Sunday, 30 August 2015

.......بس تهوڑا سا احساس.........

www.swatsmn.com
.......بس تهوڑا سا احساس.........

پچھلے دونوں اسلام آباد کے پوش علاقے میں ایک دوست کے ساتھ ایک کیفے جانے کا اتفاق هوا..کچھ کهانے کا موڈ نہیں تها تو بس دو فریش لائم منگوا لیے......اس کیفے میں جوسز کے لیے ایک بار ٹیبل بنا هوا تها....دوست سے گفتگو کرتے هوئے میری نظر بار ٹیبل پر پڑی تو وهاں کهڑے لڑکے نے سیون اپ کے دو کین کهولے اور گلاسوں انڈیل دیئے..پهر ایک لیموں کو چار ٹکڑوں میں کاٹا....اس کا ایک ایک ٹکڑا گلاس میں نچوڑا اور ایک ایک ٹکٹرے میں هلکا سا چیرا ڈال گلاس کے کونے میں پرو دیا...دو سٹرا نکال کر گلاسوں میں رکهے اور دستانے پہنے ایک سوٹڈ ویٹر کے ہاتھ میں ٹرے تهمائی...جس نے بہت ہی ادب سے همیں سرو کیا...
ایک سیون اپ کین کی قیمت 50 روپے ہے..ایک لیموں کی قمیت اگر مہنگا بهی هو تو 5 روپے هے..سٹرا شاید 2 روپے میں پڑتا هو گا...ٹوٹل ملا کر 109 روپے بنتے ہیں...بل آیا تو مجھ سے پہلے میرے دوست نے بل دیکهے بغیر ویٹر کو اپنا ویزا کارڈ تهما دیا..میرا دوست واش روم گیا اور اتنے میں ویٹر کارڈ اور پرچی واپس کے آیا..میں نے ویسے ہی بل اٹها کر دیکها تو تفصیل یوں تهی...
فریش لائم -/1200
جی ایس ٹی -/204
ٹوٹل -/1404
اس بل کو دیکھ کر نہ مجهے کوئی حیرت هوئی اور نہ میرے دوست نے ایسا محسوس کیا....یہ ایک مثال تهی...ایسی بہت ساری چیزیں ہیں جہاں هم بے دریخ پیسے خرچ کرتے ہیں...تین سال کی وارنٹی والا کوٹ دس هزار میں خرید کر اگلے سال دو اور لیں گے..سال میں چار جوڑے جوتوں کے لیں گے..هوٹلنگ پر هزاروں روپے برباد کریں گے...انٹرنیٹ، تهری جی، موبائل سیٹس، ٹائی، شرٹس، گهڑیاں، پین، لائٹرز، گیجٹس، لیپ ٹاپس اور پتہ نہیں کیا کیا..لیکن هم خرچ کرتے رهتے ہیں...کرنا بهی چاهیے..جب کماتے ہیں تو خرچ کرنے کے لیے ہی کماتے ہیں....
لیکن کبهی غور کریں کہ فریش لائم کے یہ 1404 روپے کسی کی زندگی میں کتنے اہم ہیں...آج بهیگتی بارش میں ایک جگہ انتظار کرتے هوئے درخت کے نیچے یہ خاتون نظر آئیں...
هم کہتے یہ ایک بهکاری هے...بهیک مانگنا ان کا پیشہ هے...کبهی حاتم طائی کی قبر پر لات مار کر پانچ روپے کا سکہ تهما دیا تو بہت اچها هے ورنہ جهڑک دیتے ہیں.....
غور کریں تو یہ ماں هے...ستر سالہ بوڑهی ماں.... جهریوں سے بهرا چہره....سفید بال.....ایک چادر میں سردی اور بارش سے بچنے کی کوشش میں جانے کس مجبوری اور کس آس میں یہاں بیٹهی انسانیت کا ماتم منا رهی تهی....کبهی اپنی ماں کی مجبوری کا تصور کیجیے اور پهر اپنے دل کو ٹٹولیے کہ کیا یہ ایک بهکاری هے؟
میں اظہار سے قاصر هوں کہ میں اس وقت کس کیفیت کا شکار هوں...میں نے ان اماں جی کو ایک نوٹ تهمایا...بڑی حسرت اور کرب سے کہنے لگیں...بیٹا اس کا کهلا هوتا تو یہاں بیٹھ کر کیا کرتی.....
میں نے کہا ماں جی بس رکھ لیں....جانے کتنی بار انہوں بے یقینی سے مجهے دیکها..پهر ایک نگاه نوٹ پر ڈالی...ایک مجھ پر ڈالی اور ایک آسمان پر ڈالی.....
اس ایک نگاه میں خوشی، طمانیت، دعا، شکر اور پتہ نہیں کیا کیا تها...
اس نگاه نے مجهے جتنی خوشی دی میں بیان کرنے سے قاصر هوں..
اس ایک نگاه مجهے اور ماں جی کو بیک وقت اپنے رب کے حضور جهکا دیا.....
فریش لائم ضرور پیجیے...لیکن اگر فریش لائم سے ختم نہیں هوتے تو کسی کی ادنیٰ خوشی سے بهی کبهی ختم نہیں هوں گے...اپنے آس پاس کے کمزور اور لاچار لوگوں پر ضرور نظر ڈالیے....
آج خوشی کا ایک راز بتاتا هوں...کہیں بہت جلدی میں جاتے هوئے...کہیں ٹریفک میں پھنسے هوئے...کہیں بارش میں چلتے هوئے..کسی ریسٹورنٹ میں بیٹهے هوئے....اپنے آس پاس دیکهیے اور کوئی اس طرح کی اماں یا کوئی بهی ضرورت مند نظر آئے تو دوڑ کر جائیے اور اسے بس ایک نوٹ تهمائیے....اور واپس آکر اپنے کام لگ جائیے..پهر دیکهیں کہ آپ کے دل کی کیا کیفیت هوتی هے..
تحرير ۔ يد بيضا

