Friday, 21 February 2020

مقدس کلیسا

www.swatsmn.com



اس کلیسا کو سیاحوں کےلیے کھولا جاچکاہے:
سومنات کے مندر کا تو سوراغ نہیں ملتا لیکن ہزاروں مسلمانوں کے تن آج بھی مقدس کلیسا کی تہذیب یافتہ اقوام میں پائے جاتے ہیں۔
اس کلیسا کا نام Capela Dosossos ہے،
یہ پرتگال کے شہر"ایوارا" میں ہے، اس کو پوپ "فرانسس کانی" نے مکمل طور پر اندلس میں مارے گئے مسلمانوں کی ہڈیوں سے تعمیر کیا، اس کی دیواروں پر دو بچوں کی خشک لاشیں لٹک رہی ہیں جن کو گلہ گھونٹ قتل کرکے سکھایا گیاتھا،
اس کو بنانے کےلیے 5ہزار مسلمانوں کے ڈھانچوں کو استعمال کیاگیا جن کو اندلس کے سقوط کے بعد نصرانیت قبول نہ کرنے پرقتل کیاگیاتھا.



کچھ لوگ لبرل اب ہمیں ان قوموں کی خوبیاں بیان کرتے ہیں ان سے متاثر ہیں.
کیا پھر ان لاشوں کی طرح حال کے انتظار میں ہیں ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
معلومات کے مصادر:
۔1-Turner, j, Grove Dictionary Mac Millan1996
2-الدلیل الخام للبرتغال- الطبعۃ الحادی عشر 2005
۔3-Rentes de Carvalhe, j, Portugal Arbeiders
spers, Amsterdam 1998.

Tuesday, 28 January 2020

اپنے بابا کے نام کھلا خط ، انیقہ

www.swatsmn.com

میرے پیارے بابا☹️
یہاں وقت کا پتہ نہیں لگتا پر سنا ہے ایک سال گذر گیا ہے۔ پر میں ایک پل کو بھی اس دن کو بھولی نہیں ہوں۔ پتہ ہے اس دن میں بہت خوش تھی کہ آج میں اپنے بابا کو اپنے ہاتھ سے روٹی بنا کر کھلاؤں گی اور مجھے اس بات کا یقین بھی تھا کہ آپ میری اس کوشش کی بہت تعریف کریں گے، میرے ماتھے کو بوسہ دیں گے، میرے ہاتھوں کو پکڑ کر کبھی اپنے رخسار سے لگائیں گے اور کبھی اپنے آنکھوں پر رکھ کر میرے اس کارنامے کی تعریف کریں گے، میری ہتیھلی پر دس بیس کا نوٹ رکھ کر کہیں گے کہ جا اپنی من پسند چیز کھا لے اور میں آپ کی اس شاباش سے خوشی سے پھولے نہ سماؤں گی۔👍
ابھی یہ سپنا دیکھا ہی تھا کہ آپ نے دروازے پر زور زور سے دستک دی، اس دستک کے سنتے ہی کچھ دل دہل سا گیا، ایک انجانا خوف سا دل میں ہوا، دروازہ کھولتے ہی آپ کو سلام کیا مگر بابا آپ نے مجھے سلامتی کی دعا نہ دی اور میں اپنی موت کا سبب بنے والی روٹی پکانے کو بھاگی، میرے ہاتھوں سے پکی روٹی آپا آپ کو دے کر ہی آئی تھی کہ آپ کی آواز میرے کانوں سے ٹکرائی۔ یہ وہ آواز تھی جس کا مجھے انتظار تھا مگر اس آواز میں شہد کی شیرینی نہ تھی بلکہ اس میں غصے کی شدید کڑواہٹ تھی۔

