کے نام پر عورت کو نکال رہے ہیں ۔۔۔۔پوچھنا کبھی ان عورتوں سے جو گلیمر کی چکا چوند میں اپنا آپ کھو بیٹھی ہیں کیا خوش ہیں اس آزادی سے ؟
نہیں بالکل نہیں میرا بچہ بالکل بھی نہیں۔۔۔۔۔
میری شہزادی اگر تم نے اللہ و رسول ﷺ کی مرضی کے مطابق زندگی گزاری تو تم کامیاب رہو گی ۔
میرے محترم!میں آپ سے مخاطب ہوں 
ذرا غور کیجیے گا اس مجمع میں آپ کی بیٹی بھی ہو سکتی ہے جو سوشیل میڈیا پر ان تصاویر کو لائیک کررہی ہو ۔۔۔۔ان تصاویر کو شئیر کر رہی ہو ۔۔۔۔یا ان سے متاثر ہو۔۔۔ہماری بچیاں اس مجمع کا حصۃ بنا رہی ہیں لا شعوری طور پر ۔۔۔۔آؤ ہم اپنے گھروں کی بنیادیں مضبوط کر لیں-

ایک غیرتمند مسلمان، ماں ،کی قوم کی بچیوں کےنام " پیغام

Monday, 12 June 2017

نڈس ڈولفن کا شمار پاکستان میں پائی جانے والی نایاب مچھلیوں میں ہوتا ہے۔

www.swatsmn.com

دنیا میں ڈالفن کی چار اقسام پائی جاتی ہیں۔ جن میں ایک نابینا ڈالفن ہے جو کہ صرف دریائے سندھ میں پائی جاتی ہے ۔ مقامی طور پر اس مچھلی کو بلھن کہا جاتا ہے۔ جینیاتی طور پر یہ مچہلی نابینا نہیں ہوتی بلکہ سالوں سے دریائے سندھ کا مٹی والا پانی اور بڑھتی ہوئی آلودگی اس کے نابینا ہونے کی وجہ بتائی جاتی ہے۔
انڈس ڈالفن کوئی معذور مچھلی نہیں ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نابینا بلھن کی آنکھ دن اور رات میں فرق کرسکتی ہے اور تیرنے اور راستے کی معلومات کیے لیے یہ مچھلی آواز نکالتی ہے جس کی بازگشت پلٹ کر اس تک پہنچتی ہے جسے وہ قدرتی طور پر اپنے ماتھے پر وصول کرتی ہے۔ اس سے یہ نابینا ڈالفن چیزوں کی پہچان اور راستوں کا پتہ چلاتی ہے۔
یک طرف تو اس نابینا ڈولفن کے وجود کو مسلسل کرچی کرچی کیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف کچے کے علاقے میں زراعت کیلئے کھاد اور کیڑے مار ادویات کے استعمال کے وجہ سے زہریلے کیمیکل دریائے سندھ میں شامل ہوکر پانی کو زہریلا کردیتے ہیں، جو ان نابینا ڈولفن کی اموات کا سبب بنتا ہے۔
انڈس ڈولفن کا شمار پاکستان میں پائی جانے والی نایاب مچھلیوں میں ہوتا ہے۔ آئے روز انڈس ڈولفن دریائے سندھ سے نکلنے والے نہروں میں بہہ جاتی ہے جہاں راستہ تنگ ہونے کے باعث اکثر وہ پھنس جاتی ہے۔ واضح رہے کہ گذشتہ کئی برسوں سے دریائے سندھ میں یہ نایاب مچھلی اکثر و بیشتر نہروں میں مردہ پائی جاتی رہی ہے۔
دریائے سندھ میں پائی جانے والی اس نایاب نسل کی مچھلی کی اصل تعداد کے بارے میں اندازہ لگانا فی الحال مشکل ہے تاہم جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے قائم صوبائی ادارے کے محتاط اندازوں کے ان کی تعداد تقریباً 700 سے 800 ہے جو گڈو اور سکھر بیراج کے درمیان گھومتی رہتی ہیں۔
انڈس ڈولفن کا شمار ان جانداروں میں ہوتا ہے جن کی بقا کو شدید خطرات لاحق ہیں اور یہی وجہ ہے کہ انڈس ڈولفن ماحول کی بقا کیلئے کام کرنیوالے عالمی اداروں کی ریڈ لسٹ میں بھی شامل ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ اٹھائے گئے تو یہ مچھلی مکمل طور پر ناپید ہو جائے گی۔
ایک مقامی تحقیق کے مطابق دریائے سندھ میں پائی جانے والی نابینا ڈالفن کی نسل مختلف طریقوں سے شکار کے باعث تیزی سے ختم ہو رہی ہے۔ ہمیں چاہے کہ انڈس ڈالفن کے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی کے خلاف آواز اٹھائیں اور ان کی نسلی اور جنسی زیادتی کے حوالے سے ایک آگاہی مہم کا آغاز کریں اور عالمی ادارے بھی ان محصوم ڈالفن کو جنسی زیادتی سے بچانے کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کریں تاکہ فوری طور پر ان نابینا ڈولفن کے ساتھ ہونے والی ظلم و زیادتی کو روکا جائے

