Friday, 16 May 2014

فتووں کا موسم

چند روز پہلے ایک دوست سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے ہم سے خدا کا شکر ادا کرنے کو کہا- پوچھا کہ وہ تو ہر وقت ادا کرتے رہنا چاہئے آج ایسی کیا بات ہو گئی کہ آپ خصوصی طور پر شکر ادا کرنے کا کہہ رہے ہیں؟ نصیب دشمناں کیا مملکت خداداد سے دہشتگردی کا خاتمہ ہو گیا یا پھر غریب کی زندگی آسان کرنے کی کوئی تدبیر ہو گئی؟
فرمایا، احمق ایسا کچھ نہیں بلکہ اس بات پر خدا کا شکر ادا کرو کہ تم نہ تو کسی 'کافر' ملک میں رہتے ہو اور نہ ہی تمہیں کبھی کسی کافر ملک جانے کا اتفاق ہوا ہے ورنہ اگر تم کسی ایسے ملک میں مر گئے تو تمہاری موت بھی حرام ہو گی- ذرا اور کریدا تو بتایا کہ ایک سعودی عالم نے فتویٰ دیا ہے کہ اشد ضرورت میں بھی کافر ملک جانے سے پرہیز کرنا چاہئے اور یہ کہ خدا نے مسلمانوں کو اپنے ہی ملک میں رہنے کا حکم دیا ہے-
پوچھا یہ کیسا فتویٰ ہے! اگر دو سو سال پہلے یہ فتویٰ آیا ہوتا شاید پچھلے دو سو سالوں میں مسلمانوں کو ایک بھی عظیم لیڈر نہ ملتا- مصطفیٰ کمال ہوں یا ہمارے اپنے قائد اعظم، سب کے سب تو انہی کافر ملکوں سے تعلیم حاصل کر کے ہی آئے اور اپنے لوگوں قسمت بدل دی- ذرا سوچیں اگر یہ فتویٰ واقعی آ گیا ہوتا تو دنیا بھلے کتنا ہی آگے کیوں نہ نکل گئی ہوتی، یہ طے ہے کہ ہم غاروں میں رہ رہے ہوتے-
ویسے اس فتوے کا ایک منطقی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اب کسی مسلمان کو دوسرے اسلامی ملک جانے کیلئے ویزہ وغیرہ کے جھنجھٹ میں نہیں پڑنا پڑے گا- میں تو اب اس انتظار میں ہوں کہ کب بنا ویزے کے دوسرے حج کیلئے روانہ ہو سکوں-
دوست تو ہمارے ملاقات کر کے چلے گئے پر سوچنے کیلئے نہ جانے کتنے دریچے کھول گئے- اس تازہ ترین فتوے کو سن کر برسوں پہلے پڑھی یہ بات یاد آئی کہ ہمارے اسلاف جن کی عظمت کے گن گاتے ہم نہیں تھکتے ہماری نسلوں کو دنیا سے پیچھے رکھنے کے کتنے بڑے مجرم ہیں- پرنٹنگ پریس، جس نے بنی نوع انسان کیلئے علم و آگہی کی کتنی دنیائیں کھولیں، اسے اپنانے میں سلطنت عثمانیہ اور مغل سلطنت نے جو اپنے زمانے میں دنیا کی سپر پاورز ہوا کرتی تھیں، صدیاں لگا دیں-
پھر یاد آیا کہ نہیں، انہوں نے تو اسے اس لئے نہیں اپنایا تھا کہ پرنٹنگ پریس کے خلاف فتویٰ آ گیا تھا- آج جس لاوڈ اسپیکر پر چیخ چیخ کر خلق خدا نیندیں اور سکون حرام کیا جاتا ہے، پہلے پہل اس کے خلاف بھی فتویٰ آیا تھا- ریل گاڑی اور اسی نوع کی ہر جدید چیز کے خلاف فتوے آتے رہے اور ان فتووں کی وجہ سے ہم آگے بڑھنے سے یا تو رکے رہے یا پھر اتنی دیر میں آگے بڑھے کہ باقی بہت آگے نکل چکے تھے-
فتووں کا ذکر آیا تو پچھلے دنوں سعودی عرب ہی کے مفتی اعظم کے فتوے کا ذکر بھی لازمی ہے جس میں انہوں نے ٹریفک سگنل کی خلاف ورزی کو گناہ کبیرہ اور حرام قرار دیا- ان کا یہ فتویٰ مشہور کالم نگار جناب حسن نثار صاحب کو تو اتنا بھایا کہ ایک ٹی وی پروگرام میں وہ یہاں تک کہه گئے کہ مفتی صاحب کے ہاتھ چومنے کا دل کرتا ہے-
