Wednesday, 7 January 2015

upcoming news website

www.swatsmn.com

https://www.facebook.com/pages/elumnewscom/265540196979738

Sunday, 4 January 2015

عالمی ”پشتو امن مشاعرہ“ سوات

www.swatsmn.com
عالمی ”پشتو امن مشاعرہ“ سوات
روشنی
فضل محمود رو خان
اکیس نومبر 2014ءکو ودودیہ ہال سیدو شریف میں پختو کا ایک عالمی مشاعرہ منعقد ہوا۔ اس مشاعرہ پر فیاض ظفر ، گوہر علی گوہر اور شہزاد عالم نے اپنے نقطئہ نظر سے قارئین کو آگاہ کرنے کے لئے مختلف تاریخوں سے اخبارات میں لکھے ہیں۔ آزادئی رائے اور آزادئی اظہار کی رو سے یہ ان کا حق تھااور آئین پاکستان ہر کسی کو اس کا حق دیتا ہے۔ اس سے کسی خوشی یاخفگی کوئی معنی نہیں رکھتے۔ میں بھی مذکورہ مشاعرہ پر اپنی رائے کا اظہار کرنے جا رہا ہوں۔ جو سچ ہے اور جو حقیقت ہے وہی رقم کرنے جا رہا ہوں۔ اب خواں کسے ”بڑے“ کے طبع نازک پر گراں ہی کیوں نہ گزرے۔
فیاض ظفر صاحب نے اس مشاعرے پر اپنا رونا رویا ہے۔ یہ رونا اس کے مزاج کے خلاف ہے۔ میں اس کے تحاریر کا ایک عرصہ سے قاری چلا آرہا ہوں۔وہ تحریر کا باغی ہے۔ وہ جب قلم اُٹھا تا ہے تو کسی کو خاطر میں ہیں لاتا۔ اس کا یہی انداز مجھے بھاتا بھی ہے۔لیکن اس کالم میں جو کچھ اس نے رقم کیا ہے، ایک طرح سے تاریخ لوگوں کے سامنے رکھی ہے۔ مشاعرہ فیاض ظفر کے دم قدم سے یقینی ہوا۔ یہ تو وہی بات ہوئی کہ سیج سجی ہے اور دولہا میاں غائب۔ البتہ دولہن کی ڈولی کو ڈپٹی کمشنر سوات محمود وزیر ، پارسا کے سردار زیب، عطاءاللہ جان اور عثمان اولس یار نے اپنے کاندھوں ]ر اُ ٹھا رکھا تھا۔ باراتیوں سے ودودیہ ہال کچا کچ بھرا تھا۔ کافی شعراءآئے ہوئے تھے۔ اس موقع پر اگر دولہا( فیاض ظفر) بھی ہوتا تو محفل کی رونق دوبالا ہو جاتی۔فیاض ظفر سے عرض ہے کہ اگر آپ اس مشاعرہ کے لئے ”سوات ادبی سانگہ“ کا پلیٹ فارم استعمال کرتے ، تو جا کچھ آپ کے ساتھ اس مشاعرہ میں ہوا،وہ کبھی نہ ہوتا۔ آپ کو کانٹا سمجھ کر یوں نہ پھینکا جاتا۔ کیو ں کہ ” سوات ادبی سانگہ“ ننگ، پت اور غیرت کا نام ہے۔ سوات ” ادبی سانگہ“ ایک ایسی تنظیم ہے جو سوات کے ادیبوں ، شاعروں اور دانش وروں کے حقوق کے لئے ہمیشہ سے لڑتی چلی آرہی ہے اور مستقبل میں بھی لڑے گی۔ اسے سوات کے باہر ادیب اور شاعر کی عزت کا خیا ل ہے۔ خواہ کوئی اس کا رکن ہو یا نہ ہو۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
بیس نومبر کو سوات کے ادباء و شعراء کے حق میں مذکورہ مشاعرے کے بارے میں جو بیان آیا تھا ، وہ کسی شخص مخصوص نے نہیں بلکہ ”سوات ادبی سانگہ“ہی نے جاری کیا تھا۔ ”سوات ادبی سانگہ“ نہیں چاہتی کہ سوات کا ادیب اور شاعر کسی کی نظروں میں گر جائے۔ گوہر علی گوہر صاحب (بٹ خیلہ) نے جو کالم شائع کیا ہے، وہ بھی مبنی بر حقیقت ہے۔ ”عالمی مشاعرہ“ بالکل ایسا نہیںہوتا۔ وہ ” عالمی معیار“ کا ہوتا ہے۔ میں نے کئی عالمی مشاعروں میں شرکت کی ہے۔ کوئٹہ کاعالمی مشاعرہ میں نے دیکھا ہے اور اسلام آباد کے عالمی مشاعروں اور پروگراموں میں مجھے بھی مدعو کیا جاتا رہا ہے۔ یہاں تو چراغ تلے اندھیرا تھا۔ سوات کے ادیبوںاور شاعروں کو کوئی پوچھنے والا نہ تھا۔ اس مشاعرہ کے ”بڑوں“ نے سوات کے ادیبوں اور شاعروں کو سرے سے اعتماد میں لیا ہی نہیں تھا۔ پندرہ لاکھ کی خطیر رقم میں اس کے لئے ایسی تیاریاں ہو سکتی تھی کہ دنیا یاد رکھتی۔
ڈپٹی کمشنر محمد اسلم وزیر صاحب کو ”سوات ادبی سانگہ“ ہی نے ڈاکٹر فیاض ظفر صاحب کی کتاب کی تقریب رونمائی (پانچ ستمبر 2104ئ) کے موقع پر مدعو کیا تھا۔ مذکورہ تقریب سوات پریس کلب میں ان کی صدارت میں تاریخ کا حصہ بن چکی ہے۔ خان محمد افضل خان لالا مہمان خصوصی تھے۔مجھے یاد کہ مذکورہ تقریب ہی میں ڈپٹی کمشنر نے عالمی مشاعرہ کی نوید سنائی تھی۔ آخر میں جب ڈپٹی کمشنر صاحب واپس جا رہے تھے، تو غلام فاروق خان جو سوات پریس کلب کے اہم عہدہ پر فائض ہیں، نے ان سے سکندر حیات کسکر کا تعارف کرایا تھا ۔ ڈپٹی کمشنر صاحب نے اس وقت کسکر سے کہا تھا کہ مجوزہ عالمی پشتو مشاعرے میں آپ کو مہمان خصوصی کے ساتھ جگہ دی جائی گی، لیکن عالمی مشاعرہ کے روز کسکر صاحب کو کسی نے گھاس تک نہیں ڈالی۔ اس طرح حمید اقبال گل رنگزئی جو کئی معیاری کتب کا مصنف ہے اورجس کی شاعری کو پسند بھی کیا جاتا ہے، وہ اس مشاعرے کے حوالے سے چیختا رہا، چلاتا رہا لیکن اسے بھی کسی نے نہیں سنا۔ میں مانتا ہوںکہ عالمی مشاعروں میں سارے مقامی شاعروں کو اسٹیج پر سنانے کے لئے نہیں بلایا جاتا، لیکن ادباءاور شعراءکو نظر انداز بھی تو نہیں کیا جاتا۔ جس طرح سوات کے بہت بڑے محقق، ادیب اوردانش ور محمد پرویش شاہین صاحب کو ایک سر نظر انداز کیا گیا۔ حالانکہ ان کی حیثیت ” نمر پہ گوتہ نہ پٹیگی“ کے مصادق ہے۔ شہزادہ برہان الدین حسرت صاحب جو بر سوات میں سوات کے ادب کی آبیاری اپنے خون سے کر رہے ہیں، اُن کو بھی کسی نے پوچھنے کی زحمت تک گوارا نہ کی۔ موضع پارڑئی سوات کے سجاد خان ، جو ایک ادبی تنظیم کی روح رواں ہیں، کبل کے نقیب احمد فطرت صاحب، عبدالطیف شاہین صاحب اور سب سے بڑھ کر بریکوٹ کی ادبی تنظیم ”ایلم ادبی ٹولنہ “ کو سرے سے نظر انداز کیا گیا ہے۔ عین موقع پر فیاض ظفر کے ساتھ جو ناروا سلوک کیا گیا ہے، سوات کے ادبا ءوشعراءکے ساتھ اس سے بھی بڑی نا انصافی کی گئی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس مشاعرہ کو ہر لحاظ سے کامیاب بنانے کے لئے اس کے منتظمین کو سوات کے ادبا ءو شعراءکو اعتماد میں لینا چاہئے تھا اور اس کے لئے ایک میٹنگ کا انتظام کرنا چاہئے تھا۔ سوات کے صحافی براداری کو اس کی اہمیت کے بارے میں آگاہ کرنا چاہئے تھا اور انھیں اعتماد میں لیا جان چاہئے تھا، تب کہیں جاکر ایک مشترکہ ٹیم بنتی اوراس کے لئے کام کرتی۔ تب شاید یہ مشاعرہ مثالی بنتا۔
لیکن اس کے باوجود میں پھر بھی ڈپٹی کمشنرسوات، یورپی یونین کے مقا می آفیسر، پارسا کے سردار زیب ، عطاءاللہ جان اور عثمان اولس یار کو اُن کی کاوشوں پر مبارکباد دیتا ہوں ۔ انسان تو ویسے بھی غلطیوں کا پتلا ہے۔ اگر اب کی بار ہونے والی غلطیوں کو آئندہ نہ دہرا جائے تو از چہ بہتر؟

