Saturday, 22 June 2019

احساسِ کمتری

www.swatsmn.com

مجھے یہ تو علم نہیں کہ ایرانی فوج کا عالمی رینکنگ میں کیا نمبر ہے لیکن کل ایران نے اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے امریکی ڈرون کو مار گرا کر مجھے شدید ترین احساسِ کمتری میں مبتلا کر دیا ہے۔
تمام اقسام کی عالمی پابندیوں کے باوجود ایران نے اپنے وسائل او
ر مقامی مہارت سے زمین سے فضا میں مار کرنے والا میزائل بنایا۔ اس ایرانی ساختہ میزائل نے RQ-4A Global Hawk نامی امریکہ کا ڈرون طیارہ مار گرایا۔ امریکیوں کا دعویٰ تھا کہ Raytheon کمپنی کے اس جدید ترین ڈرون کو دشمن کا ریڈار نہیں دیکھ سکتا۔ اس کی ٹیکنالوجی اتنی شاندار ہے کہ یہ اپنی طرف آنے والے میزائل یا راکٹ وغیرہ کوغچہ دے کر بچنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ اس طرح کے ایک ڈرون طیارے کی قیمت 22 کروڑ ڈالر سے زیادہ ہے۔ جبکہ اس کی تیاری کے پروگرام پر 10 ارب ڈالر سے زیادہ کا خرچ آ چکا ہے۔
امریکیوں کو اپنے جہاز پر اسقدر اعتماد تھا کہ اس کی تباہی کے ایرانی دعوے کی فوری طور پر تردید جاری کر دی۔ پھر کئی گھنٹے بعد امریکی بحریہ کے ترجمان نے اپنے ڈرون کی تباہی کا اعتراف کیا۔ دوسری جانب امریکیوں کے لیے یہ یقین کرنا بھی بہت مشکل تھا کہ یہ ایران اُن کے ڈرون کو سوچی سمجھی پلانگ کے تحت تباہ کر سکتا ہے۔ اسی لیے اپنے رد عمل میں ان کا کہنا تھا کہ یہ کسی ایرانی جنرل یا مقامی کمانڈر کی پاگل پن و حماقت پر مبنی کاروائی ہے۔
لیکن جب ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ حسین سلامی کا سامنے آیا تو امریکیوں نے بغلیں جھانکنیں لگے۔ حسین سلامی ان کا کہنا تھا، ’’امریکی ڈرون گرا کر انھوں نے ایک واضح پیغام بھیجا ہے۔ ہماری سرحدیں ہمارے لیے سرخ لکیر کی مانند ہیں اور جو بھی دشمن انھیں پار کرنے کی کوشش کرے گا اسے تباہ کر دیا جائے گا۔ ہم اعلانیہ کہتے ہیں کہ ہم کسی ملک کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے لیکن ہم اس کے لیے تیار ہیں۔‘‘
ایران کا واضع موقف سامنے آنے کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے بیان دیا، ’’ایران کی کاروائی کے نتیجے میں اگر کسی امریکی کی جان متاثر ہوئی ہوتی، تو میرا ردعمل بڑا مختلف ہوتا۔‘‘
میرے احساس کمتری کی وجہ یہ ہے کہ میرے ملک پر 2004 سے 2018 کے درمیان امریکیوں نے 4 سو29 ڈروان حملے کئے۔ جن میں عورتوں اور بچوں سمیت 5 ہزار سے زیادہ انسان مارے گئے۔ خود امریکیوں کے اعداد و شمار کے مطابق مرنے والوں میں 90 فیصد تک بے گناہ ہو سکتے ہیں۔ ہائی پروفائل ٹارگٹس صرف 84 تھے۔ امریکیوں نے سینکڑوں کلومیٹر اندر گھس کر ایبٹ آباد میں فوجی کاروائی کی۔ سلالہ میں کئی گھنٹے تک جاری رہنے والے حملے میں پاکستانی فوج کے درجنوں اہلکاروں کو بھون ڈالا۔لیکن ہم نمبر ون ہونے کے باوجود نیم دلانہ مذمت کے سوا کچھ نہ کر سکے۔

