Swatsmn refers to the means of interactions among people in which they create, share, and/or exchange information and ideas in virtual communities and networks. The Office of Communications and Marketing manage it
Tuesday, 3 June 2014
۔ برصغیر میں شادی شدہ عورت کی زندگی میں یہ نازک آبیگنے ’’سہاگ‘‘ کی علامت سمجھے جاتے ہیں
چوڑی ہر عمر کی خواتین کا من پسند زیور ہے۔ دنیا بھر میں دریافت ہونے والے صدیوں پرانے کھنڈرات سے بھی چوڑیوں کے مختلف نمونے دریافت ہوئے ہیں۔
پہلے چوڑیوں کی تیاری کے لیے مٹی، ہاتھی دانت اور لکڑی کا استعمال کیا گیا پھر دیگر دھاتوں کے کنگن بننے لگے۔ تاہم سب سے زیادہ شہرت و مقبولیت کانچ کی چوڑیوں کو حاصل ہوئی۔ آج کی پاکستانی عورت کا بنائو سنگھار تب تک مکمل نہیں ہوتا جب تک وہ کانچ کی چوڑیاں نہ پہن لے۔
یہ وہ زیور ہے جو موسم اور فیشن کی قید سے بھی آزاد ہے۔ اس کی بناوٹ میں ضرور تبدیلی آجاتی ہے، لیکن یہ کبھی آئوٹ آف فیشن نہیں ہوتی۔ برصغیر میں شادی شدہ عورت کی زندگی میں یہ نازک آبیگنے ’’سہاگ‘‘ کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔
نزاکت کے احساس سے نتھی کانچ کی چوڑیاں سستی ہونے کے علاوہ اپنی مخصوص جھنکار کے باعث خصوصی شہرت کی حامل ہیں۔
سونے چاندی کی طرح ان کے کھونے، اور چرا لینے کا ڈر ہوتا ہے اور نہ ہی یہ کسی خاص عمر کی خواتین کے لیے مخصوص ہیں، کم سن بچیوں سے لے کر نوعمر لڑکیوں، اور شادی شدہ سے لے کر معمر خواتین تک ہر ایک کے لیے ہیں اور خوشی کا شاید ہی کوئی موقع ہو جو اس زیور کے بغیر مکمل تصور کیا جا سکتا ہو
www.swatsmn.com
تو اکثر مائیں ان کے کچے اذہان میں یہ بات ڈالنے لگتی ہیں کہ دادی اچھی نہیں
بچوں میں ننھیال، ددھیال کی تفریق پیدا نہ کریں۔ فوٹو: فائل
ہمارے معاشرے میں ساس بہو کا رشتہ ہمیشہ سے کھنچائو کا شکار رہا ہے، جس کا براہ راست اثر بچوں پر بھی پڑتا ہے۔ وہ جب اپنی ماں اور دادی کو جھگڑتا یا ماں کو دادی سے خائف دیکھیں گے، تو ان کی نفسیات پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
اپنے سسرال سے نالاں ہونے کی وجہ سے بہت سی مائیں اپنے بچوں کو ان کی دادی، پھپھو اور چچا سے دور رکھنے کی کوشش کرتی ہیں۔ اس کے برعکس انہیں ننھیالی رشتوں سے زیادہ قریب کیا جاتا ہے۔ بچے ددھیال اور ننھیال کی اس تفریق سے مبرا ہوتے ہیں۔ ان کی پرکھ صرف اور صرف پیار و محبت اور رویوں کی کسوٹی پر ہوتی ہے۔
جوں جوں وہ باشعور ہونے لگتے ہیں، تو اکثر مائیں ان کے کچے اذہان میں یہ بات ڈالنے لگتی ہیں کہ دادی اچھی نہیں، تمہیں ڈانٹتی ہیں یا پھپھو ہم سے پیار نہیں کرتیں وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح کی باتیں ان کے ذہن میں گھر کر جاتی ہیں اور پھر بڑے ہونے تک وہ اپنے ددھیال سے کھنچے کھنچے اور الگ تھلگ سے ہو جاتے ہیں۔ یوں بچے اپنے ان خونی رشتوں سے دور ہو جاتے ہیں۔ بعض اوقات مائیں بچوں کو اپنے سسرال والوں کے ناروا رویوں سے بھی آگاہ کرتی رہتی ہیں، جس سے بچے خود ہی اپنی دادی پھوپھی سے بدظن ہو جاتے ہیں۔
