Thursday, 8 October 2015

مرد کا روپ دھارے 40 سال بیت گئے

www.swatsmn.com


قربانی اور ایثار کا دوسرا نام عورت ہے اور جب یہی عورت ماں کے روپ میں ہوتی ہے تو کبھی کبھی قربانی اور ایثار کی ایسی مثال قائم کر جاتی ہے جس کی تاریخ میں کوئی نذیر نہیں ملتی- ایسی ہی ایک ماں کا تعلق مصر سے ہے جو گزشتہ چالیس سے مرد کا روپ دھارے اپنے گھر کی کفالت کر رہی ہے-
 

ہم بات کر رہے ہیں پینسٹھ برس کی سیسا جابر کی جو چالیس سے زائد عرصے سے مردانہ لباس زیب تن کیے اپنے گھرانے کفالت میں مصروف ہیں- گزشتہ اتوار کے روز مصر کے صدر عبدالفاتح السیسی نے ان کی خدمت کا اعتراف کرتے ہوئے’’کفالت‘‘ ایوارڈ سے نوازا۔

عرب دنیا میں گزشتہ ہفتے مدرز ڈے منایا گیا اور اس موقع پر وزارتِ سماجی یکجہتی کی جانب سے سیسا جابر کے ایثار اور قربانی کے جذبے کو سراہتے ہوئے ’’کفالت‘‘ ایوارڈ دیا گیا ہے۔

سیسا جابر جب اکیس برس کی عمر میں بیوہ ہوگئیں تھی اور وہ اس وقت حاملہ تھیں- شوہر کے انتقال کے بعد انہوں نے اپنی اکلوتی بیٹی کی کفالت اور بہتر مستقبل کے لیے مرد کا روپ دھار کر کام کرنا شروع کردیا۔
 

محنت و مشقت سے بھرپور اپنے اس چالیس سال میں سیسا جابر نے مردوں کا روایتی ڈھیلا ڈھالا لباس پہن کر موچی، مزدور اور کاشتکاری کا کام کیا۔

سیسا جابر کا کہنا ہے کہ ’’میں نے اپنے، اپنی بیٹی اور اس کے بچوں کے لیے کئی محنت طلب کام کیے جیسے کہ اینٹیں اور سیمنٹ کی بوریاں اُٹھانا٬ جوتے پالش کرنا یا پھر کاشتکاری کرنا وغیرہ‘‘-

’’میں نے خود کو مردوں کی بُری نظروں سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک مرد کے طور پر کام کرنے کا فیصلہ کیا، اور مردوں کے لباس میں ایسے دیہاتوں میں مزدوری کی جہاں کوئی مجھے جانتا نہیں تھا‘‘ 

لڑکیوں۔۔۔! ہوش میں آؤ

www.swatsmn.com

لڑکیوں۔۔۔! ہوش میں آؤ

(Faraz Tanvir, Lahore )
ڑکیوں ہوش میں آؤ خود کو اتنا نہ گراؤ کہ خود اپنے آپ سے بھی نگاہیں نہ ملا پاؤ۔۔۔۔۔۔ شرم و حیا ہی تمہارا حجاب ہے یہی تمہارا لباس ہے یہ تمہاری عزت یہ تمہارا وقار ہے یہی تمہاری حفاظت ہے یہ تمہاری حرمت ہے یہ تمہارا ہتھیار ہے اور یہی تمہارا دفاع ہے اپنے احساسات و جذبات کو کبھی کسی کے آگے عریاں نہ کرو چاہے تمہیں کسی پہ کتنا ہی اعتبار کیوں نہ ہو وگرنہ تمہارے اپنے پاس تمہارا کچھ بھی نہ رہے گا خالی ہاتھ رہ جاؤ گی خود جس پہ اعتبار کرو گی خود اس کی نظروں میں بھی اپنا اعتبار اپنا وقار گنوا بیٹھو گی-

اپنے پیاروں سے تو کیا خود اپنے آپ سے بھی نگاہیں نہ ملا پاؤ گی خود کو اس قدر نہ گراؤ کہ خود اپنے سہارے اٹھ نہ پاؤ خود کو اپنے سہارے گر کر اٹھنے اور سنبھلنے کے قابل بناؤ کہ جو تمہیں سہارا دے کر اٹھائے گا وہ تم سے اس احسان کا بدلہ ضرور وصول کرنا چاہے گا کہ یہ دنیا بےغرض نہیں خود غرضوں کا ٹھکانہ ہے اپنی غرض پوری کر کے غرض پوری کرنے والا پھر تمہاری رسوائی کا سبب بن جائے گا لیکن اس میں کسی کا قصور نہیں خود تمہاری ہی خطا ہے کہ تم نے کسی کو اپنے قریب آنے ہی کیوں دیا تم پہلے خود کسی کو سر پہ سوار کرتی ہو اور پھر کوئی تمہارے سر پر چڑھ کے ناچنے لگتا ہے تو چیخنے چلانے واویلہ کرنے لگتی ہو جو کہ تمہارے لئے بالکل بے سود ہے اور اس میں سرا سر تمہارا ہی خسارہ ہے وہ تو صاف بچ کے نکل جائے گا اور تم خود مشکل میں پھنس جاؤ گی اپنی جان پر عذاب سہو گی تنہا رہ جاؤ گی بہت پچھتاؤ گی اور اپنے اس غم کا اس روگ کا اس درد کا کوئی علاج کوئی مداوا نہ کر پاؤ گی-

