Swatsmn refers to the means of interactions among people in which they create, share, and/or exchange information and ideas in virtual communities and networks. The Office of Communications and Marketing manage it
پاکستان کے دیسی میڈیا کا آخری وقت تک بس نہیں چلا کہ خود ہی نئے آرمی چیف کا تقرر کر دے اور اگر ایسا واقعی ممکن ہوتا تو آج چار جرنیل آرمی چیف ہوتے۔
وزیرِ اعظم نے اس بار بھی اتنی ہی احتیاط برتی جیسے جنرل قمر جاوید باجوہ کا نہیں ضیا الدین بٹ کا تقرر کر رہے ہوں۔ آخر وقت تک
سادے پانی سے دہی جمانے کی حکمتِ عملی جاری رہی۔
جانے کب ترکمانستان سے واپس آئے، کب ذاتی طور پر فائل لے کر صدر ممنون کے پاس گئے اور پھر کوئی رسمی پریس ریلیز جاری کرنے سے پہلے پہلے خبر لیک ہو گئی۔ تاکہ بریکنگ نیوز کے عادی میڈیا کی کچھ تو تشفی ہو جائے۔
میڈیا کے پاس ککھ ایکسکلوسیو نہ تھا۔ چنانچہ اس طرح کے تبصروں پے گزارا ہو رہا ہے۔
جنرل قمر جاوید باجوہ پروفیشنل سولجر ہیں۔ گویا ان سے پہلے کے سپاہ سالار واپڈا سے ادھار میں مانگے گئے تھے؟
جنرل باجوہ کو کمان اور ایڈمنسٹریشن کا وسیع تجربہ ہے۔ گویا کوئی ایسا سپاہ سالار بھی تھا جسے فوج کی کمان اور ایڈمنسٹریشن کے بجائے اریگیشن کا تجربہ تھا؟
جنرل باجوہ کا تقرر میرٹ پر ہوا ہے۔ تو کیا جنرل راحیل شریف دیہی علاقوں کے کوٹے پر اور جنرل کیانی پرچی پر آئے تھے؟
نئے آرمی چیف غیر سیاسی سوچ رکھتے ہیں۔ اب تک جو 15 سپاہ سالار مقرر ہوئے ان میں سے کچھ تقرری سے پہلے کیا کسی سیاسی تنظیم کے کارڈ ہولڈر بھی رہ چکے تھے؟
جنرل باجوہ چیف کی دوڑ میں ڈارک ہارس تھے۔ اس بات کا اردو ترجمہ شاید یہ ہے کہ وہ میڈیا خواہشات کی فیورٹ امیدواری فہرست سے باہر تھے یا جس اینکر و تجزیہ کار کی پیش گویانہ امیدوں پر ان کی تقرری سے پانی پھر گیا اس کے لیے ڈارک ہارس ہو گئے۔
جب میڈیا کو اندازہ ہو گیا کہ جنرل راحیل شریف کے عہدے کی مدت میں توسیع نہیں ہو رہی، جب یہ افواہ بھی دم توڑ گئی کہ آرمی چیف کے عہدے کی مدت تین برس سے بڑھا کر چار برس کی جا رہی ہے تاکہ راحیل شریف ایک سال اور رہ سکیں، جب اس اندازے نے بھی کھڑکی سے کود کے خود کشی کر لی کہ جنرل صاحب کو ان کی بے پناہ قومی مقبولیت اور شاندار خدمات کے عوض فیلڈ مارشل بنایا جا رہا ہے اور جب یہ امید بھی نوزائیدگی میں مر گئی کہ سعودی عرب نے جنرل شریف کو 34 رکنی مسلمان فوجی اتحاد کا سربراہ بننے کی پیش کش کی ہے اور جب بعض اینکروں نے ٹی وی سکرین سے کود کر جنرل صاحب کے پیر پکڑ کے ’رک جا او جانے والے رک جا‘ گایا اور پھر بھی کوئی چمتکار نہ ہو سکا تو میڈیا پر افسردگی سی چھا گئی مگر ایک آدھ دن کے لیے۔