نامعلوم کا خوف:

www.swatsmn.com
نامعلوم کا خوف:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زندگی میں کوئی بھی منصوبہ ہو،
یا سوچ ہو
جس کا تعلق مستقبل سے ہو۔۔۔
جس کا راستہ مشکل ہو۔۔۔
جس کے نتائج واضح نہ ہوں۔۔۔
اس سے نبرد آزما ہونے کا آسان طریقہ ہے
کہ
سامنے کے پہلو کو دیکھا جائے۔۔۔
اس پر توجہ دی جائے۔۔۔
اسے حل کیا جائے۔۔۔
جب وہ حل ہوجائے
تو
اس سے اگلے مرحلے پر جایا جائے،
پھر اسے حل کیا جائے۔۔۔
اسی طرح مرحلہ بہ مرحلہ پورے منصوبے کو مکمل کیا جائے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خرابی کب آتی ہے؟؟؟
جب انسان پہلے مرحلے پر ہی دوسرے،تیسرے،چوتھے مرحلے کے نتائج سوچنا شروع ہو جائے۔۔۔
پریشان ہونا شروع ہوجائے۔۔۔
ٹینشن لینا شروع ہوجائے۔۔۔
پھر ایک وقت وہ آتا ہے
جب
وہ نامعلوم کے خوف کا شکا ر ہوجاتا ہے۔۔۔
Fear Of Unknown
شاید ایسا نہ ہوجائے۔۔۔
شاید ویسا نہ ہوجائے۔۔۔
یہ ہوگیا تو کیا ہوگا؟؟؟
یہ نہ ہوا تو کیا ہوگا؟؟؟
یہ انسان کو ٹینشن اور ڈپریشن میں لے جاتا ہے
اور
اس طرح انسان پہلے مرحلے کو بھی حل کرنے سے محروم ہوجاتا ہے۔۔۔
انجانے خوف کا شکار ہوجاتا ہے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب بھی زندگی میں کوئی کام،کوئی چیلنج،کوئی سوچ طاری ہو
تو
توجہ سامنے کی بات،سامنے کے منصوبے،سامنے کے مرحلے پر رکھی جائے۔۔۔
جب یہ حل ہوجائے تو پھر اگلے مرحلے پر جایا جائے۔۔۔
جو سامنے کا مرحلہ ہو،ذہنی اور جسمانی قوتیں اسی پر مرکوز ہونی چاہئے۔۔۔
یہ عملیت پسندی انسا ن کو نامعلوم کے خوف سے محفوظ رکھتی ہے۔۔۔
اسے کامیابی کا سلیقہ سکھاتی ہے
کہ
کامیابی ایک ایک سیڑھی چڑھنے سے ہی ملتی ہے۔۔۔
اسے راستے پر چلنے کی مستقل مزاجی سکھاتی ہے۔۔۔
جانا میدانی راستے پر ہو
یا
پہاڑی راستے پر۔۔۔
سفر کا آغاز پہلے قدم سے ہی ہوتا ہے۔۔۔
پھر دوسرا،پھر تیسرا قدم۔۔۔
کبھی زندگی میں اگلے مرحلوں کی باتیں،اگلے مرحلوں کے خدشات اور اگلے مرحلوں کی سوچیں پہلے مرحلے پر نہ طاری کریں۔۔۔
پہلے مرحلے کو عبور کریں،پھر دوسرے پر جائیں چاہے ذہنی صلاحیت ہو یا جسمانی صلاحیت۔۔۔
یہی کامیابی کا گُر ہے۔۔۔
یہی بات ذہنی تناؤ سے بچانے والی ہے۔۔۔
یہی نامعلوم کے خوف سے محفوظ رکھنے والی ہے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ؔوقت سے پہلے وقت کوہم طاری نہ کریں
ان دیکھے دکھوں کی ہم آبیاری نہ کریں
جو ہونا ہے وہ ہوگا،جو پانا ہے ملے گا
اس غوروفکر میں ہم،غم کی سواری نہ کریں
گزرا ہوا جوکل ہے،خواب کی صورت ہے
آنیوالا کل ہے،ان دیکھی حقیقت ہے
' آج 'میں جو ہے،ہاتھ میں وہ بند ہے
آؤ! اس' آج 'کی ہم دل آزاری نہ کریں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر:آفاق احمد
‪#‎ummahcyberteam‬
# امہ_سائبر_ٹیم
‪#‎Afaaqi‬
http://muftiadnankakakhail.com/

