Thursday, 25 May 2017

www.swatsmn.com
اردو کے ستارے اس وقت سے گردش میں آنے شروع ہؤے جب ۱۹ ویں صدی میں بر صغیر میں ایک طرف برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے انگریزی رأیج کرنے کے جتن شروع ؤے اور دوسری طرف اردو ’فرقہ وارانہ معرکہ آرأی کی لپیٹ میں ئی اور اسی کے ساتھ سیاسی اشرافیہ نے اپنے مقاصد کے أے زبان کو آلہ کار بنانا شروع کیا۔ 

ایسٹ انڈیا کمپنی نے بر صغیر میں انگریزی کے تسلط کی راہ ہموار کرنے کے أے بے حد چال باز راہ اپنأی تھی۔ سب سے پہلے تو سرکاری زبان کی حیثیت سے فارسی کو ختم کرنے کا اقدام کیا ’ کیونکہ ایسٹ انڈیا کمپنی کو خطرہ تھا کہ اگر فارسی کی جگہ فی الفور انگریزی تھوپی ئی ’ تو عوام کی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا دوسرے یہ کہ اس زمانہ میں انگریزی کی تعلیم اتنی عام نہیں تھی کہ اسے سرکاری محکموں اور عدالت میں رأیج کیا جا سکے۔ چنانچہ ان ہی دشواریوں کے پیش نظر مصلحت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہؤے 1۸۳۷ میں سب سے پہلے فارسی کی جگہ اردو کو سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا۔ اس زمانہ میں’ اردو پورے ملک میں عوام کے رابط کی زبان تھی اور دوسرے فارسی رسم الخط کی وجہ سے اسے باسانی سرکار ی زبان کی حیثیت سے رأیج کیا جا سکا اور اردو سے اپنایت کے احساس کی بدولت عوام کی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ یوں سانپ بھی مر گیا اور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹی۔

اردو کی آڑ میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے بر صغیر کے تعلیمی نظام میں انگریزی رأیج کرنے کی کوشش کی اور انگریزی کو اسکولوں اور کالجوں کے درسی نصاب میں شامل کر کے انگریزی کو ذریعہ تعلیم بنایا۔ ۱۸۵۷ تک کلکتہ بمۂی اور مدراس کی یونی ورسٹیاں انگریزی تعلیم کے فروغ کی ستون بن چکی تھیں۔

بابو شیوا پرشاد نے ہندی کے مطالبہ کے ۂے جو یاد داشت انگریزی حکومت کو پیش کی تھی اس میں یہ شکایت کی ئی تھی کہ ہندووں کو نیم مسلمان بنانے اور ہندو قومیت کو نیست و نابود کرنے کےؤے اردو مسلط کی جارہی ہے ان کا کہنا تھا کہ ’’ نو وارد مسلم حکمرانوں نے اس بات کی قطعی زحمت گورارا نہ کی کہ وہ ہندوستانی زبانیں سیکھتے بلکہ انہوں نے ہندووں کو فارسی سیکھنے پر مجبور کیا نیز ہندی کہی جانے والی بولیوں میں فارسی کے الفاظ داخل کرکے زبانوں کی ایک ئی مخلوط شکل قایم کی جو اردو یا نیم فارسی کہلأی۔

پنڈت مدن موہن مالویہ ہندووں کی انتہا پسند تنظیم ہندو سماج کے بانی تھے بعد میں وہ کانگریس کے ممتاز رہنما بن أے ۔ اسی دوران انہوں نے ناگری پرچارنی سبھا کے جھنڈے تلے اردو کی جگہ ہندی اور ناگری رسم الخط کے حق میں زبردست مہم چلأی جس کے دوران یہ نعرہ لگا ’’ ہندی ہندو ہندستان،،۔
ہندو انتہا پسندوں کا یہ مطالبہ خالصتا فرقہ وارانہ جذبات پر مبنی تھا اور اس حقیقت کو ٹھکرانے کے مترادف تھا کہ اردو زبان اور اردو ادب کے فروغ میں بڑی تعداد میں خود ہندو ادیب پیش پیش رہے ہیں جن میں فسانہ آزاد’ سیر کہسار اور جام سرشار کے مصنف پنڈت رتن ناتھ سر شا ر جو اردو کے قدیم ترین اردو اخبار اودھ اخبار کے ایڈیٹر تھے ’ منشی جوالاپرشاد برق جنہوں نے بنگالی اور انگریزی ناولوں کے تراجم معشوق فرنگ اور مار آستین کے نام سے شایع ئے ’ ممتاز افسانہ نگار پریم چند’ اودھ پنچ کے پنڈت تربھون ناتھ عاجز ’ منشی نوبت رأے نذر اور منشی دیا نارأین نگم نمایاں ہیں۔ ۱۸۸۷ میں منشی دیبی پرشاد بشاش نے سات سو ہندو شاعروں کے اردو کلام کا مجموعہ شایع کیا تھا جس کاعنوان تھا۔ آثار شاعر ہندو۔