میں بھاگی بھاگی سہمے دل کے ساتھ آپ کے پاس آئی تو آپ غصے سے بے قابو ہو رہے تھے، آپ کا چہرہ شعلے برسا رہا تھا، جس کی تپش مجھے دور تک محسوس ہو رہی تھی، آپ مجھ سے نالاں تھے کہ میں نے آپ کو گول روٹی پکا کر نہیں دی، مگر بابا میری عمر تو صرف بارہ سال تھی، جس وقت میں نے آپ کے لئے روٹی پکائی اس وقت میری کچھ ہم جولیاں درختوں پر جھولا ڈالے جھولا جھول رہی تھیں اور کچھ گلی محلے میں اپنے بہن بھائی اور دوستوں کے ساتھ کھیل میں مصروف تھیں اور میں اپنے بابا کو خوش کرنے کے لئے اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے روٹی توے پر ڈال رہی تھی۔
مجھے کیا معلوم تھا کہ آپ خوش ہونے کی بجائے اتنے خفا ہو جائیں گے کہ آپ میرے اوپر ڈنڈوں کی برسات ہی کر دیں گے، اس وقت میں نے سوچا کاش بابا میں نے آپ کو خوش کرنے کے لئے یہ روٹی نہ پکائی ہوتی، لیکن اس سوچ کے آتے ہی میں نے یہ شکر کیا کہ یہ روٹی میں نے ہی پکائی تھی، ورنہ آج میری جگہ آپا یہ ڈنڈے کھا رہی ہوتیں اور ہر ایک ڈنڈے پر آپ سے معافی کی طلبگار ہوتیں، شکر ہے آپا تم اس کرب اور تکلیف سے بچ گئیں۔
بابا میں موت کو گلے لگاتے یہ سوچ رہی تھی کہ آپ تو میرے پیارے بابا ہو، آپ مجھے اس دنیا میں لانے کا سبب بنے ہو، آپ میری موت کی وجہ کیسے بن سکتے ہو، بابا میں نے کوئی ایسی خطا تو نہ کی تھی کہ جس کی سزا مجھے اتنی بھیانک دی گئی۔ ایک روٹی ہی تو تھی جس کے گول ہونے یا نہ ہونے سے پیٹ کے ایندھن کو کیا فرق پڑتا، کاش بابا میں اماں کی طرح آپ سے روٹھ کر اماں کے ساتھ چلی جاتی تو میں اس اذیت ناک موت سے بچ جاتی۔