اسی تصویر کا دوسرا رخ دیکھیں تو بعض گھرانوں میں بہو اور بھاوج کے بچوں کو وہ پیار و توجہ نہیں دی جاتی، جس کے وہ مستحق ہوتے ہیں۔ اگر ساس اپنی بہو کو ناپسند کرتی ہے یا نند اپنی بھاوج سے نالاں ہے، تو وہ بچوں کو یکسر نظر انداز کر دیتے ہیں اور ایسا کرتے ہوئے وہ قطعاً بھول جاتے ہیں کہ یہ بچے بہو یا بھاوج اپنے میکے سے نہیں لے کر آئی، بلکہ ان کا اپنے بیٹے اور بھائی کی اولاد ہیں۔ اگر ہم اس بات کا جائزہ لیں، تو زیادہ تر بچوں کا جھکائو اپنے ننھیال والوں کی طرف ہوتا ہے۔ دل چسپ بات ہے کہ بچوں کے روایتی گیتوں، کہانیوں اور کھیل کود میں بھی زیادہ تر ہمیں نانی اماں اور چندا ماما کا ہی تذکرہ ملتا ہے، ددھیال کا ذکر کم ہی رہا۔
اسی بنا پر مائیں اپنے بچوں کے رشتے سسرال میں کرنے سے گریز کرتی ہیں۔ ان کا شکوہ ہوتا ہے کہ ’’میں نے جس آگ میں ساری عمر گزارا کیا، وہاں میں اپنی بیٹی کو کیوں جھونکوں؟‘‘ دوسری جانب پھوپھیاں اپنی بھتیجی کو گھر لانے سے بچتی ہیں ان کے بقول ’’جیسی ماں تھی، ویسی ہی بیٹی ہوگی!‘‘ ایسی صورت حال میں بعض اوقات بچے بہت زیادہ مشکل صورت حال سے دوچار ہوتے ہیں۔۔۔ جب وہ کسی چچا زاد یا پھوپھی زاد ایک دوسرے کو پسند کرتے ہوں، تو یہی بڑے ان کی راہ کی دیوار بن جاتے ہیں۔ ایسا بھی ہوا کہ اگر یہ شادی ہو بھی گئی تو ساس بہو بن کر پھر وہی کہانی دُہرائی جانے لگی۔ بہو کو اپنی پھوپھی، ماں کی ظالم نند دکھائی دی اور ساس صاحبہ کو بہو میں بھتیجی کے بہ جائے بھاوج نظر آئی، جس نے پہلے اس کے بھائی کو اپنی مٹھی میں کر لیا اور اب بیٹے کو!
ہمارے یہاں زیادہ تر گھرانے ایسے ہیں، جہاں ساس بہو اور نند بھاوج کے رشتوں کے درمیان تلخی و ترشی پائی جاتی ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ ہمارے معاشرے میں انتشار و اضطراب کی ایک بڑی وجہ ان رشتوں کی تلخیاں ہیں، تو غلط نہ ہوگا۔ اگر ہم ان رشتوں میں مصلحت، حقیقت پسندی اوردرگزر سے کام لیں، تو بہت سے گمبھیر مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
بھولے بھالے بچے فقط محبت کے پیاسے ہوتے ہیں۔ بڑوں کی طرح کے منفی جذبات اور مفاد پرستی ان کے قریب بھی نہیں پھٹکتی۔ اگر ہم ان شفاف ذہنوں کو بڑوں کی کدورتوں سے آلودہ کرنا شروع کر دیں، تو یہ نہایت غلط بات ہے۔ ایسا کرنا ان کی اچھی تربیت ہرگز نہیں۔ ہر ماں کے نزدیک اس کا ہر فعل بہتر ہی ہوتا ہے، لیکن کسی کے صحیح غلط کا فیصلہ اس مسئلے کا فریق کیسے کر سکتا ہے۔ بعض جگہوں پر بہوئویں اپنی ساس، نندوں، دیورانی یا جٹھانیوں کے شدت پسند رویوں کے ردعمل میں بچوں کو ددھیال سے متنفر کرتی ہیں، کیوں کہ بھرے پرے سسرال میں اکیلی بہو کی نہیں چل پاتی، لہٰذا وہ ردعمل میں بچوں کو ددھیال سے پرے کرنے لگتی ہے۔
بعض بہوئوں کا موقف ہوتا ہے کہ ساس، نندیں ان سے تو کبھی سیدھے منہ بات نہیں کرتیں، جب کہ ان کے بچوں سے بڑی انسیت جتاتی ہیں۔ اس لیے وہ اپنے بچوں کو بھی ان سے دور کرنے لگتی ہیں۔
اگر آپ ایک ماں ہیں تو آپ یہ دیکھیں کہ آپ رشتوں میں جانب داری کا تو مظاہرہ کر کے بچے کے رشتوں کو تقسیم تو نہیں کر رہیں۔ دوسری طرف سے بھی اپنے رویوں کا محاسبہ کیا جائے۔ اگر ساس، بہو میں مثالی ہم آہنگی نہیں ہو پا رہی، تو کم سے کم وہ بچوں کو تو اس کھینچا تانی سے دور رکھیں