اپنے وقار کو قائم رکھنا خود تمہارے اپنے اختیار میں ہے اپنے آپ کو سنبھالے رکھو مبادا کہ تمہاری روح تمہارا وجود خود تم سے ہی بیگانہ ہو جائے تمہارے دل میں ویرانہ کر جائے اپنے اندر سے بے حجابی دور کرو شرم و حیا سے خود کو مستور کرو نامحرم اغیار اجنبیوں کے سامنے اپنے حسن و ادا کی جلوہ آرائیوں سے گریز کرو خود کو محفوظ کرو روحانی و جذباتی اعتبار سے خود کو مضبوط کرو اپنے حسن کے جلوؤں سے دوسروں کو لبھانے اپنا آپ دوسروں کو دکھانے کی خواہش کو اپنے دل میں ہی مار لو اس سے پہلے کہ یہ خواہش تمہاری روض کی اجل کا سبب بن جائے تمہیں تمہاری موت سے پہلے زندہ درگور کر جائے قابو رکھو اپنے جذبات پہ انہیں عریاں نہ ہونے دو خود اپنی زندگی کو کھلونا نہ بننے دو کسی کے لئے اپنے جذبوں اپنی خواہشوں کو اپنے تک محدود رکھو اپنے آپ سے باہر نہ آنے دو اپنے جذبات کو ورنہ کہیں کی نہ رہو گی-

یاد رکھو کہ تمہاری ایک چھوٹی سی لغزش ایک چھوٹی سی خطا تمہارے لئے جان کا عذاب بن سکتی ہے مان لو کہ جو محتاط ہے وہ ہی محفوظ بھی ہے خود کو سمیٹ کے رکھو اپنا وقار اپنا مقام قائم رکھو قائم رہو اپنے مقام پہ اور خود کو کسی کے آگے گرنے نہ دو جھکنے نہ دو ٹوٹنے بکھرنے نہ دو اسی میں تمہاری عزت ہے اسی میں تمہاری سلامتی ہے کہ تمہیں اللہ رب العزت نے بہت اعلٰی مقام سے سرفراز فرمایا ہے اس کا خیال کرو اس کی حفاظت کرو اور اس مقام کا حق ادا کرو تاکہ سکھ سکون خوشی سے سر اٹھا کر جی سکو اور اپنے رب کی نعمت کا شکر ادا کرو جو اس نے تمہیں مرحمت فرمائی ہے تاکہ اس کی بارگاہ میں بھی سرخرو رہو-

آفغان حضرت سلیمان علیہ السلام کے ایک بیٹـے کا نام تھا

www.swatsmn.com
پٹھانوں کے اسلامی تاریخ
پٹھان کو آفغان کہتـے ہیں آفغان اسلئـے کہتـے هــے کہ آفغان حضرت سلیمان علیہ السلام کے ایک بیٹـے کا نام تھا اور ان کو جننات کی زبان سے پیار ہوگیا تھا تو انہوں نـے اپنـے والد حضرت سلیمان علیہ السلام سے کہا کہ آپ جننات کو کہـے کہ مجھـے اپنی زبان سیکھائیں سلیمان علیہ اسلام نـے اپنـے بیٹـے کی درخواست قبول کی اور جننات کو حکم دیا کہ آفغان کو جننات کی زبان سیکھائی جائـے وہ زبان بعد میں پختنوں کی نام سے پہجانا گیا پٹھان کی اصلیت اور قومیت کے بارے میں جو دلائل ہیں وہ یہ کہ پٹھان حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں اور حضرت اسحاق علیہ السلام کے اولاد ہیں, اور قومیت سے بنی اسرائیل هــے انگریز مورخین لکھتـے ہیں کہ پٹھان قوم ارجینیا کی ایک حصے میں رہتـے تھـے ارجینیا کے لوگوں کا دعوی هــے کہ افغان یا پٹھان ارجینیا ہم میں سے ہیں 
کیونکہ البانیہ کے اوغان جو کے بعد مین افغان بنا ارجینیا سے ہندوستان کی طرف چل پڑے ایک اور انگریز مورخ لکھتا هــے کہ اسرائیل قبائیل بہت تکالیف اور مصیبتون کے بعد افغانستان میں آباد ہوگئـے, جب حضور اکرم ﷺ نـے اسلام کی تبلیغ شروع کی اور لوگ جوق درجوق اسلام مین داخل ہونـے لگـے تو اس وقت پٹھان قوم کا سردار جس کا نام قیس عبدالرشید تھا اپنـے پورے خاندان کیساتھ محمد ﷺ کی حضور میں حاضر ہوا اور محمد ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کر کے مسلمان ہوگئـے اس لئـے دنیا بھر میں جہاں بھی پٹھان ہونگـے مسلمان ہونگـے دنیا میں پٹھان ہی واحد قوم هــے جس میں اسلام کے بغیر کوئی مذہب نہیں اگر پٹھان سے پوچا جائـے کہ اپ پہلـے مسلمان ہے یا پٹھان ؟ تو جواب ہوگا کہ میں پانچ ہزار سال سے پٹھان ہوں اور چودہ سو سال پہلـے مسلمان ہوں،
افغان قوم کو پٹھان کیو کہا جاتا ہے،؟
جب کافروں نے مکہ پر قبضہ کر لیا تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خالد بن ولید رض کو حکم دیا کہ جاؤ اپنے افغانیوں کو بلاؤں جہاد کے لیے خالد بن ولید رضی اللہ تعالی عنھ افغانستان چلے گئے اور افغان سردار قیس عبدالرشید کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام ارسال کیا، قیس عبدالرشید کے قیادت میں لشکر مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوا 
شام کو صحابہ کرام نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشخبری سنائی کہ افغانی لشکر آتے ہی کافروں کا قاتل عام شروع کر دیا اور تمام کافروں کا خاتمہ کردیا، اور مکہ مکرمہ کو افغانیوں نے فتح کر لیا، تو اسی لمحے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک زبان پر پر یہ الفاظ آئے بٹھان،،،
یہ لقب افغان قوم کو رسول اللہ صلی علیہ وسلم کے طرف سے ملا ہے
بٹھان لفظ عربی زبان کے ہے یعنی سخت ترین لکڑی وہ جو سمندری جہازوں میں لگایا جاتا ہے جیسے سمندری پانی بھی کمزور نہیں کرسکتا ہے
یہ لفظ جب برصغیر پہنچا تو بٹھان سے پٹھان ہوگیا ،
اگر مزید پختونوں کا تاریخ جاننا چاہتے ہو تو کسی بھی قریبی بک اسٹال سے( پختون ہسٹری pukhtoon history) 200 صفحات کی تفصیلی کتاب ہے 