خالی رسید

www.swatsmn.com

کرپشن ، دھوکا ، فریب کی جڑ ایک خالی رسید سے ہی شروع ہوتی ہے۔ آپ میں سے کافی احباب یہ جانتے ہونگے ۔ جو کسی دفتر ، سکول ،این جی او ۔ دکان ،مطلب کسی بھی شعبہ زندگی میں مصروف ہو۔ آپ کا واسطہ ایسے لوگوں سے ضرور پڑھتا ہوگا ۔ جو آپ سے چیزے خرید کر یا کوئی کام کروا کر آپ سے رسید وصول کر ینگے ۔ اور ساتھ میں فرمائینگے بھائی جا ن ایک خالی رسید بھی دئیے دیں ۔ اب لازمی بات ہے کسٹمر کو تو ناراض کرنا مشکل ہے۔ آپ اُن کو روزانہ نہیں تو دوسرے تیسرے دن ایسے ہی خالی رسید دیتے رہتے ہیں ۔ کیا آپ جانتے ہے ۔ خالی رسید وصول کر نے والوں میں 98%افراد خالی رسید کا کہاں پر اور کیسے استعمال کر تے ہیں ۔
لازمی بات ہے جب آپ اُن کو 100روپے میں جو چیز دیتے ہوں یا رسید بنا کر دیتے ہو۔ وہ اپنے لیے تو بھی کمائے گا ۔ اور وہ100کو 300نہیں تو 200کا ٹوٹل تو بنا ئے گا ؟ اب آپ خود اندازہ کریں اس معمولی سے بات سے اگے کتنا کرپشن ہوتا ہوگا ۔ میرے تجربے کے مطابق جہاں تک مجھے معلوم ہے ۔ 99%افراداور ایسے ادارے بھی ہیں ۔ جہاں پر دکان یا کسی سٹور سے رسید وصول کرنے کے ضرورت بھی نہیں پڑھتی ۔ان اداروں میں نا معلوم دکانداروںیا سٹور وں کے رسید بک بھی پڑے ہوتے ہیں ۔ جب دل نے چاہا رسید کاٹ کر آفسر بالا کو پیش کیا جا تاہے ۔ آپ نے غور کیا ہے کہ جب کسی ادارے کا ایک معمولی سے (پوسٹ ہولڈر ) ، یا نوکر فوٹو سٹیٹ کیلئے فوٹوکاپیر کے پاس 5روپے کے فوٹو کاپی کرانے جاتے ہیں ۔ تو یہ صاحبان وہا ں پر 5کو 50کرنے کا کسر نہیں چھوڑتے ۔ اکثر دوستوں اور سٹوڈنٹس کے طرف سے مختلف قسم کے ایمانداری کے حوالے سے پوسٹ لنک کئے جاتے ہیں ۔ اس میں مندر جہ ذیل قسم کے موضوعات کو ٹارگٹ کیا جاتا ہیں۔
ہمارے معاشرے میں پانی کے گلاس کو کولر کے ساتھ باندھ کے کیوں رکھا جاتا ہے ۔ گلی کے لائٹ کو لاک کیوں لگائے جاتے ہیں ۔ آفس ، دکان ، میں پین یا کالکولیٹر کو تار کے ساتھ کیوں باندھا جاتا ہے ۔حتکہ بنکوں میں بھی کانٹر پر موجود کیشر کے ٹیبل پر موجود پین کو کیوں وائر کے ساتھ باندھا جاتا ہے۔ کیوں کہ ہمارے معاشرے میں ایماندار ی ، اصول پسندی ، دیانتداری ، سچائی عام نہیں ہیں ۔
انڈین فلموں کے طرح اداکاری تو کر چکے اور لوگوں کو متاثر بھی کر لیا ۔ مجھے اس بات سے کوئی غرض نہیں اور نہ میں جانتا ہوں کہ اسٹبلشمنٹ یا بیرو کریٹ کون ہے ؟؟؟؟؟؟ ان کا کردار کیا ہے ؟؟؟؟ مجھے غرض ہے آمن سے مجھے میرے شہر میں کولر کے ساتھ باندھا ہوا گلاس نہیں چاہئے ۔ اور ایسا نظا م(تبدیلی ،انقلاب) لائے جائے ۔ جہاں پر کوئی خالی رسید نہ مانگے ۔ اور جن جن شہزادوں نے خالی رسید کے بل بوتے پر لاکھوں نکلوائے ہیں ۔ اُن کے بارے میں معلوم کیا جائے ۔
ہم تو ایسے بے ضمیر معاشرے کا حصہ بنے ہوئے ہے۔ جہاں اپنے بیوی اور بچوں کے نام سے جعلی میڈیکل کے کاغذات بنا کر آفسر بالا سے پیسے نکلواتے ہیں ۔ تعلقات کا غلط فائدا اٹھا کر تنخوا ہ کسی اور جگہ سے؟؟ اور کام کسی اور جگہ ؟؟
کو ن بند کرے گا اورکون پکڑے گا ان خالی رسید والوں کو ۔