with Thanks .. hum .. onlinnews

Friday, 9 June 2017

جس نے ہماری عزت خاک میں ملا دی ھے

www.swatsmn.com
Wrong number #گھر کے موبائل نمبر پر رانگ #نمبر سے کال آئی۔۔ گھر میں ایک عورت نے  موبائل کو رسیو کیا تو آگے سے غیر انجانی آواز سن کر عورت نے کہا سوری رانگ نمبر ھے- اور فون بند کردیا- لڑکے نے جب ہیلو کی آواز سن لی تو وہ سمجھ گیا کہ یہ کسی لڑکی کا نمبر ھے-
اب اس رانگ نمبر کو ملانے والا لڑکا مسلسل اسی نمبر پر کال کرتا رہتا، لیکن وہ عورت فون نہ اٹھاتی- پھر وہ میسج کرتا کہ جانو بات کرو ناں۔ موبائل کیوں نہیں رسیو کرتی؟ عورت کی ساس بڑی مکار اور لڑائی جھگڑے والی خاتون تھی
اس واقے کے ایک دن بعد موبائل پر رنگ ٹون بجی تو ساس نے موبائل رسیو کیا آگے سے لڑکے کی آواز سن کر ساس خاموش ہو گئی ' لڑکا بار بار کہتا رہا کہ جانی مجھ سے بات کیوں نہیں کرتی میری بات تو سنو پلیز، تمہاری آواز نے مجھے پاگل کر دیا ھے. بلاہ بلاہ بلاہ
ساس نے خاموشی سے سن کر موبائل بند کر دیا۔۔
اب جب رات کو عورت کا شوہر گھر آیا تو ساس نے علیحدہ بلا کر اپنے بہو پر بد چلنی اور نامعلوم لڑکے سے یارانے کا الزام لگایا۔۔
شوہر نے اسی وقت جاہلیت کا کردار ادا کرکے بیوی کی ایک بھی نہیں سنی اور بیوی کو رسی سے باندھ کر بے انتہا تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔ جب وہ تشدد سے فارغ ہوا تو ساس نے موبائل ہاتھ میں تھما دی اور کہا کہ یہ نمبر ھے تمہاری بیوی کے یار کا۔۔
شوہر نے موبائل کالز چیک کیں اور اس کے بعد میسج چیک کئیے تو لڑکے کے تمام میسجز موجود تھے جس میں کہا گیا تھا کہ جانی کیسی ہو جانی بات کرو ناں جانی تمہاری آواز نے مجھے پاگل کر دیا ھے.
جاہل شوہر تمام میسج پڑھ کر اور بھی سیخ پا ہوا اور ادھر ساس نے بہو کے بھائی کو فون کرکے بتایا کہ تمہاری بہن کو ہم نے اپنے یار کے ساتھ موبائل پر بات کرتے ہوئے اور میسج کرتے ہو پکڑ لیا ہیں۔۔
جس نے ہماری عزت خاک میں ملا دی ھے.
اسی وقت اس لڑکی کی بھائی اور ماں فورأ اپنی بیٹی کی گھر آئے ادھر لڑکی کی ساس اور شوہر نے اس کے بھائی اور ماں کو طعنے دے کر کہ تمہاری بہن بد چلن ھے زانی ھے اور یہ اپنے یار کے ساتھ موبائل پر گپ شپ لگاتی اور ہماری عزت خاک میں ملاتی ھے.
اس لڑکی کی بھائی نے بھی زمانہ جاہلیت کو مات دی اور اپنے بہن کو بالوں سے پکڑ کر خوب زدو کوب کیا۔۔
لڑکی قسمیں کھا کر اپنے صفائی پیش کرتی رہی لیکن جاہل اور شیطان ساس اور شوہر کے آگے بے بس رہی۔۔
لڑکی کی ماں نے اپنی بیٹی سے کہا کہ نہا دو کر قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر اپنی صفائی پیش کرو لڑکی نے نہا دھو کر قران پاک پر بھی سب کے سامنے ہاتھ رکھ لیا لیکن شیطان ساس نے اس کو بھی ٹھکرا دیا اور کہا کہ جو لڑکی اپنے شوہر سے غداری کر سکتی ھے تو اس کے لئے قرآن پاک پر ہاتھ رکھنا بھی کوئی مشکل کام نہی ھے.
اور اس کے ساتھ لڑکی کے جاہل شوہر نے وہ سارے میسجز لڑکی کے بھائی کو دکھا دئیے جو لڑکے نے لڑکی کو ایمپریس کرنے کے لئے کئیے تھے۔۔
لڑکی کی ساس نے جلتی پر تیل چھڑکا کر کہا کہ تمہاری بہن چالاک اور مکار ھے.
جس پر لڑکی کے بھائی کو غیرت آئ اور اس نے طیش میں آکر اپنی بہن کی ایک بھی نہ سنی اور پستول نکال کر اپنے بہن کے سر میں چار گولیاں پیوست کر دیں.
اور یوں ایک رانگ نمبر کی وجہ سے ایک خاندان اجڑ گیا 6 بچے یتیم ہو گئے۔۔
جب لڑکی کے دوسرے بھائی کو خبر ہوئی تو اس نے اپنے بھائی اور بھابی اور بہن کی شوہر اور ساس پر اور نامعلوم نمبر پر ایف آئ آر کٹوا دی.
جب پولیس نے اس موبائل کے ڈیٹا کو چیک کیا- تو معلوم ہوا کہ لڑکی نے صرف ایک دفعہ رانگ نمبر کو رسیو کیا تھا۔۔ اور پھر وہ رانگ نمبر مسلسل میسجز اور کالز کے ذریعئے سے اس لڑکی کو پھنسانے کے چکر میں لگا رہا۔۔
موبائل فون کی ڈیٹا رپورٹ منظر عام پر آنے سے لڑکی کے جس بھائی نے بہن کو گولی ماری تھی اس نے اسی وقت جیل میں خودکشی کی اور رانگ نمبر ملانے والے لڑکے کو پولیس نے گرفتار کرکے جیل میں ڈالا۔۔
یوں ایک رانگ نمبر نے 3 دنوں کے اندر ایک پاک دامن عورت کو اس کے 6 بچوں سے پوری زندگی کے لئے جدا کردیا.
اور 10 دنوں کے بعد لڑکی کے بھائی نے خودکشی کر کے ایک اور عورت کو بیوہ اور اس کے 4 بچوں کو یتیم کردیا۔۔
یوں 13 دنوں کے اندر 10 بچے یتیم اور 2 خاندان تباہ و برباد ہو گئے.
ذرا سوچیئے اور بتائیں قصوروار کون۔۔؟
1: بےغیرت رانگ کال والا
2: مکار ساس
3: شکی و جاھل خاوند
4: نام نہاد غیرت مند بھائ
-----یا-----
ہمارا معاشرہ ؟؟.