Thursday, 1 October 2015

پیدائش کا دن اپنے اندر وہ کیا خوبیاں رکھتا ہے

www.swatsmn.com

عام طور پر لوگ اس بات سے ناواقف ہوتے ہیں کہ ان کی پیدائش کا دن اپنے اندر وہ کیا خوبیاں رکھتا ہے جس سے آپ اپنے مستقبل کی منصوبہ بندی کر سکیں جب کہ پیدائش کا دن انسانی زندگی کے خفیہ پہلوؤں سے پردہ اٹھاتا ہے اور انسان کو اپنی زندگی کی منصوبہ بندی کرنے میں مدد دیتا ہے۔
انسان کی پیدائش کا  دن اس کی شخصیت کی عکاسی کرتا ہے اور اسے مستقبل میں زندگی کیسے گزارنی اس راز سے بھی پردہ اٹھاتا ہے جب کہ یہ آپ کے اندر موجود طاقت کی خصوصیت اور زندگی کے مقصد بھی آگاہ کرتا ہے، توآئیے جانتے ہیں کہ ہر پیدائش کا دن آپ کے بارے میں کیا بتاتا ہے۔
مہینے کا پہلا دن: جو لوگ مہینے کے پہلے دن پیدا ہوتے ہیں ایسے افراد قائدانہ صلاحیت رکھتے ہیں اور کامیابی کے لیے سخت محنت کرتے ہیں۔ اگر آپ کا جنم دن  مہینے کا پہلا دن ہے تو آپ خود پر بھروسہ کرنے والے اور پابندیوں سے آزاد رہ کام کرنے کے عادی ہیں، آپ بڑے کاروبار اور کمپنیوں کو چلانے کی بھر پور صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایسے افراد میں دوسروں کو قائل کرنے اور بڑا ویژن رکھنے کی خوبیاں بھی موجود ہوتی ہیں۔
مہینے کا دوسرادن : ایسے افراد جن کی پیدائش کا دن مہینے کا دوسرادن ہوتا ہے وہ انتہائی حساس، سیاسی اور کسی بھی ماحول میں بآسانی ڈھل جانے  والے ہوتے ہیں۔  ایسے افراد خوبصورتی سے محبت کرنے والے اور جذباتی ہوتے ہیں اور یہی چیز انہیں کمزور بنا دیتی ہے جب کہ ایسے افراد سامنے آنے کی بجائے پس منظر میں رہنے کا کام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں اسی لیے ایسے افراد اعتماد کی کمی اور ڈپریشن کا شکار ہوجاتے ہیں۔
تیسرا دن: ایسے افراد تخلیقی صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہیں جب کہ ان میں لکھنے اورآرٹ کی اعلی صلاحتیں موجود ہوتی ہیں اسی لیے دوسرے لوگ آپ سے متاثر ہوتے ہیں اور آپ کی طرف کشش رکھتے ہیں۔ ان افراد میں دوستانہ، سماجی اور دوسرے سے محبت کرنے کی خوبیوں کے ساتھ ساتھ لوگوں سے ڈیل کرنے کے لیے کرشماتی صلاحیتیں ہوتی ہیں اسی لیے یہ لوگ زبردست قسم کے سیلز مین بنتے ہیں۔ ایسے افراد موڈی ہوتے ہیں اس لیے ان کی زندگی میں بہت اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں۔ خود کو متنازعہ معاملات میں نہ الجھائیں اور طویل المیعاد منصوبہ بندی کریں۔
چوتھا دن: ایسے افراد ذمہ دار اور بہترین منتظم ہوتے ہیں اسی لیے وہ اچھے اور قابل مینجر ثابت ہوتے ہیں۔ ان افراد میں سخت محنت کرنے، سنجیدگی، ایمانداری، اخلاص جیسی خوبیاں پائی جاتی ہیں۔ نمبر چار میں توانائی کو پابند کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے اس لے یہ آپ کے پڑھنے کے دوران زیادہ سرگرم ہوتا ہے۔ یہ نمبر اس دن پیدا ہونے والے افراد کی شخصیت کی صلاحیتوں پر اثر انداز ہوتا ہے اس لیے یہ لوگ زیادہ اپنے رویے میں زیادہ سخت اور ضدی ہوتے ہیں۔
5 واں دن: ایسے افراد دوسرے لوگوں کے ساتھ مل جل کر کام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں لیکن بہت باصلاحیت اور ورسٹائل ہوتے ہیں۔ ایسے افراد ترقی پسندانہ سوچ رکھنے والے اور عمل کرنا پسند کرتے ہیں۔ ان لوگوں کا دماغ تیزی سے کام کرنے، ہوشیار اور تجزیاتی ہوتا ہے تاہم مسلسل کام کرنا ان کی طبیعت کا حصہ ہوتا ہے اس لیے یہ ایک روٹین سے بور ہوجاتے ہیں۔
http://www.express.pk/wp-content/uploads/2015/09/210.jpg
چھٹا دن: ایسے افراد خاندان میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں اور لوگوں کے جھگڑوں کو حل کرنے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے اس لیے ان کی شخصیت میں ایک توازن پایا جاتا ہے۔ ایسے افراد چونکہ دوسروں کی مدد کرنے میں خوشی محسوس کرتے ہیں اس لیے یہ ہیلنگ آرٹ، تھراپی اور الٹرنیٹوہیلتھ کے ماہر ہوتے ہیں۔ انتہائی جذباتی ہونے کی وجہ سے غم یا خوشی کے موقع پر شدت پسندانہ رویہ اختیار کرتے ہیں۔
7واں دن: ایسے افراد ہر کام پرفیکٹ طریقے سے کرتے ہیں اس لیے ان میں انفرادیت موجود ہوتی ہے، گہرائی تک سوچتے ہیں اور پیچیدہ ترین مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، یہ لوگ نفسیاتی اور حساس ہوتے ہیں۔
8واں دن: ایسے افراد اچھے کاروباری اور پیسوں کے استعمال کا فن جانتے ہیں اس لیے لوگ اپنی سوچ پر آزادانہ عمل درآمد کرتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ پارٹنرشپ سے دور رہیں۔ یہ لوگ سرگرم اور موثر ہوتے ہیں اس لیے بڑے بڑے پراجیکٹس پر کام کرتے ہیں۔ ان افراد میں قیادت کرنے کی صلاحیت بھی موجود ہوتی ہے لیکن اپنی کمزوریوں کو زیادہ دیر برداشت نہیں کرتے۔
