Friday, 6 January 2017

یونس خان ماڈرن کرکٹ میں مزاحمت اور تسلسل کی بہترین مثال

www.swatsmn.com

یونس آج بھی وہی کرکٹ کھیلتا ہے جو وہ سولہ سال پہلے کھیلتا تھا۔ اس کا فٹ ورک آج بھی وہی ہے جسے سولہ سال پہلے بھی کوئی پسند نہیں کرتا تھا۔ اس کی تکنیک آج بھی وہی ہے جو ڈیڑھ عشرہ پہلے تھی۔
ان سولہ سال میں یونس خان نے پاکستان کرکٹ کا مشکل ترین وقت دیکھا ہے۔ اس نے اپنے آئیڈیلز کو ریٹائر ہوتے دیکھا، ڈریسنگ روم کو نئے نئے چہروں اور بھانت بھانت کے تجربوں سے گزرتے دیکھا، پی سی بی کو سیاسی تبدیلیوں سے گزرتے دیکھا، سپاٹ فکسنگ کے سکینڈل سے ٹوٹتی ٹیم کو دیکھا، بے وطن ٹیم کو امارات کے گرم صحراوں میں گھر کھوجتے دیکھا، اور اس سب کے بیچ وہ صرف اپنی محنت اور کارکردگی کے بل پہ پاکستانی ڈریسنگ روم کا حصہ رہا۔
وہ پاکستان کی تاریخ کا کامیاب ترین بیٹسمین صرف اپنے ریکارڈز اور رنز کی بدولت نہیں ہے بلکہ اس کی عظمت کی دلیل یہ ہے کہ اس نے پاکستان کرکٹ کی تاریخ کا مشکل ترین وقت بہترین انداز سے نبھایا ہے۔ اس نے سالہا سال اس بے گھر اور بے نام ٹیم کو اعتماد فراہم کیا ہے۔ قوم نے بھلے اس پہ بھروسہ نہ کیا ہو مگر وہ ہر طرح کے حالات میں ڈٹا رہا ہے۔
یونس خان پاکستان کی تاریخ کا عظیم ترین بیٹسمین ہے مگر اس نے اس عظمت کی قیمت اوروں سے کہیں زیادہ چکائی ہے۔ یہ تو آنے والا کل ہی بتا سکتا ہے کہ اس عظیم بیٹسمین میں ابھی کتنی کرکٹ باقی ہے مگر پاکستان کرکٹ کے یہ سولہ سال اس بات کے گواہ ہیں کہ یونس خان صرف پاکستان کا ہی نہیں، اس عہد کا بھی عظیم ترین بیٹسمین ہے۔
 گذستہ چھ سال پاکستان آفریدی اور مصباح کے دو قومی نظریہ میں الجھا ہوا تھا، تب یونس خان اپنے غیر مقبول سٹائل اور نان گلیمرس اپروچ کے ساتھ رنز بنانے اور ریکارڈ توڑنے میں لگا رہا۔ آج یونس تاریخ کا پہلا بیٹسمین بن چکا ہے جس نے تمام ٹیسٹ پلئینگ نیشنز سمیت گیارہ ممالک میں سینچریاں کی ہیں۔

یونس خان پاکستان کرکٹ کا عجیب ترین کردار ہے۔ وہ پاکستان کی تاریخ کا عظیم ترین بیٹسمین ہے مگر اس کے اکثر ہم وطن یہ ماننے کو تیار نہیں۔ وہ ریکارڈز اور اعداد و شمار میں اس وقت برائن لارا اور گواسکر جیسوں کے مقابل کھڑا ہے مگر پاکستان میں اسے کبھی انضی یا یوسف، حتی کہ عامر سہیل جیسی پذیرائی بھی نصیب نہیں ہوئی۔
پاکستان وہ ملک ہے جہاں کرکٹ ہیرو ازم کو کارکردگی کی بجائے سٹائل اور گلیمر کے پیمانے میں تولا جاتا ہے۔ ہاں کارکردگی بھی اچھی ہو تو ہیرو کا قد اور بڑھ جاتا ہے لیکن کارکردگی بری بھی ہو تو صاحبان گلیمر و سٹائل کا قد گھٹتا نہیں ہے۔ اور جو ہیرو پہلی انٹری پہ ہی کھڑکی توڑ پرفارمنس دے ڈالے، وہ پھر سالہا سال پرفارم کرے یا نہ کرے، تا ابد اس قوم کا ہیرو ہی رہتا ہے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو یونس خان ماڈرن کرکٹ میں مزاحمت اور تسلسل کی بہترین مثال ہے۔ یہ وہ بیٹسمین ہے جس نے اولڈ سکول کرکٹ کو ماڈرن کرکٹ میں ڈھلتے دیکھا ہے، وسیم، وقار کا عہد ختم ہوتے دیکھا ہے، انضی اور یوسف کے بعد پیدا ہونے والے خلا کو بھگتا ہے۔ آئے دن ٹیم بدلتی دیکھی، کپتان بدلتے دیکھے لیکن ان سب بدلتی رتوں میں بھی یونس خود کو بدلے بغیر مسلسل آگے ہی بڑھتا رہا ہے۔
پلئیرز پہ ایک وقت ایسا ہوتا ہے کہ جب ان کی ٹیم میں جگہ نہیں بنتی اور پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ ان کے بغیر ٹیم نہیں بنتی۔ یونس نے بھی یہ دونوں وقت دیکھے تو ہیں مگر اسے یہ دیکھنے کے لیے بھی ایک صبر آزما انتظار سے گزرنا پڑا۔
یونس خان ریکارڈز اور ٹائٹلز کے پیچھے بھاگنے والوں میں سے نہیں ہے۔ وہ دوسروں کی نصیحت کے بجائے اپنی محنت پہ یقین رکھتا ہے۔وہ ہوا کے تیور دیکھ کر رنگ بدلنے والا نہیں ہے۔ سارے جہاں کی کرکٹ بدل جائے مگر یونس بدلنے والا نہیں ہے۔ اس کی تکنیک پہ سوشل میڈیا ہنسے یا ماہرین بھنویں اچکائیں، وہ اسی تکنیک سے رنز کے انبار لگاتا چلا جاتا ہے۔