ڈنڈے کی ہر ضرب پر یہ خیال آیا کہ شاید اس بار آپ کا دل لرزے گا، آپ کا ہاتھ کانپے گا مگر ہر بار ضرب کاری سے کاری ہوتی چلی گی، سر پر ڈنڈے برسانے کی وجہ سے مجھے ایسا لگا کہ میرا دماغ مفلوج ہوتا جا رہا ہے مگر اس مفلوج دماغ کے ساتھ بھی مجھے یہ اُمید تھی کہ آپ مجھ پر رحم کرو گے کیوں کہ آپ میرے بابا جان تھے، میرے اچھے بابا تھے، مگر میرے یقین کو آپ نے بے یقینی میں بدل ڈالا۔
میں نے تو یہ سن رکھا تھا کہ ماں باپ بچوں کو تکلیف میں دیکھ کر بوکھلا جاتے ہیں، ان کے ہاتھ پاؤں پھول جاتے ہیں، ان میں سوچنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے، ان کے دماغ کام کرنا بند کر دیتے ہیں، مجھے یقین ہے کہ آپ کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا ہوگا، ڈنڈے برسانے کی وجہ سے میرے سر سے جو خون بہنے لگا تھا تو آپ میرے خون کو دیکھ کر گھبرا گئے ہوں گے اور جس وقت آپ نے اپنی لاڈلی کے سر سے خون بہتے دیکھا تو آپ کا دماغ بھی مفلوج ہوگیا ہوگا، آپ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کھو بیٹھے ہوں گے، ہے نا بابا؟، کہو نا بابا، ایسا ہی ہوا تھا۔ بابا اگر آپ نے یہ نہ کہا تو میں ایک بار پھر سے مرجاؤں گی۔ ایک بار صرف ایک بار کہہ دیں بابا، اگر یہ جھوٹ بھی ہے تو آپ کو میری قسم آپ سچ مت بولنا۔
مجھے آپ سے صرف ایک گلہ ہے، مجھے بتائیں کیا میں آپ سے بہت فرمائشیں کرتی تھیں، چند کپڑے اور دو وقت کی روٹی ہی تو مانگتی تھی، اس کے علاوہ تو کسی چیز کی فرمائش کبھی نہ کی تھی، باپ تو اپنی بیٹی کو رخصت کرتے وقت دنیا جہان کی دولت اس پر نچھاور کرتے ہیں، ان کے بن مانگے، بن کہے ان کی ہر خواہش پوری کرتے ہیں اور آپ نے، آپ نے بابا میری لاش کو بے کفن بے یارو مددگار مردہ خانے کے باہر چھوڑ دیا۔ میں لاوارث نہیں تھی میں آپ کی سگی بیٹی تھی، میں تو آپ کا اپنا خون تھی، کیوں بابا آپ نے ایسا کیوں کیا؟
اس کے باوجود بابا آپ اب بھی مجھے بہت پیارے ہو، جان سے پیارا کہہ نہیں سکتی کیونکہ اب میرے جسم سے جان نکل چکی ہے، لیکن میرا آپ سے وعدہ ہے جب آپ اس دنیا میں آؤ گے تو میں آپ کے لئے ڈھیر ساری گول روٹیاں پکاؤں گی۔ عدالت نے ایک سال کے بعد آپ کو سزائے موت سنا دی ہے۔ مجھے اب آپ کا انتظار ہے مگر بابا، یہاں سارے کہتے ہیں آپ جنت کے دروازے کو پار نہیں کر سکو گے۔ میں کیا کروں بابا، یہ وعدہ پورا نہیں ہو پائے گا۔ ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا
تمہاری لاڈلی
انیقہ خالد😭

