Saturday, 17 January 2015

فراہم کردہ شواہد کو ناقابل اعتبار قرار دیتے ہوئے

www.swatsmn.com
جعلی شیخ بن کر کھلاڑیوں کو پھنسانے والے صحافی کے ثبوت بھی فرضی نکلے۔
پاکستانی فکسنگ اسکینڈل منظر عام پر لانے والے مظہر محمود کو لندن کی عدالت نے جھوٹا قرار دے دیا، انھیں اخبار سے پہلے ہی معطل کیا جا چکا، ان کی رپورٹ پر انگلینڈ میں گرفتار کیے جانے والے 13 فٹبالرز کو باعزت بری کردیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق مظہر محمود انگلینڈ کے معروف اخبار ’دی سن‘ کے لیے کام کرتے ہیں، وہ اسی کے ایک جریدے ’ورلڈ آف نیوز‘ کی جانب سے اسٹنگ آپریشن کے دوران 2010 میں پاکستانی کرکٹ کا سب سے بڑا فکسنگ اسکینڈل منظر عام پر لائے تھے، اس میں 3 کرکٹرز سلمان بٹ، آصف، عامر اور ان کے ایجنٹ مظہر مجید کو سزائیں ہوئیں۔
مذکورہ صحافی کا طریقہ کار یہ تھا کہ وہ جعلی شیخ بن کر مختلف کھلاڑیوں اور دیگر معروف شخصیات سے مل کرانھیں کرپشن پر اکساتے۔ پھر اپنی اسٹوری کے ساتھ وہ شواہد پولیس کو دے دیتا تھا۔ ورلڈ آف دی نیوز جاسوسی کے الزامات پر جب بند ہوا تو مظہر محمود دی سن کے’ آن سنڈے‘ جریدے میں کام کرنے لگے۔ ان کی رپورٹ پر انگلینڈ میں دسمبر 2013 میں پہلے 6 فٹبالرز کو گرفتار کیا گیا اور پھر اپریل میں مزید7کو پکڑا گیا۔ اب کراؤن پراسیکیوشن سروس نے جعلی شیخ مظہر محمود کے ایک پاپ اسٹار تولیسا کونٹوسٹیولس کے بارے میں دیے گئے شواہد مسترد ہونے کے بعد فٹبالرز کو تمام الزامات سے بری کردیا۔
صحافی نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ تلیسا گذشتہ سال جولائی میں کوکین کی ایک ڈیل میں مدد دینے کو تیار ہوگئی تھیں،ان کے ریپر دوست مائیکل کوبس کو بھی اس کیس میں گرفتار کیا گیا لیکن کورٹ میں ٹرائلز کے دوران مظہر کے شواہد ناصرف ناکافی قرار پائے،اس وجہ سے عدالت نے انھیں جھوٹا بھی قرار دے دیا جس کے بعد ’’سن اخبار‘‘ نے انھیں معطل کردیا ہے۔ اسی وجہ سے پراسیکیوشن نے مظہر کے فراہم کردہ شواہد کو ناقابل اعتبار قرار دیتے ہوئے تمام 13 فٹبالرز پر سے الزامات بھی واپس لے لیے ہیں۔