Sunday, 28 December 2014

خلاف معمول اس دن حسنین اسکول جاتے ہوئے مجھ سے گلے ملا،

www.swatsmn.com
گم صم مگر ہونٹوں پر ہر وقت ہلکی ہلکی سی مسکراہٹ رکھنے والا حسنین کسی مرغی کو بھی خون میں لت پت نہیں دیکھ سکتا۔
یہی وجہ تھی کہ  وہ  مرغی فروش کی دکان کے سامنے سے گزرنے سے بھی کتراتا تھا۔ آرمی پبلک اسکول کے سانحے میں محکمہ ابتدائی و ثانونی تعلیم کے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر میل پشاور شریف گل کا لخت جگر حسنین شریف شہید بھی اﷲ کو پیارا ہو گیا ہے، بہت سے دیگر والدین کی طرح ماہر تعلیم شریف گل بھی اپنے بچوں کے بہتر اور شان دار مستقبل کی خاطر اپنے گاؤں محب بانڈہ سے ہجرت کرکے پشاور میں آبسے تھے، تاکہ ان کے بچے بہتر تعلیم کی روشنی سے اپنے ملک و قوم کے مستقبل کو سنوار سکیں، لیکن ان کو کیا معلوم تھا کہ چند درندے  چنگیز خان اور ہلاکو خان سے بھی بڑھ کر ظلم و بربریت اور سفاکی کی داستانیں رقم کرنے والے ان کے پھول مسل کر ان کے مستقبل کو ظلمت کدہ بنا دیں گے۔
حسنین شریف جس کا بھائیوں میں تیسرا نمبر تھا، واقعی بہت معصوم تھا اور اگر کوئی معصومیت کے معنی نہیں سمجھتا تھا تو حسنین جیسی کلی کو دیکھ کر وہ معصومیت کے معنی جان جاتا۔ گھر میں  سب سے زیادہ گم صم رہنے والا حسنین شریف ہر وقت ہونٹوں پر مسکراہٹ لیے پھرتا۔ حسنین کی زندگی صرف ان تین الفاظ کا مجموعہ تھی یعنی اس کے علاوہ اس کے پاس الفاظ ہی نہیں تھے یا شاید اسے اس دنیا کی بے ثباتی اور کم مائیگی کا بہت پہلے احساس ہوچلا تھا، چناں چہ اس کا کلام عموماً،’’جی اچھا، جی نہیں اور اسلام علیکم‘‘ ہی پرمشتمل ہوتا۔ شہید حسنین شریف کے والد جو ایک صابر انسان ہیں، حسنین کی شہادت کا تذکرہ سُن کر اپنا غم ضبط نہ کرسکے۔
جب شریف گل سے ان کے لخت جگر  کے بارے میں بات کی گئی تو کہنے لگے کہ خلاف معمول اس دن حسنین اسکول جاتے ہوئے مجھ سے گلے ملا، عام روٹین میں وہ صرف سلام کر کے چلا جاتا تھا۔ اس دن نہ جانے کیوں وہ مجھ سے گلے ملا، شاید اسے اپنے وداع ہونے کا علم تھا۔ شہید حسنین شریف کی والدہ ایک اسکول کی سربراہ ہیں۔ روز وہ اسکول کے بچوں کے مسائل حل کرتی اور شرارتی بچوں کو چُپ کراتی رہتی ہیں، لیکن آج ان کے اپنے بچے نے ان کے ساتھ ایسی انہونی شرارت کردی کہ وہ دم بخود، چپ چاپ اور گم صم ہوکر رہ گئی ہیں اور  دروازے پر نظریں لگائے اسی انتظار میں بیٹھی ہیں کہ ابھی دروازہ کھلے گا اور میرا جگرگوشہ اسلام علیکم کہہ کر مجھ  سے آلپٹے گا۔ معصوم حسنین شریف واقعی شرافت کا چلتا پھرتا نمونہ تھا۔
اتنا رحم دل کہ وہ بازار سے مرغی لانے سے بھی انکار کردیتا۔ وہ کہتا کہ مرغی والا بڑا ظالم ہے۔ وہ اس کے پروں کو پاؤں کے نیچے دباکر اس کی گردن پر بڑی بے رحمی سے چھری پھیرتا ہے۔ یہ سب کچھ مجھ سے برداشت نہیں ہوتا، لیکن حسنین کو کیا خبر تھی کہ اصل سفاک قصاب تو اس کی گردن پر چھری پھیرنے کی منصوبہ بندی کر چکے ہیں اور ایک دھندلی صبح والی 16 دسمبر کو وہ درندے اس منصوبے کو عملی جامہ پہنائیں گے۔
۔۔۔۔۔۔
’’ہاں! اس نے شہادت کا رتبہ پالیا۔ مجھے فخر ہے کہ میں شہید کی ماں کہلاؤں گی۔ انسان کو تو ویسے بھی اس فانی جہاں سے ایک نہ ایک دن جانا ہی ہے، میری اور میرے لخت جگر کی جو خواہش تھی وہ پوری نہ ہوسکی، چوں کہ وہ اکثر کہا کرتا تھا کہ ماں یہ میری بڑی آرزو ہے کہ جس وقت مجھے موت آئے تو فوجی وردی میں آئے۔‘‘
بدقسمت آرمی پبلک اسکول اینڈ کالج کے 4Th ایئر کا طالب علم وسیم اقبال بھی دیگر بچوں کی طرح جام شہادت نوش کرنے والوں میں شامل ہے۔ ضلع نوشہرہ کی زرخیز مٹی ترخہ سے تعلق رکھنے والے حاجی محمد ارشاد کے قابل فخر سپوت اور ایک بھائی اور تین بہنوں کے بہت ہی پیارے وسیم اقبال کی حوصلہ مند والدہ کا کہنا ہے کہ مجھے نہیں معلوم کہ آج مجھے اپنے جگر گوشے کی شہادت پر یہ حوصلہ اور صبر کہاں سے ملا ہے۔ مجھے اپنے بیٹے پر فخر ہے۔ میری آنکھوں میں آنسو ضرور ہیں، لیکن میں آج سرخ رو ہوچکی ہوں۔
انھوں  نے سسکیاں لیتے ہوئے کہا کہ میری اور میرے بیٹے کی یہ حسرت پوری نہ ہ سکی کہ وہ آرمی کی یونی فارم میں شہید ہو، جس کی وہ شدید خواہش رکھتا تھا۔ اسی مقصد کے لیے میرے دل کے ٹکڑے نے آرمی میں کمیشن حاصل کرنے کے لیے آئی ایس ایس بی میں ٹیسٹ بھی دیے تھے، لیکن ہماری یہ آرزو پوری نہ ہوسکی اگر میرا بیٹا یونی فارم میں شہادت کا رتبہ پاتا تو میں خود کو سب سے زیادہ خوش قسمت ماں سمجھتی۔
۔۔۔۔۔۔۔