Monday, 13 January 2020

میں نہ کہتا تھا کہ پوچھتے سب ہیں مداوا کوئی نہیں کرتا۔

www.swatsmn.com
حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے ایک دفعہ کسی نے پوچھا کہ آپ نے پہلی دفعہ حضور نبی کریم (ص) کو کیسے دیکھا؟
بلال رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مکے کے لوگوں کو بہت ہی کم جانتا تھا۔ کیونکہ غلام تھا اور عرب میں غلاموں سے انسانیت سوز سلوک عام تھا، انکی استطاعت سے بڑھ کے ان سے کام لیا جاتا تھا تو مجھے کبھی اتنا وقت ہی نہیں ملتا تھا کہ باہر نکل کے لوگوں سے ملوں، لہذا مجھے حضور پاک یا اسلام یا اس طرح کی کسی چیز کا قطعی علم نہ تھا۔
ایک دفعہ کیا ہوا کہ مجھے سخت بخار نے آ لیا۔ سخت جاڑے کا موسم تھا اور انتہائی ٹھنڈ اور بخار نے مجھے کمزور کر کے رکھ دیا، لہذا میں نے لحاف اوڑھا اور لیٹ گیا۔ ادھر میرا مالک جو یہ دیکھنے آیا کہ میں جَو پیس رہا ہوں یا نہیں، وہ مجھے لحاف اوڑھ کے لیٹا دیکھ کے آگ بگولا ہو گیا۔ اس نے لحاف اتارا اور سزا کے طور پہ میری قمیض بھی اتروا دی اور مجھے کھلے صحن میں دروازے کے پاس بٹھا دیا کہ یہاں بیٹھ کے جَو پیس۔
اب سخت سردی، اوپر سے بخار اور اتنی مشقت والا کام، میں روتا جاتا تھا اور جَو پیستا جاتا تھا۔ کچھ ہی دیر میں دروازے پہ دستک ہوئی، میں نے اندر آنے کی اجازت دی تو ایک نہائت متین اور پر نور چہرے والا شخص اندر داخل ہوا اور پوچھا کہ جوان کیوں روتے ہو؟
جواب میں میں نے کہا کہ جاؤ اپنا کام کرو، تمہیں اس سے کیا میں جس وجہ سے بھی روؤں، یہاں پوچھنے والے بہت ہیں لیکن مداوا کوئی نہیں کرتا۔
قصہ مختصر کہ بلال نے حضور کو کافی سخت جملے کہے۔ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم یہ جملے سن کے چل پڑے، جب چل پڑے تو بلال نے کہا کہ بس؟ میں نہ کہتا تھا کہ پوچھتے سب ہیں مداوا کوئی نہیں کرتا۔۔
حضور یہ سن کر بھی چلتے رہے۔۔ بلال کہتے ہیں کہ دل میں جو ہلکی سی امید جاگی تھی کہ یہ شخص کوئی مدد کرے گا وہ بھی گئی۔ لیکن بلال کو کیا معلوم کہ جس شخص سے اب اسکا واسطہ پڑا ہے وہ رحمت اللعالمین ہے۔
بلال کہتے ہیں کہ کچھ ہی دیر میں وہ شخص واپس آ گیا۔ اس کے ایک ہاتھ میں گرم دودھ کا پیالہ اور دوسرے میں کھجوریں تھیں۔ اس نے وہ کھجوریں اور دودھ مجھے دیا اور کہا کھاؤ پیو اور جا کے سو جاؤ۔
میں نے کہا تو یہ جَو کون پیسے گا؟ نہ پِیسے تو مالک صبح بہت مارے گا۔ اس نے کہا تم سو جاؤ یہ پسے ہوئے مجھ سے لے لینا۔۔
بلال سو گئے اور حضور نے ساری رات ایک اجنبی حبشی غلام کے لئے چکی پیسی۔
صبح بلال کو پسے ہوئے جو دیے اور چلے گئے۔ دوسری رات پھر ایسا ہی ہوا، دودھ اور دوا بلال کو دی اور ساری رات چکی پیسی۔۔ ایسا تین دن مسلسل کرتے رہے جب تک کہ بلال ٹھیک نہ ہو گئے۔۔
یہ تھا وہ تعارف جس کے بطن سے اس لافانی عشق نے جنم لیا کہ آج بھی بلال کو صحابی ءِ رسول بعد میں، عاشقِ رسول پہلے کہا جاتا ہے۔
وہ بلال جو ایک دن اذان نہ دے تو خدا تعالی سورج کو طلوع ہونے سے روک دیتا ہے، اس نے حضور کے وصال کے بعد اذان دینا بند کر دی کیونکہ جب اذان میں ’أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ‘ تک پہنچتے تو حضور کی یاد میں ہچکیاں بندھ جاتی تھیں اور زار و قطار رونے لگتے تھے۔
ایثار اور اخوت کا یہ جذبہ اتنا طاقتور ہے۔
اللہ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے۔۔ آمین
دوستو...!!!چلتے، چلتے ہمیشہ کی طرح وہ ہی ایک آخری بات عرض کرتا چلوں کہ اگر کبھی کوئی ویڈیو، قول، واقعہ، کہانی یا تحریر وغیرہ اچھی لگا کرئے تو مطالعہ کے بعد مزید تھوڑی سے زحمت فرما کر اپنے دوستوں سے بھی شئیر کر لیا کیجئے، یقین کیجئے کہ اس میں آپ کا بمشکل ایک لمحہ صرف ہو گا لیکن ہو سکتا ہے اس ایک لمحہ کی اٹھائی ہوئی تکلیف سے آپ کی شیئر کردا تحریر ہزاروں لوگوں کے لیے سبق آموز ثابت ہو ....!
جزاک اللہ خیرا کثیرا۔....