اور پھر یہ ادھیڑ بن شروع ہو گئی کہ چاروں امیدواروں میں سینیئر کون ہے۔ حالانکہ چاروں کو ایک ساتھ ہی فوج میں کمیشن ملا اور دو چار دن آگے پیچھے جوائننگ رپورٹ کے سبب سینیارٹی کا کوئی فرق اگر پیدا ہوا بھی تو بال کی کھال کے برابر تھا پھر بھی اس نکتے پر روزانہ شام سات سے بارہ بجائے جاتے رہے کیونکہ روزنامہ نکالنا یا 24 گھنٹے کا نیوز چینل چلانا مذاق نہیں ہے۔وہ ایک راسخ العقیدہ مسلمان ہیں۔ یعنی کیا پچھلوں کے ایمان کمزور تھے؟
آپ کا کیا خیال ہے کہ اگلے تین برس کے لیے میڈیا کے تجزیے ختم ہو گئے؟
ارے نہیں صاحب! نئے آرمی چیف سے وزیرِ اعظم کی پہلی ملاقات کی تصویر سے ہی تشریحی دوڑ شروع ہو چکی ہے۔
دونوں کے درمیان حائل میز خالی کیوں تھی؟ کیا نئے سپاہ سالار کے آنے سے پہلے فائلیں دراز میں چھپا دی گئی تھیں؟ کم ازکم ایک خالی صفحہ ہی میز پر رکھ دیتے تاکہ یہ جتا سکتے کہ آج سے ہم دونوں ایک پیج پر ہیں۔
ملاقات کے دوران نواز شریف کا ایک ہاتھ اپنے گھٹنے پر کیوں تھا؟
جنرل باجوہ گود میں رکھی چھڑی دونوں ہاتھوں کی انگلیوں میں بار بار گھما کر وزیرِ اعظم کو کیا ان کہا پیغام دینا چاہ رہے تھے؟ ملاقات میں کیا گفتگو ہوئی؟
تفصیلات میڈیا سے کیوں چھپائی جا رہی ہیں ؟ وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔
امید فاضلی کے ایک مشہور شعر میں تحریف کو جی چاہ رہا ہے۔
میاں نواز شریف اور انکے رفقاء اکثر جذبات میں آکر عمران خان کو الزام خان ہونے کا طعنہ دیتے ہیں اور اکثر کہا جاتا ہے کہ عمران خان اور تحریک انصاف کو خیبر پختونخواہ میں حکومت ملی ہےتو وہاں کے حالات ٹھیک کریں اور الزامات سے پرہیز کریں۔ ان پٹواریوں کی خدمت میں عرض ہے کہ درج ذیل کارناموں کا جائزہ لیں اور غور کرکے بتائیں کہ کیا یہ کارنامے خیبر پختونخواہ کے علاوہ کسی صوبہ کی حکومت نے کر کے دکھائے ہیں ۔
1۔پنجاب میں مزدور کی کم از کم اجرت 12 ہزار روپے لیکن خیبرپختونخواه میں 15 ہزار روپے. مگرکیوں؟
2۔خیبرپختونخواه میں غریب آدمی کیلئے ایک من آٹا دوسرے صوبوں کی نسبت 400 روپے سستا، لیکن کیوں؟
3۔صرف خیبرپختونخواه میں ہی بزرگ شہریوں کو قطار سے بچانے کے لئے پنشن کارڈز کی فراہمی، کیوں؟
4۔پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار خیبرپختونخواه میں پولیس کی تنخواہ دوسرے صوبوں کی پولیس کے برابر کیوں؟ جب مولانا فضل الرحمن اور اے این پی نے
تنخواہ دوسرے صوبوں سے کم رکھی ہوئی تھی
5۔صرف خیبرپختونخواه میں ہی غریب آدمی کے لئے ایک کلو گھی دوسرے صوبوں کی نسبت 40 روپے سستا کیوں؟
6۔پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار صرف خیبرپختونخواه پولیس کو ہی ہیلی کاپٹر فراہم کیوں کیے گئے؟