جمعیت علماء اسلام (ف) کے ضلعی ترجمان حاجی محمد ابراہیم خان کا 14سالہ بھتیجا ہمایوں اقبال ولد محمد اقبال بھی آرمی پبلک اسکول میں دہشت گردوں کے حملے میں شہید ہوگیا۔ اس کا ایبٹ آباد کیڈٹ کالج میں ایڈمیشن ہوگیا تھا اور وہ چند روز  میں اسکول سے کیڈٹ کالج  شفٹ ہونے والا تھا۔
چھے بہن بھائیوں میں سب سے بڑا ہمایوں اقبال آرمی پبلک اسکول میں آٹھویں جماعت کا طالب علم تھا۔ شہادت کا رتبہ پانے والے ہمایوں اقبال کے والد محمد اقبال کا کہنا ہے کہ میرا لخت جگر آرمی میں کیپٹن بننا چاہتا تھا،  لیکن اسے اﷲ نے اس سے پہلے ہی شہادت کے رتبے سے سرفراز کردیا۔ ہمایوں کے چچا محمد ابراہیم نے بتایا کہ میرا بھتیجا اسکول میں ہمیشہ اچھے نمبروں سے پاس ہوتا تھا اور کیڈٹ کالج میں  اس کا ایڈمیشن بھی ہوگیا تھا۔ وہ چند روز بعد وہاں جانے والا تھا، لیکن  زندگی نے وفا نہیں کی۔
۔۔۔۔۔۔۔
آرمی پبلک اسکول ورسک روڈ پر دہشت گردوں کا نشانہ بننے والا والدین کا اکلوتا بیٹا پورے خاندان کو رلا کے چلاگیا۔ اس حملے نے ان کا گھر ہی اُجڑ گیا، کیوں کہ 14سالہ حماد عزیز اپنے ماں باپ کا اکلوتا بیٹا تھا، جو سکتے کی سی حالت میں ہیں۔ وہ جب بھی بولتے ہیں اپنے ساتھ دوسروں کو بھی خون کے آنسو رلاتے ہیں۔
حماد عزیز آرمی پبلک اسکول میں آٹھویں جماعت کے ذہین طالب علموں میں سرفہرست تھا۔ اس نے  ایک دفعہ آرمی پبلک اسکول چھوڑ کر سینٹ میری اسکول میں داخلہ لے لیا تھا، لیکن موت اسے  دوبارہ آرمی پبلک اسکول میں لے آئی۔ حماد عزیز تنظیم اعوان برادری کے سرپرست اعلیٰ ملک خورشید انور اعوان کا نواسہ اور تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن ملک شاد محمد مرحوم کا پڑپوتا تھا۔ آرمی میں کیپٹن بننا یا ڈاکٹر بننا اس کا خواب تھا، جس کے لیے وہ دن رات پڑھا کرتا تھا اور اپنی کلاس میں ہمیشہ پہلی پوزیشن لیا کرتا تھا۔ ان کے رشتے داروں کا کہنا ہے کہ ہر بڑے کی خواہش ہوتی ہے کہ اپنے بچوں کے سر پر شادی کا سہرا سجائے، لیکن آج ہم اپنے پھول جیسے حمادعزیز کی قبر پر پھول چڑھارہے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔
دہشت گردوں کے حملے میں محکمۂ تعلیم کے  محمد امین کا اکلوتا 15سالہ بیٹا حیدرامین بھی زندگی کی بازی ہارگیا۔ اس کے والدین غم میں اس قدر ڈوبے ہوئے ہیں کہ ان پر غشی کے دورے پڑرہے ہیں۔ حیدر امین کے والد محمد امین نے سسکیاں لیتے ہوئے بہ مشکل بتایا کہ ان کا بیٹا جو بننا چاہتا تھا وہ بن گیا۔ انھوں نے کہا کہ اس کے سہارے زندگی کی سانسیں رواں تھیں اب کس کے سہارے زندگی بسر ہوگی اور کیسے بسر ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔
شہید ہونے والے طالب علم ذوالقرنین کو والدین نے کفن کی بجائے اپنے اسکول کے یونی فارم میں مٹی کے سپرد کردیا، ان کے عزیزوں نے بتایا کہ ذوالقرنین شہید ہے اس لیے اسے اس  کے یونی فارم میں خود سے جدا کردیا۔ انھوں نے بتایا کہ آرمی میں کیپٹن بننے کا شوق ذوالقرنین کو  کیڈٹ کالج جھنگ سے آرمی پبلک اسکول دوبارہ کھینچ لایا۔
۔۔۔۔۔۔
’’یہ دوستی ہم نہیں توڑیں گے، توڑیں گے دم مگر تیرا ساتھ نہ چھوڑیں گے۔‘‘  اس گیت کے بولوں کو سچا ثابت کرنے والے اذان اور محمدعلی الرحمان ہیں، جنہوں نے زندگی میں  بھی دوستی  نبھائی اور موت کے راستے پر بھی ہاتھ میں ہاتھ میں ہاتھ ڈالے ایک ساتھ چلے گئے۔ یوں وہ سچی دوستی کی کہانی چھوڑ گئے۔ یہ دوست جن کی دوستی  نوسال پر محیط تھی، اکٹھے ہی راہی عدم ہوئے۔ انھوں نے  پہلی جماعت سے لے کر نویں جماعت تک پورے 9 سال دوستی ایسی نبھائی کہ ایک ہی ڈیسک پر بیٹھتے اور  اور ہر جگہ ساتھ ساتھ ہوتے۔
اذان نے جماعت نہم میں بیالوجی کے مضمون کا انتخاب کیا تو محمد علی الرحمان بھی اپنے والد سے محمد حسین سے بیالوجی لینے کی خواہش کرنے لگا اور اس نے اپنی بات منوالی۔ دونوں کی ڈاکٹر بننے کی تمنا تھی جو ادھوری رہ گئی۔ ان کے جاننے والے بتاتے ہیں کہ ان کی سچی اور پکی دوستی دوسروں کے لیے ایک مثال تھی۔ دونوں کو اسکول کے بعد مسجد میں اور پڑھائی کے علاوہ کسی اور جگہ پر کسی نے نہیں دیکھا۔
۔۔۔۔۔۔۔
سولہ دسمبر کو درندوں کا نشانہ بننے والا حاجی زئی متھرا اور داؤد خان آرمی پبلک اسکول اینڈ کالج میں سیکنڈایئر کے طالب علم تھے۔ داؤدخان کے والد خالدخان جو آرمی اور ایف سی سے ریٹائر ڈرل انسٹرکٹر ہیں، نے بتایا کہ اس روز جب داؤدخان  اسکول جارہا تھا، اس کے چھوٹے بھائی ولی اﷲ نے اس سے کہا کہ بھائی کہاں جارہے ہو؟ تو داؤد خان نے جواب دیا،’’قبرستان جارہاہوں۔‘‘ اس کے چچازاد بھائی حمزہ نے اس سے کہا تھا کہ جب تم پرچہ دے کر فارغ ہوجاؤ تو پھر دونوں اکٹھے جیکٹ خریدنے صدر بازار جائیں گے۔
