www.swatsmn.com
عرب ممالک اکثرو بیشتر پاکستانی حکومت پر مہربان ہوتے رہتے ہیں لیکن ان احسانات کابدلہ بھی حکومت پاکستان کو کسی نہ کسی طریقے سے چکانا پڑتاہے ۔حال ہی میں حکومت پاکستان نے عرب ممالک کے شاہی خاندانوں کو نایاب پرندے ’دہوبارا بسٹرڈ‘کے شکار کے خصوصی لائسنس جاری کیے ہیں ۔ان لائسنسوں کی تعداد 29ہے اور یہ سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات ،قطر اور بحرین کے شاہی خاندانوں کوجاری گئے ہیں ۔
اقوام عالم کے قوانین کے مطابق یہ انتہائی نایاب پرندہ ہے اور پاکستان بین اقوامی معاہدوں کا دستخط کنندہ ہے جن کے مطابق اس نایا ب پرندے کا شکار غیرقانونی ہے لیکن پھر بھی حکومت پاکستان نے ان معاہدوںکی خلاف ورزی کرتے ہوئے عرب شیوخ کو وزیراعظم پاکستان نواز شریف کی خصوصی اجازت کے بعد لائسنس جاری کیےہیں۔ ذرائع کے مطابق ایک صدر ،ایک بادشاہ ،ایک امیر ،دو ولی عہدوں اور ملک کے سربراہ کے والداورچچا کو یہ لائسنس جاری کیے گئے ۔قطر کے شاہی خاندا ن کو سب سے زیادہ یعنی 11لائسنس جاری کیے گئے۔اسی طرح متحدہ عرب امارات کے صدر اور حکمران شیخ خلیفہ بن زید النہیان کو سب سے زیادہ علاقے میں شکار کرنے کا پرمٹ دیا گیا ہے۔عرب ممالک کے شیوخ کو جن اضلاع میں شکارکی آزادی ہے وہ درج ذیل ہیں۔
سعودی عرب
سعودی عرب کے ولی عہد سلمان بن عبدالعزیز السعود کو ڈیرہ بگٹی ،ڈیرہ مراد جمالی ،نصیرہ آباد ،جعفرآباد ، اور ڈکی ،وہاڑی ،ملتان،میانوالی اور سرگودھا کے علاقے میں شکار کی آزادی ہو گی۔
تبوک کے گورنر پرنس فہد بن سلطان بن عبدلعزیز السعود کو آوران، نوشکی ،اور چاغی کی علاقوں میں شکار کی اجازت دی گئی ہے ۔
ابوظہبی
متحدہ عرب امارات کے صدر اور شیخ خلیفہ بن زید النہیان کو سکھر ،گھوٹکی ،نواب شاہ ،سا نگھڑ ،رحیم یار خان ،راجن پور ،ڈیرہ غازی خان، چکوال،زوب،ارمارا،پسنی ،گوادر،خاران،پنج گر اورواشک میں شکار کی اجازت ہے ۔
متحدہ عرب امارات کے فوج کے نائب اور ولی عہد ابو ظہبی جنرل شیخ محمد بن زید النہیان کو لہراں اور سبی کے علاقے میں شکار کی اجازت ہوگی۔متحدہ امارات کے نائب وزیر اعظم شیخ سلطان بن النہیان کو خیر پور میں شکار کرنے کی اجا زت ہو گی۔
دبئی
نائب صدر اور وزیراعظم متحدہ عرب امارات اور دبئی کے امیر شیخ محمد بن راشد المکتوم کو مظفر گڑھ، خضدار، لسبیلا ،چاغی میں شکار کی اجازت ہو گی۔ڈپٹی پولیس چیف اورشاہی خاندان کے فردمیجر جنرل شیخ احمد بن راشد المکتوم کو عمر کوٹ ،تھرپارکر ،مٹھی اور ناگرپارکرمیں شکارکی اجازت ہو گی۔دبئی حکومت کے ایک ملازم ناصر عبداللہ لوتاکو ٹھٹھہ میں شکار کی اجازت ہو گی۔
بحرین
بحرین کے حکمران شیخ حماد بن عیسی بن سلمان الخلیفہ کو جامشورو ،بادشاہ کے چچا شیخ ابراہیم بن حماد کو مستونگ میں شکار کی اجازت ہو گی۔
کمانڈر انچیف آف بحرین شیخ خلیفہ بن احمد الخلیفہ کو مو سی خیل میں نایاب پرندے کے شکار کی اجازت ہو گی۔
قطر
قطر کے امیر تمیم بن حماد الثانی کو جیکب آباد اور خوشاب میں شکار کرنے کی اجازت دی گئی ہے ۔امیر قطر کے بھائی شیخ جاسم بن حماد کو موسیٰ خیل میں شکار کی اجازت ہو گی۔سابق شیخ حماد بن جاسم کو بھکر اور جھنگ جبکہ سابق وزیراعظم کے بھائی شیخ فلاح بن جاسم کو جھل مگسی کے اضلاع دیے گئے ہیں۔