Tuesday, 18 June 2019

"سر ! 3 مئی 1995کادِن امریکی ہمیشہ یاد رکھیں گے"

www.swatsmn.com
"سر ! 3 مئی 1995کادِن امریکی ہمیشہ یاد رکھیں گے"
3 مئی 1995 کا دِن جب امریکی بحریہ اور فضائیہ کے غرور کوپاکستان ائیر فورس کے دو شاہینوں نے خاک میں مِلا دیا۔ پاکستان ائیر فورس کا ایک انوکھا کارنامہ جس نے دُنیا کو حیرت زدہ کردیا۔
1995میں سپائڈرالرٹ کے نام سے پاکستان اور امریکہ کی مُشترقہ جنگی مشقیں شُروع ہوئیں جس میں دونوں ممالک کی بری، بحری اور فضائی افواج نے حصّہ لیا۔
جنگی مشقوں کے آخری مراحل میں فِضا سے سمندر میں حملے کا مقابلے کا انعقاد کیا گیا جِس میں پاکستان ائیرفورس کو ٹارگٹ دیا گیا کہ اُنہیں سمندر میں موجود بحری بیڑے اِبراہم لنکن (CN-72) کےانتہائی قریب جا کر اُس پر حملہ کرکے مصنوعی طور پر کے تباہ کرنا ہے اور دُوسری طرف امریکی بحری بیڑے پر موجود امریکی بحریہ کو یہ ہدف دیا گیا کہ اُنہیں ہوا میں موجود پاکستانی ہوابازوں کا بحری بیڑے کے قریب پہنچنے سے قبل سُراغ لگانا ہے تاکہ بیڑے پر موجود امریکی F-14جنگی تیارے فوری اُڑان بھر کے پاکستانی طیاروں کو ہوا میں ہی دبوچ لیں اور بحری بیڑے کے قریب آنے سے پہلے ہی ہوا میں مصنوعی طور پر گِرا کر یہ مِشن اپنے نام کرلیں۔
اس مشق میں امریکی بحری اور فضائی افسران انتہا کی حد تک مطمئن اور پُر اعتماد تھے۔ اُن کے اعتماد کی وجہ امریکی بحری بیڑے پر موجوددُنیاکاسب سے بہترین ریڈارسسٹم تھا جو میلوں دور سے کسی بھی قسم کی فضائی نقل وحرکت کی بالکل درست نشاندہی کرنے کی صلاحیت کا حامل تھا۔ امریکیوں کے اعتماد کی دُوسری اور اہم وجہ یہ تھی کہ بحری بیڑے پر موجود امریکی طیارے جدید ترین طیارے تھے جو برق رفتاری میں پاکستانی معراج طیاروں سے کہیں آگے تھے۔
دُوسری طرف پاکستان کے ایک فضائی اڈے کا منظر! جہاں پر پاکستان کے فضائی نگرانوں کو اس مُشکل ترین مشن پر جانے کےلئے پوچھا گیا اور حسبِ معمول تمام پائلٹس ایک عزم اور ولوّلے کے ساتھ اس مشن پر جانے کے لئے اگےآئے لیکن اس مِشن پر صرف دو پائلٹ مُنتخب ہونے تھے جنہوں نے اپنے معراج طیاروں کے ساتھ اس مُشکل ترین مشن پر جانا تھا۔
سینئر کمانڈ کے فیصلے کے مطابق اس مشن کےلئے وِنگ کمانڈر عاصم سلمان اور فلائٹ لیفٹیننٹ احمد حسن کا انتخاب کیا گیا۔ وِنگ کمانڈر عاصم سلمان اُن دِنوں پاکستان فضائیہ میں سکوارڈن نمبر آٹھ کے بطورکمانڈرفرائض سرانجام دے رہے تھے۔
دِن تین بجے کے وقت دونوں پاکستانی شاہین مشن پر روانہ ہونے سے قبل اپنے طیاروں کی جانچ پڑتال میں مشغول تھے جب وِنگ کمانڈر عاصم سلمان نے فلائٹ لیفٹیننٹ احمد حسن کو اپنے پاس بُلایا اور کہا۔ احمد میں اُمید کرتا ہوں آپ اس مشن کےلئے مُکمل طورپر تیارہو۔ لیفٹیننٹ احمد حسن کےچہرےپر ایک پُراعتماد اور جوش سے بھرپور مُسکراہٹ آئی اور وہ انتہائی ادب لیکن اعتماد سے بولے "سرآج تین مئی 1995کادِن امریکی ہمیشہ یاد رکھیں گے"
وِنگ کمانڈر کو اپنےنوجوان شاہین کی بات پر مُکمل اعتماد تھا کیونکہ آج اُنہوں نے اپنی زندگی کا ایک انتہائی انوکھا فیصلہ کیا جو آج تک کی فضائی تاریخ میں نہیں ہوا تھا لیکن ونگ کمانڈر عاصم سلمان نے اپنے اس فیصلے سے احمد حسن کو آگاہ نہیں کیا اور فیصلہ کیا کہ ہدایات مشن پر روانہ ہونے کے بعدطیارے کے وائرلیس سےدیں گے۔