Thursday, 27 August 2015

اہرام مصر کس طرح تعمیر کئے جاتے تھے؟ولندیزی سائنس دانوں نے معمہ حل کر لیا

www.swatsmn.com
سائنسی ماہرین نے ایک ایسا معمہ حل کر لیا ہے جس نے کئی صدیوں سے دنیا کو حیران کیا ہوا تھا۔ معمہ یہ تھا کہ قدیم مصری اہراموں کے معماروں نے اپنے بے انتہاء بھاری اور بڑے بڑے بلاک تنصیب کی جگہ تک منتقل کس طرح کئے؟
سائنسدان کہتے ہیں کہ انہوں نے آخرکار ان اہراموں کی تعمیرمیں پوشیدہ اصرار کا پتہ چلا لیا ہے۔
دنیا سینکڑو ں برس سے اس سوال کا جواب تلاش کرتی رہی ہے کہ مزدور آخر 2000قبل مسیح میں بادشاہوں کی وادی کے اس پاراس قدر بڑے بڑے بلاک کس طرح لے جاتے رہے ہیں؟
اب سالہاسال کے حساب کتاب کے بعد طبیعات کے ماہرین نے محض دولفظوں کے ذریعے اس سوال کا جواب تلاش کر لیا ہے اور وہ دو لفظ ہیں، ’’گیلی ریت‘‘۔
ولندیزی محققین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اہل مصر بھاری بلاکس کو ایک ایسے بڑے سے تختے پر رکھتے تھے جسے سینکڑوں کارکن کھینچتے تھے اور اس منتقلی کے لئے وہ صرف اس بڑے سے تختے کے سامنے ریت پر پانی ڈال کر اسے گیلا کرتے جاتے تھے۔
ایمسٹرڈیم یونیورسٹی میں کئے جانے والے تجربات نے ثابت کیا ہے کہ ریت میں گیلے پن کا درست تناسب کھینچنے کے لئے مطلوب طاقت کو نصف کر دیتا ہے۔
نہایت سادگی سے، سامان کی منتقلی کے لئے استعمال ہونے والے بڑے سے تختے کے سامنے خشک ریت کا ڈھیر لگا دیا جاتا ہو گا جو اس تختے کی حرکت کو ناممکن بنا دیتا ہو گا۔
لیکن یہی تختہ اس وقت نہایت نفاست سے سرکنے لگتا ہو گا جب پانی کی درست مقدار کی حامل ریت پر اسے سرکایا جاتا ہو گا۔ تجربات ثابت کرتے ہیں کہ تختہ گیلی ریت پر نہایت آسانی سے حرکت کرتا ہے۔
ریت پر تختے کا لیبارٹری ایڈیشن تیار کرنے والی سائنسدانوں کی ٹیم کاکہنا ہے ، ’’ممکنہ طور پر اہل مصر اس آسان سے حل سے واقف تھے۔ جیہوتی ہو ٹیب کے مقبرے کی دیوار پر لگی ایک تصویر واضح طور پر ظاہر کرتی ہے کہ کھینچے جانے والے تختے کے سامنے کھڑا ایک شخص ، عین اس تختے کے سامنے ریت پر پانی ڈال رہا ہے۔‘‘
لیکن یہ تحقیق کہ قدیم لوگوں نے یہ سب کرنے کا اہتمام کس طرح کیا، ہمیں جدید دور کے نقل و حمل کے نظام کو مزید مؤثر بنانے اور دانے دار اشیاء کو پراسس کرنے میں بھی مدد دے سکتی ہے ۔اس وقت ان کاموں کے لئے استعمال ہونے والی توانائی دنیا میں توانائی کی کل کھپت کے تقریباً دس فیصد پر مشتمل ہے۔