Wednesday, 7 June 2017

مجھے ایسے لگا، جیسے بابا جی نے میری توہین کی ہے،

www.swatsmn.com
بابا جی! کل میرے گھر میں افطاری ہے، قریباً سو احباب ہونگے، مجھے سموسے اور پکوڑے چاہئیں، کتنے پیسے دے جاوں؟ میں نے پوچھا،
بابا جی نے میری طرف دیکھا اور سوالیہ نظروں سے مسکرائے ۔
 "کتنے پیسے دے سکتے ہو"
مجھے ایسے لگا، جیسے بابا جی نے میری توہین کی ہے،
 مجھے ایک عرصے سے جانتے ہوئے بھی یہ سوال بے محل اور تضحیک تھی،
میں نے اصل قیمت سے زیادہ پیسے نکالے اور بابا جی کے سامنے رکھ دئیے،
بابا جی نے پیسے اٹھائے اور مجھے دیتے ہوئے بولے،
وہ سامنے سڑک کے اس پار اس بوڑھی عورت کو دے دو، کل آ کر اپنے سموسے پکوڑے لے جانا،
میری پریشانی تم نے حل کر دی، افطاری کا وقت قریب تھا اور میرے پاس اتنے پیسے جمع نہیں ہو رہے تھے، اب بیچاری چند دن سحری اور افطاری کی فکر سے آزاد ہو جائے گی۔
میرے جسم میں ٹھنڈی سی لہر دوڑ گئی۔
وہ کون ہے آپکی ؟؟
میرے منہ سے بے اختیار سوال نکلا ۔ بابا جی تپ گئے،
 وہ میری ماں ہے ، بیٹی ہے اور بہن ہے ۔ تم پیسے والے کیا جانو، رشتے کیا ہوتے ہیں، جنہیں انسانیت کی پہچان نہیں رہی انہیں رشتوں کا بھرم کیسے ہو گا، پچھلے تین گھنٹے سے کھڑی ہے، نہ مانگ رہی ہے اور نہ کوئی دے رہا ہے۔
تم لوگ بھوکا رہنے کو روزہ سمجھتے ہو اور پیٹ بھرے رشتوں کو افطار کرا کے سمجھتے ہو ثواب کما لیا۔
"اگر روزہ رکھ کے بھی احساس نہیں جاگا تو یہ روزہ نہیں، صرف بھوک ہے بھوک"
میں بوجھل قدموں سے اس بڑھیا کی طرف جا رہا تھا اور سوچ رہا تھا، اپنے ایمان کا وزن کر رہا تھا، یہ میرے ہاتھ میں پیسے میرے نہیں تھے بابا جی کے تھے، میرے پیسے تو رشتوں کو استوار کر رہے تھے۔
بابا جی کے پیسے اللہ کی رضا کو حاصل کرنے جا رہے تھے۔
میں سوچ رہا تھا کہ اس بڑھیا میں ماں، بہن اور بیٹی مجھے کیوں دکھائی نہیں دی؟
اے کاش میں بھی بابا جی کی آنکھ سے دیکھتا، اے کاش تمام صاحبان حیثیت بھی اسی آنکھ کے مالک ہوتے،
 اے کاش، کے ساتھ بیشمار تمنائیں میرا پیچھا کر رہی تھیں۔
تحریر :: #عوام_کی_آواز