9واں دن: ایسے افراد کھلے ذہن کے مالک، آئیڈیل پسند، تخلیقی صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہیں اسی لیے اس دن پیدا ہونے والے لوگوں میں بڑے بڑے آرٹسٹ موجود ہیں۔ ایسے افراد کو چاہئے کہ وہ دوسروں کے زیادہ سے زیادہ کام آئیں جس کا انہیں زندگی کے کئی مواقعوں پر فائدہ ملے گا، ایسے افراد میں ایثار کا جذبہ ہوتا ہے اس لیے انہیں چاہئے کہ اپنے اندر معاف کردینے اور غیر مشروط محبت کا جذبہ پیدا کریں۔
http://www.express.pk/wp-content/uploads/2015/09/310.jpg
10 واں دن: یہ نمبر اس دن پیدا ہونے والے لوگوں میں اضافی توانائی اور آزادانہ سوچ پیدا کرتا ہے جب کہ اس میں موجود ایک کا ہندسہ افراد میں ایگزیکٹو قائدانہ صلاحیت پیدا کرتا ہے۔ ان افراد میں حیرت انگیز قوت ارادی اور خود اعتمادی پائی جاتی ہے لیکن کچھ صورتحال میں ایسے افراد کچھ فیصلے مجبوری میں کرنے کے عادی ہوتے ہیں۔
11 واں دن: ایسے افراد میں آئیڈل سوچ اور وجدان کی کیفیت قبضہ جمائے رکھتی ہے تاہم یہ لوگ دوسروں کی تنقید پر پریشان ہوجاتے ہیں اور ریکوری میں کافی وقت لگ جاتا ہے۔ ایسے افراد دوررس سوچ کے مالک ہوتے ہیں اس لے دنیا کی بہتری کے لیے ان کے آئیڈیاز لوگوں کو حیران کردیتے ہیں۔ کاروبارچلانے کی اچھی صلاحیت رکھنے کے باوجود حساس طبیعت کی وجہ سے بہت اتارچڑھاؤ آتے رہتے ہیں۔
12 واں دن: اس دن پیدا ہونے والے لوگوں میں 12 کا ہندسہ زندگی کی بھرپور قوت پیدا کرتا ہے اور اس کی توانائی ان افراد کو صدموں اور پریشانیوں سے نکلنے میں مدد دیتی ہے، ایسے لوگوں میں خود کو سامنے لانے کی قدرتی صلاحیت موجود ہوتی ہے اس لیے لوگوں پر اپنی شخصیت کا اچھا تاثر چھوڑتے ہیں۔ ان میں دوسروں سے محبت اور پیار کرنے کا جذبہ ہوتا ہے لیکن حساس طبیعت کے مالک ہوتے ہیں۔
13واں دن: یہ لوگ ٹھوس اور حقیقی چیزوں سے محبت کرنے اور عمل کرنے والے لوگ ہوتے ہیں۔ ان میں آرٹسٹ کی بہترین صلاحتیں ہوتی ہیں جب کہ ان میں قدرتی طور پر اچھے منتظم اور مینجر بننے کی خوبیاں موجود ہوتی ہیں، آپ کے لیے چیلنج یہ ہے کہ آپ اپنے اندر چھپی صلاحیتوں کو سامنے لائیں اور خود کو ترقی کی طرف لے جائیں جب کہ کائنات آپ کو اشارہ دیتی رہتی ہے اس لیے ضورری ہے کہ آپ اپنے یقین کو مضبوط کریں اورجو کام کر رہے ہیں اس پر بھرپور توجہ دیں۔
14 واں دن: یہ لوگ بھی ٹیم ورک مین کام کرنے کو اہمیت دیتے بلکہ اس سے خوب لطف اندوز ہوتے ہیں، یہ لوگ نئے آئیڈیاز دینے، آرگنائز کرنے اور سسٹم کے تحت چلنے کے عادی ہوتے ہیں، ایسے لوگ ترقی یافتہ سوچ کے حامی اور عمل پسندانہ رویہ اختیار کرتے ہیں لیکن مسلسل کام کرنا چاہتے ہیں اس لیے بے صبرے اور جلد بور ہوجانے والے ہوتے ہیں۔
15 واں دن: ایسے افراد اپنے گھر والوں اور خاندان کے ساتھ گہرا رشتہ قائم کرتے ہیں جب کہ ایک اور 5 مل کر انہیں جو توانائی دیتے ہیں اس سے یہ لوگ اچھے والدین یا پھر اچھے ٹیچرز ثابت ہوتے ہیں اس لے یہ زیادہ ذمہ دار اور باصلاحیت ہوتے ہیں اور اپنے ماحول کو دوستانہ اور خوش گوار رکھنا چاہتے ہیں۔
16 واں دن: اس دن پیدا ہونے والے افراد تجزیاتی سوچ رکھتے ہیں اور یہ انتہائی گہرائی سے بھی مشکل کا حل نکال لیتے ہیں، یہ لوگ روحانی اور نفسیاتی مسائل کو حل کرنے کی بھی بھر پور صلاحیت رکھتے ہیں تاہم ایسے افرادکو حقیقت پسند ہونا چاہتے بصورت دیگر زندگی میں کئی مسائل اور بیماریوں کا شکار ہو سکتے ہیں۔
17 واں دن: یہ افراد انتہائی پرجوش ہوتے ہیں جب کہ ان میں بزنس اور مالی معاملات کو چلانے کی بھرپور صلاحیت ہوتی ہے اسی لیے تخلیقی صلاحیتوں کے مالک اور آزاد سوچ رکھتے ہیں۔ چیزوں کی اچھی پہچان رکھنے کے علاوہ اچھے مینیجر اور آرگنائزر ہوتے ہیں اس لیے کسی بھی معاملے سے متعلق وسیع سوچ رکھتے ہیں اور اس کی تفصیلات کا بہترین استعمال کرتے ہیں۔ ایسے افراد کو چاہئے کہ ذمہ داریوں کو تقسیم کریں اور حد درجہ آزادنہ رویہ کم کریں۔
18ویں دن:  جو لوگ مہینے کی 18 تاریخ کو پیدا ہوتے ہیں وہ سیاست، مذہب، آرٹ اور قانون میں مہارت رکھتے ہیں اس کے علاوہ ایسے افراد انتہائی تخلیقی صلاحیتں، لوگوں کی سمجھنے کی قوت، اور وسیع سوچ رکھنے کے ساتھ ساتھ کئی فیلڈز میں اعلی تعلیم حاصل کرتے ہیں اس لیے بڑے بڑے آرٹست کی پیدائش کی تاریخ 18 ہے۔ اس طرح کے افراد جلد باز ہوتے ہیں اور فوری طور پر نتائج نہ حاصل ہونے پر پریشان ہوجاتے ہیں۔
19واں دن: ایسے افراد میں طاقتور سوچ اور خود اعتمادی پائی جاتی ہے تاہم ان کی یہ صلاحیت زندگی کی دیگر اثرات سے ٹکرا کر ان کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتی ہے۔ یہ لوگ حساس ہوتے ہیں لیکن اکثر ان کی محسوسات دوسروں سے متاثر ہوتی ہیں اور یہ لوگ عام طور پر اپنے تجربے سے سیکھتے ہیں۔ 19 اور ایک تنہائی والا نمبر ہے اور یہ لوگ شادی کے باوجود خود کو تنہا محسوس کرتے ہیں۔
http://www.express.pk/wp-content/uploads/2015/09/117.jpg