7۔صرف خیبرپختونخواه میں ہی پولیس انٹیلی جنس سکولز کا قیام کیوں؟
8۔ جب فضل الرحمن اور اے این پی نے خیبرپختونخواه میں میٹرک تک تعلیم اور کتابیں مفت نہیں دیں، تو صرف تحریک انصاف کی حکومت میں یہ سب کیسے ممکن ہوا ؟
پاکستان کے تمام صوبوں میں ترقیاتی فنڈز MPAs 9۔ پاکستان کے تمام صوبوں میں ترقیاتی فنڈز ایم پی ایز کو ملتے ہیں مگر کے پی کے میں ترقیاتی فنڈز ایم پی ایز کو دینے کی بجائے گاؤں کی سطح پر کیوں پہنچائے جاتے ہیں ۔
10۔ اعلی تعلیم یافتہ نوجوانوں کو ملازمت نہ ملنے کی صورت میں ماہانہ بے روزگاری الاؤنس، صرف خیبرپختونخواه میں ہی کیوں؟
11۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ینگ ڈاکٹرز کو سروس سٹرکچر کی فراہمی، صرف خیبرپختونخواه میں ہی کیوں؟
12۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ٹیکس کولیکشن کے ہدف کا حصول، صرف خیبرپختونخواه میں ہی کیوں؟
13۔ پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں بجلی کے تمام منصوبوں کا آغاز غیر ملکی سرمایہ کاری کی مدد سے، لیکن صرف خیبرپختونخواه میں ہی بجلی کے منصوبے غیر
ملکی امداد کے بغیر کیوں؟
14۔ بچے کی پیدائش سے قبل تین بار سرکاری ہسپتال سے مفت چیک اپ کروانے پر ہرعورت کو 2700 روپے کا انعام، صرف خیبرپختونخواه میں ہی کیوں؟
15۔ پشاور یونیورسٹی کے خزانچی او نتھیاگلی ہاؤسنگ سکیم کے ڈی جی سمیت ڈیڑھ سال میں کرپشن کرنے پر 100 سے زائد بیوروکریٹس اور دیگر افسران کی گرفتاری،
صرف خیبرپختونخواه میں ہی کیوں؟
16۔ بچوں کو سکولز کی طرف کھینچنے کے لئے ماہانہ جیب خرچ کی فراہمی، صرف خیبرپختونخواه میں ہی کیوں؟
17۔ پنجاب میں ن لیگ کے ضلعی صدر بلو بٹ نے شاہ محمود قریشی کے گھر پر حملہ کیا لیکن پنجاب پولیس نے اسے کچھ نہیں کہا جبکہ خیبرپختونخواه میں تحریک
انصاف کے ضلعی صدر ظفر خان نے پولیس کے ساتھ تھوڑی سی بدتمیزی کی توخیبرپختونخواه پولیس نے اسے پکڑ کر اندر کردیا. کیوں؟
18۔ پنجاب میں ایف آئی آر کٹوانے کے لئے لاکھوں افراد جمع کرکے دھرنا دینا پڑتا ہے اور کروڑوں روپے خرچ کرنا پڑتے ہیں، لیکن خیبرپختونخواه میں ہر شخص
آن لائن ایف آئی آر کٹوا سکتا ہے کیوں؟
19۔ پنجاب میں ایک ایم پی اے نے پولیس پر تشدد کیا اور ایک ایم این اے کے بیٹوں نے غریب لڑکی کے ساتھ زیادتی کی مگر پولیس دونوں کا کچھ نہ بگاڑ سکی لیکن
خیبرپختونخواه میں ڈپٹی سپیکر کے بھائی نے خاتون سے زیادتی کی تووه ابھی تک جیل سے باہر نہیں آ سکا. کیوں؟ اسکی ضمانت تک نہ ہوسکی. کیوں؟
20۔ پنجاب میں رانا مشہود نے کرپشن کی، لیکن اسے کسی نے کچھ نہیں کہا.