Thursday, 15 January 2015

حضور ﷺ کی شان میں گستاخی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی

www.swatsmn.com
ترک وزیراعظم احمد داؤد اوغلو نے پیغمبر اسلام کی شان میں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کی شدید مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ حضور ﷺ کی شان میں گستاخی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور اس کے خلاف ہر سطح پر لڑا جائے گا۔
غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ترک وزیراعظم نے یورپی یونین کے رہنماؤں سے ملاقات کے لئے برسلز روانگی سے قبل انقرہ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ترکی پیرس میں ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کرتا ہے لیکن ان حملوں کی آڑ میں پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور اس کے خلاف ہر سطح پر لڑا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کو اظہار رائے کی آزادی سے نہیں جوڑا جاسکتا، چارلی ہیبڈو کے اس عمل سے عالم اسلام میں شدید غم و وغصہ پایا جاتا ہے اور اپنے ملک میں پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخی کو ہر صورت روکیں گے۔
ترک وزیراعظم نے واضح کیا کہ جس طرح پیرس حملے سے متعلق ترکی کا موقف واضح ہے اسی طرح مسلمان ہونے کے ناطے پیغمبراسلام کی ناموس کے تحفظ کے لئے پرعزم ہیں اورکسی کو اپنے نبی کی شان میں گستاخی کی اجازت نہیں دے سکتے۔
واضح رہے کہ فرانسیسی ہفت روزہ میگزین چارلی ہیبڈو نے گزشتہ روز گستاخانہ خاکے شائع کئے تھے جبکہ ترکی کے بعض اخبارات اور ویب سائٹس نے بھی چارلی ہیبڈو کے شمارہ سے چند مضامین شائع کئے ہیں۔

چھوٹے بچوں کے سیکھنے اور یادداشت کی کلید لمبی نیند ہے۔

www.swatsmn.com
ائنس دانوں کا کہنا ہے کہ چھوٹے بچوں کے سیکھنے اور یادداشت کی کلید لمبی نیند ہے۔
12 ماہ سے کم عمر بچوں پر کیے جانے والے تجربات سے معلوم ہوا کہ اگر بچے نئے کام کرنے کے بعد لمبی نیند نہ سوئیں تو وہ ان کاموں کو یاد نہیں رکھ پاتے۔
یونیورسٹی آف شیفیلڈ کے سائنس دانوں نے خیال ظاہر کیا ہے کہ کوئی نئی چیز سیکھنے کا بہترین وقت سونے سے تھوڑی دیر پہلے ہوتا ہے اور انھوں نے رات کے وقت پڑھنے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نیند عمر کے ابتدائی برسوں میں زیادہ اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔
بچے بڑوں کے مقابلے پر زیادہ سوتے ہیں۔ تاہم سائنس دانوں نے کہا ہے کہ بچوں کی زندگی کے پہلے سال میں نیند کے کردار کے بارے میں معلومات ’انتہائی کم‘ ہیں۔
سائنس دانوں نے چھ سے 12 ماہ کے بچوں کو ہاتھوں پر پہننے والے پتلوں کی مدد سے کچھ کھیل سکھائے۔ یہ سیکھنے کے بعد آدھے بچے چار گھنٹوں کے اندر اندر سوئے جب کہ دوسرے نصف یا تو سوئے ہی نہیں یا پھر آدھے گھنٹے سے کم وقت کے لیے سوئے۔
اگلے دن بچوں سے کہا گیا کہ وہ پچھلے دن سیکھا گیا کھیل دہرائیں۔ اس تحقیق کے نتائج پروسیڈنگز آف دا نیشنل اکیڈمی آف سائنسز میں شائع ہوئے، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ گہری نیند سونا سیکھنے کے لیے بہت اہم ہے۔
جو بچے جو خاصی دیر سوئے تھے، وہ ڈیڑھ کھیل دہرانے کے اہل تھے۔ اس کے مقابلے پر جو بچے سیکھنے کے بعد نہیں سوئے، یا کم دیر کے لیے سوئے، وہ سب کچھ بھول گئے تھے۔
یونیورسٹی آف شیفیلڈ کی ڈاکٹر جین ہربرٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جو بچے سیکھنے کے بعد سو گئے تھے، انھوں نے کھیل اچھی طرح سیکھ لیا، لیکن جو نہیں سوئے، وہ بالکل نہیں سیکھ سکے۔‘
انھوں نے کہا کہ عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ سیکھنے کے پوری طرح جاگا ہوا ہونا ضروری ہے، لیکن اس کی بجائے ’سونے سے قبل کے حالات سب سے زیادہ اہم ہیں۔‘
اس تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ بچوں کے ساتھ سونے سے پہلے کتابیں پڑھنا اور انھیں پڑھ کر سنانا کس قدر اہم ہے۔
گذشتہ برس ایک تحقیق میں نیند کے دوران یادداشت کے مکینزم پر روشنی ڈالی گئی تھی۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ نیند کے دوران دماغی خلیوں کے درمیان نئی کڑیاں تشکیل پاتی ہیں۔
یونیورسٹی آف سرے کے نیند کے ماہر پروفیسر ڈیرک جان جک نے چھوٹے بچوں کو زیادہ سونا چاہیے، تاہم ’اس کا مطلب یہ نہیں کہ تربیت کے دوران ہی اونگھا جائے۔‘