ہزاروں موسموں کی حکمرانی ہے مرے دل پر

www.swatsmn.com
تمہارا نام لکھنے کی اجازت چھن گئی جب سے
کوئی بھی لفظ لکھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
تری یادوں کی خوشبو کھڑکیوں میں رقص کرتی ہے
ترے غم میں سلگتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
میں ہنس کے جھیل لیتا ہوں جدائی کی سبھی رسمیں
گلے جب اس کے لگتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
نہ جانے ہو گیا ہوں اس قدر حساس میں کب سے
کسی سے بات کرتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
وہ سب گزرے ہوئے لمحے مجھ کو یاد آتے ہیں
تمہارے خط جو پڑھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
میں سارا دن بہت مصروف رہتا ہوں مگر جونہی
قدم چوکھٹ پہ رکھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
ہر اک مفلس کے ماتھے پر الم کی داستانیں ہیں
کوئی چہرہ بھی پڑھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
بڑے لوگوں کے اونچے بدنما اور سرد محلوں کو
غریب آنکھوں سے تکتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
ترے کوچے سے اب مرا تعلق واجبی سا ہے
مگر جب بھی گزرتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
ہزاروں موسموں کی حکمرانی ہے مرے دل پر
وصی میں جب بھی ہنستا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں . . . .
وصی شاہ

Wednesday, 1 January 2020

میں تو کچھ بھی نہیں

www.swatsmn.com
آپ نہ جانے مجھ کو سمجھتے ہیں کیا؟
میں تو کچھ بھی نہیں
اس قدر پیار، اتنی بڑی بھیڑ کا

میں رکھوں گا کہاں؟
اس قدر پیار رکھنے کے قابل نہیں
میرا دل، میری جاں
مجھ کو اتنی محبت نہ دو دوستو
سوچ لو دوستو!
اس قدر پیار کیسے نبھاؤں گا میں
میں تو کچھ بھی نہیں
عزتیں، شہرتیں، چاہتیں، الفتیں
کوئی بھی چیز دنیا میں رہتی نہیں
آج میں ہوں جہاں، کل کوئی اور تھا
یہ بھی اک دور ہے، وہ بھی اک دور تھا
آج اتنی محبت نہ دو دوستو
کہ میرے کل کی خاطر نہ کچھ بھی بچے
آج کا پیار تھوڑ ا بچا کر رکھو
میرے کل کے لئے
کل جو گمنام ہے، کل جو سنسان ہے
کو جل انجان ہے، کل جو ویران ہے
میں تو کچھ بھی نہیں
میں تو کچھ بھی نہیں