20 واں دن: ایسے افراد انتہائی حساس اور اثر پذیر ہوتے ہیں اور لوگوں کی محبت کی جواب میں انتہائی پیار کا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ ایسے افراد درمیانی سوچ اور شریف ہوتے ہیں اور دوسروں کو اپنے نرم لہجے سے متاثر کرلیتے ہیں۔
21واں دن: یہ لوگ انتہائی تخلیقی صلاحیتوں کے مالک اور کامیابی کے حصول کی شدید خواہش رکھتے ہیں۔ ایسے افراد اچھے لکھاری، آرٹسٹ اور ایڈیٹر ہوتے ہیں جبکہ یہ لوگ سوشل زندگی لطف اندوز ہوتے ہیں۔ ان میں ایک کامیاب سیلز مین بننے کی بھرپور صلاحیت ہوتی ہے تاہم ایسے افراد کو اپنی صلاحیت ایک خاص فیلڈ میں لگانی چاہئے۔
22واں دن: ایسے افراد زبردست قوت کے مالک ہوتے ہیں تاہم ساتھ ہی اپنی خواہشات کے ختم ہونے کا خوف دامن گیر رہتا ہے اس لیے غیر معمولی سوچ میں غرق رہتے ہیں۔ یہ لوگ آئیڈیل اور پریکٹیکل زندگی گزارتے ہیں۔ جب ایسے افراد اپنی خواہشات کو پورا نہیں کرپاتے تو سخت مایوسی کا شکار ہوجاتے ہیں۔
23واں دن: یہ لوگ لوگوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں بلکہ اسے انجوائے کرتے ہیں جب کہ یہ لوگ وراسٹائل ہونے کی وجہ سے بہترین آئیڈیاز پیش کرتے ہیں تاہم کبھی کبھار ایک روٹین سے یہ تنگ آجاتے ہیں اور تبدیلی چاہتے ہیں۔ ان افراد کا دماغ تیز، ہوشیار اور تجزیاتی ہوتا ہے تاہم بے آرامی ایسے افراد میں مسلسل کام سے بے صبری اور بوریت پیدا ہوجاتی ہے۔ یہ افراد بآسانی دوست بنا لیتے ہیں اور اچھے ہم سفر ثابت ہوتے ہیں۔
24واں دن: ایسے افراد خاندان میں رہنا پسند کرتے ہیں اور اسی لیے تعلقات میں توازن اور مضبوطی قائم رکھ پاتے ہیں اسی لیے اس فضا کو برقرار رکھنے کے لیے یہ بہت کچھ قربان کردیتے ہیں۔ ایسے افراد میں ڈرامہ اور اداکاری کی صلاحتیں موجود ہوتی ہیں تاہم یہ لوگ بزنس میں بھی اچھی کارگردگی دکھاتے ہیں۔ ان افراد کو چاہئے کہ زندگی کے معاملات میں دوسروں کی نصیحت کو غور سے سنیں۔
25واں دن: ایسے افراد میں منطق اور روحانی سوچ موجود ہوتی ہے اس لیے انتہائی ذمہ دار ہوتے ہیں، اگرچہ یہ لوگ انتہائی گہرائی میں سوچتے ہیں تاہم اس کا اظہارنہیں کرتے۔ ایسے افراد زیادہ ذاتی سوچ، غیرلچکدار، محتاط اور نفس پر کنٹرول کرنے والے ہوتے ہیں۔
26واں دن: یہ لوگ اچھے بزنس مین اور کسی بھی معاملے کو وسیع انداز میں دیکھنے کے مالک ہوتے ہیں تاہم زیادہ تفصیلات میں نہیں جاتے۔ ایسے افراد عمل پسند، خود اعتماد اور حقیقت پسند ہوتے ہیں ، ان کی شخصیت میں ڈپلومیٹک اور صورت حال کے مطابق خود کو بدلنے کی صلاحیت ہوتی ہے جب کہ یہ لوگ مادی ضروریات اور محبت جیسی انسانی خوبیوں کے درمیان توازن رکھنے کا فن جانتے ہیں۔
27 واں دن: ایسے افراد سیاست، مذہب، قانون اور آرٹ میں اعلی صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہیں جب کہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کی وجہ سے لوگوں کو بہت جلد سمجھ جاتے ہیں۔ یہ لوگ اگرچہ لوگوں کے ساتھ مل کر کام کرنا جانتے ہیں تاہم انہیں فوری آرام کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہیں چاہئے کہ یہ لوگ منفی تعلقات اور سوچ سے دور رہیں اور روحانی اور فلسفیانہ سوچ کو اپنائیں۔
28واں دن: ایسے افراد میں یہ دن آزادانہ سوچ اور اضافی توانائی پیدا کرتا ہے اس لیے ان میں ایگزیکٹو اور قائدانہ صلاحتیں ہوتی ہیں۔ یہ لوگ کچھ کرنے کی زبردست صلاحیت اور خود اعتمادی کی نعمت سے مالا مال ہوتے ہیں اس لیے حقیقت پسندانہ سوچ رکھتے ہیں۔ ان افراد میں ایسی توانائی ہوتی ہے جس کی وجہ سے جب یہ کوئی کام شروع کرتے ہیں تو اس کے مکمل ہونے تک پیچھے نہیں ہٹتے۔
29واں دن: ایسے افراد کا ذہن تصوراتی اور کائناتی تصورات سے بھر پور ہوتا ہے اس لیے ان میں روحانی قوت بھی موجود ہوتی ہے اور روحانی معاملات ان کے لیے بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔ یہ لوگ انہی صلاحیتوں کی وجہ سے بہترین معالج، کاؤنسلر اور ہیلتھ پٹیشنرز ہوتے ہیں۔ یہ افراد اپنی عمر کے 30 ویں سال یا اس سے اوپر جب ٹریننگ سے گزرتے ہیں تو ان کے اپنی کارگردگی کے بارے میں پریشان رہنے کا خدشہ رہتا ہے اس لیے انہیں اپنے یقین کو بڑھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔
30واں دن: ایسے لوگ اعلی تخلیقی صلاحیتوں اور رنگین دل کے مالک ہوتے ہیں جب کہ ان میں لکھنے اور پرفارمنگ آرٹ کی بھرپور صلاحیت ہوتی ہے اس لیےایسے افراد میں کشش اور کرشماتی شخصیت کی خوبیاں دوسروں کو متاثر کرتے ہیں۔ یہ لوگ بہترین سیلز مین ہونے کے ساتھ ساتھ اچھے لباس اور سجانے کا فن جانتے ہیں۔
31 واں دن: یہ لوگ اچھے آرگنائزر، مینیجر اور بھرپور توانائی کے مالک ہوتے ہیں جب کہ سنجیدگی اور اخلاص کے ساتھ صبر اور عزم سے یہ لوگ کامیابی حاصل کر لیتے ہیں۔ ان افراد کی سوچ حقیقی ہوتی ہے لیکن یہ اکثر سخت رویہ اختیار کر لیتے ہیں تاہم یہ لوگ زیادہ سفر کرنے کو پسند کرتے ہیں اور تنہائی سے دور رہتے ہیں۔