فتووں کی بات چل رہی ہے تو بات پڑوس میں دیے جانے والے فتووں کی بھی ہو جائے جہاں حالیہ انتخابات کے دوران مسلمانوں کو کنفیوز کرنے کے لئے مختلف جماعتوں کو ووٹ دینے کے فتوے دئے گئے-
اب ان متضاد فتووں کے نتیجے میں مسلمان وہاں کے چناؤ میں کس کا ساتھ دیتے ہیں اس کا فیصلہ بھی چند روز بعد آنے والے انتخابی نتائج سے اچھی طرح ہو جائے گا لیکن یہ بات یقینی ہے کہ اس سے ہندوستان کے مسلمانوں کا فائدہ کچھ نہیں ہونا-
اسی طرح کچھ عرصہ پہلے انسان کے چاند یا مریخ پر جانے کے خلاف بھی فتویٰ آیا تھا- یہ کافی نہیں تو پولیو ویکسین پلوانے کے خلاف فتویٰ تو خیر سب کو یاد ہی ہو گا جس کی بدولت آج خیر سے ہماری مملکت خداداد کے باسیوں پر سفری پابندیاں لگانے کی تجویز آ رہی ہے-
صحافی برادری جو آج بری طرح بٹی ہوئی نظر آ رہی ہے اس کےخلاف بھی فتویٰ آ چکا ہے- سارے چینلز بھلے صحافیوں پر حملے کا ذمہ دار، ایک دوسرے یا خفیہ اداروں پر ڈالتے رہیں میں تو یہی سمجھوں گا کہ جب تک ان حملوں کے ذمہ دار سامنے نہ آ جائیں یہی فتویٰ صحافیوں پر حملوں کا ذمہ دار ہے-
بات پاکستان کی ہو جہاں جہاں ویسے بھی اپنے سوا سب کافرکہلاتے ہیں، تو ایسے میں اگر ایک مسلک/فرقے/مکتبہ فکر والے دوسرے مسلک/فرقے/مکتبہ فکر والوں کو 'کافر' کہیں تو اس کا ذمہ دار 'مغرب' نہیں بلکہ ایسے ہی فتوے ہیں- یہ تو وہ جگہ ہے کہ آپ کسی بھی مکتبہ فکر کے عالم کی تعریف سے دوسرے کو دیکھیں تو اگلا کافر ہی ہے-
چند روز پہلے نائجیریا میں اغوا ہونے والی لڑکیوں کے حق میں یا انہیں اغوا کرنے والے بوکو حرم کے خلاف ابھی تک تو کسی مفتی کا فتویٰ نظر سے نہیں گزرا تاہم صرف ملالہ نے --جس کے اپنے خلاف فتوے کی تیاری ہو چکی تھی-- ان لڑکیوں کے حق میں سب سے پہلے بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ میری بہنیں ہیں- دوسری جانب خبریں یہ آ رہی ہیں کہ اغوا کار ان لڑکیوں پر شادی کرنے کیلئے دباؤ ڈال رہے ہیں یا پھر وہ انہیں بیچنا چاہتے ہیں-
پچھلے روز خبر آئی کہ مفتی اعظم سعودی عرب اور او آئی سی نے اس معاملے میں بوکو حرام کی مذمت کی ہے. ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ تمام مسلم ملکوں کے جید عالموں کی مشاورت سے اس قبیح عمل کے خلاف فوری فتویٰ آتا اور ان بچیوں کی رہائی کیلئے بوکو حرام پر دباؤ ڈالا جاتا-
مگر کیا کریں، فتوے زیادہ تر ہمیں آگے بڑھانے کے بجائے پیچھے رکھنے کیلئے لگائے جاتے ہیں- شاید یہی وجہ ہے کہ امریکہ، فرانس اور چین جیسے کافر ملک تو ان بچیوں کی رہائی کیلئے مدد کی پیشکش کر رہے ہیں لیکن اس سلسلے میں شاید پاکستان سمیت کسی بردار اسلامی ملک نے مدد کی پیشکش تو دور کی بات، کوئی مذمتی بیان تک نہیں دیا-
ایسا ممکن اس لئے نہیں تھا کہ اس بارے میں ابھی تک کوئی تگڑا فتویٰ سامنے نہیں آیا- یا پھر اس لئے کہ جون ایلیا کے الفاظ میں،
"دنیا میں ایک ہی مقام ایسا ہے جہاں مختلف مذاہب یکجا ہوتے ہیں اور وہ ہے میدان جنگ"- اور ہمارے ایمان والوں کی نظر میں نائجیریا بہرحال میدان جنگ ہی تو ہے!
www.swatsmn.com