Thursday, 5 January 2017

صحافی کیا ہے؟

www.swatsmn.com

صحافی کیا ہے؟
اپنے سلیبس میں آپ صحافی کی اور صحافت کی بہت سے لوگوں کی بہت زیادہ تعریفیں پڑھیں گے۔ لیکن عملی دنیا میں قدم رکھتے ہوئے آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ صحافی ہے کیا؟
مختلف انداز میں اس کی تشریح کرتاہوں اور امید رکھتا ہوں کہ آپ اس کو سمجھ پائیں گے۔
 ہر محلے میں کوئی نا کوئی خاتون ایسی ہوتی ہیں۔ جو ایک جگہ سے بات سن کر دوسری جگہ بات کو پھیلاتی چلی جاتی ہیں۔ ایسی خواتین کو اردو زبان میں پھاپے کٹنی کہتے ہیں۔کچھ لوگ صرف کٹنی کہتے ہیں اور پنجابی زبان میں اسے پھپے کٹنی کہا جاتا ہے۔
 ان کٹنیوں میں چند ایک معیار میں بلند درجہ رکھتی ہیں اور وہ یہ کہ وہ سنی ہوئی کو سناتی ہی نہیں بلکہ ان پر ہر کسی کی رائے کو بھی لیتی چلی جاتی ہیں اور سنی ہوئی بات کو اپنے مختلف پیرایوں میں بیان کر کے ان سے مختلف لوگوں کی آرالیتی چلی جاتی ہیں اور اس طرح ایک مخصوص فرد کے حق میں یا اس کے خلاف مخصوص مواد حاصل کر لیتی ہیں۔
 ایسی خواتین ضروری نہیں کہ محلوں میں ہی پائی جاتی ہوں یہ سکول کالج ہوسٹل میں بھی ہوتی ہیں۔ در حقیقت یہ ایک سوچ ہے اندازِ زندگی ہے۔ طرزِ تفکر ہے۔ ان ایک بات مشترک ہوتی ہے۔ اور وہ یہ کہ یہ سنی ہوئی بات روک نہیں سکتیں اور ایک جگہ رک نہیں سکتیں۔ اپنی مطلوبہ بات وصول کرتے ہی اس جگہ سے آگے نکلتے چلی جاتی ہیں۔
 بس یہی انداز پیشہ وارانہ انداز میں صحافی کی زندگی کا ہوتا ہے۔ معلومات کا حصول ان پر مختلف پیرائے میں مختلف متعلقہ لوگوں سے ان پر اپنے انداز میں ان سے ان کے خیالات کہلوا کر آگے بڑھتے چلے جانا۔ اور کسی بھی نئی بات کو روک نہ پانا بلکہ اس کو متعلقہ میڈیا (مقام) پر پہنچانا۔ ہی صحافی کا کام ہے۔
صحافی کی دوسری تعریف:
 الفاظ کے ننگے پن کا جان جانے والا اور موقع و محل کی مناسبت سےان کے درست استعمال کرلینے والا صحافی کہلاتا ہے۔ ننگے پن سے مراز الفاظ کا ادب ختم کر دینا ہے۔ کہ یہ لفظ تو اس طرح استعمال کیا جاتا یا کس طرح استعمال کیا جاتا ہے سب بھول جائین فقط اس کے بنیادی مطلب کو ملحوظ خاطر رکھیں۔ اور ایک ماہر کی طرح اس کا استعمال مختلف انداز میں کرنا ہی الفاظ کو ننگا کر دینے اور اس کو استعمال کر دینے میں مہارت صحافی کا کام ہے۔
ادب اور صحافت میں فرق:
 ادب نام ہی عیوب کو چھپانے کا ،عیاں کو نہاں کرنے کا یا مختلف انداز میں ایسے بیان کرنے کا کہ عیب پر پردہ پڑا رہے یا عیب ہلکے سے ہلکا محسوس ہو لیکن صحافت نام ہے ۔ نہاں کو عیاں کرنے کا، چھپے ہوئے کو سامنے لانے کا۔اور ایسے انداز میں سامنے لانے کا کہ سب پر اس کا خاطر خواہ اثر ہو اور اس عیب کا ختمہ ہو سکے۔ فقط نہاں کو عیاں کر دینے سے ہی کام نہیں چلتا بلکہ اس کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنا پڑتا ہے لیکن اس کا بھی ایک پیشہ وارانہ طریقہ ہے
 مثلاً آج راولپنڈی میں کسی خاتون کا دھوکے سے گردہ نکال لیا گیا۔ لیکن اس کو رپورٹ ایسے کیا گیا کہ راولپنڈی میں گردے نکالنے والے گروہ کا انکشاف۔ اسی لفظ گروہ کی وجہ سے یہ خبر تمام ٹیلیویژن چینلز کی بریکنگ بن گیا۔ اس طرح اس پر سب اداروں کی توجہ ہو گئی
عقلی معیار کو ناپنا ہو تو عموماً اس کی مندرجہ ذیل درجہ بندی کی جا سکتی ہے
کند ذہن،عام فہم،ذہین اور فطین
 ایک صحافی فطین سے بھی بہت آگے کی چیز ہوتی ہے۔ اسے فطین پلس کہا جائے تو زیادتی نہ ہو گی۔ عام آدمی کسی بھی غیر معمولی بات کو سطحی نظر سے دیکھتا ہے اور آگے بڑھ جاتا ہے۔ لیکن ذہین آدمی کسی بھی چیز کو دیکھنے کے بعد اس کے فوری اثرات، مستقبل قریب کے اثرات کیساتھ ساتھ مستقبل بعید کے اثرات کو چند لمحوں میں جانچ جاتا ہے۔اور اس کے بعد اس کو اپنے پیمانہ پر تولتا ہے کہ یہ میرے لیے، میرے ادارہ کے لئے، میری قوم کے لئے، انسانیت کے لئے کن اثرات کا موجب بن سکتی ہے۔ جب وہ ہر پہلو کو جانچ چکتا ہے تو اس کی اسی انداز میں خبر بناتا ہے تا کہ وہ زیادہ سے زیادہ اثر انگیز ہو۔ مثلاً
 میں کسی پر بھی کسی بھی قسم کا کوئی بھی اعتراض کئے بغیر ایک واقع بیان کر رہا ہوں۔ جس دن معروف صحافی اور موجودہ اینکر پرسن حامد میر نے اسامہ بن لادن کا افغانستان میں روزنامہ اوصاف کےلئےانٹر ویو لیا اور وہ شائع بھی ہو گیا تو میں زیرو پوئنٹ اسلام آباد میں پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے سامنے موجود ہوٹل پر چائے پینے بیٹھا تھا ساتھ چند صحافی دوست بھی موجود تھے۔ وہیں خبر کی اطلاع ملی۔ سب کے منہ سے بیک وقت ایک ہی بات نکلی۔ اوہ یہ تواس نے امریکی افواج کو افغانستان میں اتروا دیا ہے ۔اس واقع کے بہت بعد میں نائن الیون کا واقع پیش آیا اور اس کے بعد امریکن افواج افغانستان میں آئیں۔ لیکن معلوم سب ہی کو تھا کہ کیا شائع ہو چکا ہے اور اس کے اثرات کیا ہو سکتے ہیں۔
 مجھے حامد میر پر یا اس کی رپوڑٹنگ پر کوئی اعتراض نہیں۔ نہ میں اس پہلو پر آ رہا ہوں۔ فقط یہ بتانا چاہ رہا ہوں کہ خبر کیا اثرات رکھتی ہے۔ اورخبر بنانے والے پر کیا کیا ذمہ داریاں ہو سکتی ہیں اور ایک پیشہ ور اخبار نویس کیا ہوتا ہے۔ اس کا ویژن کیا ہوتا ہے۔ اور یہ اس کے لئے معمول کی بات ہوتی ہے۔ ہر چیز کو دیکھنا پرکھنا اور غیر محسوسانا انداز میں کسی کے نوٹس میں آئے بغیر آگے بڑھتے چلے جانا اس کا معمول ہوتا ہے۔
 یہ صلاحیتیںانسان میں کیسے آتی ہیں یہ بتدریج ماحول سے ملتی ہیں۔ رپورٹنگ ڈیسک ایک ایسی جگہ ہے جہاں چٹخارہ ہی چٹخارہ ہوتا ہے۔ ہر ایک رپورٹر اپنی اپنی بیٹ سے واپس آ کر سلپس( وہ کاغذ جس پر خبریں لکھے جاتی ہیں،عموماً یہ نیوس پرنٹ والا کاغز ہی ہوتا ہے جسے بسا اوقات ٹشو پیپر کے طور پر استعمال میں لایا جاتا ہے)کی تباہی کر رہا ہوتا ہے کیونکہ خبر بناتے پوئی ذرا غلطی ہوئی اور سلپ کو مروڑ کر ایک سائیڈ پر پھینک کر دوسری پر خبر بنانا شروع کر دی جاتی ہے۔ بسا اوقات ایک ہی خبر پر کئی کئی سلپ ضائع ہو جاتی ہیں اور آخر میں ایک سلپ پر خبر تیار ہو جاتی ہے۔
 ایک رپورٹر دوسرے کو بتا رہا ہوتا ہے کہ آج فلاں ڈی آئی جی ٹھوک رہا ہوں۔ دوسرا کسی وزیر کی خبر لے رہا ہوتا ہے تیسرا کسی اور ادارے کو بجا رہا ہوتا ہے۔
 اور یہ سب کچھ حوصلہ ہمت اور بے خوفی ایک عام آدمی کے بس کی بات نہیں ہوتی لیکن صحافی کا روزمرہ کا معمول ہوتا ہے۔
 بنیادی تربیت کے لئے شام کا اخبار ہو تو تربیت میں جو نکھار آتا ہے وہ اور کہیں دستیاب نہیں ہوتا۔شام کا اخبار اپنی نوعیت میں خود بھی چٹخارہ ہوتا ہے تو یہ چٹخارہ تیار کرنے والے اپنی نوعیت کےالگ ہی لوگ ہیں۔ خواتین کو تو عموماً ان کی مناسبت سے ہی بیٹ(وہ علاقہ یا فیلڈ جس کی ذمہ داری اس رپورٹر کے ذمہ ہوتی ہے)دی جاتی ہے۔اور انہیں دن دن میں ہی بر وقت فارغ بھی کر دیا جاتا ہے۔ لیکن مرد حضرات کے لئے یہ پیشہ ایک فل ٹائم ایکسائٹمنٹ ہوتی ہے۔ چونکہ اخبارات رات کو ہی تیار ہوتے اور چھپتے ہیں اس لئے کاپی پریس جانے کے بعد ہی سب فارغ ہوتے ہیں
FB / Tnxs