داؤد خان اکثر گھر میں کہا کرتا تھا کہ میں آرمی میں جاؤں گا اور میری یہ آرزو ہے کہ میں اپنے وطن کی حفاظت کے لیے شہید ہوجاؤں اور میری قبر کے کتبے پر شہید لکھا ہو۔ اس کی یہ آرزو پوری ہوگئی۔ اس کا چھوٹا بھائی ولی اللہ اس سے بہت پیار کرتا تھا۔ اب وہ ہر لمحہ اسے یاد کرتا ہے اور باربار پوچھتا ہے کہ بھائی کب آئے گا؟
۔۔۔۔۔۔
’’وہ ہمیشہ کہتا تھا کہ میں ایک آرمی آفیسر بنوں گا، لیکن وہ فوج میں جائے بغیر ہی شہادت حاصل کرگیا۔‘‘
یہ الفاظ پشاور کے علاقے ورسک روڈ پر واقع خوش حال باغ کالونی سے تعلق رکھنے والے محمد علی رحمان شہید کے والد نے گفتگو کرتے ہوئے ادا کیے۔  اس بچے کا  وطن عزیز کی حفاظت کرنے کا ارادہ اس کے فیس بک پر اپنی پروفائل پکچر کی صورت میں دی جانے والی  پاک آرمی اور پاکستان کے جھنڈے کی تصویر سے بھی لگایا جاسکتا ہے۔ محمد علی رحمان شہید کے والد محمد حسین نے بتایا کہ وہ خود بھی پاک آرمی میں ہیں۔ انھوں نے کہا،’’صبح سویرے میرا بیٹا تیار ہوا۔ میں اسے خود چھوڑ کر آیا۔ وہ میرا سب سے بڑا بیٹا تھا۔
کاش مجھے معلوم ہوتا تو میں اسے گھر پر ہی روک لیتا، لیکن خدا کو اس کی شہادت منظور تھی۔ انھوں نے مزید کہا کہ وہ اسکول کے قریب ہی واقع آرمی یونٹ میں تعینات ہیں۔ وہ اپنی ڈیوٹی پر تھے کہ اچانک گولیوں کی آواز آئی۔ چند ہی لمحوں کے بعد انھیں معلوم ہوا کہ اسکول پر دہشت گردوں کا حملہ ہوا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ان کے بیٹے کو ہمیشہ سے شوق تھا کہ وہ بڑا ہوکر آرمی آفیسر بنے گا۔ وہ آرمی آفیسر تو بن نہیں پایا لیکن اس ملک کی بقا کے لیے  جام شہادت ضرور نوش کرگیا۔
۔۔۔۔۔۔
’’پلیزامی! آج اسکول جانے کو دل نہیں چاہ رہا۔‘‘
دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے آٹھویں جماعت کے طالب علم صاحب زادہ محمد عمر کی والدہ نے بتایا کہ صبح اسکول جانے سے پہلے مجھ سے عمر کی آخری گفتگو یہی تھی۔ وہ کہنے لگا، امی جان آج اسکول جانے کو دل نہیں چاہ رہا، مگر میں نے کہا نہیں بیٹا! اسکول نہیں جاؤگے تو پہلی پوزیشن کیسے لوگے۔ یہ عمر کے مجھ سے آخری کلمات تھے۔ مجھے کیا پتا تھا کہ عمر مجھے ساری عمر کے لیے یوں ہی روتا ہوا چھوڑ جائے گا۔ عمر کی ہمشیرہ مشعل نے بتایا کہ اسے انٹرنیٹ کا بہت شوق تھا۔ وہ نت نئے سافٹ ویئرز اور گیمز ڈاؤن لوٹ کرتا رہتا تھا۔ حملے والے روز عمر کا چھوٹا بھائی افراسیاب اور بہن مشعل بھی اسی اسکول میں تھے، مگر خوش قسمتی سے وہ اس سانحے سے محفوظ رہے۔
وہ روزے سے تھا
آرمی پبلک اسکول میں دہشت گردی کے دوران شہید ہونے والا 15 سالہ میٹرک کا طالب علم حیدرامین ولد محمد امین درانی روزہ کی حالت میں شہید ہوا۔ تین بہنوں کا اکلوتا بھائی حیدر امین صوم وصلوٰۃ کا پابند تھا۔
اس نے پشاور کے سادات گھرانے کے مولوی امیرشاہ گیلانی ؒ کے صاحبزادے سید نورالحسنین گیلانی سلطان آغا کے زیرسایہ تربیت حاصل کی۔ 16 دسمبر کو حیدر امین نے نمازفجر ادا کی، قرآن پاک کی تلاوت کی اور جائے نماز وہیں چھوڑ گیا۔ اسے کیا پتا تھا کہ وہ آج آخری بار اﷲ کے حضور سجدہ ریز ہورہا ہے اور اپنے والدین اور بہنوں کو تمام عمر کے لیے غم زدہ چھوڑ کر اسکول جارہا ہے۔ واقعے کے دن وہ حسب معمول اسکول جانے کے لیے اپنے دوست اور ہم جماعت ملک عماد ولد ملک انیس کے ساتھ روانہ ہوا اور دونوں دوست دہشت گردوں کے اسکول پر حملے میں ایک ساتھ شہید ہوگئے۔
اسکول میں آویزاں تحریریں
قیامت سے دوچار ہونے والے آرمی پبلک اسکول، پشاور کی عمارت کے اندرونی مناظر دیکھنے والی ہر آنکھ نم تھی۔ اسکول میں داخل ہونے کے بعد دہشت گردوں کی جانب سے ابتدائی طور پر مین ہال کو نشانہ بنایا گیا، جہاں خون کے دھبے اور دیواروں پر گولیوں کے نشانات اس سانحے کی کہانی سنا رہے تھے۔ شہید بچوں کی کتابیں، جوتے اور پینسلیں بکھری پڑی تھیں۔ عمارت میں آویزاں تحریریں اس سانحے کے تناظر میں زیادہ بامعنی ہوگئی تھیں اور دل گداز تاثر پیش کر رہی تھیں۔
جیسے،’’کیا وہ لوگ جو علم رکھتے ہیں اور جو لوگ علم نہیں رکھتے برابر ہوسکتے ہیں؟ ’’ایگزیکیوشن پلان‘‘ یہ تحریر نوٹس بورڈ پر آویزاں تھی، جس کے مطابق طلباء کو ان کے پورے روز کا معمول بتایا گیا تھا۔ تاہم دہشت گردوں کا ایگزیکیوشن پلان کچھ اور ہی تھا۔ ان تحریروں کے معنیٰ ومفہوم کے بارے میں شہید ہونے والے طلباء کے والدین اور دیگر افراد سے جب پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ان تحریروں سے ان بچوں اور دہشت گردوں کی سوچ کا فرق واضح طور پر سمجھا جاسکتا ہے، کاش دہشت گرد ان تحریروں میں استعمال ہونے والے الفاظ اور حرف کے اصل معنی ومفہوم کو پڑھ سکتے اور اس کے سیاق وسباق کو سمجھ سکتے تووہ یہ ظلم کبھی نہ ڈھاتے۔