Thursday, 15 May 2014

تحریر: نیک زادہ ڈائریکٹر فزیکل ایجوکیشن GHSSکبل سوات


(بسم اللہ الرحمن الرحیم )
تحریر: نیک زادہ ڈائریکٹر فزیکل ایجوکیشن GHSSکبل سوات 
ہائی سکول کی سطح پر ایتھلیٹکس کے فوائد 
مجھے یہ جا ن کر بہت خوشی ہوئی کہ سارے خیبر پختونخوا میں واحد ضلع سوات کو یہ اعزاز حاصل ہو رہا ہے کہ وہ سپورٹس رسالہ اور وہ بھی سکول کی سطح پر شائع کرنے کا اہتمام کر رہا ہے ۔ یہ سارا کریڈیٹ محمد جاویدصاحب جنرل سیکرٹری انٹر سکولز سپورٹس ٹورنامنٹ ضلع سوات و ملاکنڈ ریجن اور ان کے رفقا کار محمد امین صاحب ، پردل خا ن صاحب ، حافظ سلیمان ، فضل غفور باچا ، غلام حسن صاحب کو جاتا ہے کہ ان کے ذہن میں سکول کے لیول پر سپورٹس رسالہ شائع کرنے کا خیال پیدا ہوا۔ یہ ایک بہت اچھی کاوش ہے ۔ اور میں بذات خود اللہ تعالیٰ سے دست بد عا ہوں کہ ان کی کاوش سارے صوبے کیلئے ایک مثال بن جائے ۔ آمین 
محترم پردل خان صاحب نے مجھے فون پر بتایا کہ ہم مذکورہ رسالہ شائع کرنے والے ہیں جس میں آپ کے ذمے’’ ایتھلیٹکس کے فوائد سکول سطح پر‘‘ کے عنوان کے تحت جلد از جلد جامع مضمون لکھناہوگاجو کہ موضوع کا بھر پور احاطہ کرے تاکہ رسالہ کے شائع ہونے میں تاخیر نہ ہو۔ ویسے بحیثت معلم جسمانی تعلیم تمام DPEs/PETsبخوبی آگاہ ہیں کہ ایتھلٹکس کی تاریخ اس کا آغاز قدیم زمانے اور جدید زمانے میں اس کی ضرور ت و فوائد اور بحیثیت ایتھلیٹکس طالب علم کے لئے کس قدر اہم ہے ۔ لیکن نا چیز نے چیدہ چیدہ فوائد اور مختلف سکالرز کے ریسرچ پر مبنی فوائد بذریعہ کتب/ انٹرنٹ وغیرہ سے اکھٹے کئے ہیں ۔ شاید اس سے قارئین اور خاص کر معلمین جسمانی تعلیم اور والدین ایتھلیٹکس کی اہمیت و ضرورت اور فوائد سے آگاہی حاصل کر سکیں ۔ 
لوگ جمناسٹک کو کھیلوں کی ماں کہتے ہیں جبکہ میں ایتھلٹکس کو کھیلوں کی ماں اور ڈیکھتلان کو ایتھلیٹکس کی ماں کہتا ہوں ۔ چونکہ ڈیکا کا مطلب ہے دس تو ڈیکھتیلان ایتھلیٹکس کے دس ایونٹس جس میں چھلانگیں، پھینکنے ،اور دوڑنے کے مقابلے شامل ہیں۔ جبکہ ہم سکول لیول پر تیرہ13 ایونٹس پر مشتمل ایتھلٹکس مقابلے کراتے ہیں ۔ تو گویا ہم کھیلوں کی ماں کو زندہ اور تابندہ کر رہے ہیں ۔ اگر ایتھلیٹکس کے بارے میں یو نہی لکھتا رہا اور ان کی مکمل ہسٹری اور ایتھلیٹس کی کارگردگی وغیرہ پر بحث کرتا رہا تو میرے خیال میں مضمون کی ضخامت رسالہ کی ضخامت سے بڑھ جائے گی ۔ رسالہ کی بنیاد ڈالی جار رہی ہے اور اس کو جاری رکھنے کا عزم کیا جا رہا ہے انشاء اللہ ہم کو بھی دل کی بھڑاس نکالنے کا موقع ملتا رہے گا۔آ مدم برسر مطلب جب ہم ایتھلیٹکس کا نام لیتے ہیں تو فوراً ہمیں اہل یونان یاد آتے ہیں کیونکہ یہ سہرا نکے سر جاتا ہے ۔ کہ وہ اپنے دیوتا زیوس کو خوش کرنے کیلئے ایتھلٹکس کو عبادت کا درجہ دیتے تھے ۔ جب ہم تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں ۔ تو یونان میں اولمپیا ایک مقام تھا جہاں پر زیوس دیوتا کا مجسمہ جو 40فٹ اونچا ، ہاتھی کے دانتوں سے بنا اور سونے کے لباس سے آراستہ نصب تھا۔ تمام کھلاڑی اور ججز ان کے سامنے حلف لیتے تھے ۔ ویسے ان مقابلوں کے شروع کی اصل تاریخ کسی کو معلوم نہیں لیکن یہ بات واضح ہے ۔ کہ جن کھیلوں کو سب سے پہلے ریکارڈ کیا گیا ہے وہ 776قبل مسیح ہے ۔ جنہیں قدیم اولمپک کھیلوں کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔ چونکہ یہ مقابلے اولمپیا کے مقام پر منعقد ہوتے تھے ۔ اور اہل یونان اسے اولمپیڈ کہتے تھے ۔ جس کی معنی ہے ’’چار سال کا وقفہ ‘‘یعنی یہ مقابلے ہر چار سال بعد پانچ دن کیلئے منعقد ہوتے تھے بعد میں زندگی نے کروٹ بدلی اور یہ کھیل بھی زوال پذیر ہوگئے پھر ان کو دوبارہ شروع کرنے کا سہرا فرانس کے قابل فخر قانون دان پیری ڈی کو برٹن کے سر ہے جو ایک امن پسند شخص تھا۔ اور اس نے دوبارہ ان کھیلوں کو شروع کرنے کی کوشش کی اور اللہ تعالیٰ نے ان کی رہنمائی کی اور یہ جدید اولمپک کھیل دوبارہ 1896 ؁ء سے شروع ہوئے جو آج تک ہر چار سال بعد منعقد ہوتے ہیں اور اولمپک کھیلوں کے نام سے جانے پہچانے جاتے ہیں ۔ سکول لیول پر ہر سال سپورٹس ٹورنامنٹ منعقد ہوتے ہیں ۔ جن میں ایتھلیٹکس کے مقابلے بھی ہوتے ہیں اور نا چیزکو ایتھلیٹکس مقابلے منعقد کروانے کی ذمہ داری سونپی جاتی ہے ۔ جن میں تقریباً اٹھارہ یا بیس سکولوں کے ایتھلیٹس حصہ لیتے ہیں ۔ ان مقابلوں میں شمولیت ہر سکول کیلئے لازمی ہے ۔ سر براہان مدارس سے درخواست کرتا ہوں کہ درجہ ذیل فوائد کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے معلمین جسمانی تعلیم کو ہدایت کر یں کہ دوسرے کھیلوں کے ساتھ ساتھ ایتھلیٹکس میں ضرور حصہ لیا کریں ۔ میں سمجھتاہوں کہ یہ نہ صرف طالب علموں بلکہ آنے والی نسلوں کے بہترین مفاد میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہوگا۔ 
ہائی سکول کی سطح پر ایتھلیٹکس ہونے کے فوائد : 
ہائی سکول میں پڑھائی کے دوران ایتھلیٹکس کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے بہت سارے فوائد ہیں ۔ وہ ذاتی خصوصیات جو ایک ہائی سکول ایتھلیٹ کو حاصل ہوتے ہیں ٹیم ورک ، احساس تحفظ ، جسمانی قوت برداشت ، دلچسپی ، وقت کا صحیح استعمال اور ذاتی و جذباتی صحت ہیں ۔ جب ایک طالب علم ایتھلیٹکس ٹیم میں شامل ہونے کا فیصلہ کرتا ہے وہ ہر قسم کی صورت حال کا مقابلہ کرنے اور بھر پور کوشش کرنے کا عہد کرتا ہے ۔ ہر طالب علم جو ایتھلیٹ بھی ہو وہ دوسروں کے ساتھ کام کرنے کا گر سیکھ لیتا ہے ۔ ایک ہی ٹیم کے ممبران کے ساتھ وفاداری ، ذمہ داری اور ایک دوسرے پر انحصار کا مظاہرہ کرتا ہے اور اپنی ساری جسمانی اور ذہنی قوتیں مشترکہ مقصد کے حصول کیلئے صرف کرتا ہے ۔ ایک طالب علم کیلئے ایتھلیٹکس کے فوائد میں اس کی جذباتی اور جسمانی صحت کی بہتری اور ترقی شامل ہے ۔ باقاعدہ طور پر ورزش اور دوسری سرگرمیوں کی بار بار دہرانے سے اس کو جسمانی توانائی کا بہترین انداز میں بھر پور استعمال کا ہنر ازبر ہوجاتا ہے اور کھیل میں کارکردگی دکھانے کیلئے وہ اپنی ساری توانائیاں صرف کرتا ہے جس کی وجہ سے اس کی سٹیمنابڑھتی جاتی ہے اور وہ ہر قسم کے مقابلوں کیلئے تیار رہتا ہے ۔ جذباتی صحت بھی ایتھلیٹکس کے دوران کئی طریقوں سے بڑھ کر بہترین بن جاتی ہے ۔ جذباتی صحت کی ترقی کی ایک مثال ہم اس طرح لے سکتے ہیں کہ دوران ورزش اس کے جسم سے ہار مونز خارج رہتے ہیں اور ان کے اخراج سے ایتھلیٹ جذباتی اور روحانی آسودگی پاتا ہے ۔ ان ہارمونز کا اخراج جسمانی تناؤ اور ڈپریشن کم کرنے میں بھی مفید ثابت ہوتا ہے ۔ ایڈرینالین (Adrenaline)جسمانی ورزش کے باعث خارج ہوتے رہتے ہیں جس کے نتیجے میں جذباتی سکون پر وان چڑھتا ہے اور جب اس کا جذباتی رد عمل بڑھ جاتا ہے تو وہ بہترین کارکردگی دکھانے لگتا ہے ۔ 
ایتھلیٹ بننے کا ایک اور بڑا فائدہ یہ ہے کہ ایک طالب علم اپنے وقت کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرنے پر مجبور ہو جا تا ہے ۔ وقت کی مناسب تقسیم کا ہنر وہ حاصل کرلیتا ہے کیونکہ ایتھلیٹ نہ صرف یہ کہ ایک فل ٹائم سٹوڈنٹ ہوتا ہے بلکہ اب اس کی ٹائم کا ایک اور مصرف بھی پیدا ہوجاتا ہے ۔ اور وہ تعلیمی اور ایتھلیٹکس دونوں میدانوں میں کامیابی حاصل کرنے کیلئے وقت کو بہترین طریقے پر استعمال کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے ۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ جب ایک فرد کی ذمہ داریاں زیادہ ہوجاتی ہیں تو وہ اپنے وقت کا بہترین استعمال کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے ۔ اور وہ ہر میدان میں کامرانیاں حاصل کرنے کیلئے اپنی ساری توانائیاں خرچ کرنے لگتا ہے ۔ اوپر بیان کردہ فوائد کے ساتھ ساتھ جب کالج داخلہ کونسلر اور داخلہ کو چیز جب ایسے طالب علم کو دیکھتے ہیں جو تعلیمی اور ایتھلیٹکس دونوں میدانوں میں بہترین کارکردگی کا حامل ہوتو وہ اسے اعلیٰ تعلیم کیلئے ادارے میں داخلہ دینے کے لئے خوش آمدید کہتے ہیں اور اسے کالج لیول پر ایتھلیٹکس میں نیشنل کالجیٹ ایتھلیٹکس ایسوسی ایشن (NCAA)کے ساتھ رجسٹرڈ کر لیتا ہے ۔ NCAAاعلیٰ معیار کی کالجیٹ ایتھلیٹکس کو فروغ دیتا ہے لہذا اس سے طالب علم ایک ٹیم میں کھیلنے کا اہل بن جاتا ہے ۔