Tuesday, 6 December 2016

تلور کے شکار کی اندرونی کہانی

www.swatsmn.com

تلور کے شکار کی اندرونی کہانی
"""""""""""""""""""""""""""
یہ تلور کا شکار اتنا خاص کیوں ہے؟اور یہ شکار صرف عرب شہزادے ہی کیوں کرتےہیں گورے بھی شکار کے بہت شوقین ہوتے ہیں لیکن کبھی سنا نہیں کہ شکار کے لئے وہ یہاں آۓ ہوں ویسے بھی ایک معمولی پرندے کیلئے عربوں کے اربوں کی ضرورت کیوں پڑتی ہے اور یہ شکار پاکستان انڈیا اور بنگلہ دیش جیسے ملکوں میں ہی کیوں کیا جاتا ہے تلور تو ایک آزاد پرندہ ہے سال میں دو دفعہ اپنا سفر ٹھنڈے ممالک سے گرم ممالک اور پھر گرم سے ٹھنڈے ممالک کی طرف کرتے ہیں اس سفر کے دوران دنیا کے بیسوں ممالک سے گزرتے ہیں جن میں عرب ممالک بھی شامل ہیں پاکستان میں مقامی لوگ بھی اس کا شکار کرتے ہیں مجھے خود ایک دفعہ بہاولپور کے ایک دوست کے ساتھ شکار کا اتفاق ہوا تھا اور تلور کھانے موقعہ بھی ملا ذائقہ میں گوجرانوالہ سے ملنے والے چڑوں سے زیادہ کمال نہیں تھا اور مجھے ذاتی طور پر اس میں کوئی ایسی خاص بات نظر نہیں آئی کہ اس کے شکار کے لئے اتنی محنت یا سرمایا خرچ کیا جائے پھر بھی عرب شہزادے اس شکار کے اتنے شوقین کیوں ہوتے ہیں اور یہاں آکر ہی کیوں حالانکہ ان کو شکار زندہ ی مردہ ان کے ممالک میں بصد خوشی پہنچایا جا سکتا ہے لیکن اندر کی کہانی اس شکار سے بھی زیادہ ہولناک اور بربریت سے بھری ہے پچھلے دنوں میری ملاقات بہاولپور میں عرب شہزادوں کی سکیورٹی پر معمور ایک سکیورٹی آفسر سےہوئی جو ایک ریٹائر میجر تھے اور اسلام آباد میں کوئی نئی جاب تلاش کر رہے تھے جبکہ ان کا کہنا تھا کہ وہاں وہ دو لاکھ کی تنخواہ لیتے تھے میں سوال کیا جاب کیوں چھوڑی ؟ میجر صاحب نے جواب دیا فوجی ہوں ضمیر گوارہ نہیں کیا میرے لئے جواب حیرت انگیز تھا لیکن جو کچھ ان سے سنا پیش خدمت ہے ۔ سکیورٹی آفیسر کی ذمہ داری ہوتی ہے مہمان کو ائیرپورٹ سے لے اور ہر لمحہ اس کے ساتھ رہے اور اسے واپس ائیرپورٹ پر بحفاظت پہنچائے اور مہمان ہر وقت اس کی نظر میں رہے لہذا اس سے زیادہ کسی مہمان کی ذاتی مصروفیات کو کوئی نہیں جانتا ہم سب نے کبھی غور کیا ہے کہ عرب شہزادے جب بھی شکار پر آتے ہیں اکیلے کیوں آتے ہیں ان کے ساتھ ان کی فیملی یا بیویاں کیوں نہیں آتی کیا ان کو تلور اور ہرن کا گوشت پسند نہیں کہانی کچھ یوں ہے شہزادے جب شکار گاہ میں آتے ہیں تو محل سے دور خیمہ بستی قائم کی جاتی ہے جہاں یہ دوپہر کے بعد شکار شروع کرتے ہیں شکار میں شکرے گھوڑے کتے اور باز استعمال ہوتے ہیں شکار مغرب سے پہلے ختم ہو جاتا ہے پھر مغرب کی نماز کی با جماعت ادائیگی ہوتی ہے اور شکار پکایا جاتا ہے باربی کیو 'ہنڈی کڑھای 'سٹیم روسٹ کے ساتھ ساتھ ہزاروں طرح کے میٹھے اور ہریسہ اور پھر عشاء کی با جماعت نماز سے پہلے اسے کھا لیا جاتا ہے پھر شہزادے اپنے اپنے خیموں کا رخ کرتے ہیں جہاں حکومت پاکستان 'مقامی انتظامیہ اور لوگوں کے تعاون سے ان شہزادوں کی نفسانی حوس پوری کرنے کیلئے کم عمر مقامی لڑکیوں کو پیش کیا جاتا ہےاس بات کا خاص خیال رکھا جاتا ہے لڑکیاں مقامی یعنی پاکستانی ہوں کسی کی عمر بارہ یا چودہ سال سے زیادہ نہ ہوں شہزادوں کو پیش کرنے سے پہلے ان پاکستانی بیٹیوں کو مشک و عنبرسے نہلادھلا کر خاص ٹریننگ دی جاتی ہے کہ شہزادوں کو کسی طرح کی مزاحمت یا پریشانی کا سامنا نہ ہو اندر کے حالات تو کوئی نہیں جانتا کہ ان بچیوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے لیکن وہی ہوتا ہوگا جو ایک باز ایک ننھی سی چڑیا کے ساتھ کرتاہے میجر صاحب نے کہا میں خیموں کے باہر وہ آوازیں سنی تھیں جو کسی عقوبت خانے سے آتی ہیں اس تجربے کو بتاتے ہوئے ایک فوجی کی آنکھوں میں آنسو تھے خود سوچ لیں جہاں ایک فوجی کی ہمت جواب دے گئی وہاں ظلم کس نہج پر ہوگا بربریت کیسے محو رقصاں ہو گئی شیخ زید ہسپتال کے ڈاکٹر بھی اس بات کے گواہ ہیں جب ایمرجنسی میں یہ کم سن پاکستانی بیٹیاں گہرے اندرونی زخموں کی وجہ سے کئی کئی دن ہسپتال میں گزارتی ہیں اور کئ تو اپنی جان سے جاتی ہیں ۔ میرا پوری قوم سے سوال ہے کیا ہم دلال ہیں یا یہ ملک ہیرا منڈی ہے چند سکوں اور ویزوں کی مرعات کے بدلے ہم اپنی بیٹیاں بیچ دیتے ہیں کس کام کا ہمارا ایٹم بم کس کام کی آزادی جو ہزاروں جانیں دے کر ملی تھی کہاں جاتی ہے غیرت قومی جب یہ شہزادے آپس میں بیٹھ کر پاکستانی قوم کی عزت اور توقیر کی دھجیاں اڑاتے ہوں گئے ہم جن ممالک کے شہزادوں کے سامنے کمر تک جھک کا کورنش بجا لاتے ہیں ان کا پورا ملک پاکستان کے ایک شہر سے بھی چھوٹا ہوگا اور کمزور اس قدر کے اگر ایک بریگیڈ فوج بھیج دی جائے تو جنگ لڑے بغیر ہیتھار ڈال دیں گئے لیکن میرے خیال میں قصور ان شہزادوں کا نہیں قصور ہمارا ہے کیونکہ جب آپ قومی عزت و غیرت کو تھال میں رکھ کر سر بازار کھڑے ہوں گئے تو خریدار تو کوئی بھی ہو سکتا ہے ویسے اتنی بےعزتی اور بے توقیری کے بعد ہمیں یہ اٹیم بم اپنے دالحکومت میں رکھ کر چلا لینا چائے شاید یہاں کوئی بھی قوم دوبارہ آباد ہو وہ ہماری طرح اس زمین پر بوجھ نہ ہو


تحریر انعام ملک

Monday, 28 November 2016

بریکنگ نیوز کے عادی میڈیا

www.swatsmn.com

پاکستان کے دیسی میڈیا کا آخری وقت تک بس نہیں چلا کہ خود ہی نئے آرمی چیف کا تقرر کر دے اور اگر ایسا واقعی ممکن ہوتا تو آج چار جرنیل آرمی چیف ہوتے۔
وزیرِ اعظم نے اس بار بھی اتنی ہی احتیاط برتی جیسے جنرل قمر جاوید باجوہ کا نہیں ضیا الدین بٹ کا تقرر کر رہے ہوں۔ آخر وقت تک
سادے پانی سے دہی جمانے کی حکمتِ عملی جاری رہی۔
جانے کب ترکمانستان سے واپس آئے، کب ذاتی طور پر فائل لے کر صدر ممنون کے پاس گئے اور پھر کوئی رسمی پریس ریلیز جاری کرنے سے پہلے پہلے خبر لیک ہو گئی۔ تاکہ بریکنگ نیوز کے عادی میڈیا کی کچھ تو تشفی ہو جائے۔
میڈیا کے پاس ککھ ایکسکلوسیو نہ تھا۔ چنانچہ اس طرح کے تبصروں پے گزارا ہو رہا ہے۔
جنرل قمر جاوید باجوہ پروفیشنل سولجر ہیں۔ گویا ان سے پہلے کے سپاہ سالار واپڈا سے ادھار میں مانگے گئے تھے؟
جنرل باجوہ کو کمان اور ایڈمنسٹریشن کا وسیع تجربہ ہے۔ گویا کوئی ایسا سپاہ سالار بھی تھا جسے فوج کی کمان اور ایڈمنسٹریشن کے بجائے اریگیشن کا تجربہ تھا؟