Thursday, 25 May 2017

"فاطمہ! میرے اہلِ خانہ میں سب سے پہلے تم مجھ سے آ ملو گی۔۔۔"

www.swatsmn.com
وفات سے 33 روز قبل جبکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے گھر تشریف فرما تھے، ارشاد فرمایا کہ
"میری بیویوں کو جمع کرو۔"
تمام ازواج مطہرات جمع ہو گئیں۔
تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا:
"کیا تم سب مجھے اجازت دیتی ہو کہ بیماری کے دن میں عائشہ (رضی اللہ عنہا) کے ہاں گزار لوں؟"
سب نے کہا اے اللہ کے رسول آپ کو اجازت ہے۔
 پھر اٹھنا چاہا لیکن اٹھہ نہ پائے تو حضرت علی ابن ابی طالب اور حضرت فضل بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما آگے بڑھے اور نبی علیہ الصلوة والسلام کو سہارے سے اٹھا کر سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے حجرے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے حجرے کی طرف لے جانے لگے۔
 اس وقت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس (بیماری اور کمزوری کے) حال میں پہلی بار دیکھا تو گھبرا کر ایک دوسرے سے پوچھنے لگے
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو کیا ہوا؟
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو کیا ہوا؟
چنانچہ صحابہ مسجد میں جمع ہونا شروع ہو گئے اور مسجد شریف میں ایک رش لگ ہوگیا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا پسینہ شدت سے بہہ رہا تھا۔
 حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اپنی زندگی میں کسی کا اتنا پسینہ بہتے نہیں دیکھا۔
اور فرماتی ہیں:
 "میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے دست مبارک کو پکڑتی اور اسی کو چہرہ اقدس پر پھیرتی کیونکہ نبی علیہ الصلوة والسلام کا ہاتھ میرے ہاتھ سے کہیں زیادہ محترم اور پاکیزہ تھا۔"
مزید فرماتی ہیں کہ حبیب خدا علیہ الصلوات والتسلیم
سے بس یہی ورد سنائی دے رہا تھا کہ
"لا إله إلا الله، بیشک موت کی بھی اپنی سختیاں ہیں۔"
 اسی اثناء میں مسجد کے اندر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں خوف کی وجہ سے لوگوں کا شور بڑھنے لگا۔
نبی علیہ السلام نے دریافت فرمایا:
"یہ کیسی آوازیں ہیں؟
عرض کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول! یہ لوگ آپ کی حالت سے خوف زدہ ہیں۔
ارشاد فرمایا کہ مجھے ان پاس لے چلو۔
پھر اٹھنے کا ارادہ فرمایا لیکن اٹھہ نہ سکے تو آپ علیہ الصلوة و السلام پر 77 مشکیزے پانی کے بہائے گئے، تب کہیں جا کر کچھ افاقہ ہوا تو سہارے سے اٹھا کر ممبر پر لایا گیا۔
یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا آخری خطبہ تھا اور آپ علیہ السلام کے آخری کلمات تھے۔
فرمایا:
" اے لوگو۔۔۔! شاید تمہیں میری موت کا خوف ہے؟"
سب نے کہا:
"جی ہاں اے اللہ کے رسول"
ارشاد فرمایا:
"اے لوگو۔۔!
 تم سے میری ملاقات کی جگہ دنیا نہیں، تم سے میری ملاقات کی جگہ حوض (کوثر) ہے، خدا کی قسم گویا کہ میں یہیں سے اسے (حوض کوثر کو) دیکھ رہا ہوں،
اے لوگو۔۔۔!
 مجھے تم پر تنگدستی کا خوف نہیں بلکہ مجھے تم پر دنیا (کی فراوانی) کا خوف ہے، کہ تم اس (کے معاملے) میں ایک دوسرے سے مقابلے میں لگ جاؤ جیسا کہ تم سے پہلے (پچھلی امتوں) والے لگ گئے، اور یہ (دنیا) تمہیں بھی ہلاک کر دے جیسا کہ انہیں ہلاک کر دیا۔"
پھر مزید ارشاد فرمایا:
 "اے لوگو۔۔! نماز کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، اللہ سےڈرو۔ نماز کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو۔"
(یعنی عہد کرو کہ نماز کی پابندی کرو گے، اور یہی بات بار بار دہراتے رہے۔)
پھر فرمایا:
 "اے لوگو۔۔۔! عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، میں تمہیں عورتوں سے نیک سلوک کی وصیت کرتا ہوں۔"
مزید فرمایا:
 "اے لوگو۔۔۔! ایک بندے کو اللہ نے اختیار دیا کہ دنیا کو چن لے یا اسے چن لے جو اللہ کے پاس ہے، تو اس نے اسے پسند کیا جو اللہ کے پاس ہے"
اس جملے سے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا مقصد کوئی نہ سمجھا حالانکہ انکی اپنی ذات مراد تھی۔
 جبکہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ وہ تنہا شخص تھے جو اس جملے کو سمجھے اور زارو قطار رونے لگے اور بلند آواز سے گریہ کرتے ہوئے اٹھہ کھڑے ہوئے اور نبی علیہ السلام کی بات قطع کر کے پکارنے لگے۔۔۔۔
 "ہمارے باپ دادا آپ پر قربان، ہماری مائیں آپ پر قربان، ہمارے بچے آپ پر قربان، ہمارے مال و دولت آپ پر قربان....."
روتے جاتے ہیں اور یہی الفاظ کہتے جاتے ہیں۔
 صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم (ناگواری سے) حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھنے لگے کہ انہوں نے نبی علیہ السلام کی بات کیسے قطع کردی؟ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا دفاع ان الفاظ میں فرمایا:
 "اے لوگو۔۔۔! ابوبکر کو چھوڑ دو کہ تم میں سے ایسا کوئی نہیں کہ جس نے ہمارے ساتھ کوئی بھلائی کی ہو اور ہم نے اس کا بدلہ نہ دے دیا ہو، سوائے ابوبکر کے کہ اس کا بدلہ میں نہیں دے سکا۔ اس کا بدلہ میں نے اللہ جل شانہ پر چھوڑ دیا۔ مسجد (نبوی) میں کھلنے والے تمام دروازے بند کر دیے جائیں، سوائے ابوبکر کے دروازے کے کہ جو کبھی بند نہ ہوگا۔"
آخر میں اپنی وفات سے قبل مسلمانوں کے لیے آخری دعا کے طور پر ارشاد فرمایا:
"اللہ تمہیں ٹھکانہ دے، تمہاری حفاظت کرے، تمہاری مدد کرے، تمہاری تائید کرے۔
اور آخری بات جو ممبر سے اترنے سے پہلے امت کو مخاطب کر کے ارشاد فرمائی وہ یہ کہ:
"اے لوگو۔۔۔! قیامت تک آنے والے میرے ہر ایک امتی کو میرا سلام پہنچا دینا۔"
پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دوبارہ سہارے سے اٹھا کر گھر لے جایا گیا۔
 اسی اثناء میں حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور ان کے ہاتھ میں مسواک تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کو دیکھنے لگے لیکن شدت مرض کی وجہ سے طلب نہ کر پائے۔ چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیکھنے سے سمجھ گئیں اور انہوں نے حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے مسواک لے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے دہن مبارک میں رکھ دی، لیکن حضور صلی اللہ علیہ و سلم اسے استعمال نہ کر پائے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسواک لے کر اپنے منہ سے نرم کی اور پھر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو لوٹا دی تاکہ دہن مبارک اس سے تر رہے۔
فرماتی ہیں:
 " آخری چیز جو نبی کریم علیہ الصلوة والسلام کے پیٹ میں گئی وہ میرا لعاب تھا، اور یہ اللہ تبارک و تعالٰی کا مجھ پر فضل ہی تھا کہ اس نے وصال سے قبل میرا اور نبی کریم علیہ السلام کا لعاب دہن یکجا کر دیا۔"
أم المؤمنين حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا مزید ارشاد فرماتی ہیں:
 "پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی بیٹی فاطمہ تشریف لائیں اور آتے ہی رو پڑیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھہ نہ سکے، کیونکہ نبی کریم علیہ السلام کا معمول تھا کہ جب بھی فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا تشریف لاتیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم انکے ماتھے پر بوسہ دیتےتھے۔
حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اے فاطمہ! "قریب آجاؤ۔۔۔"
 پھر حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے کان میں کوئی بات کہی تو حضرت فاطمہ اور زیادہ رونے لگیں، انہیں اس طرح روتا دیکھ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا اے فاطمہ! "قریب آؤ۔۔۔"
دوبارہ انکے کان میں کوئی بات ارشاد فرمائی تو وہ خوش ہونے لگیں۔
 حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد میں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا سے پوچھا تھا کہ وہ کیا بات تھی جس پر روئیں اور پھر خوشی اظہار کیا تھا؟
سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا کہنے لگیں کہ
پہلی بار (جب میں قریب ہوئی) تو فرمایا:
"فاطمہ! میں آج رات (اس دنیاسے) کوچ کرنے والا ہوں۔
جس پر میں رو دی۔۔۔۔"
جب انہوں نے مجھے بےتحاشا روتے دیکھا تو فرمانے لگے:
"فاطمہ! میرے اہلِ خانہ میں سب سے پہلے تم مجھ سے آ ملو گی۔۔۔"
جس پر میں خوش ہوگئی۔۔۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا فرماتی ہیں:
پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کو گھر سے باھر جانے کا حکم دیکر مجھے فرمایا:
"عائشہ! میرے قریب آجاؤ۔۔۔"
 آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زوجۂ مطہرہ کے سینے پر ٹیک لگائی اور ہاتھ آسمان کی طرف بلند کر کے فرمانے لگے:
 مجھے وہ اعلیٰ و عمدہ رفاقت پسند ہے۔ (میں الله کی، انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کی رفاقت کو اختیار کرتا ہوں۔)
صدیقہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں:
"میں سمجھ گئی کہ انہوں نے آخرت کو چن لیا ہے۔"
جبرئیل علیہ السلام خدمت اقدس میں حاضر ہو کر گویا ہوئے:
 "یارسول الله! ملَکُ الموت دروازے پر کھڑے شرف باریابی چاہتے ہیں۔ آپ سے پہلے انہوں نے کسی سے اجازت نہیں مانگی۔"
آپ علیہ الصلوة والسلام نے فرمایا:
"جبریل! اسے آنے دو۔۔۔"
ملَکُ الموت نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے گھر میں داخل ہوئے، اور کہا:
 "السلام علیک یارسول الله! مجھے اللہ نے آپ کی چاہت جاننے کیلئےبھیجا ہے کہ آپ دنیا میں ہی رہنا چاہتے ہیں یا الله سبحانہ وتعالی کے پاس جانا پسند کرتے ہیں؟"
فرمایا:
"مجھے اعلی و عمدہ رفاقت پسند ہے، مجھے اعلی و عمدہ رفاقت پسند ہے۔"
ملَکُ الموت آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کے سرہانے کھڑے ہوئے اور کہنے لگے:
"اے پاکیزہ روح۔۔۔!
اے محمد بن عبدالله کی روح۔۔۔!
الله کی رضا و خوشنودی کی طرف روانہ ہو۔۔۔!
راضی ہوجانے والے پروردگار کی طرف جو غضبناک نہیں۔۔۔!"
سیدہ عائشہ رضی الله تعالی عنہا فرماتی ہیں:
 پھر نبی کریم صلی الله علیہ وسلم ہاتھ نیچے آن رہا، اور سر مبارک میرے سینے پر بھاری ہونے لگا، میں سمجھ گئی کہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کا وصال ہو گیا۔۔۔ مجھے اور تو کچھ سمجھ نہیں آیا سو میں اپنے حجرے سے نکلی اور مسجد کی طرف کا دروازہ کھول کر کہا۔۔
"رسول الله کا وصال ہوگیا۔۔۔! رسول الله کا وصال ہوگیا۔۔۔!"
مسجد آہوں اور نالوں سے گونجنے لگی۔
ادھر علی کرم الله وجہہ جہاں کھڑے تھے وہیں بیٹھ گئے پھر ہلنے کی طاقت تک نہ رہی۔
ادھر عثمان بن عفان رضی الله تعالی عنہ معصوم بچوں کی طرح ہاتھ ملنے لگے۔
اور سیدنا عمر رضی الله تعالی عنہ تلوار بلند کرکے کہنے لگے:
 "خبردار! جو کسی نے کہا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے ہیں، میں ایسے شخص کی گردن اڑا دوں گا۔۔۔! میرے آقا تو الله تعالی سے ملاقات کرنے گئے ہیں جیسے موسی علیہ السلام اپنے رب سے ملاقات کوگئے تھے، وہ لوٹ آئیں گے، بہت جلد لوٹ آئیں گے۔۔۔۔! اب جو وفات کی خبر اڑائے گا، میں اسے قتل کرڈالوں گا۔۔۔"
 اس موقع پر سب زیادہ ضبط، برداشت اور صبر کرنے والی شخصیت سیدنا ابوبکر صدیق رضی الله تعالی عنہ کی تھی۔۔۔ آپ حجرۂ نبوی میں داخل ہوئے، رحمت دوعالَم صلی الله علیہ وسلم کے سینۂ مبارک پر سر رکھہ کر رو دیئے۔۔۔
کہہ رہے تھے:
وآآآ خليلاه، وآآآ صفياه، وآآآ حبيباه، وآآآ نبياه
(ہائے میرا پیارا دوست۔۔۔! ہائے میرا مخلص ساتھی۔۔۔!ہائے میرا محبوب۔۔۔! ہائے میرا نبی۔۔۔!)
پھر آنحضرت صلی علیہ وسلم کے ماتھے پر بوسہ دیا اور کہا:
"یا رسول الله! آپ پاکیزہ جئے اور پاکیزہ ہی دنیا سے رخصت ہوگئے۔"
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ باہر آئے اور خطبہ دیا:
 "جو شخص محمد صلی الله علیہ وسلم کی عبادت کرتا ہے سن رکھے آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کا وصال ہو گیا اور جو الله کی عبادت کرتا ہے وہ جان لے کہ الله تعالی شانہ کی ذات ھمیشہ زندگی والی ہے جسے موت نہیں۔"
سیدنا عمر رضی الله تعالی عنہ کے ہاتھ سے تلوار گر گئی۔۔۔
عمر رضی الله تعالی عنہ فرماتے ہیں:
پھر میں کوئی تنہائی کی جگہ تلاش کرنے لگا جہاں اکیلا بیٹھ کر روؤں۔۔۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی تدفین کر دی گئی۔۔۔
سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
"تم نے کیسے گوارا کر لیا کہ نبی علیہ السلام کے چہرہ انور پر مٹی ڈالو۔۔۔؟"
پھر کہنے لگیں:
"يا أبتاه، أجاب ربا دعاه، يا أبتاه، جنة الفردوس مأواه، يا أبتاه، الى جبريل ننعاه."
 (ہائے میرے پیارے بابا جان، کہ اپنے رب کے بلاوے پر چل دیے، ہائے میرے پیارے بابا جان، کہ جنت الفردوس میں اپنے ٹھکانے کو پہنچ گئے، ہائے میرے پیارے بابا جان، کہ ہم جبریل کو ان کے آنے کی خبر دیتے ہیں۔)
 اللھم صل علی محمد کما تحب وترضی
Junaid Jafri
www.swatsmn.com
اردو کے ستارے اس وقت سے گردش میں آنے شروع ہؤے جب ۱۹ ویں صدی میں بر صغیر میں ایک طرف برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے انگریزی رأیج کرنے کے جتن شروع ؤے اور دوسری طرف اردو ’فرقہ وارانہ معرکہ آرأی کی لپیٹ میں ئی اور اسی کے ساتھ سیاسی اشرافیہ نے اپنے مقاصد کے أے زبان کو آلہ کار بنانا شروع کیا۔ 