’’ہر بچہ خود کو پشاور کے سانحے سے نتھی کر رہا ہے‘‘
پروفیسر شعبہ نفسیات جامعہ کراچی، ڈاکٹرفرح اقبال کا اظہار خیال
پشاور میں آرمی پبلک اسکول میں ہونے والی وحشت و بربریت نے نہ صرف وہاں زیرتعلیم بچوں کی نفسیات پر برے اثرات مرتب کیے ہیں بل کہ اس افسوس ناک واقعے نے پورے پاکستان کے بچوں کو خوف میں مبتلا کردیا ہے۔ اس حوالے سے ہم نے جامعہ کراچی کے شعبۂ نفسیات کی پروفیسر، ڈاکٹر فرح اقبال سے گفتگو کی، انھوں نے کہا:
دہشت گردوں نے ہمارے مستقبل کو ہمارے معصوم بچوں کو نشانہ بنایا ہے۔ نہ صرف دہشت گردی کا نشانہ بننے والے اسکول کے بچے بل کہ پورے پاکستان کے بچے اسے خود پر حملہ سمجھ رہے ہیں اور عدم تحفظ کا شکار ہوگئے ہیں۔ اس واقعے کے بعد بچوں میں دو طرح کا طرز عمل سامنے آیا ہے۔ اول یہ کہ بچے بہت زیادہ جذباتی، دبائو اور غصے کا شکار ہیں۔ ان میں سفاکیت پیدا ہورہی ہے۔ ان کی سوچ مرنے اور مارنے والی ہوگئی ہے۔ اس وقت بچوں کو نفسیاتی مشاورت کی ضرورت ہے۔ یہ بچے ہر دہشت گرد کو اذیت ناک موت سے دوچار کرنا چاہتے ہیں۔ اور یہ رجحان آگے جاکر ہمارے لیے مسائل پیدا کرے گا۔ ہر بچہ خود کو پشاور کے سانحے سے نتھی کر رہا ہے۔ اگر اس وقت ان کی اچھی طرح کونسلنگ نہیں کی گئی تو ان بچوں کا سفاکانہ رجحان پاکستان کے مستقبل کے لیے خطرناک ثابت ہوگا۔
اس واقعے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ بچے بہت ڈرے سہمے ہوئے ہیں۔ وہ بہت مایوسی اور عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ اُن کے ذہن پر خوف سوار ہے کہ اگر وہ باہر نکلے یا اسکول گئے تو گندے انکل (دہشت گرد) انہیں ماردیں گے۔ ان بچوں کا بھروسا نہ صرف اپنے اساتذہ بل کہ اپنے والدین پر سے بھی اٹھ گیا ہے۔
انہیں یہی خوف ہے کہ کوئی بھی ، کسی بھی دن انہیں اسکول یا گھر میں گھُس کر گولیوں سے چھلنی کردے گا۔ میڈیا کو بھی چاہیے کہ وہ اس واقعے کی ایسی ویڈیوز نہ دکھائے جو بچوں پر مزید برے اثرات مرتب کریں۔ ہمیں اور ہمارے بچوں کو گھر سے باہر تو ہر حال میں نکلنا ہی ہے۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ ہم چنگیزخان بن کر تمام مجرموں کو قتل کردیں، اور یہ بھی ناممکن ہے کہ ہم بچوں کو زرہ بکتر پہنا کر گھر سے باہر کھیلنے یا پڑھنے بھیجیں۔ اس وقت دہشت گردی کے خلاف پالیسی مرتب کرنے کے ساتھ ساتھ بچوں کی نفسیاتی کونسلنگ کے لیے بھی ایک مربوط پالیسی بنانا نہایت ضروری ہے۔ بچوں کو مثبت سرگرمیوں میں مصروف رکھا جائے۔ انہیں نہ بہت زیادہ آزادی دی جائے اور نہ ہی بہت زیادہ پروٹیکشن دی جائے جس سے وہ خود کو عدم تحفظ کا شکار سمجھیں۔ اساتذہ، والدین اور بچوں کو سیلف ڈیفنس کی تربیت دی جائے۔ بچوں اور ٹیچرز کی نفسیاتی ٹریننگ کی جائے۔
بچوں کو بچہ ہی رہنے دیں۔ انہیں صرف اتنا ہی بتائیں جتنا ان کی عمر کے لحاظ سے ضروری ہے۔ اس وقت ہم بچوں کو غیرضروری معلومات دے رہے ہیں۔ یہ اضافی معلومات انہیں مزید نفسیاتی دبائو میں مبتلا کر رہی ہے۔ اس وقت بچوں کو صرف یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ سب لوگ غلط نہیں ہیں۔ اگر ایک انکل گندے ہیں تو دوسرے سارے انکل اچھے ہیں۔ یہ نہ صرف والدین بل کہ ہم سب کی اخلاقی ذمے داری ہے کہ پاکستان کے مستقبل کو بچانے کے لیے بچوں کی نفسیاتی مشاورت کی جائے۔ انہیں اُس غصے ، مایوسی اور جذباتی ہیجان سے باہر نکالا جائے، جو ان کے دل میں انتقام کے رجحان کو ابھار رہا ہے۔
اگر ہم آرمی پبلک اسکول پشاور میں ہونے والے دہشت گردی کے تناظر میں دیکھیں تو اُس وقت اسکول میں موجود بچوں کو بہت زیادہ کونسلنگ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اپنی آنکھوں سے اپنے بہن بھائیوں، دوستوں، اساتذہ کو خون میں لت پت اذیت ناک صورت حال میں موت سے ہم کنار ہوتے دیکھا ہے۔ ان بچوں کو دو طرح کی کونسلنگ کی ضرورت ہے، اول مختصر المدتی اور دوئم طویل المدتی۔
انہیں ذہنی طور پر اس بات کے لیے تیار کیا جائے کہ وہ اُس اسکول میں آٹھ گھنٹے کس طرح گزاریں گے جس کے درو دیوار کو انہوں نے گولیوں سے چھلنی اور اپنے ہی دوستوں کے خون میں نہاتے دیکھا ہے۔ انہیں نئے عزم و حوصلے کے ساتھ اسی اسکول، اسی عمارت انہی بینچوں پر پڑھنے کے لیے تیار کیا جائے۔ ان بچوں کو ذہنی صدمے سے باہر نکالنے کے لیے تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کی بہتر تربیت کی جائے۔ بچوں کے ذہنوں پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کو ختم کیا جائے۔ اُن میں پیدا ہونے والے مرو اور مارو والے رجحان کو ختم کر کے مثبت پہلو اجاگر کیے جائیں۔f