ایتھلیٹکس کی سرگرمیاں سکول میں تعلیمی مشن کو سہارا دیتی ہیں 
ایتھلیٹکس کی سرگرمیاں تعلیمی سرگرمیوں سے طلباء کا رخ موڑ نے کی بجائے ان کی تعلیمی استعداد بڑھانے میں مدد دیتی ہیں ۔ وہ طلباء جو سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں ان کا اوسط تعلیمی معیار بڑھ جاتا ہے ان کی حاضری کا اوسط بھی بڑھ جاتا ہے ، سکول سے خارج ہونے کی شرح بھی گھٹ جاتی ہے اور عام طور پر نظم و ضبط کے مسائل کم ہوجا تے ہیں ۔ 
سرگرمیاں ذاتی طور پر تعلیمی ہی ہوتی ہیں 
سرگرمیوں کے پروگرام کئی علمی حالات کیلئے قیمتی علم فراہم کرتے ہیں ۔ سرگرمیوں کے پروگراموں میں شرکت کی ذریعے طلباء کو ٹیم ورک ، سپورٹس مین شپ ، جیت ، ہار ، سخت محنت کے پھل کے حصول ذاتی ضبط ، خود اعتمادی اور مقابلوں کی صورت حال کو قابو کرنے کیلئے مہارت اور ہنر فراہم کرتے ہیں ۔ یہی وہ خصوصیات ہیں جن کی لوگ ایک تعلیم یافتہ فرد سے توقع رکھتے ہیں اس طرح وہ ایک ذمہ دار بالغ نظر اور مفید شہری بن سکتاہے ۔ 
سرگرمیاں آنے والے وقت کیلئے کامیابیاں حاصل کرنے کی پرورش کرتی ہیں 
ہائی سکول میں سرگرمیوں میں حصہ لینا عملی زندگی میں کامیابیوں کی ضمانت ہے ۔ کالج میں یہ بہترین طالب علم ، بہتر مستقبل کا حامل اور معاشرہ کا مفید فرد بن جانے کی راہ ہموار کرتی ہیں ۔ 1989 ؁ء میں وومن سپورٹس فاونڈیشن کے قومی سروے سے ظاہر ہوا تھا کہ طالب علم جو ایتھلیٹ بھی ہو کمرہ جماعت میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے اور سکول کی سرگرمیوں میں زیادہ فعال کردار ادا کرتا ہے اور تعلیم حاصل کرنے کے بعد معاشرہ میں بھی فعال کردار ادا کرتا ہے ۔ 
امریکہ کے ہائی سکول ڈیپارٹمنٹ آف ایجوکیشن کے جمع کردہ اعداد و شمار کے تجزیہ سے ثابت ہوا تھا کہ لڑکیاں بھی کھیلوں سے اتنے ہی فوائد حاصل کرتی رہیں جتنے کہ لڑکے ۔ کھیلوں میں شرکت کا براہ راست اثر ڈراپ آوٹ یعنی خارج ہونے کی شرح پر زبردست اثر ڈال کر کم کردیتی ہے اور ایتھلیٹکس ان بچوں کے مقابلہ میں زیادہ اچھے اقدار کے حامل ہوتے ہیں جو ایتھلیٹکس میں حصہ نہیں لیتے ۔
1991 ؁ء کے Skip Dane of Hardiness Researchکی تحقیق کے مطابق : 
۱۔ 2:1کی شرح نسبت سے وہ بچے جو سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں سکول میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔ سکول سے خارج نہیں 
ہوتے اور کالج میں پہنچنے کے بہتر مواقع پاتے ہیں ۔ 
۲۔ لڑکیاں جو کھیلوں میں حصہ لیتی ہیں اور بہتر تعلیمی کا رکردگی کا مظاہرہ کرتی ہیں ان کی شرح 3:1ہے ۔ 
۳۔ کھیلوں میں حصہ لینے والوں کی تقریباً 92فیصد افراد نشہ نہیں کرتے ۔ 
۴۔ سکول کے ایتھلیٹ زیادہ خود اعتماد ہوتے ہیں۔ 
۵۔ سکول ایتھلیٹ اوسط بلکہ اوسط سے زیادہ کلاس میں حاضری دیتے ہیں ۔ 
۶۔ کھیلوں میں حصہ لینے والے طلباء عام طور پر اوسط یا اوسط سے زیادہ سکور ان ٹسٹوں میں کرتے ہیں جن میں ہنر کی کارکردگی شامل ہوتی 
ہے ۔ 
۷۔ سکول ایتھلیٹ دیگر طلباء کے مقابلہ میں دوسری سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لیتے ہیں ۔ 