خیبرپختونخواه میں وزیروں نے کرپشن کی تو انہیں فارغ کر دیا گیا. کیوں؟
21۔ باقی صوبوں کے وزراء اعلی روزانہ ہیلی کاپٹر پر گھومتے ہیں، لیکن پرویزخٹک سرکاری ہیلی کاپٹر پر اپنے دوست کے بیٹے کی شادی پر چلا گیا تو اسے
معذرت کرنے پر مجبور کر دیا گیا. کیوں؟
22۔ خیبرپختونخواه کے دور دراز دیہاتوں میں موبائل ہیلتھ یونٹس کی فراہمی. صرف خیبرپختونخواه میں ہی کیوں؟
23۔ تمام صوبوں نے ریلوے کی ہزاروں ایکڑ اراضی پر قبضہ کیا ہوا ہے، لیکن صرف
خیبرپختونخواه نے ہی ریلوے کی اراضی ریلوے کو واپس کردی. کیوں؟
24۔ سندھ، پنجاب اور وفاقی حکومت کی کارکردگی کے اشتہارات روزانہ ٹی وی اوراخبارات کی زینت بنتے ہیں، صرف خیبرپختونخواه کے اشتہارات نہیں چلتے. کیوں؟
25 ۔اسکے علاوه ایسے انقلابی کام جو پاکستان کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوۓ، صرف خیبرپختونخواه میں ہی کیوں؟
میاں صاحب جواب دو…! یہ سب کچھ پنجاب میں کیوں نہیں؟ صرف خیبرپختونخواه میں ہی کیوں؟(شیر سلطان ملک)(بشکریہ شفق ڈاٹ کام)
دوسری جنگِ عظیم کے اختتام پر اگست 1944 میں جرمن فوج کو فرانس خالی کرنے کا حکم ملا تو جرمن کمانڈنٹ نے افسروں کو جمع کر کے کہا " ھم نازی جنگ ھار چُکے ھیں ، فرانس ھمارے ھاتھ سے نکل رھا ھے۔ یہ سچ ھے اور یہ بھی سچ ھے کہ شاید اگلے 50 برسوں تک ھم کو دوبارا فرانس میں داخلے کی اجازت بھی نہ ملے اس لیئے میرا حکم ھے کہ پیرس کے عجائب گھروں ، نوادرات سے بھرے نمائش گھروں اور ثقافت سے مالا مال ھنر کدوں سے جو کچھ سمیٹ سکتے ھو سمیٹ لو۔ جب فرانسیسی اس شھر کا اقتدار سنبھالیں تو انہیں جلے ھوئے پیرس کے علاہ کچھ نہ ملے"
جنرل کا حکم تھا سب افسر عجائب گھروں پر ٹوٹ پڑے اور اربوں ڈالرز کے نوادرات اُٹھا لائے۔ اُن میں ڈوئچی کی مونا لیزا تھی ، وین گوہ کی تصویریں ، وینس ڈی ملو کا مرمریں مجسمہ غرض کہ کچھ نہ چھوڑا ۔ جب عجائب گھر خالی ھو گئے تو جنرل نے سب نوادرات ایک ٹرین پر رکھے اور ٹرین کو جرمنی لے جانے کا حکم دیا۔ ٹریں روانہ تو ھو گئی لیکن شھر سے باھر نکلتے ھی اس کا انجن خراب ھو گیا۔ انجئنیر آئے انجن ٹھیک کیا اور ٹرین پھر روانہ ھو گئی لیکن 10 کلومیٹر طے کرنے بعد اس کے پہیے جام ھو گئے۔ انجئنیر آئے مسئلہ ٹھیک کیا اور ٹرین پھر روانہ ھو گئی لیکن چند کلومیٹر بعد بوائلر پھٹ گیا۔ انجئنیر آئے بوائلر مرمت ھوا اور ٹرین پھر چل پڑی ، ابھی تھوڑی دور ھی گئی تھی کہ پریشیر بنانے والے پسٹن جواب دے گئے۔انجئنیر آئے پسٹن مرمت ھوئے اور ٹرین روانہ ھوئی ۔ٹرین خراب ھوتی رھی اور جرمن انجئنیر اسے ٹھیک کرتے رھے یہاں تک کہ فرانس کا اقتدار فرانسیسیوں نے سنبھال لیا اور ٹرین ابھی فرانس کی حد میں ھی رھی۔