جنرل باجوہ کا تقرر میرٹ پر ہوا ہے۔ تو کیا جنرل راحیل شریف دیہی علاقوں کے کوٹے پر اور جنرل کیانی پرچی پر آئے تھے؟
نئے آرمی چیف غیر سیاسی سوچ رکھتے ہیں۔ اب تک جو 15 سپاہ سالار مقرر ہوئے ان میں سے کچھ تقرری سے پہلے کیا کسی سیاسی تنظیم کے کارڈ ہولڈر بھی رہ چکے تھے؟
جنرل باجوہ چیف کی دوڑ میں ڈارک ہارس تھے۔ اس بات کا اردو ترجمہ شاید یہ ہے کہ وہ میڈیا خواہشات کی فیورٹ امیدواری فہرست سے باہر تھے یا جس اینکر و تجزیہ کار کی پیش گویانہ امیدوں پر ان کی تقرری سے پانی پھر گیا اس کے لیے ڈارک ہارس ہو گئے۔
جب میڈیا کو اندازہ ہو گیا کہ جنرل راحیل شریف کے عہدے کی مدت میں توسیع نہیں ہو رہی، جب یہ افواہ بھی دم توڑ گئی کہ آرمی چیف کے عہدے کی مدت تین برس سے بڑھا کر چار برس کی جا رہی ہے تاکہ راحیل شریف ایک سال اور رہ سکیں، جب اس اندازے نے بھی کھڑکی سے کود کے خود کشی کر لی کہ جنرل صاحب کو ان کی بے پناہ قومی مقبولیت اور شاندار خدمات کے عوض فیلڈ مارشل بنایا جا رہا ہے اور جب یہ امید بھی نوزائیدگی میں مر گئی کہ سعودی عرب نے جنرل شریف کو 34 رکنی مسلمان فوجی اتحاد کا سربراہ بننے کی پیش کش کی ہے اور جب بعض اینکروں نے ٹی وی سکرین سے کود کر جنرل صاحب کے پیر پکڑ کے ’رک جا او جانے والے رک جا‘ گایا اور پھر بھی کوئی چمتکار نہ ہو سکا تو میڈیا پر افسردگی سی چھا گئی مگر ایک آدھ دن کے لیے۔
اور پھر یہ ادھیڑ بن شروع ہو گئی کہ چاروں امیدواروں میں سینیئر کون ہے۔ حالانکہ چاروں کو ایک ساتھ ہی فوج میں کمیشن ملا اور دو چار دن آگے پیچھے جوائننگ رپورٹ کے سبب سینیارٹی کا کوئی فرق اگر پیدا ہوا بھی تو بال کی کھال کے برابر تھا پھر بھی اس نکتے پر روزانہ شام سات سے بارہ بجائے جاتے رہے کیونکہ روزنامہ نکالنا یا 24 گھنٹے کا نیوز چینل چلانا مذاق نہیں ہے۔وہ ایک راسخ العقیدہ مسلمان ہیں۔ یعنی کیا پچھلوں کے ایمان کمزور تھے؟
آپ کا کیا خیال ہے کہ اگلے تین برس کے لیے میڈیا کے تجزیے ختم ہو گئے؟
ارے نہیں صاحب! نئے آرمی چیف سے وزیرِ اعظم کی پہلی ملاقات کی تصویر سے ہی تشریحی دوڑ شروع ہو چکی ہے۔
دونوں کے درمیان حائل میز خالی کیوں تھی؟ کیا نئے سپاہ سالار کے آنے سے پہلے فائلیں دراز میں چھپا دی گئی تھیں؟ کم ازکم ایک خالی صفحہ ہی میز پر رکھ دیتے تاکہ یہ جتا سکتے کہ آج سے ہم دونوں ایک پیج پر ہیں۔
ملاقات کے دوران نواز شریف کا ایک ہاتھ اپنے گھٹنے پر کیوں تھا؟
جنرل باجوہ گود میں رکھی چھڑی دونوں ہاتھوں کی انگلیوں میں بار بار گھما کر وزیرِ اعظم کو کیا ان کہا پیغام دینا چاہ رہے تھے؟ ملاقات میں کیا گفتگو ہوئی؟
تفصیلات میڈیا سے کیوں چھپائی جا رہی ہیں ؟ وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔
امید فاضلی کے ایک مشہور شعر میں تحریف کو جی چاہ رہا ہے۔
چیف بنا کر سو مت جانا
میڈیا آخر میڈیا ہے
with thanks وسعت اللہ خان

Thursday, 24 November 2016

میاں صاحب جواب دو…! یہ سب کچھ پنجاب میں کیوں نہیں؟ صرف خیبرپختونخواه میں ہی کیوں؟