Tuesday, 29 September 2015


www.swatsmn.com

ایک ہزار سال قدیم مسجد کی سیر


امجد علی سحاب

ضلع سوات کے مرکزی شہر مینگورہ سے مغرب کی جانب 6.6 کلومیٹر کی مسافت پر اوڈیگرام کے علاقے میں واقع سلطان محمود غزنوی کی ایک ہزار سال پرانی مسجد اس وقت کے فنِ تعمیر کا شاہکار ہے۔ اس کی چھت زمین سے 30 فٹ اونچی ہوا کرتی تھی۔ ماہانہ دو ہزار سے زائد سیاح آج بھی ملک کے کونے کونے سے اس کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔


تاریخ کے اوراق سے گرد ہٹائیں تو پتہ چلتا ہے کہ سلطان محمود غزنوی نے دو نومبر بروز منگل سنہ 971ء کو سبکتگین کے ہاں غزنی میں آنکھ کھولی تھی۔ وہ 997ء سے اپنے انتقال تک سلطنتِ غزنویہ کے حکمران تھے۔ انہوں نے غزنی شہر کو دنیا کے دولت مند ترین شہروں میں تبدیل کیا تھا اور ان کی وسیع سلطنت میں موجودہ مکمل افغانستان، ایران اور پاکستان کے کئی حصے اور شمال مغربی بھارت شامل تھا۔


مسلمان حکمرانوں میں سے وہ پہلے حکمران تھے جنہوں نے 'سلطان' کا لقب اختیار کیا۔ انہوں نے ہندوستان پر 17 بار حملہ کیا۔ انہی حملوں میں سے ایک اس نے راجا گیرا (جو موجودہ شمالی پاکستان کے علاقوں سوات وغیرہ کا طاقتور اور خوشحال بادشاہ شمار کیا جاتا تھا) کی سلطنت پر کیا۔



اوڈیگرام میں لب سڑک سلطان محمود غزنوی مسجد کی طرف نشاندہی کرتا ہوا بورڈ۔




پہاڑی کے دامن میں مسجد کی طرف جاتا ہوا راستہ




مسجد کی طرف جانے والا کچا راستہ




مسجد کی طرف جانے والے کچے راستے کی ایک اور تصویر




مسجد کے باہر معلوماتی بورڈ.