ٹرین کے ڈرائیور کو پیغام ملا کہ " موسیو بہت شکریہ پر اب ٹرین جرمنی نہیں واپس پیرس آئے گی" ۔ ڈرائیور نے مکے ھوا میں لہرائے اور واپس پیرس روانہ ھو گیا ، جب وہ پیرس پہینچا تو فرانس کی ساری لیڈرشپ اس کے استقبال کے لیئے کھڑی تھی ، ڈرائیور پر گُل پاشی کی گئی پھر اس کے ھاتھ میں مائیک دے دیا گیا ، ڈرائیور بولا " جرمن گدھوں نے نوادرات تو ٹرین میں بھر دیئے لیکن یہ بھول گئے کہ ڈرائیور فرانسیسی ھے اور اگر ڈرائیور نہ چاھے تو گاڑی کبھی منزل پر نہیں پہنچا کرتی"
عرصے بعد ہالی وڈ نے اس ڈرائیور پر "دی ٹرین" فلم بنائی
اگر اپنے ملک کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ بھی "دی ٹرین" کی سٹوری سے کم نہیں ، کبھی انجن فیل ھو جاتا ھے کبھی پہیہ جام ، کبھی پسٹن پھٹ جاتا ھے تو کبھی بوائلر ۔ پہلے دن سے اب تک بحران ھی بحران ھے۔ اس ٹرین کا ڈرائیور اصل میں کوئی اور ھے جو اس کو منزل تک نہیں پہنچنے دے رھا -
میری عمر نو دس برس کی تھی جب ابا نے مجھے زمین پر گھسیٹتے ہوئے گهر سے بے گهرکر دیا تھا۔ میں چیخ چیخ کر تمہیں پکارتا رہا مگر تم بےحس وحرکت سہمی ہوئی مجھے تکتی رہیں۔ واحد روانی تمہارے آنسوؤں کی تھی جو ابا کے غیض و غضب کے آگے بھی تهمنے کو تیار نہ تھے۔ تمہارا ہر آنسو اس بات کا ثبوت تها کہ تم ابا کے اس فعل سے بہت نالاں تھی مگر ابا کی ہر بات پر سر تسلیم خم کرنے پر مجبور بهی۔
محلے والوں کے طعنے، رشتے داروں کے طنز اور لوگوں کی چبهتی ہوئی نگاہوں سے جب ابا بے قابو ہو جاتے تو پهر اپنی کالے چمڑے کی چپل سے میری چمڑی ادھیڑتے۔ اپنے جسم پر چپل سے بنائے گئے نقش لیے میں اس کال کوٹھڑی کی جانب بھاگتا جو پورے گهر میں میری واحد پناہ گاہ بن گئی تھی۔ پٹائی کا دن جب رات میں ڈھلتا تو تم ابا سے چھپ کر دبے پاؤں آتیں۔ مجھے سینے سے لگاتی، اپنے دوپٹے سے میرے زخموں کی ٹکور کرتی۔ میرا سر اپنی گود میں لیے گھنٹوں میرے پاس بیٹھی رہتی۔ مجھے چپ کراتے کراتے تمہاری اپنی سسکیاں بندھ جاتیں۔ آہوں اور سسکیوں کی گونج کے علاوہ اس کال کوٹھڑی میں کچھ سنائی نہ دیتا۔ ہم دونوں آنسوؤں کی زبان میں بات کرتے۔ میرے آنسوؤں میں ان گنت سوال ہوتے۔ کہ آخر کیوں ابا کی نفرت کی خاص عنایت مجھ پر ہی ہے؟ آخر کیوں گھر میں مہمانوں کے آتے ہی اسٹور کے تنگ وتاریک کمرے میں گهر کے ہر فالتو سامان کے ساتھ مجھے بند کردیا جاتا ہے اور جب تک اللہ کی رحمت ہمارے گھر سے چلی نہیں جاتی مجھے رہائی کا پروانہ کیوں نہیں دیا جاتا۔ یہ رحمت ہر بار میرے لیے زحمت کیوں بن جاتی ہے؟ مگر اماں میرے ہر سوال کے جواب میں تم خاموشی سے میرے اوپر محبت بهری نگاه ڈالتی اور کچھ نہ بولتیں۔ بس کبھی تم میرے ماتهے کا بوسہ لیتی اور کبھی میرے ہاتھوں کو چوم کر اس بات کی گواہی دیتی کہ میں تو اپنے راجہ بیٹے سے بہت پیار کرتی ہوں۔ ایک سوال کرتے کرتے میں تهک جاتا اور نیند کی آغوش میں چلا جاتا کہ آخر میرے سے ایسی کیا خطا ہوئی جو میں اپنے دوسرے بہن بھائیوں کی طرح ابا کے پیار کا حقدار نہیں۔
ہاں تمہاری گود میں سو جانے سے پہلے میں یہ دعا بھی کرتا کہ یہ رات کبھی ختم نہ ہو مگر صبح ہوتی اور تم پھر اس عورت کا لباده اوڑھ لیتی جو ابا اور معاشرے کے خوف سے مجھے پیار کرتے ڈرتی تھی۔