Sunday, 22 December 2019

تمہارے لئے ایک خط چھوڑ گئی ھے

www.swatsmn.com
میں اور میری ماں ایک متوسط سے گھر میں رھتے تھے ۔۔ میرے والد فوت ھو چکے تھے ۔
لہزا زندگی کی گاڑی چلانے کے لئے میری ماں ۔۔ کو سکول کی کینٹین میں صبح سے لیکر سکول بند ھونے تک سخت کام کرنا پڑتا تھا ۔۔ میری ماں کے کپڑے بھی کوئی اتنےاچھے نہ ھوتے تھے ۔۔ یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں تھی ۔۔ کیونکہ مجھے اپنی ماں سے کسی اور بات پر سخت نفرت تھی وہ یہ کہ میری ماں کی ایک آنکھ نہیں تھی ۔۔ جس سے مجھے میری ماں بالکل بھی اچھی نہیں لگتی تھی ۔۔ اور دوسری طرف سکول کے بچے بھی مجھے اکثر کہتے تمہاری ماں ایک آنکھ سے کانی ھے ۔۔ جس سے میری نفرت میں اور اضافہ ھوتا ۔۔ جبکہ میری ماں مجھ سے بےحد پیار کرتی اور پڑھائی کے معاملے میں ھر وہ سہولت مہیا کرتی جو دوسرے بچوں کو حاصل تھیں ۔۔ مگر میں نے آپنی ماں سے ھمیشہ نفرت کی ۔۔ خیر میں تعلیم حاصل کرتا گیا ۔۔ ایک وقت آیا کہ میں کالج کے بعد یونیورسٹی اور پھر کورس کے لئے سنگاپور چلا گیا ۔۔ اور میری ماں جیسے کیسے میر ا خرچہ برداشت کرتی رھی ۔۔ لیکن میری نفرت باقاعدہ برقرار رھی ۔۔ پھرواپس آکر مجھے بہت اچھی جاب مل گئی اور میں آپنی ماں سے بالکل قطعہ تعلق ھو گیا ۔۔ جس کا میری ماں کو رنج ھوا ۔۔ مگر مجھے پروا نہیں تھی ۔۔ میں نے شادی کر لی اور میرے دو بچے بھی ھو گئے ۔ میں آپنا زاتی گھر خرید لیا ۔۔۔
ایک دن اچانک میرے گھر کی گھنٹی بجی ۔۔ دروازہ کھولا تو سامنے ماں کھڑی تھی ۔۔ میری بیوی اور بچے تجسس سے میرے پیچھے کھڑے ھو کر بولے یہ کون ہیں ۔۔؟؟ جبکہ مجھے بے حد غصہ آیا ۔۔۔ میں نے ماں کو کہا کہ تو یہاں کیوں آئی ھے ۔۔ کیوں میرے بچوں کو ڈرانا چاھتی ھے ان کو کیوں ڈسٹرپ کیا ھے ۔۔ میری ماں نے کوئی لفظ نہ کہا اور انہی قدموں سے واپس چلی گئی ۔۔ تھورا وقت گزار ۔۔ پتہ نہیں کیوں میں ایک دن جاب سے واپسی پر آپنی ماں کے گھر کی طرف چلا گیا ۔۔ ماں گھر نہیں تھی ۔۔ ھمسایوں سے دریافت کرنے پر معلوم پڑا کہ ماں کچھ دن پہلے فوت ھو گئی ھے ۔۔ لیکن ھمسائے نے کہا اچھا ھوا تم آگئے تمہاری ماں تمہارے لئے ایک خط چھوڑ گئی ھے ۔۔ میں نےلیا اور پڑھنا شروع کیا
پیارے بیٹے ھمیشہ سلامت اور خوش رھو
مجھے پتہ ھے تم مجھ سے میری آنکھ کی وجہ سے ساری زندگی نفرت کرتے رھے ۔۔
لیکن بیٹا سنو ۔۔ تم بہت چھوٹے تھے کہ تمارا ایکسیڈٹ ھو گیا ۔۔ تمہاری ایک آنکھ باکل ضائع ھو گئی ۔۔ جس کا مجھے بہت دکھ ھوا میں تمہیں اس طرح نہیں دیکھنا چاھتی تھی ۔۔ لہزا میں نے آپنی ایک آنکھ تم کو دے دی ۔۔ تاکہ میرا لال دونوں آنکھوں سے دیکھ سکے ۔۔ اگر یہ میرا جرم تھا تو بیٹا مجھے معاف کر دینا ۔۔ اور میں معافی چاھتی ھوں کہ تم کو اور تمہارے بچوں کو ڈسٹرپ کیا تھا
فقط تمہاری ماں
مجھے ایسا لگا میری دنیا تباہ و برباد ھو گئ ھے ۔۔۔ دل چاھتا تھا زمین پھٹے اور میں اس میں غرق ھو جاوں۔
(اردو اسلامک #وڈیوز #واقعات اور #دلچسپ باتیں پڑھنے کے لیے آپ مجھے Facebook سے (فالو Follow) کریں اور (سی فسٹ See First) کو سلیکٹ کرے تاکہ آپ کو ھر پوسٹ پہلےملے۔ جزاک اللہ خیر بہت شکریہ۔