ایسٹ انڈیا کمپنی نے بر صغیر میں انگریزی کے تسلط کی راہ ہموار کرنے کے أے بے حد چال باز راہ اپنأی تھی۔ سب سے پہلے تو سرکاری زبان کی حیثیت سے فارسی کو ختم کرنے کا اقدام کیا ’ کیونکہ ایسٹ انڈیا کمپنی کو خطرہ تھا کہ اگر فارسی کی جگہ فی الفور انگریزی تھوپی ئی ’ تو عوام کی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا دوسرے یہ کہ اس زمانہ میں انگریزی کی تعلیم اتنی عام نہیں تھی کہ اسے سرکاری محکموں اور عدالت میں رأیج کیا جا سکے۔ چنانچہ ان ہی دشواریوں کے پیش نظر مصلحت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہؤے 1۸۳۷ میں سب سے پہلے فارسی کی جگہ اردو کو سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا۔ اس زمانہ میں’ اردو پورے ملک میں عوام کے رابط کی زبان تھی اور دوسرے فارسی رسم الخط کی وجہ سے اسے باسانی سرکار ی زبان کی حیثیت سے رأیج کیا جا سکا اور اردو سے اپنایت کے احساس کی بدولت عوام کی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ یوں سانپ بھی مر گیا اور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹی۔