ہائی سکول پرنسپلز کی سروے 
1985 ؁ء میں نیشنل فیڈریشن آف سٹیٹ ہائی سکول ایسوسی ایشن نے ہائی سکول پرنسپلز کا ایک سروے امریکہ کی تمام 52ریاستوں میں کروایا جن کے نتائج سے ظاہر ہوا کہ : 
۱۔ 95فیصد تک کے خیال میں سر گرمیوں میں حصہ لینا بچوں کو مفید علم سکھاتا ہے جو کہ کلاس میں حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ 
۲۔ 99فیصد اس بات پر متفق تھے کہ سرگرمیوں میں حصہ لینا اچھے شہری بنانے میں معاون ثابت ہوتا ہے ۔ 
۳۔ 95فیصد اس بات پر متفق تھے کہ سرگرمیوں کے پروگراموں میں شرکت ، سکول اسپرٹ کی ترقی میں مدد دیتی ہے ۔ 
۴۔ 76فیصد نے کہا کہ وہ یقین رکھتے ہیں کہ سرگرمیوں میں لگایا گیا وقت ضائع نہیں جاتا ۔ 
۵۔ 72فیصد نے کہا کہ والدین اور معاشرہ دونوں سے سرگرمیوں میں طلباء کی شرکت کے بارے میں مضبوط تعاون اور اتفاق پا یا جاتا ہے ۔ 
دوسری تحقیق
1992 ؁ء میں کولا راڈو ہائی سکول ایکٹی ویٹینر ایسوسی ایشن اور کولاراڈو ڈیپارٹمنٹ آف ایجوکیشن کے مطالعہ سے ظاہر ہوا کہ کولاراڈو ہائی سکول کے وہ طلباء جو کسی نہ کسی سرگرمی میں حصہ لیتے تھے ان کے حاصل کردہ گریڈ پوائنٹ بہت اونچے تھے او ر ان کی حاضری بھی بہترین تھی ۔ سروے نے ظاہر کیا کہ سکول میں تعداد جتنی زیادہ ہوتی ہے اتنی ہی سرگرمیوں میں حصہ لینے والوں اور حصہ نہ لینے والوں کی کارکردگی میں فرق نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے ۔ 
1992 ؁ء کے ایک سروے کے مطابق 60فیصد پرنسپلز نے بتایا کہ ان طلباء کی تعلیمی قابلیت میں بہتری آئی جو سکولز میں سرگرمیوں میں حصہ لینے لگے حالانکہ اس سے پہلے ان کی تعلیمی استعداد کافی کمزور تھی ۔ 
1984 ؁ء میں ٹکساس ایجوکیشن ایجنسی نے 100مختلف سکولوں کے طلباء جن کی تعداد 46,140تھی کا سروے کیا اور معلوم ہوا کہ 46فیصد وہ طلباء مختلف کلاسوں میں فیل ہوجاتے تھے جو سرگرمیوں میں حصہ نہیں لیتے تھے تا ہم سرگرمیوں میں حصہ لینے والے طلباء کے فیل ہونے کی شرح صرف 23فیصد تھی ۔ 
1981 ؁ء میں لوواہائی سکول ایتھلیٹکس ایسوسی ایشن
کے سروے کے مطابق وہ طلباء جو کھیلوں میں حصہ لیتے تھے ان کیGPA 2.82 تھی جبکہ حصہ نہ لینے والوں کیGPA 2.61تھی ۔ 1987 ؁ء میں امریکہ میں کئے گئے ایک سروے کے مطابق 95فیصد وہ طلباء جو کھیلوں میں حصہ لیتے تھے ، مختلف شعبوں میں نمایاں کارکردگی دکھا رہے تھے ، 54فیصد طلباء کی تنظیموں میں حصہ دار تھے ، 43فیصد نیشنل آنر سوسائٹی ، 37فیصد موسیقی 35فیصد سکاوٹ اور 18فیصد سکول کے نشرو اشاعت کے شعبہ سے منسلک تھے۔ 