www.swatsmn.com
میاں نواز شریف اور انکے رفقاء اکثر جذبات میں آکر عمران خان کو الزام خان ہونے کا طعنہ دیتے ہیں اور اکثر کہا جاتا ہے کہ عمران خان اور تحریک انصاف کو خیبر پختونخواہ میں حکومت ملی ہےتو وہاں کے حالات ٹھیک کریں اور الزامات سے پرہیز کریں۔ ان پٹواریوں کی خدمت میں عرض ہے کہ درج ذیل کارناموں کا جائزہ لیں اور غور کرکے بتائیں کہ کیا یہ کارنامے خیبر پختونخواہ کے علاوہ کسی صوبہ کی حکومت نے کر کے دکھائے ہیں ۔
1۔پنجاب میں مزدور کی کم از کم اجرت 12 ہزار روپے لیکن خیبرپختونخواه میں 15 ہزار روپے. مگرکیوں؟
2۔خیبرپختونخواه میں غریب آدمی کیلئے ایک من آٹا دوسرے صوبوں کی نسبت 400 روپے سستا، لیکن کیوں؟
3۔صرف خیبرپختونخواه میں ہی بزرگ شہریوں کو قطار سے بچانے کے لئے پنشن کارڈز کی فراہمی، کیوں؟
4۔پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار خیبرپختونخواه میں پولیس کی تنخواہ دوسرے صوبوں کی پولیس کے برابر کیوں؟ جب مولانا فضل الرحمن اور اے این پی نے
تنخواہ دوسرے صوبوں سے کم رکھی ہوئی تھی
5۔صرف خیبرپختونخواه میں ہی غریب آدمی کے لئے ایک کلو گھی دوسرے صوبوں کی نسبت 40 روپے سستا کیوں؟
6۔پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار صرف خیبرپختونخواه پولیس کو ہی ہیلی کاپٹر فراہم کیوں کیے گئے؟
7۔صرف خیبرپختونخواه میں ہی پولیس انٹیلی جنس سکولز کا قیام کیوں؟
8۔ جب فضل الرحمن اور اے این پی نے خیبرپختونخواه میں میٹرک تک تعلیم اور کتابیں مفت نہیں دیں، تو صرف تحریک انصاف کی حکومت میں یہ سب کیسے ممکن ہوا ؟
پاکستان کے تمام صوبوں میں ترقیاتی فنڈز MPAs 9۔ پاکستان کے تمام صوبوں میں ترقیاتی فنڈز ایم پی ایز کو ملتے ہیں مگر کے پی کے میں ترقیاتی فنڈز ایم پی ایز کو دینے کی بجائے گاؤں کی سطح پر کیوں پہنچائے جاتے ہیں ۔
10۔ اعلی تعلیم یافتہ نوجوانوں کو ملازمت نہ ملنے کی صورت میں ماہانہ بے روزگاری الاؤنس، صرف خیبرپختونخواه میں ہی کیوں؟
11۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ینگ ڈاکٹرز کو سروس سٹرکچر کی فراہمی، صرف خیبرپختونخواه میں ہی کیوں؟
12۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ٹیکس کولیکشن کے ہدف کا حصول، صرف خیبرپختونخواه میں ہی کیوں؟
13۔ پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں بجلی کے تمام منصوبوں کا آغاز غیر ملکی سرمایہ کاری کی مدد سے، لیکن صرف خیبرپختونخواه میں ہی بجلی کے منصوبے غیر
ملکی امداد کے بغیر کیوں؟
14۔ بچے کی پیدائش سے قبل تین بار سرکاری ہسپتال سے مفت چیک اپ کروانے پر ہرعورت کو 2700 روپے کا انعام، صرف خیبرپختونخواه میں ہی کیوں؟
15۔ پشاور یونیورسٹی کے خزانچی او نتھیاگلی ہاؤسنگ سکیم کے ڈی جی سمیت ڈیڑھ سال میں کرپشن کرنے پر 100 سے زائد بیوروکریٹس اور دیگر افسران کی گرفتاری،
صرف خیبرپختونخواه میں ہی کیوں؟
16۔ بچوں کو سکولز کی طرف کھینچنے کے لئے ماہانہ جیب خرچ کی فراہمی، صرف خیبرپختونخواه میں ہی کیوں؟
17۔ پنجاب میں ن لیگ کے ضلعی صدر بلو بٹ نے شاہ محمود قریشی کے گھر پر حملہ کیا لیکن پنجاب پولیس نے اسے کچھ نہیں کہا جبکہ خیبرپختونخواه میں تحریک
انصاف کے ضلعی صدر ظفر خان نے پولیس کے ساتھ تھوڑی سی بدتمیزی کی توخیبرپختونخواه پولیس نے اسے پکڑ کر اندر کردیا. کیوں؟
18۔ پنجاب میں ایف آئی آر کٹوانے کے لئے لاکھوں افراد جمع کرکے دھرنا دینا پڑتا ہے اور کروڑوں روپے خرچ کرنا پڑتے ہیں، لیکن خیبرپختونخواه میں ہر شخص
آن لائن ایف آئی آر کٹوا سکتا ہے کیوں؟
19۔ پنجاب میں ایک ایم پی اے نے پولیس پر تشدد کیا اور ایک ایم این اے کے بیٹوں نے غریب لڑکی کے ساتھ زیادتی کی مگر پولیس دونوں کا کچھ نہ بگاڑ سکی لیکن
خیبرپختونخواه میں ڈپٹی سپیکر کے بھائی نے خاتون سے زیادتی کی تووه ابھی تک جیل سے باہر نہیں آ سکا. کیوں؟ اسکی ضمانت تک نہ ہوسکی. کیوں؟