Tuesday, 25 August 2015

بچوں کی پرورش اور نگہداشت کی ذمہ داریاں بانٹنے سے جذباتی طور پر زیادہ سے اطمینان محسوس کرتے ہیں

www.swatsmn.com
ایک امریکی تحقیق کے مطابق بچوں کی پرورش اور نگہداشت کی ذمہ داریاں بانٹنے سے جوڑے نہ صرف خوش رہتے ہیں بلکہ ایسا کرنے سے ان کی جنسی تسکین بھی بڑھتی ہے۔
487 خاندانوں پر تحقیق سے پتہ چلا کہ جو والدین بچوں کی نگہداشت کے فرائض آپس میں برابر بانٹ لیتے ہیں وہ جنسی اور جذباتی طور پر زیادہ سے اطمینان محسوس کرتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق جہاں عورتیں بچوں کی نگہداشت میں زیادہ حصہ ڈالتی ہیں وہاں مرد اور عورت دونوں ہی کم مطمئن نظر آئے۔
لیکن تحقیق کار کہتے ہیں کہ جو مرد بچوں کی نگہداشت میں زیادہ وقت گزارتے ہیں ان پر اتنا اثر نظر نہیں آتا۔ یہ نتائج ایک تحقیق سے اخذ کیے گئے ہیں جس کا نام 2006 میریٹل اینڈ ریلیشن شپ سٹڈی ہے۔
اس ڈیٹا کو امریکن سوشیالوجیکل ایسوسی ایشن میں پیش کیا جا رہا ہے۔ اس میں دکھایا گیا ہے کہ وہ جوڑے جہاں خواتین بچوں کی نگہداشت میں 60 فیصد سے زیادہ حصہ ڈالتی ہیں، خصوصاً اصول سازی، تعریف کرنے اور کھیلنے میں، ان کے تعلقات میں اطمینان کم اور لڑائی بہت زیادہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنی جنسی زندگی کے متعلق بھی کم خوش ہیں۔
تحقیق کے سربراہ جارجیا یونیورسٹی میں سوشیالوجی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ڈینیئل کارلسن کہتے ہیں کہ تحقیق کا سب سے اہم نتیجہ یہ ہے کہ جوڑوں کے تعلقات اور جنسی زندگی میں نگہداشت کے مسائل وہیں معیارِ زندگی کو متاثر کرتے ہیں جہاں عورت بچوں کی نگہداشت کی ذمہ داریاں زیادہ سنبھالتی ہے۔