Thursday, 11 December 2014

مجبوراً نیلام کیا گیا نوبیل تمغہ واپس کرنے کا فیصلہ

www.swatsmn.com

روس کے امیر ترین شخص نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی سائنسدان جیمز واٹسن سے طلائی نوبیل تمغہ انھوں نے خریدا تھا اور اب اس کی خواہش ہے کہ وہ یہ تمغہ واپس کر دیں۔
روس میں سٹیل اور ٹیلی کمونیکیشن کے کاروباروں سے منسلک مشہور شخصیت علیشر عثمانوف کا کہنا ہے کہ اس تمغے پر جیمز واٹسن کا ’حق‘ ہے اور انھیں یہ ’جان کر دکھ ہوا‘ کہ جیمز واٹسن کو یہ تمغہ مجبوراً نیلام کرنا پڑا تھا۔
یہ طلائی تمغہ جیمز واٹسن کو سنہ 1962 میں حیاتیاتی مادے (ڈی این اے) کی ساخت دریافت کرنے پر دیا گیا تھا۔ بعد میں انھوں نے اسے 30 لاکھ پاؤنڈ میں نیلام کر دیا تھا۔
یہ پہلا موقع تھا کہ جب نوبیل انعام حاصل کرنے والے کسی شخص نے اپنی زندگی میں ہی یہ تمغہ نیلام کر دیا تھا۔
سنہ 1962 میں سائنس کی دنیا میں خدمات کے صلے میں یہ تمغہ جمیز واٹسن اور دو دیگر سائنسدانوں، ماریس وِکنز اور فرانسز کِرک، کو مشترکہ طور پر دیا گیا تھا اور ہر ایک سائنسدان کو الگ الگ طلائی تمغے بھی دیے گئے تھے۔