اردو کی آڑ میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے بر صغیر کے تعلیمی نظام میں انگریزی رأیج کرنے کی کوشش کی اور انگریزی کو اسکولوں اور کالجوں کے درسی نصاب میں شامل کر کے انگریزی کو ذریعہ تعلیم بنایا۔ ۱۸۵۷ تک کلکتہ بمۂی اور مدراس کی یونی ورسٹیاں انگریزی تعلیم کے فروغ کی ستون بن چکی تھیں۔

بابو شیوا پرشاد نے ہندی کے مطالبہ کے ۂے جو یاد داشت انگریزی حکومت کو پیش کی تھی اس میں یہ شکایت کی ئی تھی کہ ہندووں کو نیم مسلمان بنانے اور ہندو قومیت کو نیست و نابود کرنے کےؤے اردو مسلط کی جارہی ہے ان کا کہنا تھا کہ ’’ نو وارد مسلم حکمرانوں نے اس بات کی قطعی زحمت گورارا نہ کی کہ وہ ہندوستانی زبانیں سیکھتے بلکہ انہوں نے ہندووں کو فارسی سیکھنے پر مجبور کیا نیز ہندی کہی جانے والی بولیوں میں فارسی کے الفاظ داخل کرکے زبانوں کی ایک ئی مخلوط شکل قایم کی جو اردو یا نیم فارسی کہلأی۔

پنڈت مدن موہن مالویہ ہندووں کی انتہا پسند تنظیم ہندو سماج کے بانی تھے بعد میں وہ کانگریس کے ممتاز رہنما بن أے ۔ اسی دوران انہوں نے ناگری پرچارنی سبھا کے جھنڈے تلے اردو کی جگہ ہندی اور ناگری رسم الخط کے حق میں زبردست مہم چلأی جس کے دوران یہ نعرہ لگا ’’ ہندی ہندو ہندستان،،۔
ہندو انتہا پسندوں کا یہ مطالبہ خالصتا فرقہ وارانہ جذبات پر مبنی تھا اور اس حقیقت کو ٹھکرانے کے مترادف تھا کہ اردو زبان اور اردو ادب کے فروغ میں بڑی تعداد میں خود ہندو ادیب پیش پیش رہے ہیں جن میں فسانہ آزاد’ سیر کہسار اور جام سرشار کے مصنف پنڈت رتن ناتھ سر شا ر جو اردو کے قدیم ترین اردو اخبار اودھ اخبار کے ایڈیٹر تھے ’ منشی جوالاپرشاد برق جنہوں نے بنگالی اور انگریزی ناولوں کے تراجم معشوق فرنگ اور مار آستین کے نام سے شایع ئے ’ ممتاز افسانہ نگار پریم چند’ اودھ پنچ کے پنڈت تربھون ناتھ عاجز ’ منشی نوبت رأے نذر اور منشی دیا نارأین نگم نمایاں ہیں۔ ۱۸۸۷ میں منشی دیبی پرشاد بشاش نے سات سو ہندو شاعروں کے اردو کلام کا مجموعہ شایع کیا تھا جس کاعنوان تھا۔ آثار شاعر ہندو۔