امریکن کالج ٹسٹنگ سروس نے ہائی سکول کے بعد کامیابی کے چار اہم اجزاء بتائے ہیں ۔ ان کے مطابق کامیابی کا ایک پیمانہ جس سے مستقبل کی کامیابی کی پیش گوئی کی جاسکتی ہے وہ ہے سکول کی سرگرمیوں میں حصہ لینا۔ یہی طلباء نہ صرف سکول لیول پر اچھی کارکردگی دکھاتے ہیں بلکہ کالج لیول پر بھی ان کی کامیابی کے امکانات روشن ہوتے ہیں ۔ ان کے مطالعے کا نچوڑ یہ ہے کہ طلبا ء کی کامیابی کی چابی طالب علم کی خود اعتمادی اور خود انحصاری کی صلاحیت ہے ۔ وہ نوجوان جو سکول کے دوران چست و چالاک رہتے ہیں وہ بعد میں اچھی روزگار حاصل کرنے میں بھی کامیاب رہتے ہیں ۔ ہائی گریڈ حاصل کرنے کے علاوہ طالب علم بہتر رویے بھی سیکھ لیتے ہیں اور کھیلوں میں حصہ لینے والے طلباء تعلیمی میدان میں بہترین کارکردگی دکھاتے ہیں بلکہ خود اعتمادی بھی حاصل کرتے ہیں ۔ 
ہائی سکول کی سطح پر ایتھلیٹکس کے بچوں کے رویوں پر اثرات 
سکول کی انتظامیہ ، والدین اور عام لوگ بچوں کی سکول کی سرگرمیوں کو مفید خیال کرتے ہیں کیونکہ یہ طلباء خواہ لڑکے ہوں یا لڑکیاں ، کی رویوں اور برتاؤ پر اچھے اثرات مرتب کرتے ہیں ۔ اور مختلف سروے اس کو ثابت بھی کرچکے ہیں ۔ ہائی سکول میں کھیلوں کی سرگرمیاں طلباء کی نہ صرف تعلیمی میدان میں بہتر کارکردگی کی ضامن ہیں بلکہ عملی زندگی میں بھی ان کی کامیابی کی ضمانت ہیں جبکہ سکول کی سرگرمیوں میں حصہ نہ لینا بچوں میں مجرمانہ رویوں کے پیداہونے کا باعث بنتا ہے ۔ 19000کالج کے طالب علموں کے مطالعہ سے ثابت ہو ا کہ وہ دوران سکول کھیلوں کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی وجہ سے بہتر رویہ اور برتاؤ کے حامل افراد بن گئے ۔ زنانہ ایتھلیٹ جو ہائی سکول کے دوران سرگرمیوں میں حصہ لیتی تھیں ۔ تعلیمی میدان میں ان لڑکیوں سے آگے تھیں جو سرگرمیوں میں حصہ نہیں لیتی تھیں ۔ مزید یہ کہ سکول کی سرگرمیوں میں حصہ لینے سے مجرمانہ رویوں کے پروان چڑھنے کے راستے بند ہو جاتے ہیں اس کے علاوہ تعلیمی کامیابی اور کھیلوں میں شرکت کے درمیان ایک مضبوط رشتہ ہے اور ایسے طلباء جو کھیلوں میں حصہ لیتے ہیں نہ صرف حاضر باش ہوتے ہیں بلکہ بہتر تعلیمی ریکارڈ رکھنے کے ساتھ ساتھ بہتر رویوں اور برتاؤ کے حامل بھی ہوتے ہیں ۔ 
صحت مند معاشرہ کے لیے ہر سطح پر اور خصوصاً سکول کی سطح پر ایتھلیٹکس اور دوسری جسمانی ورزشیں انتہائی اہم اور لازمی ہیں ۔ ایک چینی کہاوت ہے کہ ’’اس قوم کے ہسپتال سدا ویران رہتے ہیں جس کے کھیل کے میدان آباد رہتے ہیں‘‘ وما علینا الا البلاغ 