www.swatsmn.com، بالکل اسی طرح آنسوؤں کے قطار در قطار موتیوں کی لڑی کی صورت میں بہہ جانے سے دل کا غبار چھٹ سا جاتا ہے
برطانیہ کی حالیہ تحقیق کے مطابق خواتین اپنی زندگی کا تقریباً ڈیڑھ سال کا عرصہ آنسوؤں کی نذر کر دیتی ہیں۔ ۔ فوٹو: فائل
جس طرح ساون برسنے کے بعد دھرتی ہری بھری اور فضا شفاف ہو جاتی ہے، بالکل اسی طرح آنسوؤں کے قطار در قطار موتیوں کی لڑی کی صورت میں بہہ جانے سے دل کا غبار چھٹ سا جاتا ہے۔خواتین کی بات کی جائے تو پہلے ہی یہ بات مشہور ہے کہ خواتین آنسو بہانے میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتیں۔
برطانیہ کی حالیہ تحقیق کے مطابق خواتین اپنی زندگی کا تقریباً ڈیڑھ سال کا عرصہ آنسوؤں کی نذر کر دیتی ہیں۔ تحقیق کے مطابق 19 سال کی کے بعد ہر لڑکی ہفتے میں کم ازکم دو گھنٹے اور 14 منٹ روتی ہے اور اس طرح وہ اپنی زندگی کے اوسطاً سولہ ماہ رونے میں گزار دیتی ہے۔
خواتین مردوں کے مقابلے میں نرم دل رکھتی ہیں۔ عورتوں کے مقابلے میں عموماً مرد مضبوط دل کے مالک ہوتے ہیں، اس لیے غم اور صدمے جھیل لیتے ہیں۔ بہت سے مردوں کی اکثریت اس زعم میں مبتلا نظر آتی ہے کہ آنسو بہانا مردانگی کے خلاف ہے اور چاہے کچھ بھی ہو جائے، انہوں نے آنسو نہیں بہانے۔ اسی لیے کوئی لڑکا روئے تو اسے یہ کہا جاتا ہے کہ ’’کیا لڑکیوں کی طرح آنسو بہا رہے ہو۔۔۔ مرد بنو مرد۔۔۔‘‘ اور اس طرح آنسو بہانے کو خواتین سے منسوب کر دیا جاتا ہے۔ اس سے ایک تاثر یہ بھی ملتا ہے کہ خواتین چوں کہ جسمانی طور پر کمزور ہوتی ہیں، لہٰذا انہیں رونے کے سوا کوئی آخری حل نظر نہیں آتا۔
خود کو قوی ثابت کرنے اور اس نام نہاد مضبوطی کا خود پر سکہ جمانے کے لیے خواتین کو اب اپنے آنسوؤں سے دست بَردار ہونے کی کوئی ضرورت نہیں، کیوںکہ یہ آنسو غم اور تکلیف کے لمحات میں قدرت کی طرف سے ایک تحفہ ہیں۔ بائیو کیمسٹ اینڈ ٹیئر ایکسپرٹ ولیم فرے کی تحقیق کے مطابق ذہنی دباؤ، مایوسی اور غم کی حالت میں بہنے والے آنسوؤں میں کچھ ایسے ضرر رساں مادے پائے جاتے ہیں، جو دل کے دورے، بلڈ پریشر، نروس بریک ڈاؤن، میگرین اور شوگر جیسی بیماریاں پیداکرنے کا باعث ہوتے ہیں۔ آنسوؤں کی صورت میں ان تمام مادوں کا اخراج ضروری ہے، تاکہ نہ صرف دل کا بوجھ ہلکا ہو، بلکہ آپ ان مہلک بیماریوں سے بھی محفوظ رہیں۔
اس تحقیق کا یہ مطلب نہیں کہ رونا اور رلانا کوئی اچھی بات ہے، یہ دراصل تکلیف کے لمحات میں فطرت کی طرف سے وضع کردہ ایک نظام ہے، جو ہمارے جسم میں اینڈورفنز نامی ایک ہارمون کی مقدار میں اضافہ ہوتا ہے، جوکہ جسم میں ایک قدرتی درد کُش (پین کلر) کا کام کرتا ہے۔ اس سے ذہنی دباؤ اور درد میں کمی ہوتی ہے، بلکہ مایوسی اور غم پر قابو پانے میں بھی مدد ملتی ہے۔ ایک مخصوص مایوسی کی حالت سے نکلنے میں مدد ملتی ہے۔ تاہم یہ ہمیں غم کی وجہ سے پیش آنے والی تکالیف دور کرنے کا ذریعہ ہیں۔ یہ خوش رہنے اور خوشیاں بانٹنے کا کسی طرح بھی نعم البدل ثابت نہیں۔ اس لیے کوشش کریں کہ خوش رہیں۔