Umeed

www.swatsmn.com






Wednesday, 7 January 2015

upcoming news website

www.swatsmn.com

https://www.facebook.com/pages/elumnewscom/265540196979738

Sunday, 4 January 2015

عالمی ”پشتو امن مشاعرہ“ سوات

www.swatsmn.com
عالمی ”پشتو امن مشاعرہ“ سوات
روشنی
فضل محمود رو خان
اکیس نومبر 2014ءکو ودودیہ ہال سیدو شریف میں پختو کا ایک عالمی مشاعرہ منعقد ہوا۔ اس مشاعرہ پر فیاض ظفر ، گوہر علی گوہر اور شہزاد عالم نے اپنے نقطئہ نظر سے قارئین کو آگاہ کرنے کے لئے مختلف تاریخوں سے اخبارات میں لکھے ہیں۔ آزادئی رائے اور آزادئی اظہار کی رو سے یہ ان کا حق تھااور آئین پاکستان ہر کسی کو اس کا حق دیتا ہے۔ اس سے کسی خوشی یاخفگی کوئی معنی نہیں رکھتے۔ میں بھی مذکورہ مشاعرہ پر اپنی رائے کا اظہار کرنے جا رہا ہوں۔ جو سچ ہے اور جو حقیقت ہے وہی رقم کرنے جا رہا ہوں۔ اب خواں کسے ”بڑے“ کے طبع نازک پر گراں ہی کیوں نہ گزرے۔
فیاض ظفر صاحب نے اس مشاعرے پر اپنا رونا رویا ہے۔ یہ رونا اس کے مزاج کے خلاف ہے۔ میں اس کے تحاریر کا ایک عرصہ سے قاری چلا آرہا ہوں۔وہ تحریر کا باغی ہے۔ وہ جب قلم اُٹھا تا ہے تو کسی کو خاطر میں ہیں لاتا۔ اس کا یہی انداز مجھے بھاتا بھی ہے۔لیکن اس کالم میں جو کچھ اس نے رقم کیا ہے، ایک طرح سے تاریخ لوگوں کے سامنے رکھی ہے۔ مشاعرہ فیاض ظفر کے دم قدم سے یقینی ہوا۔ یہ تو وہی بات ہوئی کہ سیج سجی ہے اور دولہا میاں غائب۔ البتہ دولہن کی ڈولی کو ڈپٹی کمشنر سوات محمود وزیر ، پارسا کے سردار زیب، عطاءاللہ جان اور عثمان اولس یار نے اپنے کاندھوں ]ر اُ ٹھا رکھا تھا۔ باراتیوں سے ودودیہ ہال کچا کچ بھرا تھا۔ کافی شعراءآئے ہوئے تھے۔ اس موقع پر اگر دولہا( فیاض ظفر) بھی ہوتا تو محفل کی رونق دوبالا ہو جاتی۔فیاض ظفر سے عرض ہے کہ اگر آپ اس مشاعرہ کے لئے ”سوات ادبی سانگہ“ کا پلیٹ فارم استعمال کرتے ، تو جا کچھ آپ کے ساتھ اس مشاعرہ میں ہوا،وہ کبھی نہ ہوتا۔ آپ کو کانٹا سمجھ کر یوں نہ پھینکا جاتا۔ کیو ں کہ ” سوات ادبی سانگہ“ ننگ، پت اور غیرت کا نام ہے۔ سوات ” ادبی سانگہ“ ایک ایسی تنظیم ہے جو سوات کے ادیبوں ، شاعروں اور دانش وروں کے حقوق کے لئے ہمیشہ سے لڑتی چلی آرہی ہے اور مستقبل میں بھی لڑے گی۔ اسے سوات کے باہر ادیب اور شاعر کی عزت کا خیا ل ہے۔ خواہ کوئی اس کا رکن ہو یا نہ ہو۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
بیس نومبر کو سوات کے ادباء و شعراء کے حق میں مذکورہ مشاعرے کے بارے میں جو بیان آیا تھا ، وہ کسی شخص مخصوص نے نہیں بلکہ ”سوات ادبی سانگہ“ہی نے جاری کیا تھا۔ ”سوات ادبی سانگہ“ نہیں چاہتی کہ سوات کا ادیب اور شاعر کسی کی نظروں میں گر جائے۔ گوہر علی گوہر صاحب (بٹ خیلہ) نے جو کالم شائع کیا ہے، وہ بھی مبنی بر حقیقت ہے۔ ”عالمی مشاعرہ“ بالکل ایسا نہیںہوتا۔ وہ ” عالمی معیار“ کا ہوتا ہے۔ میں نے کئی عالمی مشاعروں میں شرکت کی ہے۔ کوئٹہ کاعالمی مشاعرہ میں نے دیکھا ہے اور اسلام آباد کے عالمی مشاعروں اور پروگراموں میں مجھے بھی مدعو کیا جاتا رہا ہے۔ یہاں تو چراغ تلے اندھیرا تھا۔ سوات کے ادیبوںاور شاعروں کو کوئی پوچھنے والا نہ تھا۔ اس مشاعرہ کے ”بڑوں“ نے سوات کے ادیبوں اور شاعروں کو سرے سے اعتماد میں لیا ہی نہیں تھا۔ پندرہ لاکھ کی خطیر رقم میں اس کے لئے ایسی تیاریاں ہو سکتی تھی کہ دنیا یاد رکھتی۔
ڈپٹی کمشنر محمد اسلم وزیر صاحب کو ”سوات ادبی سانگہ“ ہی نے ڈاکٹر فیاض ظفر صاحب کی کتاب کی تقریب رونمائی (پانچ ستمبر 2104ئ) کے موقع پر مدعو کیا تھا۔ مذکورہ تقریب سوات پریس کلب میں ان کی صدارت میں تاریخ کا حصہ بن چکی ہے۔ خان محمد افضل خان لالا مہمان خصوصی تھے۔مجھے یاد کہ مذکورہ تقریب ہی میں ڈپٹی کمشنر نے عالمی مشاعرہ کی نوید سنائی تھی۔ آخر میں جب ڈپٹی کمشنر صاحب واپس جا رہے تھے، تو غلام فاروق خان جو سوات پریس کلب کے اہم عہدہ پر فائض ہیں، نے ان سے سکندر حیات کسکر کا تعارف کرایا تھا ۔ ڈپٹی کمشنر صاحب نے اس وقت کسکر سے کہا تھا کہ مجوزہ عالمی پشتو مشاعرے میں آپ کو مہمان خصوصی کے ساتھ جگہ دی جائی گی، لیکن عالمی مشاعرہ کے روز کسکر صاحب کو کسی نے گھاس تک نہیں ڈالی۔ اس طرح حمید اقبال گل رنگزئی جو کئی معیاری کتب کا مصنف ہے اورجس کی شاعری کو پسند بھی کیا جاتا ہے، وہ اس مشاعرے کے حوالے سے چیختا رہا، چلاتا رہا لیکن اسے بھی کسی نے نہیں سنا۔ میں مانتا ہوںکہ عالمی مشاعروں میں سارے مقامی شاعروں کو اسٹیج پر سنانے کے لئے نہیں بلایا جاتا، لیکن ادباءاور شعراءکو نظر انداز بھی تو نہیں کیا جاتا۔ جس طرح سوات کے بہت بڑے محقق، ادیب اوردانش ور محمد پرویش شاہین صاحب کو ایک سر نظر انداز کیا گیا۔ حالانکہ ان کی حیثیت ” نمر پہ گوتہ نہ پٹیگی“ کے مصادق ہے۔ شہزادہ برہان الدین حسرت صاحب جو بر سوات میں سوات کے ادب کی آبیاری اپنے خون سے کر رہے ہیں، اُن کو بھی کسی نے پوچھنے کی زحمت تک گوارا نہ کی۔ موضع پارڑئی سوات کے سجاد خان ، جو ایک ادبی تنظیم کی روح رواں ہیں، کبل کے نقیب احمد فطرت صاحب، عبدالطیف شاہین صاحب اور سب سے بڑھ کر بریکوٹ کی ادبی تنظیم ”ایلم ادبی ٹولنہ “ کو سرے سے نظر انداز کیا گیا ہے۔ عین موقع پر فیاض ظفر کے ساتھ جو ناروا سلوک کیا گیا ہے، سوات کے ادبا ءوشعراءکے ساتھ اس سے بھی بڑی نا انصافی کی گئی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس مشاعرہ کو ہر لحاظ سے کامیاب بنانے کے لئے اس کے منتظمین کو سوات کے ادبا ءو شعراءکو اعتماد میں لینا چاہئے تھا اور اس کے لئے ایک میٹنگ کا انتظام کرنا چاہئے تھا۔ سوات کے صحافی براداری کو اس کی اہمیت کے بارے میں آگاہ کرنا چاہئے تھا اور انھیں اعتماد میں لیا جان چاہئے تھا، تب کہیں جاکر ایک مشترکہ ٹیم بنتی اوراس کے لئے کام کرتی۔ تب شاید یہ مشاعرہ مثالی بنتا۔
لیکن اس کے باوجود میں پھر بھی ڈپٹی کمشنرسوات، یورپی یونین کے مقا می آفیسر، پارسا کے سردار زیب ، عطاءاللہ جان اور عثمان اولس یار کو اُن کی کاوشوں پر مبارکباد دیتا ہوں ۔ انسان تو ویسے بھی غلطیوں کا پتلا ہے۔ اگر اب کی بار ہونے والی غلطیوں کو آئندہ نہ دہرا جائے تو از چہ بہتر؟