چند لمحوں بعد دونوں شاہین اپنے اپنے معراج طیاروں کے کاک پٹ میں موجود تھے۔ پھر اُن کے طیاروں نے نعرہ تکبیر کی صداؤں کی گونج میں ہوا میں اُڑان بھری اور ایک مُشکل ترین فضائی مشن پر روانہ ہوگئے۔
اِس مشن میں ونگ کمانڈر عاصم سلمان لیڈر جبکہ فلائٹ لیفٹیننٹ احمدحسن ونگ مین کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔
امریکی بحری بیڑے پر موجود تمام بحری اور فضائی افسران انتہائی اطیمنان سے پاکستانی طیاروں کی ریڈار پر نشاندہی کا انتظار کررہے تھے کہ جیسے ہی پاکستانی طیاروں کی نشاندہی ہو اُن کے جدید ترین ایف چودہ طیارے فوری اُڑان بھر کے پاکستانی معراج طیاروں کو بحری بیڑے سے میلوں دُور دبوچ لیں اور امریکی اپنی فتح کا جشن منائیں۔
تمام امریکی افسران ریڈرا روم میں موجود تھے اور امریکی پائلٹ اپنے طیاروں میں موجود اگلے حُکم کے مُنتظر تھے۔
دونوں پاکستانی شاہین اپنے اپنے طیاروں کو ہدف کی طرف لے جا رہے تھے جب اچانک فلائٹ لیفٹیننٹ احمد حسن کو طیارے کے وائرلیس پر اپنے لیڈر کا ایک انوکھا اور پُر خطر حُکم سُنائی دیا اور پھربیک وقت دونوں طیارے بجلی کی رفتار سےنیچے کی طرف جانا شُروع ہوگئے۔
امریکی بحری بیڑے پر اُس وقت سناٹا چھا گیا جب پاکستان کے دونوں شاہینوں نےامریکیوں کو حرکت کا موقع دئیے بغیرامریکی بحری بیڑے کی بالائی سطح کے بھی نیچےسے سمندر سے محض چند فُٹ اوپر سے اپنے معراج طیارے برق رفتاری سے فضاء میں بُلند کئے اور امریکی بحری بیڑے کو کامیابی سے مصنوعی طور ہراپنے ہدف کا نشانہ بناکر پاکستان کی امریکیوں پر فتح کا پیغام کنٹرول روم کو دیا۔
پاکستانی ہوائی اڈہ ایک بار پھر نعرہ تکبیر کی صداؤں سے گونج اُٹھا جبکہ دُوسری جانب امریکی بحری بیڑے پر ایک سناٹا چھا چُکا تھا اور امریکی ایک صدمے کی کیفیت میں ایک دوسرے کا مُنہ دیکھ رہے تھے۔ امریکی سوچ رہے تھے کہ آخر ایسا کیسے ممکن ہوا کہ پاکستانی معراج طیارے جدید ترین ریڈار پر نظرآئے بغیر کامیابی سے بحری بیڑے کے اُوپر سے گُزر گئے اور اُنہیں سنبھلنے کا موقع بھی نہیں دِیا۔
ونگ کمانڈر عاصم سلمان نے ہوائی اڈے سے اُڑان بھرنے سےقبل ہی فیصلہ کر لیا تھا کہ امریکی ریڈار سے بچنےکےلئے اُنہیں دونوں طیاروں کو انتہائی نِچلی اور خطرناک سطح پر تیزرفتاری سے پرواز کرنا پڑے گی چُنانچہ اُنہوں نے اُڑان بھرنے کے چند لمحوں بعد ہی فلائٹ لیفٹیننٹ احمد حسن کو اچانک یہ حُکم دیا۔ قارئینِ کرام اتنی نچلی سطح پر یہ پرواز معراج طیاروں کے ساتھ نامُمکن تھی اوردُنیا میں آج تک کسی پائلٹ نے جدیدترین طیارےپربھی ایسی خطرناک پرواز نہیں کی تھی۔ سطح سمندر پر یہ پرواز اور بھی مُشکل تھی کیونکہ زمین اور پانی پر ہوا کا دباؤ مُختلف ہوتا ہے لیکن آفرین کہ پاکستان کے بہادر اور نڈرسپوتوں نے ایسے نامُمکن کو ایک جذبے سے مُمکن کر دِکھایا اور امریکیوں کے غرور کوخاک میں مِلا کر فضائی معرکوں میں ایک تاریخ رقم کر دی اور اپنےسبزہِلالی پرچم کی لاج رکھ کر اقبال (رح) کے اس قول کی کو سچ کر دِکھایا "مومن ہو تو بےتیغ بھی لڑتا ہے سِپاہی"
ہمارا سلام ہو وطن کے تمام بہادر سپوتوں پر۔
افواجِ پاکستان زندہ باد
پاکستان پائندہ باد۔