مسجد کی قلعہ نما بیرونی دیوار.




بیرونی دیوار کا ایک اور منظر.



مشہور ہے کہ یہاں سلطان محمود غزنوی نے پیر خوشحال کو اپنی فوج کا سپہ سالار بنا کر ایک بڑی لڑائی لڑی۔ اسی معرکے میں پیر خوشحال بڑی بے جگری سے لڑا اور بالآخر زندگی کی بازی ہار بیٹھا۔ پیر خوشحال اب یہاں سوات میں ہی دفن ہے۔ اس معرکے میں سلطان کے دو بیٹے بھی سدھار گئے تھے اور وہ بھی سوات ہی میں مدفون ہیں۔ ایک خونریز لڑائی کے بعد راجا گیرا کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔


راجا کی شکست کے بعد سلطان واپس غزنی چلا گیا اور 30 اپریل 1030ء کو انتقال کر گیا۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ضلع سوات سے واپسی کے وقت یہاں ایک مسجد تعمیر کرنے کا حکم صادر کیا تھا۔


مسجد کے باہر لگے ایک بورڈ پر مسجد کی مختصر تاریخ لکھی گئی ہے جس کے مطابق سلطان محمود غزنوی نے مسجد کی بنیاد 49-1048 میں ڈالی تھی۔ یہ شمالی پاکستان کی سب سے پرانی مسجد مانی جاتی ہے۔ اس کے احاطے سے 1984 میں ایک کتبہ دریافت ہوا تھا جس پر درج تھا کہ محمود غزنوی نے اپنے بھتیجے حاکم منصور کو اس کی تعمیر کا حکم دیا تھا۔ حاکم منصور نے اپنے سپہ سالار نوشگین کی نگرانی میں اسے تعمیر کیا تھا۔ مذکورہ کتبہ ہاتھ آنے کے بعد ہی اٹلی کے ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے 1984 میں 'سلطان محمود غزنوی مسجد' کو دریافت کیا تھا۔



مسجد کا دروازہ جسے سیاحوں یا آثار قدیمہ سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے ہی کھولا جاتا ہے۔




مسجد کے احاطے میں بنا ہوا راستہ.




مسجد کے صحن میں اترنے والی سیڑھیاں.




رہائشی کمروں کی طرف جانے والا راستہ۔




طالب علموں کے رہائشی کمروں تک جانے والا راستہ۔




مسجد میں تازہ پانی لانے کی غرض سے اس دور میں بنائی گئی ایک لائن کا منظر۔




مسجد کا کچن.



آج سے ایک ہزار سال پہلے بنائی گئی اس مسجد کا طرزِ تعمیر اپنی مثال آپ ہے۔ یہاں پر گارڈز مسجد میں داخل ہونے سے پہلے سیاحوں کو ایک بات کی تلقین خاص طور پر کرتے ہیں کہ آپ کو مسجد کے احاطے میں کسی بھی چیز کو ہاتھ نہیں لگانا ہے۔ کیوں کہ اس سے ’’نیچر ڈسٹرب‘‘ ہونے کا احتمال ہے۔ بالفاظ دیگر ایک ہزار سال پہلے جو چیز جہاں رکھی گئی تھی، اگر اسے وہاں سے اٹھایا گیا، تو اس کی فطری کشش میں کمی واقع ہوجائے گی۔


مسجد تعمیر کرتے وقت اس کے صحن کے عین درمیان پانی کا ایک تالاب بنایا گیا تھا جسے آج بھی اسی شکل میں دیکھا جاسکتا ہے۔ اُس دور میں لوگ نماز پڑھنے کی خاطر وضو اسی حوض کے پانی سے کیا کرتے تھے۔ اسی طرح مسجد میں داخل ہوتے وقت اس جگہ کو بھی دیکھا جاسکتا ہے جو پانی کی سپلائی لائن کہلاتی ہے۔ مسجد سے بارش یا پھر وضو کے استعمال شدہ پانی کو نکالنے کا طریقہ بھی اس دور کی انجینیئرنگ کا ایک شاہکار ہے۔


تقریباً ایک اسکوائر فٹ نالی باقاعدہ ایک سیڑھی کی شکل میں بنائی گئی ہے، جس کی مدد سے پانی مسجد کے احاطے سے باہر نکال دیا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ مسجد کے ہال میں ایک محراب بھی نمایاں نظر آتی ہے۔ مسجد کی دیواریں عام پتھروں سے بنائی گئی ہیں۔ قبلہ رو کھڑے ہو کر بائیں جانب کی دیوار تیس فٹ اونچی ہے، یعنی آج کی تعمیرات کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ کسی بھی تین منزلہ عمارت جتنی اونچی دیوار ہے۔



مسجد کی محراب.




صحن میں بنے پانی کے حوض کا منظر جہاں نمازی وضو کیا کرتے تھے۔




مسجد کے احاطہ سے وضو یا بارش کا پانی نکالنے کے لیے بنائی گئی سیڑھی نما نالی۔




رہائشی کمروں کا ایک منظر۔




رہائشی کمروں کا ایک منظر۔




ستون جس پر مسجد کی چھت کھڑی رہتی تھی۔




مسجد کی دوسری جانب سے لی گئی تصویر جس میں 30 فٹ اونچی دیوار دیکھی جاسکتی ہے۔



قبلے سے بائیں جانب محراب سے آگے ایک چھوٹا سا راستہ رہائشی کمروں کی طرف جاتا ہے۔ دراصل اس دور میں یہ مسجد مدرسے کے طور پر بھی استعمال ہوا کرتی تھی جس میں کئی طلبہ بیک وقت دینی علوم حاصل کیا کرتے تھے۔ قبلے سے دائیں جانب ایسے دو راستے اور بھی رہائشی کمروں کی طرف نکلتے ہیں، اس لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس وقت مسجد میں زیرِ تعلیم طلبہ اور اساتذہ انہی کمروں میں رہائش پذیر تھے۔