اس تحقیق سے یہ ضرور ثابت ہوا، کہ آنسو حساس لوگوں کے انتہائی جذبات کے موقع پر گلو خلاصی کا ایک ذریعہ ہے، جس کے ذریعے نہ صرف وہ پر سکون ہو جاتے ہیں، بلکہ مختلف بیماریوں سے بھی دور ہو جاتے ہیں۔
www.swatsmn.comحسد اور رقابت دو ایسے منفی جذبے ہیں جو فلم انڈسٹری میں دوستی جیسے خالص جذبے کو پنپنے نہیں دیتے
www.swatsmn.com
دوستی ایک ایسا انمول اور پاکیزہ جذبہ ہے جو اپنی پہچان خود کرواتا ہے کیوں کہ ایک اچھا دوست وہی ہوتا ہے جو مصیبت اور مشکل کے وقت کام آئے۔
برے وقت پر ساتھ چھوڑ جانے والا سچا دوست کبھی نہیں ہو سکتا ۔ شوبز کی چمکتی دمکتی دنیا میں اس جذبے اور رشتے کی قدر ومنزلت کچھ خاص نہیں ہے اور یہاں یہ مشہور شعر بالکل صحیح ثابت ہوتا ہے، ’’دیکھا جو تیر کھا کے کمیں گاہ کی طرف، اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہوگئی‘‘، کیوں کہ فلم انڈسٹری وہ جگہ ہے، جہاں دلوں میں منافقت رکھتے ہوئے مگر چہرے پر جبری مسکراہٹ سجائے ایک دوسرے سے دوستی کے بلندبانگ دعوے کیے جاتے ہیں، لیکن اندر ہی اندر ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
حسد اور رقابت دو ایسے منفی جذبے ہیں جو فلم انڈسٹری میں دوستی جیسے خالص جذبے کو پنپنے نہیں دیتے۔ جو دوست آج جان نچھاور کررہے ہیں کل کس وجہ سے دشمن بن جائیں اس کا کچھ پتا نہیں ۔ مرد حضرات تو ایک طرف بولی وڈ کی حسین اور دل کش اداکارائیں اس جذبے سے خالی نظر آتی ہیں۔ یہاں ہم کچھ ایسی اداکاراؤں کا تذکرہ کر رہے ہیں جو فلم انڈسٹری میں کبھی ایک دوسرے کی دوست نہ بن پائیں:
دپیکا پاڈوکون اور کترینہ کیف:
دپیکا اس وقت اپنے کیریر کے عروج پر ہے اور اسے بولی وڈ کی نمبرون اداکارہ بھی کہا جا رہا ہے۔ دوسری طرف کترینہ کی باکس آفس ویلیو میں تھوڑی کمی آئی ہے، کیوںکہ باکس آفس پوزیشن دیکھتے ہوئے کئی فلم ساز دپیکا سے رجوع کررہے ہیں۔ یہ پیشہ ورانہ رقابت ان دونوں اداکارائو ں کو ایک دوسرے کا حریف بنائے ہو ئے ہے، تو دوسری طرف دپیکا کی پہلی محبت رنبیر کپور کے ساتھ کترینہ کے بڑھتے ہوئے تعلقات بھی ان دونوں ایکٹریسز کے درمیان تنائو کا باعث بنے ہوئے ہیں۔
یہ بات سب ہی جانتے ہیں کہ رنبیر اور دپیکا ایک دوسر ے کو بے حد پسند کرتے تھے اور شادی بھی کرنا چاہتے تھے، لیکن جب رنبیر نے کترینہ کے ساتھ پہلی بار فلم ’’عجب پریم کی غضب کہانی‘‘ کی تو اسی وقت رنبیر کترینہ کی زلفوں کا اسیر ہو گیا اور اس نے دپیکا سے اپنی دوستی ختم کرلی اور کترینہ کے ساتھ تعلقات استوار کر لیے بہت ممکن ہے کہ وہ دونوں شادی بھی کرلیں ۔ یہ ایک بڑی اہم وجہ ہے جس کی بنا پر ان دونوں اداکارائوں کے درمیان دوستی کا خالص رشتہ استوار نہیں ہوسکتا۔
ایشوریا رائے بچن اور سشمیتا سین:
بولی وڈ کی ان دو حسین بیوٹیز کے درمیان چپقلش کا آغاز اس وقت ہوا جب دونوں اداکارائیں مس انڈیا مقابلے میں حصہ لینے کی تیاری کررہی تھیں۔ دونوں ہی اپنے سروں پر اس ٹائیٹل کا تاج سجاناچاہتی تھیں، لیکن ایشوریا نے یہ ٹائیٹل لوگوں میں اپنی پسندیدگی کی بدولت حاصل کرلیا اور خود کو ایک اسٹیبلش ماڈل کے طور پر متعارف کرایا تب ہی سے ان دونوں کے درمیان ایک ان دیکھی چپقلش چلی آرہی ہے۔ مس ورلڈ اور مس یونی ورس کے مقابلے کے دنوں میں بھی ان دونوں کا رویہ ایک دوسرے کے ساتھ ہمیشہ ’’رف‘‘ ہی رہا۔ ان تما م باتوں سے قطع نظر دونوں ایکٹریسز نے کبھی بھی ایک دوسر ے کے خلاف کوئی منفی بات نہیں کہی لیکن ان کے درمیان آج بھی کشیدگی اور سرد مہری کا تعلق برقرار ہے۔