www.swatsmn.com

Imran Khan on right way ??????????

www.swatsmn.com

ی ٹی آئی ، جے آئی بمقابلہ خالی رسید تحریر: محمد سلیم احسن


پی ٹی آئی ، جے آئی بمقابلہ خالی رسید تحریر: محمد سلیم احسن 
کرپشن ، دھوکا ، فریب کی جڑ ایک خالی رسید سے ہی شروع ہوتی ہے۔ آپ میں سے کافی احباب یہ جانتے ہونگے ۔ جو کسی دفتر ، سکول ،این جی او ۔ دکان ،مطلب کسی بھی شعبہ زندگی میں مصروف ہو۔ آپ کا واسطہ ایسے لوگوں سے ضرور پڑھتا ہوگا ۔ جو آپ سے چیزے خرید کر یا کوئی کام کروا کر آپ سے رسید وصول کر ینگے ۔ اور ساتھ میں فرمائینگے بھائی جا ن ایک خالی رسید بھی دئیے دیں ۔ اب لازمی بات ہے کسٹمر کو تو ناراض کرنا مشکل ہے۔ آپ اُن کو روزانہ نہیں تو دوسرے تیسرے دن ایسے ہی خالی رسید دیتے رہتے ہیں ۔ کیا آپ جانتے ہے ۔ خالی رسید وصول کر نے والوں میں 98%افراد خالی رسید کا کہاں پر اور کیسے استعمال کر تے ہیں ۔ 
لازمی بات ہے جب آپ اُن کو 100روپے میں جو چیز دیتے ہوں یا رسید بنا کر دیتے ہو۔ وہ اپنے لیے تو بھی کمائے گا ۔ اور وہ100کو 300نہیں تو 200کا ٹوٹل تو بنا ئے گا ؟ اب آپ خود اندازہ کریں اس معمولی سے بات سے اگے کتنا کرپشن ہوتا ہوگا ۔ میرے تجربے کے مطابق جہاں تک مجھے معلوم ہے ۔ 99%افرادایسے ہوتے ہیں ۔ اور ایسے ادارے بھی ہیں ۔ جہاں پر دکان یا کسی سٹور سے رسید وصول کرنے کے ضرورت بھی نہیں پڑھتی ۔ان اداروں میں نا معلوم دکانداروںیا سٹور وں کے رسید بک بھی پڑے ہوتے ہیں ۔ جب دل نے چاہا رسید کاٹ کر آفسر بالا کو پیش کیا جا تاہے ۔ 
آپ نے غور کیا ہے کہ جب کسی ادارے کا ایک معمولی سے (پوسٹ ہولڈر ) ، یا نوکر فوٹو سٹیٹ کیلئے فوٹوکاپیر کے پاس 5روپے کے فوٹو کاپی کرانے جاتے ہیں ۔ تو یہ صاحبان وہا ں پر 5کو 50کرنے کا کسر نہیں چھوڑتے ۔ اکثر دوستوں اور سٹوڈنٹس کے طرف سے مختلف قسم کے ایمانداری کے حوالے سے پوسٹ لنک کئے جاتے ہیں ۔ اس میں مندر جہ ذیل قسم کے موضوعات کو ٹارگٹ کیا جاتا ہیں۔ 
ہمارے معاشرے میں پانی کے گلاس کو کولر کے ساتھ باندھ کے کیوں رکھا جاتا ہے ۔ گلی کے لائٹ کو لاک کیوں لگائے جاتے ہیں ۔ آفس ، دکان ، میں پین یا کالکولیٹر کو تار کے ساتھ کیوں باندھا جاتا ہے ۔حتکہ بنکوں میں بھی کانٹر پر موجود کیشر کے ٹیبل پر موجود پین کو کیوں وائر کے ساتھ باندھا جاتا ہے۔ کیوں کہ ہمارے معاشرے میں ایماندار ی ، اصول پسندی ، دیانتداری ، سچائی عام نہیں ہیں ۔ 
انڈین فلموں کے طرح اداکاری تو کر چکے اور لوگوں کو متاثر بھی کر لیا ۔ مجھے اس بات سے کوئی غرض نہیں اور نہ میں جانتا ہوں کہ اسٹبلشمنٹ یا بیرو کریٹ کون ہے ؟؟؟؟؟؟ ان کا کردار کیا ہے ؟؟؟؟ مجھے غرض ہے آمن سے مجھے میرے شہر میں کولر کے ساتھ باندھا ہوا گلاس نہیں چاہئے ۔ اور ایسا نظا م(تبدیلی ،انقلاب) لائے جائے ۔ جہاں پر کوئی خالی رسید نہ مانگے ۔ اور جن جن شہزادوں نے خالی رسید کے بل بوتے پر لاکھوں نکلوائے ہیں ۔ اُن کے بارے میں معلوم کیا جائے ۔ 
ہم تو ایسے بے ضمیر معاشرے کا حصہ بنے ہوئے ہے۔ جہاں اپنے بیوی اور بچوں کے نام سے جعلی میڈیکل کے کاغذات بنا کر آفسر بالا سے پیسے نکلواتے ہیں ۔ تعلقات کا غلط فائدا اٹھا کر تنخوا ہ کسی اور جگہ سے؟؟ اور کام کسی اور جگہ ؟؟ 
کو ن بند کرے گا اورکون پکڑے گا ان خالی رسید والوں کو



www.swatsmn.com

10th National Desert Hike 2025 (Rambler Badge Hike for Rover Scouts)

10th National Desert Hike 2025  (Rambler Badge Hike for Rover Scouts) Chulistan ,روحی   نیشنل ڈزرٹ ہائیک 2025 تاریخِ عالم اس امر کی شاہد ہے ...