جس دن ابا نے مجهے گهر سے نکالا اس دن میرا قصور بس اتنا تھا کہ میں نے تمہاری سنگھار میز پر رکھی ہوئی لالی سے اپنے ہونٹ رنگ لیے تھے، تمہارا سرخ دوپٹہ سر پر رکھے، تمہارے ہاتھوں کے کنگن اپنی کلائی میں ڈالے تمہاری ٹک ٹک کرنے والی جوتی پہن کرخوش ہو رہا تھا، بس یہ دیکھنے کی دیر تھی کہ ابا نے مجھ پر پهر جوتوں کی برسات شروع کر دی۔ میں معافی کا طلب گار رہا مگر میری شنوائی نہ ہوئی اور پهرگالی گلوچ کرتے ہوئے زمین پر گھسیٹتے ہوئے زنخا زنخا کہتے ہوئے مجھے ہمیشہ کے لیے سب گهر والوں سے دور کر دیا۔
میرے لیے آبا کے آخری الفاظ یہ تھے کہ آج سے تو ہمارے لیے مر گیا۔ یہ جملہ سنتے ہی میری ہاتھوں کی گرفت جس نے ابا کے پیروں کو مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا کمزور پڑ گی۔ میری گڑگڑاتی ہوئی زبان خاموش ہوگی، میرے آنسو تهم گئے کیونکہ میں جانتا تھا کہ ابا اپنی کہی ہوئی بات سے کبھی نہیں پھرتے۔ اور تم ماں، ابا کے کسی بھی فیصلے کے خلاف جانے کی ہمت نہیں رکھتی
اس کے بعد ابا مجھے ہمیشہ کے لیے یہاں چهوڑ گے جہاں ایک گرو رہتا تھا۔ امجد کی جگہ میرا نام علیشاہ رکھ دیا گیا۔ مجھے ناچ گانےکی تربیت دی جاتی۔ مجھ پر نظر رکھی جاتی لیکن میں جب کبھی موقع ملتا تمہاری محبت میں گرفتار اپنے گهر کی طرف دیوانہ وار بھاگتا مگر ابا کا آخری جملہ مجھے دہلیز پار کرنے سے روک دیتا۔ دروازے کی اوٹ سے جب تمہیں گرما گرم روٹی اتارتے دیکھتا تو میری بھوک بھی چمک جاتی اور پهر تم اپنے ہاتھوں سے نوالے بنا بنا کر میرے بہن بھائیوں کے منہ میں ڈالتی تو ہر نوالے پر میرا بھی منہ کھلتا مگر وہ نوالے کی حسرت میں کھلا ہی رہتا۔ اس حسرت کو پورا کرنے کے لیے میں اکثر گهر کے باہر رکھی ہوئی سوکهی روٹی کو اپنے آنسوؤں میں بهگو بهگو کر کھاتا۔
بعد کی عیدیں تو تنہا ہی تھیں پر جب گھر بدر نہ ہوا تھا تب بھی عید پر جب ابا ہر ایک کے ہاتھ پر عیدی رکهتے تو میرا ہاتھ پھیلا ہی ره جاتا۔ جب ہر بچے کی جھولی پیار اور محبت سے بهر دی جاتی تو میری جھولی خالی ہی ره جاتی۔ جب ابا اپنا دست شفقت سب کے سروں پر پھیرتے تو میرا سر جهکا ہی رہتا۔
صحن میں کھڑی ابا کی سائیکل جس کو اکثر میں محلے سے گزرتے دیکھتا تو ہر بار دل میں یہ خواہش ہوتی کہ کاش ابا سائیکل روک کر مجھے ایک بار، صرف ایک بار سینے سے لگا لیں مگر میری یہ خواہش، خواہش ہی ره گی۔ گھر چھوڑنے کے عذاب کے بعد میرے اوپر ایک اور عذاب نازل ہوا جس کے کرب نے میری روح تک کو زخمی کر دیا۔ چند ‘شرفا’ گرو کے پاس آئے اور مجھے اپنے ساتھ لے گئے۔ مجھے زبردستی بے لباس کیا اور اپنی ہوس کی بھینٹ چڑھا ڈالا۔ ماں، میں اتنا چھوٹا اور کمزور تھا کہ میں تکلیف کی وجہ سے اپنے ہوش ہی کهو بیٹھا تھا۔ پهر اس ہی بے ہوشی کے عالم میں مجھے گرو کے حوالے کر دیا گیا۔ پهر یہ سلسلہ ایسا شروع ہوا کہ میں روز ہی اپنی ہی نظروں میں گرتا رہا مرتا رہا۔ کرتا بھی کیا کہ اب میرے پاس کوئی اور دوسری پناہ گاه نہ تهی۔