پریانکا چوپڑہ اور کرینہ کپور:
بولی وڈ کی ان دونوں طرح دار اداکارائوں میں بہت سی باتیں مشترک ہیں دونوں ہی تقریباً ہم عمر ہیں دونوں ہی اپنے اپنے وقت میں بولی وڈ کی ٹاپ کلاس اداکارہ شمار کی جاتی رہی ہیں اور دونوں ہی کے کئی مشترکہ دوست بھی ہیں۔ دوستی کا رشتہ قائم نہ ہونے کی بنیادی وجہ ’’کافی ودھ کرن شو‘‘ میں کرینہ نے پریانکا کے بارے میں کچھ ایسی باتیں کہیں جن کا پریانکا نے برا منایا۔ دوسری طرف شاہد کپور کے ساتھ پانچ سال تک رکھنے کے بعد جب کرینہ نے اس سے اپنا تعلق توڑ دیا، تب پریانکا نے شاہدکپور کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا۔ میڈیا نے ان دونوں کے تعلقات کو ہوادی۔ یہ بات کرینہ کو پسند نہ آئی جس کی وجہ سے وہ کسی بھی جگہ پریانکا کے بارے میں کچھ بھی کہنے سے باز نہیں آتی۔
شردھا کپور اور پرینتی چوپڑہ:
بولی وڈ کی ان دونوں نئی اداکارائوں میں ابھی سے ہی پیشہ ورانہ رقابت نظر آتی ہے اور دونوں ہی اس کا اظہار بھی کرتی رہتی ہیں لیکن دونوں کے درمیان کشیدگی اور سرد مہری کی اہم وجہ ادیتہ رائے کپور ہے۔ ادیتہ’’عاشقی ٹو‘‘ میں شردھا کپور کے ساتھ ہیرو تھا اور کہا جاتا رہا کہ دونوں کے درمیان ذاتی طور پر بھی کچھ ہے، لیکن جب ادیتہ نے پرینتی کے ساتھ فلم ’’دعوت عشق‘‘ میں کام کرنا شروع کیا تب شردھا نے پرینتی کو ادیتہ سے دور رہنے کا مشورہ دیا۔ یہ بات پرینتی کو ناگوار گزری اور دونوں نے ایک دوسر ے کے خلاف محاذ بنالیا۔
رانی مکھرجی اور ایشوریا رائے بچن:
شاہ رخ خان کی فلم ’’چلتے چلتے‘‘ سے ان دونوں کے درمیان کشیدگی کا آغاز ہوا۔ جب اس فلم میں ایشوریا کی جگہ رانی مکھرجی کو کاسٹ کیا گیا۔ فلم کی کام یابی رانی کے لیے سود مند رہی اور ایشوریا کو اس بات کا افسوس رہا کہ اس نے چلتے چلتے فلم میں کام کرنے سے کیوں انکار کیا۔ تاہم دوسری اہم وجہ جس کی بنا پران دونوں ایکٹریسز کے درمیان دوستی جیسا رشتہ استوار نہ ہو سکا، وہ یہ ہے کہ رانی اور ابھیشیک بچن کے درمیان پیار کے سلسلے سے سب ہی واقف تھے اور رانی بچن فیملی سے کافی قریب بھی تھی۔ ان دونوں کے تعلقات کو دیکھتے ہوئے یہی سمجھا جا تا رہا کہ رانی اور ابھیشیک بہت جلد شادی کرلیں گے، لیکن ابھیشیک نے ایشوریا سے شادی کر کے سب کو حیران کردیا اور یہیں سے رانی اور ایشوریا کے درمیان ایک ان دیکھی لڑائی شروع ہوئی جو اب تک جاری ہے۔
شلپاشیٹی اور روینہ ٹنڈن:
بولی وڈ میں اکثردو ہیروئنز کے درمیان خراب تعلقات کی وجہ اکثر وبیشتر کوئی ہیرو ہی رہا ہے۔ روینہ اور شلپا کے درمیان بھی یہی معاملہ رہا روینہ اور اکشے کمار نے جب فلم ’’مہرہ‘‘ میں کام کیا تو دونوں ہی ایک دوسرے کے قریب ہوگئے۔ دونوں ہر جگہ اپنے تعلقات کا برملا اظہار بھی کیا کرتا تھے، کیوںکہ دونوں ہی شادی کی حد تک سنجیدہ تھے۔ دونوں نے باقاعدہ منگنی بھی کی تھی، لیکن اکشے کمار اپنی بھنورا صفت خصوصیت کے باعث روینہ کو چھوڑ کر شلپا کی زلفوں کا اسیر ہو گیا۔ اس بات کا سارا الزام روینہ نے اکشے کے بجائے شلپا کو دیا۔ نتیجہ یہ نکلا دونوں ایک دوسرے کی حریف بن گئیں بعد میں اکشے نے شلپا سے بھی شادی نہیں کی، لیکن ان دونوں ہیروئینز کے درمیان تعلقات سرد مہری کا شکار ہی رہے۔