20۔ پنجاب میں رانا مشہود نے کرپشن کی، لیکن اسے کسی نے کچھ نہیں کہا.
خیبرپختونخواه میں وزیروں نے کرپشن کی تو انہیں فارغ کر دیا گیا. کیوں؟
21۔ باقی صوبوں کے وزراء اعلی روزانہ ہیلی کاپٹر پر گھومتے ہیں، لیکن پرویزخٹک سرکاری ہیلی کاپٹر پر اپنے دوست کے بیٹے کی شادی پر چلا گیا تو اسے
معذرت کرنے پر مجبور کر دیا گیا. کیوں؟
22۔ خیبرپختونخواه کے دور دراز دیہاتوں میں موبائل ہیلتھ یونٹس کی فراہمی. صرف خیبرپختونخواه میں ہی کیوں؟
23۔ تمام صوبوں نے ریلوے کی ہزاروں ایکڑ اراضی پر قبضہ کیا ہوا ہے، لیکن صرف
خیبرپختونخواه نے ہی ریلوے کی اراضی ریلوے کو واپس کردی. کیوں؟
24۔ سندھ، پنجاب اور وفاقی حکومت کی کارکردگی کے اشتہارات روزانہ ٹی وی اوراخبارات کی زینت بنتے ہیں، صرف خیبرپختونخواه کے اشتہارات نہیں چلتے. کیوں؟
25 ۔اسکے علاوه ایسے انقلابی کام جو پاکستان کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوۓ، صرف خیبرپختونخواه میں ہی کیوں؟
میاں صاحب جواب دو…! یہ سب کچھ پنجاب میں کیوں نہیں؟ صرف خیبرپختونخواه میں ہی کیوں؟(شیر سلطان ملک)(بشکریہ شفق ڈاٹ کام)

Monday, 26 September 2016

اگر ڈرائیور نہ چاھے تو گاڑی کبھی منزل پر نہیں پہنچا کرتی"



www.swatsmn.com

دوسری جنگِ عظیم کے اختتام پر اگست 1944 میں جرمن فوج کو فرانس خالی کرنے کا حکم ملا تو جرمن کمانڈنٹ نے افسروں کو جمع کر کے کہا " ھم نازی جنگ ھار چُکے ھیں ، فرانس ھمارے ھاتھ سے نکل رھا ھے۔ یہ سچ ھے اور یہ بھی سچ ھے کہ شاید اگلے 50 برسوں تک ھم کو دوبارا فرانس میں داخلے کی اجازت بھی نہ ملے اس لیئے میرا حکم ھے کہ پیرس کے عجائب گھروں ، نوادرات سے بھرے نمائش گھروں اور ثقافت سے مالا مال ھنر کدوں سے جو کچھ سمیٹ سکتے ھو سمیٹ لو۔ جب فرانسیسی اس شھر کا اقتدار سنبھالیں تو انہیں جلے ھوئے پیرس کے علاہ کچھ نہ ملے"
جنرل کا حکم تھا سب افسر عجائب گھروں پر ٹوٹ پڑے اور اربوں ڈالرز کے نوادرات اُٹھا لائے۔ اُن میں ڈوئچی کی مونا لیزا تھی ، وین گوہ کی تصویریں ، وینس ڈی ملو کا مرمریں مجسمہ غرض کہ کچھ نہ چھوڑا ۔ جب عجائب گھر خالی ھو گئے تو جنرل نے سب نوادرات ایک ٹرین پر رکھے اور ٹرین کو جرمنی لے جانے کا حکم دیا۔ ٹریں روانہ تو ھو گئی لیکن شھر سے باھر نکلتے ھی اس کا انجن خراب ھو گیا۔ انجئنیر آئے انجن ٹھیک کیا اور ٹرین پھر روانہ ھو گئی لیکن 10 کلومیٹر طے کرنے بعد اس کے پہیے جام ھو گئے۔ انجئنیر آئے مسئلہ ٹھیک کیا اور ٹرین پھر روانہ ھو گئی لیکن چند کلومیٹر بعد بوائلر پھٹ گیا۔ انجئنیر آئے بوائلر مرمت ھوا اور ٹرین پھر چل پڑی ، ابھی تھوڑی دور ھی گئی تھی کہ پریشیر بنانے والے پسٹن جواب دے گئے۔انجئنیر آئے پسٹن مرمت ھوئے اور ٹرین روانہ ھوئی ۔ٹرین خراب ھوتی رھی اور جرمن انجئنیر اسے ٹھیک کرتے رھے یہاں تک کہ فرانس کا اقتدار فرانسیسیوں نے سنبھال لیا اور ٹرین ابھی فرانس کی حد میں ھی رھی۔
ٹرین کے ڈرائیور کو پیغام ملا کہ " موسیو بہت شکریہ پر اب ٹرین جرمنی نہیں واپس پیرس آئے گی" ۔ ڈرائیور نے مکے ھوا میں لہرائے اور واپس پیرس روانہ ھو گیا ، جب وہ پیرس پہینچا تو فرانس کی ساری لیڈرشپ اس کے استقبال کے لیئے کھڑی تھی ، ڈرائیور پر گُل پاشی کی گئی پھر اس کے ھاتھ میں مائیک دے دیا گیا ، ڈرائیور بولا " جرمن گدھوں نے نوادرات تو ٹرین میں بھر دیئے لیکن یہ بھول گئے کہ ڈرائیور فرانسیسی ھے اور اگر ڈرائیور نہ چاھے تو گاڑی کبھی منزل پر نہیں پہنچا کرتی"
عرصے بعد ہالی وڈ نے اس ڈرائیور پر "دی ٹرین" فلم بنائی
اگر اپنے ملک کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ بھی "دی ٹرین" کی سٹوری سے کم نہیں ، کبھی انجن فیل ھو جاتا ھے کبھی پہیہ جام ، کبھی پسٹن پھٹ جاتا ھے تو کبھی بوائلر ۔ پہلے دن سے اب تک بحران ھی بحران ھے۔ اس ٹرین کا ڈرائیور اصل میں کوئی اور ھے جو اس کو منزل تک نہیں پہنچنے دے رھا -