اردو کی جگہ دیو ناگری رسم الخط میں ہندی کو عدالتوں اور سرکاری دفاتر میں رأیج کرنے کے ئے ایجی ٹیشن کا تمام تر زور بہار میں تھا ۔ اس سلسلہ میں پٹنہ کے شہریوں نے جو درخواست پیش کی تھی اسے حکومت ہندوستان نے یہ کہ کر مسترد کردیا کہ ہندی اور اردو کو دو مختلف زبانیں قرار نہیں دیا جاسکتا۔ حکومت کی رأے تھی کہ سنسکرت کا ملمع چڑھی ہؤی ایک مصنوعی زبان کو ہندی کے نام پر پروان نہیں چڑھایا جا سکتا۔ اودھ میں ہندی کو عدالتوں اور سرکاری دفاتر میں رایج کرنے کے مطالبہ پر جب اودھ کے چیف کمشنر کی رأے طلب کی ئی تو چیف کمشنر نے یہ معاملہ ماہرین کو سونپ دیا ۔ ان ماہرین نے اس معاملہ پر پوری طرح سے غور کرنے کے بعد رأے دی کہ اردو اور ہندی میں سوأے رسم الخط کے کؤی فرق نہیں۔ ان ماہرین کا کہنا تھا کہ ہندی اور اردو کو دو زبانیں قرار دینا ایک فاسق غلطی کو دوام بخشنا ہے۔ یہ دونوں دراصل ایک ہی زبان کی شہری اورزنگ آلود ۂیت ہیں ۔ ماہرین کی یہ بھی رأے تھی کہ اردو کے مقابلہ میں ہندی کی حمایت کرنا حکومت کے ؤے نہایت خطرناک بات ہو گی کیونکہ اس کے ۔۔۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ ہندووں میں خاص طور پر کایستھ جنہیں عدالتی زبان پر اجارہ داری حاصل ہے اردو کی جگہ ہندی کو اختیار کرنے کے سخت مخالف ہیں۔ 

بہار اور اودھ میں اردو کی جگہ ہندی کو سرکاری زبان کا درجہ دینے کا مطالبہ مذہب کے ساتھ سیاست سے بھی وابستہ ہوگیا۔انتہا پسند ہندوں نے اردو کو مسلمانوں کی زبان اور اس کے فارسی اور عربی رسم الخط کی بنیاد پر اسے غیر ملکی زبان قرار دینا شروع کردیا۔ اس پر مسلمانوں نے شدید ردعمل ظاہر کیا اور اسے مشترکہ ثقافت سے ہندوں کی بغاوت سے تعبیر کیا ۔ اس کے نتیجہ میں زبان کا مسلہ مذہب کے ساتھ ساتھ سیاسی مسلہ بھی بن گیا۔بہت سے لوگ اس کا ایک حد تک ذمہ وار سر سید احمد خان کو گردانتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے برطانوی راج کی طرف سے مقرر کردہ ایجوکیشن کمیشن میں اردو کے حق میں کہا کہ اردومہذب اشرافیہ کی زبان ہے اور اس کے مقابلہ میں ہندی گنواری زبان ہے تو ہندی کے حامیوں میں آگ بھڑک اٹھی ۔ ہندی کے حامیوں کے سربراہ بابو ہریش چندر نے جواب میں کہا کہ اردو رقاصاوں اور طوایفوں کی زبان ہے ۔ اسی زمانہ میں ہندی ماہنامہ جریدہ سرسوتی میں دو ہندوستانی عورتوں کی تصاویر شایع ہؤیں۔ ایک تصویر ایک مسلم طوایف کی تھی جو گہنوں سے لدی پھندی زرق برق لباس میں ملبوس تھی اور دوسری ایک ہندو عورت کی تھی جو ایک سادا سی ساڑھی پہنے ہؤے تھی۔مسلمان طوایف کی تصویر کے نیچے لکھا تھا کہ یہ اردو ہے اور سادا ہندو عورت کی تصویر کے نیچے تحریر تھا یہ ہندی ہے ۔

اردو ہندی تنازعہ کی وجہ سے ہندوستان میں ہندو مسلم اتحاد اور ہم آہنگی کی وہ فضا مکدر ہو ؤی جو ۱۸۷۵ میں انگریزوں کے خلاف پہلی جنگ آزادی کے دوران پیدا ہؤی تھی۔ہندووں کی کٹر تنظیمیں’ جن میں آریہ سماج’ پنجاب برہما سماج اور ست سبھا پیش پیش تھیں ہندی کی حمایت اور اردو کی مخالفت کے میدان میں کود پڑیں۔اس صورت حال کے پیش نظر برطانوی راج نے مسلمانوں کے احتجاج کے باوجود ۱۸۸۰ میں بہار میں دیو ناگری رسم الخط میں ہند ی رایج کرنے کا اعلان کردیا اور اپریل ۱۹۰۰ میں اودھ کے چیف کمشنر میک ڈونل نے اودھ میں بھی عدالتوں سے فارسی رسم الخط ختم کر کے دیو ناگری رسم الخط رایج کرنے کا حکم دیا۔ علی گڑھ تحریک کے رہنما محسن الملک کی قیادت میں مسلمانوں نے اس فیصلہ کے خلاف تحریک چلانے کے أے اردو ڈیفنس ایسوسی ایشن قایم کی ۔ دیو بند تحریک نے بھی جو علی گڑھ تحریک کی سخت مخالف تھی اردو کے تحفظ کے ؤے تحریک میں شمولیت اختیار کی اور یہ نعرہ لگایا کہ اردو کو خطرہ دراصل اسلام کو لاحق خطرہ ہے۔ اسی دوران ۱۹۰۳ میں مولوی عبدالحق نے اردو کے تحفظ اور ترقی کے ئے انجمن ترأی اردو کی داغ بیل ڈالی۔ 

No comments:

Post a Comment

10th National Desert Hike 2025 (Rambler Badge Hike for Rover Scouts)

10th National Desert Hike 2025  (Rambler Badge Hike for Rover Scouts) Chulistan ,روحی   نیشنل ڈزرٹ ہائیک 2025 تاریخِ عالم اس امر کی شاہد ہے ...