ریکھا اور جیا بچن:
ان دو نوں ایکٹریسز کے درمیان صرف امیتابھ بچن ہی کشیدگی کی وجہ رہے۔ دونوں کے درمیان آج تک قائم ہے۔ یش چوپڑہ کی فلم ’’سلسلہ‘‘ ایک حقیقی لو ٹرائی اینگل یعنی امیتابھ ، جیا بہادری اور ریکھا پر بنائی گئی تھی۔ ان دونوں کا رومانس کسی سے ڈھکا چھپا نہیں تھا۔ جیا نے اس ساری صورت حال کو بڑی فراخ دلی سے ہینڈل کیا تھا۔ یہ وجہ تھی کہ ریکھا اور جیا کے درمیان ایک خاموش جنگ آج بھی قائم ہے۔ اسی لیے کسی ایوارڈ کے فنکشن میں بھی یہ دونوں اداکارئیں ایک ساتھ نہیں دیکھی گئیں۔
سونم کپور اور ایشوریا رائے:
ان دونوں کے درمیان تنازعے کا آغاز اس وقت ہوا جب سونم کپور کو بین الاقوامی میک اپ پراڈکٹ کے لے ایشوریا کی جگہ برانڈ ایمبیسڈر مقرر کیا گیا۔ اسی وجہ سے کینز فلم میلے میں ایشوریا نے سونم کپور کے ساتھ ریڈ کارپٹ پر چلنے سے انکار کردیا تھا۔ یہاں تک ہی نہیں ان کی ذاتی چپقلش اس حد تک بڑھ گئی کہ ایک ایوارڈ فنکشن میں سونم نے ایشوریا کو آنٹی کہہ کر بلایا تو وہ برافاختہ ہو گئیں۔
دپیکا پاڈوکون اور کرینہ کپور:
ان دونوں کے درمیان کبھی دوستی کا رشتہ قائم نہیں ہوسکتا تھا، کیوںکہ کرینہ نہیں چاہتی تھی کہ دپیکا فلم ’’لو آج کل‘‘ میں سیف کے ساتھ کام کرے، اسی لیے اس نے سیف پر کافی دبائو ڈالا تھا کہ وہ یہ فلم کرنے سے انکار کردے، لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ دوسری طرف دپیکا نے بھی کرینہ کو کو بی گریڈ اداکارہ کہہ کر اس کے خلاف محاذ قائم کرلیا۔ ان ہی باتوں کی وجہ سے آج تک ان دونوں کے تعلقات سردمہری کا شکار ہیں۔
دنیا کے جس گوشے تک تعلیم اور ٹیکنالوجی کی رسائی ہوچکی ہے وہاں سوشل میڈیا بھی موجود ہے۔
www.swatsmn.com
یوزرز اپنے اپنے علاقوں میں یک جا ہوکر تقریبات منعقد کرتے ہیں ۔ فوٹو : فائل
دنیا کے جس گوشے تک تعلیم اور ٹیکنالوجی کی رسائی ہوچکی ہے وہاں سوشل میڈیا بھی موجود ہے۔
دنیا کے چھے آباد براعظموں میں بسنے والی اقوام میں سے کون سی ایسی قوم ہوگی جس کے افراد کی ایک بڑی تعداد کسی نہ کسی سوشل ویب سائٹ سے وابستہ نہیں۔ حکم راں، سیاست داں، کھرب پتی سرمایہ دار، نام ور اداکار اور گلوکار، مذہبی شخصیات، شاعر، ادیب، مصور، غرض یہ کہ ہر پیشے اور شعبے کے معروف اور غیر معروف لوگ سوشل میڈیا سے تعلق جوڑے ہوئے ہیں۔
سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس نے بکھرے ہوئے خاندانوں کے افراد اور بچھڑے ہوئے دوستوں کو ایک دوسرے سے رابطے میں رہنے کا بہت آسان ذریعہ فراہم کیا ہے اور دنیا کے ہر فرد کو یہ موقع دیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا کے کسی بھی خطے میں موجود اپنے ہم خیال اور یکساں ذوق وشوق کے حامل افراد سے دوستی کرے اور رابطے میں رہتے ہوئے باہمی دل چسپی کے امور پر تبادلۂ خیال کرے۔