Monday, 19 September 2016

جب ملک الموت میرے پاس آیا تو میں نے اس سے جینے کے لیے چند لمحوں کی درخواست کی

میری عمر نو دس برس کی تھی جب ابا نے مجھے زمین پر گھسیٹتے ہوئے گهر سے بے گهرکر دیا تھا۔ میں چیخ چیخ کر تمہیں پکارتا رہا مگر تم بےحس وحرکت سہمی ہوئی مجھے تکتی رہیں۔ واحد روانی تمہارے آنسوؤں کی تھی جو ابا کے غیض و غضب کے آگے بھی تهمنے کو تیار نہ تھے۔ تمہارا ہر آنسو اس بات کا ثبوت تها کہ تم ابا کے اس فعل سے بہت نالاں تھی مگر ابا کی ہر بات پر سر تسلیم خم کرنے پر مجبور بهی۔

محلے والوں کے طعنے، رشتے داروں کے طنز اور لوگوں کی چبهتی ہوئی نگاہوں سے جب ابا بے قابو ہو جاتے تو پهر اپنی کالے چمڑے کی چپل سے میری چمڑی ادھیڑتے۔ اپنے جسم پر چپل سے بنائے گئے نقش لیے میں اس کال کوٹھڑی کی جانب بھاگتا جو پورے گهر میں میری واحد پناہ گاہ بن گئی تھی۔ پٹائی کا دن جب رات میں ڈھلتا تو تم ابا سے چھپ کر دبے پاؤں آتیں۔ مجھے سینے سے لگاتی، اپنے دوپٹے سے میرے زخموں کی ٹکور کرتی۔ میرا سر اپنی گود میں لیے گھنٹوں میرے پاس بیٹھی رہتی۔ مجھے چپ کراتے کراتے تمہاری اپنی سسکیاں بندھ جاتیں۔ آہوں اور سسکیوں کی گونج کے علاوہ اس کال کوٹھڑی میں کچھ سنائی نہ دیتا۔ ہم دونوں آنسوؤں کی زبان میں بات کرتے۔ میرے آنسوؤں میں ان گنت سوال ہوتے۔ کہ آخر کیوں ابا کی نفرت کی خاص عنایت مجھ پر ہی ہے؟ آخر کیوں گھر میں مہمانوں کے آتے ہی اسٹور کے تنگ وتاریک کمرے میں گهر کے ہر فالتو سامان کے ساتھ مجھے بند کردیا جاتا ہے اور جب تک اللہ کی رحمت ہمارے گھر سے چلی نہیں جاتی مجھے رہائی کا پروانہ کیوں نہیں دیا جاتا۔ یہ رحمت ہر بار میرے لیے زحمت کیوں بن جاتی ہے؟ مگر اماں میرے ہر سوال کے جواب میں تم خاموشی سے میرے اوپر محبت بهری نگاه ڈالتی اور کچھ نہ بولتیں۔ بس کبھی تم میرے ماتهے کا بوسہ لیتی اور کبھی میرے ہاتھوں کو چوم کر اس بات کی گواہی دیتی کہ میں تو اپنے راجہ بیٹے سے بہت پیار کرتی ہوں۔ ایک سوال کرتے کرتے میں تهک جاتا اور نیند کی آغوش میں چلا جاتا کہ آخر میرے سے ایسی کیا خطا ہوئی جو میں اپنے دوسرے بہن بھائیوں کی طرح ابا کے پیار کا حقدار نہیں۔
ہاں تمہاری گود میں سو جانے سے پہلے میں یہ دعا بھی کرتا کہ یہ رات کبھی ختم نہ ہو مگر صبح ہوتی اور تم پھر اس عورت کا لباده اوڑھ لیتی جو ابا اور معاشرے کے خوف سے مجھے پیار کرتے ڈرتی تھی۔
جس دن ابا نے مجهے گهر سے نکالا اس دن میرا قصور بس اتنا تھا کہ میں نے تمہاری سنگھار میز پر رکھی ہوئی لالی سے اپنے ہونٹ رنگ لیے تھے، تمہارا سرخ دوپٹہ سر پر رکھے، تمہارے ہاتھوں کے کنگن اپنی کلائی میں ڈالے تمہاری ٹک ٹک کرنے والی جوتی پہن کرخوش ہو رہا تھا، بس یہ دیکھنے کی دیر تھی کہ ابا نے مجھ پر پهر جوتوں کی برسات شروع کر دی۔ میں معافی کا طلب گار رہا مگر میری شنوائی نہ ہوئی اور پهرگالی گلوچ کرتے ہوئے زمین پر گھسیٹتے ہوئے زنخا زنخا کہتے ہوئے مجھے ہمیشہ کے لیے سب گهر والوں سے دور کر دیا۔
میرے لیے آبا کے آخری الفاظ یہ تھے کہ آج سے تو ہمارے لیے مر گیا۔ یہ جملہ سنتے ہی میری ہاتھوں کی گرفت جس نے ابا کے پیروں کو مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا کمزور پڑ گی۔ میری گڑگڑاتی ہوئی زبان خاموش ہوگی، میرے آنسو تهم گئے کیونکہ میں جانتا تھا کہ ابا اپنی کہی ہوئی بات سے کبھی نہیں پھرتے۔ اور تم ماں، ابا کے کسی بھی فیصلے کے خلاف جانے کی ہمت نہیں رکھتی