مسٹر عثمانوف کے بقول مسٹر واٹسن جن حالات میں ہیں وہ ان کے لیے ناقابل قبول ہیں
علیشر عثمانوف کے تمغہ واپس کر دینے کے حوالے سے جیمز واٹسن نے کہا تھا کہ وہ اس سے حاصل ہونے والی رقم کا ایک حصہ خیراتی اداروں اور سائنسی تحقیق کی مدد کے لیے مختص کر دیں گے۔
حال ہی میں روزنامہ فائنشل ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے جیمز واٹسن نے یہ بھی کہا تھا کہ سات برس قبل جب انھوں نے ایک دوسرے برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے نسل اور ذہانت کے درمیان تعلق کی بات کی تھی، اس کے بعد سے انھیں یہ احساس دلایا گیا کہ وہ ’انسان‘ ہی نہیں رہے۔
دوسری جانب علیشر عثمانوف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ گذشتہ ہفتے ہونے والی کرسٹیز کی نیلامی میں جس نامعلوم شخص نے ٹیلی فون کے ذریعے بولی لگائی تھی وہ کوئی اور نہیں بلکہ وہ خود تھے۔
مجھے یہ احساس دلایا گیا کہ میں ’انسان‘ ہی نہیں رہا: جیمز واٹسن
علیشر عثمانوف کا کہنا تھا: ’میرے خیال میں یہ بات ناقابل قبول ہے کہ ایک نامور سائنسدان کو ایسا تمغہ فروخت کرنا پڑ جائے جو اسے اس کی کامیابیوں کے صلے میں دیا گیا تھا۔‘
’جیمز واٹسن انسانی تاریخ کے عظیم ترین سائنسدانوں میں سے ہیں اور یہ ضروری ہے کہ ڈی این اے کی ساخت کی دریافت پر دیا جانے والا انعام انھیں واپس کر دیا جائے کیونکہ اس پر ان کا حق ہے۔‘
مشہور رسالے ’فوربز‘ کا کہنا ہے کہ علیشر عثمانوف کے اثاثوں کی مالیت 15.8 ارب ڈالر ہے اور انگلینڈ کے مشہور فٹ بال ’آرسنل‘ کے حصص میں بھی ایک بڑا حصہ ان کا ہے۔
روزنامہ سنڈے ٹائمز نے سنہ2013 کے دنیا کے امیر ترین افراد کی جو فہرست شائع کی تھی اس میں علیشر عثمانوف کو برطانیہ کا امیر ترین شخص بتایا گیا تھا۔


سنہ 1998 سے 12 کوششوں کے بعد پہلی جیت ہے

www.swatsmn.com
پاکستان نے بھارت کے شہر بھونیشور میں چیمپئنز ٹرافی کے کوارٹر فائنل میں نیدرلینڈز کو دو کے مقابلے میں چار گول سے ہرا کر سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا ہے۔

انٹرنیشل ہاکی فیڈریشن کی ویب سائٹ کے مطابق یہ چیمپیئنز ٹرافی میں پاکستان کی نیدرلینڈز کے خلاف سنہ 1998 سے 12 کوششوں کے بعد پہلی جیت ہے۔
نیدر لینڈ نے شاندار طریقے سے کھیل کا آغاز کیا اور جیرائن نے اپنے ٹیم کو ایک گول کی برتری دلا دی۔
کھیل کے آغاز ہی سے نیدرلینڈ کی کھیل پر گرفت سخت تھی لیکن پاکستان کے جوابی حملے کام آئے۔
پاکستان کی جانب سے محمد توثیق نے محمد وقاص کے پاس پر گول کر دیا اور اپنی ٹیم کو کھیل میں واپس لے آئے۔ عمران نے ہاف ٹائم سے پہلے گول کر کے پاکستان کو برتری دلائی۔
وقفے کے بعد نیدرلینڈ نے دوبارہ کھیل پر گرفت مضبوط کر دی اور 38 ویں منٹ میں کونسٹینٹینن جونکر نے گول کر کے میچ برابر کر دیا۔ تاہم پاکستان نے دباؤ کے باوجود عرفان کے ذریعے اپنا تیسرا گول کیا اور ایک بار پھر میچ میں برتری حاصل کر لی۔
اس کے بعد ایک جوابی حملے عرفان نے دوسرا اور ٹیم کا چوتھا گول کر کے پاکستان کو جیت دلا دی۔
اس سے پہلے اس ٹورنامنٹ میں پاکستان کی کارکردگی مایوس کن رہی اور وہ تین میچوں میں ایک بھی پوائنٹ حاصل نہیں کر سکا تھا۔
پاکستان اپنے ابتدائی میچ میں بیلجیئم سے ہار گیا تھا جبکہ دوسرے میچ میں انگلینڈ نے یک طرفہ مقابلے کے بعد اسے دو کے مقابلے میں آٹھ گول سے شکست دی تھی۔
اپنے تیسرے میچ میں بھی پاکستانی ٹیم کو شکست کا سامنا کرنا پڑا اور دفاعی چیمپیئن آسٹریلیا نے یہ میچ صفر کے مقابلے میں تین گول سے جیت لیا تھا۔
پاکستان کے برعکس نیدر لینڈ گروپ بی میں ٹاپ پر تھا لیکن اسے کواٹر فائنل میں پاکستان کے ہاتھوں شکست کھا کر ٹورنامنٹ سے باہر ہونا پڑ رہا ہے۔

10th National Desert Hike 2025 (Rambler Badge Hike for Rover Scouts)

10th National Desert Hike 2025  (Rambler Badge Hike for Rover Scouts) Chulistan ,روحی   نیشنل ڈزرٹ ہائیک 2025 تاریخِ عالم اس امر کی شاہد ہے ...