Thursday, 20 August 2015

وہ 7 عادتیں جو آپ کی زندگی کم کرسکتی ہیں

www.swatsmn.com
ہرشخص لمبی اور صحت مند زندگی گزارنے کی خواہش رکھتا ہے لیکن صحت مند زندگی گزارنے کے لیے وہ کچھ  چند چیزوں کا خیال نہیں رکھتا جو اس کے لئے نقصان دہ ہوتی ہیں اور اس سے اس کی زندگی بتدریج کم ہوتی ہے۔
لمبی چھٹی پرجانا:
کبھی کبھی انسان روزمرہ کی روٹین سے اکتا جاتا ہے اورخود کو ذہنی اورجسمانی آرام دینے کے لیے کام سے لمبے وقفے کا فیصلہ کر تا ہے  لیکن وقفے کے دوران بہت زیادہ آرام بھی اس کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے کیونکہ ماہرین کے مطابق کام کے بعد بہت لمبا آرام مدافعتی نظام کو کمزور بھی کردیتا ہے۔
ٹیلی ویژن دیکھنا:
برطانوی جریدے اسپورٹس اینڈ میڈیسن کی رپورٹ کے مطابق ایک گھنٹہ ٹی وی دیکھنے سے انسان کی زندگی سے 22 منٹ کم ہو جاتے ہیں یعنی اگر آپ تقریبا روزانہ 6 گھنٹے ٹی وی دیکھتے ہیں تو آپ کی زندگی سے پانچ سال کم ہو سکتے ہیں جو دراصل بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔
زیادہ نیند لینا:
نیند لینا انسان کے لیے بہت ضروری ہے لیکن بہت زیادہ سونے سے آپ کی عمر گٹھ بھی سکتی ہے۔8 گھنٹے سے زیادہ نیند لینا صحت کے مضرہے تاہم باقاعدگی سے نیند لینا بھی ضروری ہے۔
بیٹھے رہنا:
جرنل آف دی امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن کی انٹرنل میڈیسن کی تحقیق کے مطابق دن میں 11 گھنٹے بیٹھنے سے موت کا خطرہ 40 فیصد تک بڑھ جاتا ہے جس کے باعث دفترکے اوقات میں یا عام طورپرکام کے درمیان بھی وقفہ لیتے رہنا چاہیئے۔
اکیلا رہنا یا ڈپریشن کا شکار ہونا:
انسان کے لیے کسی کا ساتھ، کسی سے بات چیت کرنا ضروری ہوتا ہے جہاں کچھ لوگ ذہنی دباؤ سے دوررہنے کے لیے اکیلے ہی رہنا پسند کرتے ہیں لیکن دراصل وہ خود کو دنیا کی خوشی سے محروم کر رہے ہوتے ہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈپریشن عمر کم ہونے کی ایک بڑی وجہ ہے۔
بے روزگاری:
بے روزگاری انسان کو ڈپریشن کی جانب تو لے کر ہی جاتی ہے لیکن ایک تحقیق کے مطابق بے روزگارافراد میں اچانک موت کا شکار ہوجانے کا خطرہ ملازمت پیشہ افراد کے مقابلے میں 63 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔
ورزش:
صحت مند زندگی کے لیے ورزش انتہائی ضروری ہے لیکن صرف شوق کی وجہ سے ضرورت سے زیادہ ورزش کرنا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