اس کے بعد ابا مجھے ہمیشہ کے لیے یہاں چهوڑ گے جہاں ایک گرو رہتا تھا۔ امجد کی جگہ میرا نام علیشاہ رکھ دیا گیا۔ مجھے ناچ گانےکی تربیت دی جاتی۔ مجھ پر نظر رکھی جاتی لیکن میں جب کبھی موقع ملتا تمہاری محبت میں گرفتار اپنے گهر کی طرف دیوانہ وار بھاگتا مگر ابا کا آخری جملہ مجھے دہلیز پار کرنے سے روک دیتا۔ دروازے کی اوٹ سے جب تمہیں گرما گرم روٹی اتارتے دیکھتا تو میری بھوک بھی چمک جاتی اور پهر تم اپنے ہاتھوں سے نوالے بنا بنا کر میرے بہن بھائیوں کے منہ میں ڈالتی تو ہر نوالے پر میرا بھی منہ کھلتا مگر وہ نوالے کی حسرت میں کھلا ہی رہتا۔ اس حسرت کو پورا کرنے کے لیے میں اکثر گهر کے باہر رکھی ہوئی سوکهی روٹی کو اپنے آنسوؤں میں بهگو بهگو کر کھاتا۔
بعد کی عیدیں تو تنہا ہی تھیں پر جب گھر بدر نہ ہوا تھا تب بھی عید پر جب ابا ہر ایک کے ہاتھ پر عیدی رکهتے تو میرا ہاتھ پھیلا ہی ره جاتا۔ جب ہر بچے کی جھولی پیار اور محبت سے بهر دی جاتی تو میری جھولی خالی ہی ره جاتی۔ جب ابا اپنا دست شفقت سب کے سروں پر پھیرتے تو میرا سر جهکا ہی رہتا۔
صحن میں کھڑی ابا کی سائیکل جس کو اکثر میں محلے سے گزرتے دیکھتا تو ہر بار دل میں یہ خواہش ہوتی کہ کاش ابا سائیکل روک کر مجھے ایک بار، صرف ایک بار سینے سے لگا لیں مگر میری یہ خواہش، خواہش ہی ره گی۔ گھر چھوڑنے کے عذاب کے بعد میرے اوپر ایک اور عذاب نازل ہوا جس کے کرب نے میری روح تک کو زخمی کر دیا۔ چند ‘شرفا’ گرو کے پاس آئے اور مجھے اپنے ساتھ لے گئے۔ مجھے زبردستی بے لباس کیا اور اپنی ہوس کی بھینٹ چڑھا ڈالا۔ ماں، میں اتنا چھوٹا اور کمزور تھا کہ میں تکلیف کی وجہ سے اپنے ہوش ہی کهو بیٹھا تھا۔ پهر اس ہی بے ہوشی کے عالم میں مجھے گرو کے حوالے کر دیا گیا۔ پهر یہ سلسلہ ایسا شروع ہوا کہ میں روز ہی اپنی ہی نظروں میں گرتا رہا مرتا رہا۔ کرتا بھی کیا کہ اب میرے پاس کوئی اور دوسری پناہ گاه نہ تهی۔
پهر اسی کام کو میرے گرو نے میرے پیشے کا نام دے دیا۔ میں گرو کے پاس سے کئی بار بھاگا، در در نوکری کی تلاش میں پهرتا رہا مگر مایوسی کے سوا کچھ حاصل نہ ہو سکا۔ ہر بار گرو کے در پر ہی پناہ ملی۔
ہمارا وجود معاشرے میں گالی سمجھا جاتا ہے۔ ہمیں تو کسی کو بددعا بھی دینی ہو تو ہم کہتے ہیں کہ جا تیرے گهر بھی مجھ جیسا پیدا ہو۔ حالانکہ ہماری رگوں میں بهی سرخ رنگ کا خون دوڑتا ہے۔ ہمیں بنانے والا بھی تو وہی ہے جس نے ان کو پیدا کیا۔ ان کے سینے میں بھی دل ہماری طرح ہی دھڑکتا ہے۔ تو پهر ہمیں کس بات کی سزا دی جاتی ہے ؟ہمارا جرم کیا ہوتا ہے؟ شاید ہمارا جرم یہ ہوتا ہے کہ ہمارا خون سرخ ہے اور معاشرے کا سفید۔
ماں میں ساری زندگی جینے کی چاه میں مرتا چلا گیا۔ سفید خون رکھنے والے لوگ کبھی مذہب کی آڑ لے کر تو کبھی جسم فروشی سے انکار پر ہمارے جسموں میں گولیاں اتار دیتے ہیں۔ میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا، مجھے بھی گولیاں ماری گئیں۔ جب مجھے ہوش آیا تو ڈاکٹر مجھے امید کی کرن دکهانے کی کوشش میں آہستہ آہستہ میرے کان میں سرگوشی کر رہا تھا کہ اگر تم ہمت کرو تو زندگی کی طرف لوٹ سکتے ہو۔ میں نے بہت مشکل سے اپنے ہونٹوں کو جنبش دی اور ڈاکٹر سے کہا کہ اگر میں ہمت کر کے لوٹ بھی آیا تو کیا مجھے جینے دیا جائے گا؟ جب ملک الموت میرے پاس آیا تو میں نے اس سے جینے کے لیے چند لمحوں کی درخواست کی۔ نجانے کیوں اس بار مجھے امید تھی کہ تم دوڑی چلی آؤ گی، میرا بچہ کہتے ہوئے مجھے اپنے سینے سے لگاو گی۔ میرے سر کو اپنی گود میں رکھ کر میرے زخموں کی ٹکور کر کے مجھے اس دنیا سےرخصت کرو گی۔ لیکن موت کے فرشتے نے چند لمحوں کی مہلت بھی نہ دی۔
سنا ہے قیامت کے روز بچوں کو ماں کےحوالے سے پکارا جائے گا۔ بس ماں تم سے اتنی سی التجا ہے کہ اس دن تم مجھ سے منہ نہ پهیرنا۔
تمہاری محبت کا طلبگار
تمہارا بیٹا

10th National Desert Hike 2025 (Rambler Badge Hike for Rover Scouts)

10th National Desert Hike 2025  (Rambler Badge Hike for Rover Scouts) Chulistan ,روحی   نیشنل ڈزرٹ ہائیک 2025 تاریخِ عالم اس امر کی شاہد ہے ...