Wednesday, 27 November 2019

اپنے شناخت کی پہچان ۔ زبیرتروالی

www.swatsmn.com

اپنی شناخت کیسے تلاشنی چاہے
----------------------
جن قوموں سے ان کی تاریخی یاداشت چھین لی جاتی ہے اور ان کو زیر کرنے والا ان کو ایک نئی یاداشت دینے کی کوشش کرتا ہے تو یہ قوم محکوم ہوجاتی ہے۔ پھر محکومی کے شروع کی ایک دو نسلوں کے بعد یہ قوم اپنی یاداشت مکمل طور پر کھو دیتی ہے۔ وہ وہی شناخت، وہی زبان، وہی کلچر، وہی طور طریقے اور وہی سماجی نظام اپنانے لگتی ہے جو ان کو زیر کرنے والوں نے دی ہو۔
ایسا ہر دور میں ہوا ہے اور یہ برطانوی، فرانسسی یا پرتیگیزی نوابادیت اسی تاریخی عمل کے انتاہی نکتے ہیں۔ شمالی پاکستان میں بستی قوموں کے ساتھ یہ عمل دسویں صدی میں زور و شور سے جاری رہا۔ اسکا نکتہ عروج سولہویں صدی رہی اور اگلے ایک ادھ صدی میں یہاں بسنے والی قوموں کی تاریخی یاداشتیں ختم ہوگئیں۔ ان یاداشتوں میں اب اگر کوئی چیز باقی بچی ہے تو وہ ان کی زبانیں ہیں جو مکمل طور پر زبانی یعنی بولیاں رہیں۔ مگر اس زبانی ادب و تاریخ کے کچھ حصّے سینہ بہ سینہ دوسری نسلوں تک منتقل ہوتے رہے جس کو جدید علوم نے ایک کمتر نام ”لوک ادب یا ورثہ“ (فوک لور) کا نام دیا۔
اگر اپ نے اپنی کلتوری شناخت کو کھوجنا ہے تو اس لوک ادب و ورثہ پر تحقیق کریں۔ جھٹ سے کسی چیز کو جھٹلانا یا اپنے تعصب پر مبنی کوئی نظریہ گھڑنا مناسب عمل نہیں۔ اس سے چند لوگوں کو گمراہ تو کیا جاسکتا ہے لیکن مختصر وقت تک اور وہ بھی ایک بھیانک نقصان پر منتج ہوتا ہے۔ ہاں یہ بات بھی پہلو میں باندھ کر رکھیں کہ کسی ایک شناخت پر اڑنا نفرتیں پیدا کرتا ہے اور اس سے انسانوں کی زندگی اجیرن ہوجاتی ہے۔ ہٹلر ایک شناخت پر اترایا اور دنیا کا انجام ہم سب نے دیکھ لیا۔ اجکل جرمنی میں خود کو اریہ کہو تو جرمنیوں کا ردعمل شدید ہوتا ہے۔
شناخت کا عمل زماں و مکاں یعنی Temporal and territorial دونوں سے نبرزازما ہوتا ہے۔ اس کا تعلق فرد کی نفسیات، شخصیت اور سماجی و سیاسی عوامل سے بھی گہرا ہوتا ہے۔
ہندوکش ہو یا قراقرم و پامیر یا ہمالیہ؛ سندھ کا صحرا ہو یا اسٹرالیا کی پہاڑیاں؛ امریکوں کی قدیم ابادیاں ہوں یا ہندوستان کا جنوب؛ افغانستان کا بدخشان ہو یا درہ نور کی وادیاں۔ غرض سب جگہ مقامی لوگ خود کو ”قوم“ کہتے ہیں۔ ”برادری“، ”ایتھنی“، ”قبائل“(Community, ethnie, tribes) وغیرہ الفاظ نوابادیاتی مطالعات کی اصطلاحات ہیں۔