اردو کی جگہ دیو ناگری رسم الخط میں ہندی کو عدالتوں اور سرکاری دفاتر میں رأیج کرنے کے ئے ایجی ٹیشن کا تمام تر زور بہار میں تھا ۔ اس سلسلہ میں پٹنہ کے شہریوں نے جو درخواست پیش کی تھی اسے حکومت ہندوستان نے یہ کہ کر مسترد کردیا کہ ہندی اور اردو کو دو مختلف زبانیں قرار نہیں دیا جاسکتا۔ حکومت کی رأے تھی کہ سنسکرت کا ملمع چڑھی ہؤی ایک مصنوعی زبان کو ہندی کے نام پر پروان نہیں چڑھایا جا سکتا۔ اودھ میں ہندی کو عدالتوں اور سرکاری دفاتر میں رایج کرنے کے مطالبہ پر جب اودھ کے چیف کمشنر کی رأے طلب کی ئی تو چیف کمشنر نے یہ معاملہ ماہرین کو سونپ دیا ۔ ان ماہرین نے اس معاملہ پر پوری طرح سے غور کرنے کے بعد رأے دی کہ اردو اور ہندی میں سوأے رسم الخط کے کؤی فرق نہیں۔ ان ماہرین کا کہنا تھا کہ ہندی اور اردو کو دو زبانیں قرار دینا ایک فاسق غلطی کو دوام بخشنا ہے۔ یہ دونوں دراصل ایک ہی زبان کی شہری اورزنگ آلود ۂیت ہیں ۔ ماہرین کی یہ بھی رأے تھی کہ اردو کے مقابلہ میں ہندی کی حمایت کرنا حکومت کے ؤے نہایت خطرناک بات ہو گی کیونکہ اس کے ۔۔۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ ہندووں میں خاص طور پر کایستھ جنہیں عدالتی زبان پر اجارہ داری حاصل ہے اردو کی جگہ ہندی کو اختیار کرنے کے سخت مخالف ہیں۔ 

بہار اور اودھ میں اردو کی جگہ ہندی کو سرکاری زبان کا درجہ دینے کا مطالبہ مذہب کے ساتھ سیاست سے بھی وابستہ ہوگیا۔انتہا پسند ہندوں نے اردو کو مسلمانوں کی زبان اور اس کے فارسی اور عربی رسم الخط کی بنیاد پر اسے غیر ملکی زبان قرار دینا شروع کردیا۔ اس پر مسلمانوں نے شدید ردعمل ظاہر کیا اور اسے مشترکہ ثقافت سے ہندوں کی بغاوت سے تعبیر کیا ۔ اس کے نتیجہ میں زبان کا مسلہ مذہب کے ساتھ ساتھ سیاسی مسلہ بھی بن گیا۔بہت سے لوگ اس کا ایک حد تک ذمہ وار سر سید احمد خان کو گردانتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے برطانوی راج کی طرف سے مقرر کردہ ایجوکیشن کمیشن میں اردو کے حق میں کہا کہ اردومہذب اشرافیہ کی زبان ہے اور اس کے مقابلہ میں ہندی گنواری زبان ہے تو ہندی کے حامیوں میں آگ بھڑک اٹھی ۔ ہندی کے حامیوں کے سربراہ بابو ہریش چندر نے جواب میں کہا کہ اردو رقاصاوں اور طوایفوں کی زبان ہے ۔ اسی زمانہ میں ہندی ماہنامہ جریدہ سرسوتی میں دو ہندوستانی عورتوں کی تصاویر شایع ہؤیں۔ ایک تصویر ایک مسلم طوایف کی تھی جو گہنوں سے لدی پھندی زرق برق لباس میں ملبوس تھی اور دوسری ایک ہندو عورت کی تھی جو ایک سادا سی ساڑھی پہنے ہؤے تھی۔مسلمان طوایف کی تصویر کے نیچے لکھا تھا کہ یہ اردو ہے اور سادا ہندو عورت کی تصویر کے نیچے تحریر تھا یہ ہندی ہے ۔

اردو ہندی تنازعہ کی وجہ سے ہندوستان میں ہندو مسلم اتحاد اور ہم آہنگی کی وہ فضا مکدر ہو ؤی جو ۱۸۷۵ میں انگریزوں کے خلاف پہلی جنگ آزادی کے دوران پیدا ہؤی تھی۔ہندووں کی کٹر تنظیمیں’ جن میں آریہ سماج’ پنجاب برہما سماج اور ست سبھا پیش پیش تھیں ہندی کی حمایت اور اردو کی مخالفت کے میدان میں کود پڑیں۔اس صورت حال کے پیش نظر برطانوی راج نے مسلمانوں کے احتجاج کے باوجود ۱۸۸۰ میں بہار میں دیو ناگری رسم الخط میں ہند ی رایج کرنے کا اعلان کردیا اور اپریل ۱۹۰۰ میں اودھ کے چیف کمشنر میک ڈونل نے اودھ میں بھی عدالتوں سے فارسی رسم الخط ختم کر کے دیو ناگری رسم الخط رایج کرنے کا حکم دیا۔ علی گڑھ تحریک کے رہنما محسن الملک کی قیادت میں مسلمانوں نے اس فیصلہ کے خلاف تحریک چلانے کے أے اردو ڈیفنس ایسوسی ایشن قایم کی ۔ دیو بند تحریک نے بھی جو علی گڑھ تحریک کی سخت مخالف تھی اردو کے تحفظ کے ؤے تحریک میں شمولیت اختیار کی اور یہ نعرہ لگایا کہ اردو کو خطرہ دراصل اسلام کو لاحق خطرہ ہے۔ اسی دوران ۱۹۰۳ میں مولوی عبدالحق نے اردو کے تحفظ اور ترقی کے ئے انجمن ترأی اردو کی داغ بیل ڈالی۔ 

10th National Desert Hike 2025 (Rambler Badge Hike for Rover Scouts)

10th National Desert Hike 2025  (Rambler Badge Hike for Rover Scouts) Chulistan ,روحی   نیشنل ڈزرٹ ہائیک 2025 تاریخِ عالم اس امر کی شاہد ہے ...