دنیا کے وہ ایئرپورٹ جہاں لوگ پرواز میں تاخیر کا انتظار کرتے ہیں

www.swatsmn.com
ن ایئر پورٹس پر4 ڈی سینماؤں، انڈرو سرفنگ، گالف کورسز سے لیکر سوئمنگ پول تک ہر سہولت موجود ہے، فوٹو: فائل
ٹرین ہو یا جہاز ان دونوں سواریوں کا تاخیر سے پہنچنا ہر شخص کے لیے پریشانی کا باعث بنتا ہے اور ایسے میں لوگ غصے میں بھی آجاتے ہیں لیکن آپ کو یہ سن کر حیرت ہوگی کہ دنیا کے کچھ ایئر پورٹ ایسے بھی ہیں جہاں پروازمیں تاخیر ہوجانے پر لوگ خوشی  اظہار کرتے ہیں اور اس تاخیر کا خوب لطف اٹھاتے ہیں۔
دنیا کے ان خوبصورت ایئر پورٹس پر4 ڈی سینماؤں، انڈرو سرفنگ اورگالف کورسز سے لے کر سوئمنگ پول تک کی سہولت موجود ہے جس سے تاخیر کا شکار مسافر بغیر کسی خرچے کے لطف اٹھاتا ہے اور اسے وقت گزرنے کا پتا ہی نہیں چلتا۔
http://www.express.pk/wp-content/uploads/2015/08/p1.jpg
انچون ایئر پورٹ جنوبی کوریا: اس ایئرپورٹ پر تاخیر کا شکار مسافروں کو شاپنگ کا موقع ملتا ہے یہ ایئر پورٹ 2 فور ڈی سینماؤں، دلکش میوزیم، 7 حسین باغات، 18 ہول گالف کورس اور آئس اسکیٹنگ رنک کے ساتھ مسافروں کو ایسی تفریح فراہم کرتا ہے کہ وہ بھول جاتے ہیں کہ ان کی فلائٹ کئی گھنٹے تاخیر کا شکار ہے اس کے علاوہ ایئر پورٹ کے کلچر سینٹر میں لائیو میوزک اور رقص کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے جب کہ اس ایئر پورٹ کو دنیا کے صاف ترین ایئر پورٹ کے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا ہے۔
http://www.express.pk/wp-content/uploads/2015/08/p2.jpg
چانگی ایئر پورٹ سنگاپور: اس ایئر پورٹ کی دلکشی اور سحر سے شاید ہی کوئی مسافر خود کو الگ رکھ سکے یہاں گیمرز کے لیے ایکس بکس 360 اور پلے اسٹیشن گیمز، فلم بینوں کے لیے سینما اور بونوں کی دنیا کا شو بھی لوگوں کو تفریح فراہم کرتا ہے جب کہ سوئمنگ پول، شاورز اور آرام کرنے والوں کے لیے سونے کا پرسکون ماحول بھی فراہم کیا جاتا ہے۔ اس ایئر پورٹ کی ایک اہم خوبی اس میں سجائے گئے 11 انڈور باغات جن میں لگے 5 لاکھ سے زائد پودے اور آبشاریں مسافروں کو اپنے سحر میں جکڑ لیتے ہیں اس کے علاوہ ٹرمینل 2 پر میں موجود سن فلاور گارڈن بھی مسافروں کو راحت اور سکون دیتا ہے اور ائیر پورٹ پر بنائی جانے والی سب سے بڑی واٹر سلائیڈ بچوں کو مصروف رکھتی ہے۔
http://www.express.pk/wp-content/uploads/2015/08/p3.jpg
ہانگ کانگ ایئر پورٹ: اس ایئر پورٹ کا سب سے اہم حصہ 4 ڈی آئی میکس سینما ہے جہاں پر کئی طرح کے سینسری ایفکٹس مسافروں کو اپنی خوبصورتی میں جکڑے رکھتے ہیں اس کے علاوہ 9 ہول گالف کورس، کمپیوٹر سے آپریٹ کیا جانے والا باسکٹ بال کورٹ اور آئی اسپورٹس جم بھی لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا رہتا ہے جب کہ بچوں کے لیے مختلف پروفیشنز کے لباس زیب تن کرنے کے مواقع بھی موجود ہیں۔
http://www.express.pk/wp-content/uploads/2015/08/p4.jpg