اس کے ساتھ سماجی ویب سائٹس نے اپنے یوزرز کے لیے ان کے خیالات، احساسات اور صلاحیتوں کے اظہار کا در یوں وا کیا ہے کہ اب کوئی بھی یوزر اپنی فکر، کسی معاملے پر اپنی سوچ اور احساسات اور اپنی کسی مہارت کے نمونے، جیسے شاعری، کوئی نثری کاوش، پینٹنگ، کو دنیا کے کسی بھی خطے تک پہنچا سکتا ہے۔ ان سب کے علاوہ سوشل ویب سائٹس کے ذریعے ایک عام یوزر کی رسائی ان شخصیات تک بھی ہوگئی ہے جن سے براہ راست رابطے کے وہ خواب ہی دیکھ سکتا تھا۔
چناں چہ اب آپ اپنے پسندیدہ کھلاڑی، اداکار، سیاست داں یا ادیب سے کسی سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ پر بنے اس کے پیج یا اکاؤنٹ کے ذریعے براہ راست رابطہ کرسکتے ہیں۔ مواقع، تفریح اور رابطوں کا ایک جہان بسادینے والے سوشل میڈیا کا یہ کردار سوشل ویب سائٹس کے یوزرز سے تقاضا کرتا ہے کہ سوشل میڈیا کا شکر گزار ہوا جائے اور اس کی ستائش کی جائے۔ اسی جذبے کے تحت دنیا کے مختلف ممالک میں ’’سوشل میڈیا کا عالمی دن‘‘ بڑے اہتمام سے منایا جاتا ہے۔
سوشل میڈیا کے دن یا ’’یوم سماجی میڈیا‘‘ کی شروعات 2010 میں کچھ تقریبات سے ہوئی تھی، پھر رفتہ رفتہ یہ ایونٹ عالمی سطح کا دن بن گیا، جسے دنیا کے مختلف ممالک میں بڑی دھوم دھام سے منایا جاتا ہے۔ دنیا کے 20 شہروں میں یہ دن 30 جون کو منایا جاتا ہے، جن میں امریکا اور کینیڈا کے شہروں میں یہ دن منانے کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے۔ امریکا کی ریاست ایریزونا وہ پہلی امریکی ریاست ہے جس نے سوشل میڈیا کا دن سرکاری طور پر منانے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ اب مزید دو امریکی ریاستیں نویڈا اور میسوری بھی ایریزونا کی پیروی کرتے ہوئے یہ دن مناتی ہیں۔
سوشل میڈیا کا دن منانے کا آغاز 2010 میں ایک برٹش امریکن نیوز ویب سائٹ mashable.com نے کیا۔ یہ ویب سائٹ دراصل ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا سے بنایا جانے والا ایک بلاگ ہے۔ اس ویب سائٹ کی جانب سے سوشل میڈیا کا دن منانے کی شروعات کرنے کا مقصد اس ڈیجیٹل انقلاب کے بارے میں آگاہی کا فروغ اور شعور اجاگر کرنا تھا، جو ہماری نظروں کے سامنے رونما ہورہا اور اپنے گہرے اور دور رس اثرات مرتب کر رہا ہے۔ اس دن آسٹریلیا سے فلپائن اور سری لنکا سے مراکش تک دنیا کے مختلف خطوں میں موجود لاتعداد یوزرز اپنے اپنے شہروں میں جمع ہوکر اس دن کے حوالے سے تقریبات منعقد کرتے ہیں۔
mashable.com نے سوشل نیٹ ورکنگ کے یوزرز سے کہا ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں تیس جون کو سوشل میڈیا کا دن منائیں اور اس سلسلے میں ایک جگہ جمع ہوکر خصوصی تقریبات کا اہتمام کریں۔ اس دن کے حوالے سے ایونٹس کے انعقاد کے لیے یوزرز Mashable Meetup Everywhere کے پیج پر سائن اپ ہوکر اپنے ایونٹ کا اہتمام کرسکتے ہیں۔
