www.swatsmn.com
ہمارے معاشرے کا ایک کڑوا سچ!
چائے رکھ کر وہ شرماتے ہوئے واپس مڑی تو اسے دیکھنے آنے والی آنٹی نے کہا ”بیٹی ہمارے پاس نہیں بیٹھو گی؟ اسے جانے کیوں لگا تھا کہ آنٹی کے لہجے میں طنز ہے.
وہ جھجکتے ہوئے بیٹھ گئی اس کے مائینڈ میں وہ سب لوگ آنے لگے جو پہلے بھی اسے دیکھ کر جاچکے تھے.
طرح طرح کے سوال کرتے تھے بعد میں وہ ماما پاپا کی باتوں سے اندازہ لگاتی کہ اسے عمر اور کبھی ہائٹ کی وجہ سے ریجیکٹ کیا جاتا ہے۔۔۔آج بھی وہ سوالات سے ڈری بیٹھی تھی کہ آنٹی جی کی آواز سنی..
بہنا کیا بتائیں ہم لڑکے والے جو ہوئےلڑکیاں آج کل کچھ زیادہ ہی ہو گئی ہیں۔بہت رشتے آتے ہیں مگر کوئی دل کو نہیں لگی۔۔بیٹا ہمارا تو لاکھوں میں ایک ہے..
وہ لہجے میں غرور کو دیکھ سکتی تھی.
بیٹی تم نے میٹرک کب کیا ہے؟“ تم کیا کیا بنا لیتی ہو میرے بیٹے کو خوش رکھ سکو گی؟ بڑا نخریلو ہے..
۔۔جواب دے دے کر اس کا دل رونے لگا تھا...
یا اللہ میں بیٹی ہوں یا جانور ؟ میرا رشتہ ہو رہا ہے یا سودا ؟ کل بھی میں بِک رہی تھی تب پیسوں میں
آج بھی سودا کیا جاتا ہے نکاح کے نام پر
.بیٹی تم میرے بیٹے کے لیے”
بس ماں بس وہ چیخ کر روئی ماں کیا تم مجھے اس گھر میں تھوڈی جگہ نہیں دے سکتی ؟میں جاب کر کے کما لوں گی یہ رشتے کے نام پر روز مجھے بیوپاریوں کے سامنے پیش کر کے رسوا نہ کرو..
مجھے جس دین نے عزت دی آج وہ دین بس نمازوں تک مانا جا رہا ہے ماں اگر وہ دین دلوں میں ہوتا تو اس طرح نہ ہوتا.
ماں رو پڑی مگر کچھ کہا نہیں...
آنٹی نے اسے بد تمیز کہا اور کہا کہ” ہم لڑکے والے ہیں۔۔ہزاروں لڑکیاں مل جائیں گی.
یہ کہانی محض کہانی نہیں آج کل ایسا ہو رہا ہے۔۔میں نے زندگی کی ایک حقیقت تصویر دکھائی ہے.
کہنا یہ ہے کہ ہم لڑکے اپنے والدین کو سمجھا کر بھیجیں کہ سوال جواب کم سے کم لڑکیوں سے ایسے نہ کیے جائیں۔ ان کے بارے کچھ پوچھنا ہو تو تنہائی میں ان کے والدین سے پوچھیں.
وہ بیٹی ہے جیسی بھی ہو جب کوئی انکار کر کے جاتا ہے اس کے دل پر کیا بیتتی ہے۔۔یہ وہ جانتی ہے...
دعا ھے
اللہ ہر لڑکی کا مقدر نیک اور اچھا کرے..
آمین ثم آمین
ہمارے معاشرے کا ایک کڑوا سچ!
چائے رکھ کر وہ شرماتے ہوئے واپس مڑی تو اسے دیکھنے آنے والی آنٹی نے کہا ”بیٹی ہمارے پاس نہیں بیٹھو گی؟ اسے جانے کیوں لگا تھا کہ آنٹی کے لہجے میں طنز ہے.
وہ جھجکتے ہوئے بیٹھ گئی اس کے مائینڈ میں وہ سب لوگ آنے لگے جو پہلے بھی اسے دیکھ کر جاچکے تھے.
طرح طرح کے سوال کرتے تھے بعد میں وہ ماما پاپا کی باتوں سے اندازہ لگاتی کہ اسے عمر اور کبھی ہائٹ کی وجہ سے ریجیکٹ کیا جاتا ہے۔۔۔آج بھی وہ سوالات سے ڈری بیٹھی تھی کہ آنٹی جی کی آواز سنی..
بہنا کیا بتائیں ہم لڑکے والے جو ہوئےلڑکیاں آج کل کچھ زیادہ ہی ہو گئی ہیں۔بہت رشتے آتے ہیں مگر کوئی دل کو نہیں لگی۔۔بیٹا ہمارا تو لاکھوں میں ایک ہے..
وہ لہجے میں غرور کو دیکھ سکتی تھی.
بیٹی تم نے میٹرک کب کیا ہے؟“ تم کیا کیا بنا لیتی ہو میرے بیٹے کو خوش رکھ سکو گی؟ بڑا نخریلو ہے..
۔۔جواب دے دے کر اس کا دل رونے لگا تھا...
یا اللہ میں بیٹی ہوں یا جانور ؟ میرا رشتہ ہو رہا ہے یا سودا ؟ کل بھی میں بِک رہی تھی تب پیسوں میں
آج بھی سودا کیا جاتا ہے نکاح کے نام پر
.بیٹی تم میرے بیٹے کے لیے”
بس ماں بس وہ چیخ کر روئی ماں کیا تم مجھے اس گھر میں تھوڈی جگہ نہیں دے سکتی ؟میں جاب کر کے کما لوں گی یہ رشتے کے نام پر روز مجھے بیوپاریوں کے سامنے پیش کر کے رسوا نہ کرو..
مجھے جس دین نے عزت دی آج وہ دین بس نمازوں تک مانا جا رہا ہے ماں اگر وہ دین دلوں میں ہوتا تو اس طرح نہ ہوتا.
ماں رو پڑی مگر کچھ کہا نہیں...
آنٹی نے اسے بد تمیز کہا اور کہا کہ” ہم لڑکے والے ہیں۔۔ہزاروں لڑکیاں مل جائیں گی.
یہ کہانی محض کہانی نہیں آج کل ایسا ہو رہا ہے۔۔میں نے زندگی کی ایک حقیقت تصویر دکھائی ہے.
کہنا یہ ہے کہ ہم لڑکے اپنے والدین کو سمجھا کر بھیجیں کہ سوال جواب کم سے کم لڑکیوں سے ایسے نہ کیے جائیں۔ ان کے بارے کچھ پوچھنا ہو تو تنہائی میں ان کے والدین سے پوچھیں.
وہ بیٹی ہے جیسی بھی ہو جب کوئی انکار کر کے جاتا ہے اس کے دل پر کیا بیتتی ہے۔۔یہ وہ جانتی ہے...
دعا ھے
اللہ ہر لڑکی کا مقدر نیک اور اچھا کرے..
آمین ثم آمین

No comments:
Post a Comment