کوالالمپور انٹرنیشنل ایئر پورٹ: کچھ لوگ اس ایئر پورٹ کو جنگل میں ایئر پورٹ کا نا م بھی دیتے ہیں کیوں کہ اس ایئر پورٹ کو چاروں طرف سے 86 اقسام کے درختوں سے مزین جنگل نے گھیرا ہوا ہے تاکہ لوگ خود کو ایک پرسکون ماحول میں محسوس کرتے ہوئے آرام کریں۔ قدرتی روشنی سے لطف اندوز ہونے کے لیے پسینجر ٹرمینل کمپلیکس  شیشے سے بنایا گیا ہے جب کہ چھت کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ سورج کی روشنی اندر آسکے اس کے علاوہ 80 اور 422 کمروں پر مشتمل 2 بڑے ہوٹل بھی اس ایئر پورٹ کا حصہ ہیں۔
http://www.express.pk/wp-content/uploads/2015/08/p5.jpg
میک کران انٹرنیشنل ایئرپورٹ لاس ویگاس: اس ایئر پورٹ کی اہم خوبی یہ ہے کہ اس میں 1234 مشین پر مشتمل کیسینو ہے جس سے مسافر خوب لطف اندوز ہوتے ہیں جب کہ اگر یہاں سے خالی ہاتھ ہوجائیں تو پھر اس پر موجود 5 بڑے آرٹ کے شاہکاروں سے اپنا دل بہلائے۔
http://www.express.pk/wp-content/uploads/2015/08/p6.jpg
دبئی انٹرنیشنل ایئر پورٹ: اس ایئرپورٹ کو خریداری یا شاپنگ کی جنت بھی کہا جاتا ہے اسی لیے یہاں 58 ہزار اسکوائر فٹ پر بنا دنیا کا سب سے بڑا ڈیوٹی فری اسٹورموجود ہے جس پر شاپنگ کرتے لوگوں کو وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوتا  اور جو شاپنگ نہ کرنا چاہیں وہ زینگ گارڈن اور سوئمنگ پول سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں جب کہ یہاں پر موجود جی فورس جم مسافروں کو اپنا وزن کم کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
http://www.express.pk/wp-content/uploads/2015/08/p7.jpg
میونخ ایئرپورٹ: اس ایئرپورٹ پر دنیا کا سب سے بڑا بیئر گارڈن موجود ہے یہاں مسافر بیئر کے ساتھ ساتھ میوزک سے بھی لطف اندوز ہوتے ہیں لیکن مسافروں کے لیے اس سے بھی زیادہ پرکشش یہاں مصنوعی موجوں سے بنا سرفنگ ایریا ہے جو سمندر جیسی تفریح فراہم کرتا ہے۔
http://www.express.pk/wp-content/uploads/2015/08/p8.jpg
وینکور انٹرنیشنل ایئر پورٹ: ایئرپورٹ پر 20 ہزار گیلن ٹینک میں بنا ایکوا ونڈر لینڈ 5 ہزار آبی حیات کےساتھ لوگوں کو اپنی جانب کھینچتا ہے جب کہ بچوں کو مصروف رکھنے کے لیے 4 اسپورٹس ایریاز اور فوڈ آؤٹ لیٹس موجود ہیں۔
http://www.express.pk/wp-content/uploads/2015/08/p9.jpg
ہیتھرو انٹرنیشنل ایئر پورٹ لندن: یہ ایئر پورٹ مہنگی ترین شاپنگ کے لیے مشہور ہے یہاں 11 ہزار اسکوائر فٹ پر بنا ہیرروڈس اسٹور کی وجہ سے اس ایئر پورٹ کو اسکائی ٹریکس ورلڈ ایئر لائن ایوارڈ بھی مل چکا ہے اس کے ٹرمینل ایک سے 4 میں موجود ہائیڈرو تھراپی شاور سے بھی مسافر خوب لطف اندوز ہوتے ہیں۔
http://www.express.pk/wp-content/uploads/2015/08/p10.jpg
قطر ایئرپورٹ: قطر ایئرپورٹ کے داخلے پر بنا بہت بڑا ٹیڈی بیئر لیمپ لوگوں کی توجہ اپنی جانب کھینچ لیتا ہے جب کہ گولڈ پلیٹیڈ کافی شاپس بھی مسافروں کو سکون اور راحت دیتی ہے۔