متحدہ ہندوستان میں ایسے مطالعات نے ”قومیت“ کی بنیاد قومیت کی فقط ایک ذریعہ ”عقیدے“ پر رکھ کر اس کا بیڑا غرق کردیا۔ اس دو قومی نظریے نے دوسری قوموں کے وجود سے انکار کردیا اور یوں قومیت کی جنگ ہنوز جاری ہے۔ اس نوابادیاتی مطالعات میں ”قوم اور ریاست“ کا نظریہ پیش کیا گیا کہ اس یورپی سیاسی نظریے میں قوم ریاست کے بغیر نہیں بن سکتی۔ وہاں دو ”قومیں“ وجود میں لائی گئیں۔ ایک ”قوم“ نے کہا ہم قوم ہے اب ہمیں ریاست کی ضرورت ہے۔ مگر حالات ک
ی ستم ظریفی دیکھیں جب ریاست مل گئی تو گزشتہ 72 سالوں سے یہی ریاست ایک ”قوم“ کی تلاش میں ہے اور اس کو یہ ”قوم“ نہیں مل رہی بلکہ اسی ”قوم“ کا ایک اکثریتی حصّہ الگ بھی ہوا۔ قوم سازی کے اسی منصوبے کے لیے ایک ”دیگر“ یعنی دشمن کو تراشا گیا۔ کلتوری و تاریخی روایات کو غیر فطری طور پر سرسید احمد خان اور سید احمد سرہندی کے زمانے سے پیچھے جانے سے روک دیا گیا۔ ایک قوم بنانے کے اس غیر فطری منصوبے نے ایک ایسی تعلیم ٹھونسنے کی کوشش کی کہ جس سے یہاں بسنے والوں کی تاریخی یاداشتیں جو مہرگڑھ، مہنجوداڑو، گندھارا اور ہڑپہ سے جڑی تھیں کو مٹانے کی کوشش کی گئی۔ ایسے میں ہم جیسی چھوٹی قوموں کو معلق چھوڑ دیا گیا اور ہم ہنوز ہاتھ پاؤں مارتے رہتے ہیں کہ ہماری شناخت کیا ہے۔ کسی نے ایک ادھ کتاب پڑھی اور اس سے نتائج اخذ کیے۔ کسی نے سرے سے کتاب ہی نہیں پڑھی اور اس پر اکتفا کیا کہ ہم خود کو کیا کہتے ہیں۔
کسی قوم پر اپنی مرضی کی کوئی شناخت ٹھونسنے سے بہتر ہے کہ اس قوم کو علمی، معاشی، سماجی اور سیاسی طور پر مضبوط کیا جائے۔ جب اسے یہ مضبوطی میسّر ہو تو وہ خود کو کوئی شناخت دینے اور پھر اسے اپنے مجموعی فہم و فراست کے ذریعے قائم رکھ سکے گی اور ساتھ اس کے مضر اثرات سے خود کو بچانے کی طاقت بھی حاصل کرسکے گی۔ محض نعروں اور کھوکھلے نظریات سازی سے قوم طاقت ور نہیں بن سکتی ورنہ پاکستان کی یہ حالت نہ ہوتی۔
شناخت پر تحقیق و فکر ہونی چاہے۔ اپنی لوک ادب و ورثہ پر تحقیق ہونی چاہے۔ شناخت کی تلاش کرنی چاہے لیکن ساتھ یہ بھی ذہین میں رکھنا ضروری ہے کہ شناخت کوئی ساکت چیز نہیں کہ ایک جگہ ٹھر جائے۔ ہم ایک کثیرالشناختی دور میں رہ رہے ہیں۔ ایک فرد کی کئی شناختیں ہوسکتی ہیں۔ کسی ایک شناخت پر زور دینا بقائے باہمی کے لیے ذہر ثابت ہوتا ہے۔ زبیرتروالی

10th National Desert Hike 2025 (Rambler Badge Hike for Rover Scouts)

10th National Desert Hike 2025  (Rambler Badge Hike for Rover Scouts) Chulistan ,روحی   نیشنل ڈزرٹ ہائیک 2025 تاریخِ عالم اس امر کی شاہد ہے ...