Sunday, 14 April 2019

کہاں سے لاوں طاقت دین کا سچی ترجمانی کی کہ کسی جانجال میں گزری ہے گڑیاں زندہ گانی کی

www.swatsmn.com
کہاں سے لاوں طاقت دین کا سچی ترجمانی کی
 کہ کسی جانجال میں گزری ہے گڑیاں زندہ گانی کی 

Wednesday, 30 January 2019

Tuesday, 15 January 2019

انسان اور انسانیت

www.swatsmn.com
 انسان اور انسانیت
تاریخی حقائق کے مطابق جب مشہور برطانوی بحری جہاز ٹائی ٹینک حادثے کا شکار ہوا تو اس کے آس پاس تین ایسے بحری جہاز موجود تھے جو ٹائی ٹینک کے مسافروں کو بچا سکتے تھے۔۔
سب سے قریب جو جہاز موجود تھا اسکا نام سیمسن (Samson) تھا اور وہ حادثے کے وقت ٹائی ٹینک سے صرف سات میل کی دوری پہ تھا۔ سیمسن کے عملے نے نہ صرف ٹائی ٹینک کے عملے کی طرف سے فائر کئے گئے سفید شعلے (جو کہ انتہائی خطرے کی صورت میں فضا میں فائر کئے جاتے ہیں) دیکھے تھے بلکہ مسافروں کی آہ و بُکا کو سُنا بھی تھا۔ لیکن کیونکہ سیمسن کے عملے کے لوگ غیر قانونی طور پہ انتہائی قیمتی سمندری حیات کا شکار کر رہے تھے اور نہیں چاہتے تھے کہ پکڑے جائیں لہذا ٹائی ٹینک کی صورتحال کا اندازہ ہوتے ہی بجائے مدد کرنے کے وہ جہاز کو ٹائی ٹینک کی مخالف سمت میں بہت دور لے گئے۔
یہ جہاز ہم میں سے ان لوگوں کی نمائندگی کرتا ہے جو اپنی گناہوں بھری زندگی میں اتنے مگن ہو جاتے ہیں کہ ان کے اندر سے انسانیت کا احساس ختم ہو جاتا ہے اور پھر وہ ساری زندگی اپنے گناہوں کو چھپاتے گزار دیتے ہیں۔
دوسرا جہاز جو قریب موجود تھا اس کا نام کیلیفورنین (Californian) تھا جو حادثے کے وقت ٹائی ٹینک سے چودہ میل دور تھا۔ اس جہاز کے کیپٹن نے بھی ٹائی ٹینک کی طرف سے مدد کی پکار کو سنا اور باہر نکل کے سفید شعلے اپنی آنکھوں سے دیکھے لیکن کیونکہ وہ اس وقت برف کی چٹانوں میں گھرا ہوا تھا اور اسے ان چٹانوں کے گرد چکر کاٹ کے ٹائی ٹینک تک پہنچنے میں خاصی مشکل صورتحال سے دو چار ہونا پڑتا لہذا کیپٹن نے اس کی بجائے دوبارہ اپنے بستر میں جانا اور صبح روشنی ہونے کا انتظار کرنا مناسب سمجھا۔ صبح جب وہ ٹائی ٹینک کی لوکیشن پہ پہنچا تو ٹائی ٹینک کو سمندر کی تہہ میں پہنچے چار گھنٹے گزر چکے تھے اور ٹائی ٹینک کے کیپٹن ایڈورڈ اسمتھ سمیت 1569 افراد موت کے گھاٹ اتر چکے تھے۔