پرکشش اور متاثر کن سی وی

www.swatsmn.com
نوجوان جب بھی ملازمت کی تلاش شروع کرتے ہیں تو ان کے سامنے پہلا مرحلہ ایک پرکشش اور متاثر کن سی وی ( ریزومے) ہوتا ہے اور آج کل انٹرنیٹ کے اس دور میں ایک اچھے سی وی کے کئی نمونے مختلف ویب سائٹس پر مل جاتے ہیں تاہم ان میں بھی کچھ خامیاں ہوتی ہیں جو سی وی کو کچھ دھندلا سی دیتی ہیں اگر سی وی بنانے سے قبل ان پر توجہ دے دی جائے   تو آپ کا سی وی کسی بھی کمپنی کے ایچ آر ڈیپارٹمنٹ کو کال کرنے پر مجبور کردے گا۔
میں (ٹائپو) سےگریز کریں:
اگر آپ سی وی میں ایسے جملوں کا استعمال کریں گے جس میں ’میں‘ کا استعمال زیادہ ہوتو ایسی سی وی کو ایچ آرمینجر دوسری نظر ہی نہیں ڈالے گا۔ اس حوالے سے کچھ سینئر ایچ آرمینیجرزکا کہنا ہے کہ میں بہت کیریئراورینٹیڈ شخص ہوں یا میں نے فلاں جگہ سے گریجویٹ کیا ہے وغیرہ جیسے جملوں آپ کے جاب کے لیے منتخب ہونے کے امکانات کو کم کردیتے ہیں لہذا ان سے پرہیز کریں۔ ٹائپواسٹائل اور اسپیلنگ کی غلطیوں سے احتراز کریں۔ ایچ آر مینیجرز  کا کہنا تھا  کہ سی وی پر عدم توجہی سامنے والے پر تاثر ڈالتا ہے کہ جو شخص اپنا سی وی توجہ سے نہیں بنا سکتا ہے وہ اس کے بزنس پر کیسے توجہ سے کام کرے گا۔
کنفیوزنگ مقاصد اور عام استعمال جملوں کا استعمال نہ کریں:
؎کچھ ٹیلنٹ مینیجرز کہتے ہیں  کہ آپ کے مقاصد بالکل واضح ہونے چاہیئں جب کہ چیلنجنگ پوزیشن کا متلاشی اور پیشہ وارانہ انداز میں آگے بڑھنا چاہتا ہوں جیسے مقاصد کو سامنے رکھیں اور اپنی صلاحیتوں کو زیادہ واضح کریں۔ عام طور پر ہر سی وی میں عام ہوجانے والے جملوں کا استعمال کم کریں مثال کے طور پر میرا ریکارڈ ثابت کرتا ہے، اعلی کمیونی کیشن صلاحتیں رکھتا ہوں، انڈر پریشر اچھا کام کرسکتا ہوں اور نتائج دینے والا ہوں وغیرہ۔
مبالغہ آرائی سے پرہیز کریں: عام طور پر سی وی بناتے وقت نوجوان اپنے ماضی سے متعلق تعریف کرتے وقت مبالغہ آرائی یا پھر کبھی کبھی جھوٹ سے کام لیتے ہیں لیکن یاد رکھیں آج کے اس انٹرنیـٹ کے دور میں کمپنی آپ کے ریکارڈ کی تصدیق کر سکتے ہیں جو بعد میں شرمندگی کا باعث بنتا ہے۔
مختصر اور جامع ہو:
اگرچہ سی وی کا کوئی آئیڈل سائز تو نہیں ہے لیکن یہ زیادہ طویل نہیں ہونا چاہئے کہ پڑھنے والا اکتاہٹ محسوس کرنے لگے جب کہ اس کی طوالت اتنی ہو کہ یہ آپ کی صلاحیتوں اور تجربے کی بھر پور عکاسی کرے۔ عام طور ہ زیادہ سے زیادہ سی وی  2 صفحات پر مشتمل ہونا چاہئے اور کوشش کریں اپنی صلاحتیں، تجربہ، تعلیم اور آپ کمپنی میں کیا قیمتی اثاثے کا اضافہ کرسکتے ہیں کو اسی کے اندر پورا کرلیں تاہم سی وی کو مختصر کرنے کی کوشش میں اپنی کوئی اہم بات نہ بھولیں۔
سادہ فارمیٹ:
سی وی کو رنگین، فینسی، مختلف ٹیکسٹ سائز اور مختلف فونٹس کا شاہکار مت بنائیں۔ سی وی کا فارمیٹ سادہ، آسانی سے پڑھے جانے والا اور اپیلنگ ہونا چاہئے، یاد رکھیں سیوی کو زیادہ خوبصورت بنانے کی کوشش پڑھنے والے کے سر کا درد بن سکتا ہے۔
کسی اور کے سی وی کی کاپی نہ کریں: بہت سے نوجوان اپنے سی وی پر بھر پورتوجہ نہیں دیتے اورحیرت ہے کہ زندگی کے اہم ترین موڑ پرغفلت اورسستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلے سے بنے کسی دوست کی سی وی کی کاپی کرلیتے ہیں جو کہ آپ کی ذات کی ترجمانی نہیں کرتا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک ہی صفحے کا سی وی کیوں نہ بنائیں لیکن خود بنائیں تاکہ وہ حقیقی نظر آئے۔

10th National Desert Hike 2025 (Rambler Badge Hike for Rover Scouts)

10th National Desert Hike 2025  (Rambler Badge Hike for Rover Scouts) Chulistan ,روحی   نیشنل ڈزرٹ ہائیک 2025 تاریخِ عالم اس امر کی شاہد ہے ...