آئیے! ہم پاکستانی یوزرز بھی اس مہینے کی تیس تاریخ کو سوشل میڈیا کا دن منائیں۔ اس دن فیس بک، ٹوئٹر اور دیگر سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر اپنی پوسٹس اور ٹوئٹس وغیرہ کے ذریعے سوشل میڈیا کی اہمیت اجاگر کریں۔ اس کے ساتھ ہی ہم اس دن یہ عہد کریں کہ ہم سوشل ویب سائٹس پر منافرت پر مبنی، کسی کا دل دکھانے والی اور دوسروں کو نقصان پہنچانے والی کوئی تصویر، وڈیو یا تحریر پوسٹ نہیں کریں گے نہ ہی کسی ایسی پوسٹ کو شیئر کریں گے جو کسی بھی گروہ یا طبقے کے خلاف مغلظات اور نفرت انگیز مواد پر مشتمل ہو۔ ایسے کسی مواد کو پوسٹ کریں نہ شیئر جو ہماری مذہبی اور اخلاقی اقدار کے منافی ہو یا جو ہمارے ملک کے مفاد کے خلاف ہو۔ نہ ہی ہم کسی پوسٹ پر اشتعال انگیز اور نفرت پر مبنی کمنٹس دیں گے۔
سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس کے منفی استعمال نہ کرنے اور اس کے منفی استعمال کی کسی کوشش کا حصہ نہ بننے کے ساتھ ہمیں سوشل ویب سائٹس کی اہمیت اور دنیا میں ان کے بڑھتے ہوئے کردار کو سمجھنا چاہیے اور اس حوالے سے دوسروں میں شعور اجاگر کرنا چاہیے اور اس مقصد کے لیے یومِ سماجی میڈیا پر ہم انفرادی یا اجتماعی طور پر آگاہی مہم شروع کرسکتے ہیں۔ یوم سماجی میڈیا ہم اس پہلو پر غور کرتے ہوئے اور اسے اجاگر کرتے ہوئے بھی مناسکتے ہیں کہ سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس کے ذریعے پاکستان کے بارے میں مثبت تاثر کیسے فروغ دیا جائے، کیسے ہم اپنی ثقافت، مصنوعات اور تفریحی مقامات سے دنیا کو متعارف کرائیں
امریکہ دنیا کے خودکش حملے کرنے ممالک میں شامل ہوگیا ؟
منیر محمد ابو امریکی ریاست فلوریڈا میں پلا بڑھا تھا اور گزشتہ برس اس نے شام کا رخ کیا تھا۔ فوٹو: فائل
واشنگٹن: امریکی محکمۂ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ ہفتے شام میں ایک خودکش حملہ کرنے والا شخص امریکی شہری تھا۔
محکمۂ خارجہ کی ترجمان جین ساقی کے مطابق شام میں بشار الاسد حکومت کے خلاف برسرپیکار القاعدہ کی ذیلی تنظیم ’’النصرہ فرنٹ‘‘ کی جانب سے گزشتہ اتوار کو کئے گئے 4 خودکش حملوں میں سے ایک امریکی شہری نے ہی کیا۔ اس شخص کا نام منیر محمد ابو صلحہ تھا۔ یہ شخص ریاست فلوریڈا میں پلا بڑھا تھا اور گزشتہ برس اس نے شام کا رخ کیا تھا۔ یہ شخص ابو ہریرہ الاآمریکی نام اختیار کرکے لڑ رہا تھا اور اس کی شام میں موجودگی کے بارے میں امریکا مکمل طور پر باخبر بھی تھا ۔
واضح رہے کہ اس نے 25 مئی کو شام کے صوبہ عدلیب میں ’النصرہ فرنٹ‘‘ خود کش حملہ کیا تھا۔ بعد میں تنظیم نے اس کی وڈیو بھی جاری کی تھی۔
www.swatsmn.com
Subscribe to:
Posts (Atom)
10th National Desert Hike 2025 (Rambler Badge Hike for Rover Scouts)
10th National Desert Hike 2025 (Rambler Badge Hike for Rover Scouts) Chulistan ,روحی نیشنل ڈزرٹ ہائیک 2025 تاریخِ عالم اس امر کی شاہد ہے ...
-
10th National Desert Hike 2025 (Rambler Badge Hike for Rover Scouts) Chulistan ,روحی نیشنل ڈزرٹ ہائیک 2025 تاریخِ عالم اس امر کی شاہد ہے ...
-
www.swatsmn.com دوستی ایک ایسا انمول اور پاکیزہ جذبہ ہے جو اپنی پہچان خود کرواتا ہے کیوں کہ ایک اچھا دوست وہی ہوتا ہے جو مصیبت اور مشکل ...
-
www.swatsmn.com لندن: برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے انکشاف کیا ہے کہ وزیراعظم نوازشریف سخت دباؤمیں ہیں اور ان کی بے بسی بڑھ گئی ہے۔ ...