مسجد میں جگہ جگہ چھوٹے کتبے لگائے گئے ہیں جن سے نوواردوں کو اچھی خاصی رہنمائی مل جاتی ہے۔ اسی طرح مسجد کے احاطے میں بھی ایک کتبہ لگایا گیا ہے کہ یہاں پر کبھی اسٹوپا ہوا کرتا تھا اور بدھ مت کے پیروکار اپنی مذہبی رسوم یہاں ادا کیا کرتے تھے۔


اطالوی مشن کے پاکستان میں سربرای ڈاکٹر لوکا ماریا اولیویری کے مطابق ہر ماہ آثار قدیمہ سے دلچسپی رکھنے والے دو ہزار کے قریب لوگ اس تاریخی اثاثے کو دیکھنے آتے ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اگر سوات میں آثارِ قدیمہ پر خصوصی توجہ دی گئی، تو کوئی امر مانع نہیں کہ یہ نہ صرف خیبر پختونخواہ بلکہ پورے ملک کی معیشت پر مثبت اثرات مرتب نہ کریں۔

Thursday, 24 September 2015

شاباش ڈی آئی جی صآحب

www.swatsmn.com

thanks .. cry Pakistan ....
ریٹائرڈ ڈی آئی جی افتحار حسین کا تعلق ازاخیل سے ھے. گرمی میں سائیکل چلاتے ھوئے میں نے پوچھا. کہ آپ ریٹائرڈ ڈی آئی جی ھوں.. اور آپ اتنے سخت گرمی میں سائیکل چلا رھے ھوں.. آپ کے پاس بنگلہ ، بڑی گاڑی *****ایک سانس میں کافی سوالات پوچھ لیا __ جب میں چپ ھوگیا. تو ڈی آئی جی صآحب نے ھنس کے جواب دیا.. کہ بیٹا میرے پاس اللہ تعالی ھے.. اور اُس مالک نے مجھے اتنی زبردست گاڑے (سائیکل ) دی ھے. جو مجھ سے پٹرول نھیں مانگتا ھے.. کیونکہ میرے پاس پٹرول ڈالنے کے لیے پیسے نھیں.. جو پنشن ملتا ھے.. اُس سے گھر کا نظام چلا رھا ھوں.. میں تو پھر بڑا خوش قسمت والا ھے.. کہ اللہ تعالی نے سائیکل دی ھے.. . کیونکہ میرا بیٹا آج بھی سائکل سے محروم ھے.. اور وہ مارکیٹ وغیرہ کے لیے کرائے کا گاڑی استعمال کر رھا ھے.. دوستوں یہ سب باتیں سُننے کے بعد مجھے وہ بات یاد آ گئی.. کہ دُنیا اچھے لوگوں کی وجہ سے قائیم ھے. اور پولیس کے خلاف نفرت میں تھوڑی سی کمی بھی آگئی ___ شاباش ڈی آئی جی صآحب __



Thursday, 3 September 2015

موت ہو تو ایسی کہ تاریخ رقم ہو۔۔۔۔ برٹش پاکستانی خاتون بشریٰ فاروقی


بیرون ملک مقیم وہ پاکستانی خاتون جس کی عرب ریاست میں موت پورے پاکستانی گاؤں کو افسردہ کر گئی


بئی سٹی (مانیٹرنگ ڈیسک) دبئی سے تعلق رکھنے والی برٹش پاکستانی خاتون بشریٰ فاروقی کی کوہ پیمائی کے دوران موت نے پاکستان کے شمالی علاقہ جات کے ایک گاؤں کے ہر باشندے کو سوگوار کردیا ہے۔


نیوز سائٹ thenational.ae کے مطابق بشریٰ فاروقی دیگر کوہ پیماؤں کے ساتھ ایک عمانی وادی میں مہم جوئی کررہی تھیں کہ حادثے کی شکار ہوگئیں۔ ان کی لاش ایک عمانی ہیلی کاپٹر کے ذریعے اگلے روز جائے حادثہ سے نکالی گئی۔
بلتستان میں واقع سدپارہ گاؤں کے باسیوں کو جب یہ خبر ملی تو ان پر غم کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔ اس گاؤں میں بشریٰ فاروقی کو نہایت احترام اور محبت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا کیونکہ انہوں نے یہاں کے بچوں کو تعلیم سے مال مال کرنے کیلئے بے مثال کوششیں اور مدد کی تھی۔ انہوں نے دور دراز پہاڑی گاؤں میں بچیوں کی تعلیم کا آغاز کیا اور بعدازاں سدپارہ کے 140 اور دیگر قریبی دیہاتوں کی 360 لڑکیوں کی تعلیم کا اہتمام کیا۔ انہوں نے ایک تنظیم قائم کی اور بیرون ملک سے فنڈ اکٹھے کرکے شمالی علاقہ جات کے بچوں کی تعلیم پر خرچ کئے۔
ان کی تنظیم Inspire Initiative کے جنرل منیجر غلام محمد نے بتایا ’’جب مجھے ان کی وفات کی خبر ملی تو میں رو پڑا۔ وہ ہمارے خاندان کے فرد کی طرح تھیں۔‘‘ سدپارہ کے بچے انہیں اپنی ماں کی طرح سمجھتے تھے اور ان کی دنیا سے رخصتی پر شدید غمزدہ ہیں۔ آج(بدھ) بچوں نے بڑی تعداد میں جمع ہوکر ان کیلئے دعائے مغفرت بھی کی۔

10th National Desert Hike 2025 (Rambler Badge Hike for Rover Scouts)

10th National Desert Hike 2025  (Rambler Badge Hike for Rover Scouts) Chulistan ,روحی   نیشنل ڈزرٹ ہائیک 2025 تاریخِ عالم اس امر کی شاہد ہے ...