خالی رسید

www.swatsmn.com

کرپشن ، دھوکا ، فریب کی جڑ ایک خالی رسید سے ہی شروع ہوتی ہے۔ آپ میں سے کافی احباب یہ جانتے ہونگے ۔ جو کسی دفتر ، سکول ،این جی او ۔ دکان ،مطلب کسی بھی شعبہ زندگی میں مصروف ہو۔ آپ کا واسطہ ایسے لوگوں سے ضرور پڑھتا ہوگا ۔ جو آپ سے چیزے خرید کر یا کوئی کام کروا کر آپ سے رسید وصول کر ینگے ۔ اور ساتھ میں فرمائینگے بھائی جا ن ایک خالی رسید بھی دئیے دیں ۔ اب لازمی بات ہے کسٹمر کو تو ناراض کرنا مشکل ہے۔ آپ اُن کو روزانہ نہیں تو دوسرے تیسرے دن ایسے ہی خالی رسید دیتے رہتے ہیں ۔ کیا آپ جانتے ہے ۔ خالی رسید وصول کر نے والوں میں 98%افراد خالی رسید کا کہاں پر اور کیسے استعمال کر تے ہیں ۔
لازمی بات ہے جب آپ اُن کو 100روپے میں جو چیز دیتے ہوں یا رسید بنا کر دیتے ہو۔ وہ اپنے لیے تو بھی کمائے گا ۔ اور وہ100کو 300نہیں تو 200کا ٹوٹل تو بنا ئے گا ؟ اب آپ خود اندازہ کریں اس معمولی سے بات سے اگے کتنا کرپشن ہوتا ہوگا ۔ میرے تجربے کے مطابق جہاں تک مجھے معلوم ہے ۔ 99%افراداور ایسے ادارے بھی ہیں ۔ جہاں پر دکان یا کسی سٹور سے رسید وصول کرنے کے ضرورت بھی نہیں پڑھتی ۔ان اداروں میں نا معلوم دکانداروںیا سٹور وں کے رسید بک بھی پڑے ہوتے ہیں ۔ جب دل نے چاہا رسید کاٹ کر آفسر بالا کو پیش کیا جا تاہے ۔ آپ نے غور کیا ہے کہ جب کسی ادارے کا ایک معمولی سے (پوسٹ ہولڈر ) ، یا نوکر فوٹو سٹیٹ کیلئے فوٹوکاپیر کے پاس 5روپے کے فوٹو کاپی کرانے جاتے ہیں ۔ تو یہ صاحبان وہا ں پر 5کو 50کرنے کا کسر نہیں چھوڑتے ۔ اکثر دوستوں اور سٹوڈنٹس کے طرف سے مختلف قسم کے ایمانداری کے حوالے سے پوسٹ لنک کئے جاتے ہیں ۔ اس میں مندر جہ ذیل قسم کے موضوعات کو ٹارگٹ کیا جاتا ہیں۔
ہمارے معاشرے میں پانی کے گلاس کو کولر کے ساتھ باندھ کے کیوں رکھا جاتا ہے ۔ گلی کے لائٹ کو لاک کیوں لگائے جاتے ہیں ۔ آفس ، دکان ، میں پین یا کالکولیٹر کو تار کے ساتھ کیوں باندھا جاتا ہے ۔حتکہ بنکوں میں بھی کانٹر پر موجود کیشر کے ٹیبل پر موجود پین کو کیوں وائر کے ساتھ باندھا جاتا ہے۔ کیوں کہ ہمارے معاشرے میں ایماندار ی ، اصول پسندی ، دیانتداری ، سچائی عام نہیں ہیں ۔
انڈین فلموں کے طرح اداکاری تو کر چکے اور لوگوں کو متاثر بھی کر لیا ۔ مجھے اس بات سے کوئی غرض نہیں اور نہ میں جانتا ہوں کہ اسٹبلشمنٹ یا بیرو کریٹ کون ہے ؟؟؟؟؟؟ ان کا کردار کیا ہے ؟؟؟؟ مجھے غرض ہے آمن سے مجھے میرے شہر میں کولر کے ساتھ باندھا ہوا گلاس نہیں چاہئے ۔ اور ایسا نظا م(تبدیلی ،انقلاب) لائے جائے ۔ جہاں پر کوئی خالی رسید نہ مانگے ۔ اور جن جن شہزادوں نے خالی رسید کے بل بوتے پر لاکھوں نکلوائے ہیں ۔ اُن کے بارے میں معلوم کیا جائے ۔
ہم تو ایسے بے ضمیر معاشرے کا حصہ بنے ہوئے ہے۔ جہاں اپنے بیوی اور بچوں کے نام سے جعلی میڈیکل کے کاغذات بنا کر آفسر بالا سے پیسے نکلواتے ہیں ۔ تعلقات کا غلط فائدا اٹھا کر تنخوا ہ کسی اور جگہ سے؟؟ اور کام کسی اور جگہ ؟؟
کو ن بند کرے گا اورکون پکڑے گا ان خالی رسید والوں کو ۔

10th National Desert Hike 2025 (Rambler Badge Hike for Rover Scouts)

10th National Desert Hike 2025  (Rambler Badge Hike for Rover Scouts) Chulistan ,روحی   نیشنل ڈزرٹ ہائیک 2025 تاریخِ عالم اس امر کی شاہد ہے ...