عرب ممالک اکثرو بیشتر پاکستانی حکومت پر مہربان ہوتے رہتے ہیں لیکن ان احسانات کابدلہ بھی حکومت پاکستان کو کسی نہ کسی طریقے سے چکانا پڑتاہے ۔حال ہی میں حکومت پاکستان نے عرب ممالک کے شاہی خاندانوں کو نایاب پرندے ’دہوبارا بسٹرڈ‘کے شکار کے خصوصی لائسنس جاری کیے ہیں ۔ان لائسنسوں کی تعداد 29ہے اور یہ سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات ،قطر اور بحرین کے شاہی خاندانوں کوجاری گئے ہیں ۔
اقوام عالم کے قوانین کے مطابق یہ انتہائی نایاب پرندہ ہے اور پاکستان بین اقوامی معاہدوں کا دستخط کنندہ ہے جن کے مطابق اس نایا ب پرندے کا شکار غیرقانونی ہے لیکن پھر بھی حکومت پاکستان نے ان معاہدوںکی خلاف ورزی کرتے ہوئے عرب شیوخ کو وزیراعظم پاکستان نواز شریف کی خصوصی اجازت کے بعد لائسنس جاری کیےہیں۔ ذرائع کے مطابق ایک صدر ،ایک بادشاہ ،ایک امیر ،دو ولی عہدوں اور ملک کے سربراہ کے والداورچچا کو یہ لائسنس جاری کیے گئے ۔قطر کے شاہی خاندا ن کو سب سے زیادہ یعنی 11لائسنس جاری کیے گئے۔اسی طرح متحدہ عرب امارات کے صدر اور حکمران شیخ خلیفہ بن زید النہیان کو سب سے زیادہ علاقے میں شکار کرنے کا پرمٹ دیا گیا ہے۔عرب ممالک کے شیوخ کو جن اضلاع میں شکارکی آزادی ہے وہ درج ذیل ہیں۔
سعودی عرب
سعودی عرب کے ولی عہد سلمان بن عبدالعزیز السعود کو ڈیرہ بگٹی ،ڈیرہ مراد جمالی ،نصیرہ آباد ،جعفرآباد ، اور ڈکی ،وہاڑی ،ملتان،میانوالی اور سرگودھا کے علاقے میں شکار کی آزادی ہو گی۔
تبوک کے گورنر پرنس فہد بن سلطان بن عبدلعزیز السعود کو آوران، نوشکی ،اور چاغی کی علاقوں میں شکار کی اجازت دی گئی ہے ۔
ابوظہبی
متحدہ عرب امارات کے صدر اور شیخ خلیفہ بن زید النہیان کو سکھر ،گھوٹکی ،نواب شاہ ،سا نگھڑ ،رحیم یار خان ،راجن پور ،ڈیرہ غازی خان، چکوال،زوب،ارمارا،پسنی ،گوادر،خاران،پنج گر اورواشک میں شکار کی اجازت ہے ۔
متحدہ عرب امارات کے فوج کے نائب اور ولی عہد ابو ظہبی جنرل شیخ محمد بن زید النہیان کو لہراں اور سبی کے علاقے میں شکار کی اجازت ہوگی۔متحدہ امارات کے نائب وزیر اعظم شیخ سلطان بن النہیان کو خیر پور میں شکار کرنے کی اجا زت ہو گی۔
دبئی
نائب صدر اور وزیراعظم متحدہ عرب امارات اور دبئی کے امیر شیخ محمد بن راشد المکتوم کو مظفر گڑھ، خضدار، لسبیلا ،چاغی میں شکار کی اجازت ہو گی۔ڈپٹی پولیس چیف اورشاہی خاندان کے فردمیجر جنرل شیخ احمد بن راشد المکتوم کو عمر کوٹ ،تھرپارکر ،مٹھی اور ناگرپارکرمیں شکارکی اجازت ہو گی۔دبئی حکومت کے ایک ملازم ناصر عبداللہ لوتاکو ٹھٹھہ میں شکار کی اجازت ہو گی۔
بحرین
بحرین کے حکمران شیخ حماد بن عیسی بن سلمان الخلیفہ کو جامشورو ،بادشاہ کے چچا شیخ ابراہیم بن حماد کو مستونگ میں شکار کی اجازت ہو گی۔
کمانڈر انچیف آف بحرین شیخ خلیفہ بن احمد الخلیفہ کو مو سی خیل میں نایاب پرندے کے شکار کی اجازت ہو گی۔
قطر
قطر کے امیر تمیم بن حماد الثانی کو جیکب آباد اور خوشاب میں شکار کرنے کی اجازت دی گئی ہے ۔امیر قطر کے بھائی شیخ جاسم بن حماد کو موسیٰ خیل میں شکار کی اجازت ہو گی۔سابق شیخ حماد بن جاسم کو بھکر اور جھنگ جبکہ سابق وزیراعظم کے بھائی شیخ فلاح بن جاسم کو جھل مگسی کے اضلاع دیے گئے ہیں۔
No comments:
Post a Comment