یہ جہاز ہم میں سے ان افراد کی نمائندگی کرتا ہے جو کسی کی مدد کرنے کو اپنی آسانی سے مشروط کر دیتے ہیں اور جب تک حالات حق میں نہ ہوں کسی کی مدد کرنا اپنا فرض نہیں سمجھتے۔
تیسرا جہاز کارپیتھیا (Carpathia) تھا جو ٹائی ٹینک سے 68 میل دور تھا۔ اس جہاز کے کیپٹن نے ریڈیو پہ ٹائی ٹینک کے مسافروں کی چیخ و پکار سنی۔ صورتحال کا اندازہ ہوتے ہی باوجود اس کے کہ یہ ٹائی ٹینک کی مخالف سمت میں جنوب کی طرف جا رہا تھا، اس نے فورا اپنے جہاز کا رخ موڑا اور اللہ کا نام لے کے برف کی چٹانوں اور خطرناک موسم کی پروا کئے بغیر مدد کے لئے روانہ ہو گیا۔ اگرچہ یہ دور ہونے کے باعث ٹائی ٹینک کے ڈوبنے کے دو گھنٹے بعد لوکیشن پہ پہنچ سکا لیکن یہی وہ جہاز تھا جس نے لائف بوٹس پہ امداد کے منتظر ٹائی ٹینک کے باقی ماندہ 710 مسافروں کو زندہ بچایا تھا اور انہیں بحفاظت نیو یارک پہنچا دیا تھا۔ اس جہاز کے کیپٹن کیپٹن آرتھر روسٹرن کو برطانوی نیوی کی تاریخ کے چند بہادر ترین کیپٹنز میں شمار کیا جاتا ہے اور ان کے اس عمل پہ انہیں کئی سماجی اور حکومتی ایوارڈز سے بھی نوازا گیا تھا۔
یاد رکھیئے، ہماری زندگی میں ہمیشہ مشکلات رہتی ہیں، چیلنجز رہتے ہیں، لیکن وہ جو ان مشکلات اور چیلنجز کا سامنا کرتے ہوئے بھی انسانیت کی بھلائی کے لئے کچھ کر جائیں انہیں ہی انسان اور انسانیت یاد رکھتی ہے۔
دعا کیا کریں کہ خدا کسی کی مدد کی توفیق دے کیوں کہ یہ انسانیت کی معراج اور اعلی ترین درجہ ہے۔

10th National Desert Hike 2025 (Rambler Badge Hike for Rover Scouts)

10th National Desert Hike 2025  (Rambler Badge Hike for Rover Scouts) Chulistan ,روحی   نیشنل ڈزرٹ ہائیک 2025 تاریخِ عالم اس امر کی شاہد ہے ...