پهر اسی کام کو میرے گرو نے میرے پیشے کا نام دے دیا۔ میں گرو کے پاس سے کئی بار بھاگا، در در نوکری کی تلاش میں پهرتا رہا مگر مایوسی کے سوا کچھ حاصل نہ ہو سکا۔ ہر بار گرو کے در پر ہی پناہ ملی۔
ہمارا وجود معاشرے میں گالی سمجھا جاتا ہے۔ ہمیں تو کسی کو بددعا بھی دینی ہو تو ہم کہتے ہیں کہ جا تیرے گهر بھی مجھ جیسا پیدا ہو۔ حالانکہ ہماری رگوں میں بهی سرخ رنگ کا خون دوڑتا ہے۔ ہمیں بنانے والا بھی تو وہی ہے جس نے ان کو پیدا کیا۔ ان کے سینے میں بھی دل ہماری طرح ہی دھڑکتا ہے۔ تو پهر ہمیں کس بات کی سزا دی جاتی ہے ؟ہمارا جرم کیا ہوتا ہے؟ شاید ہمارا جرم یہ ہوتا ہے کہ ہمارا خون سرخ ہے اور معاشرے کا سفید۔
ماں میں ساری زندگی جینے کی چاه میں مرتا چلا گیا۔ سفید خون رکھنے والے لوگ کبھی مذہب کی آڑ لے کر تو کبھی جسم فروشی سے انکار پر ہمارے جسموں میں گولیاں اتار دیتے ہیں۔ میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا، مجھے بھی گولیاں ماری گئیں۔ جب مجھے ہوش آیا تو ڈاکٹر مجھے امید کی کرن دکهانے کی کوشش میں آہستہ آہستہ میرے کان میں سرگوشی کر رہا تھا کہ اگر تم ہمت کرو تو زندگی کی طرف لوٹ سکتے ہو۔ میں نے بہت مشکل سے اپنے ہونٹوں کو جنبش دی اور ڈاکٹر سے کہا کہ اگر میں ہمت کر کے لوٹ بھی آیا تو کیا مجھے جینے دیا جائے گا؟ جب ملک الموت میرے پاس آیا تو میں نے اس سے جینے کے لیے چند لمحوں کی درخواست کی۔ نجانے کیوں اس بار مجھے امید تھی کہ تم دوڑی چلی آؤ گی، میرا بچہ کہتے ہوئے مجھے اپنے سینے سے لگاو گی۔ میرے سر کو اپنی گود میں رکھ کر میرے زخموں کی ٹکور کر کے مجھے اس دنیا سےرخصت کرو گی۔ لیکن موت کے فرشتے نے چند لمحوں کی مہلت بھی نہ دی۔
سنا ہے قیامت کے روز بچوں کو ماں کےحوالے سے پکارا جائے گا۔ بس ماں تم سے اتنی سی التجا ہے کہ اس دن تم مجھ سے منہ نہ پهیرنا۔
’’میں نے جس گھرانے میں آنکھ کھولی، وہاں حجاب لباس کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ سو شروع ہی سے حجاب لیا. ہاں!شعوری طور پر حجاب کی سمجھ آج سے پندرہ سال پہلے آئی جب خود قرآن کو اپنی آنکھوں سے پڑھنا اورسمجھنا شروع کیا. ہم جس ماحول میں پروان چڑھے وہاں حیا اور حجاب ہماری گھٹیوں میں ڈالا گیا تھا۔ سو الحمدللہ! کبھی حجاب بوجھ نہیں لگا. حجاب کی وجہ سے کبھی کوئی پریشانی یا رکاوٹ نہیں آئی بلکہ میرا تجربہ قران کی اس آیت کے مترادف رہا
’’تم پہچان لی جائو اور ستائی نہ جائو‘‘
الحمدللہ! حجاب نے میری راہ میں کبھی کوئی مشکل نہیں کھڑی کی بلکہ میں نے اس کی بدولت ہرجگہ عزت اور احترام پایا. اک واقعہ سنانا چاہوں گی، پرویز مشرف دور میں پاک فوج کی ’ایکسپو ایکسپو2001‘ منعقد ہوئی تھی، یہ ایک بڑی گیدرنگ تھی۔ اس کی تقریب میں واحد باحجاب میں ہی تھی، کچھ خواتین ( آفیسرز کی بیگمات ) نے اشاروں کنایوں میں احساس دلایا کہ ایسی جگہوں پر حجاب کی کیا ضرورت!! میں مسکرادی، کچھ دیر میں جنرل مشرف خواتین سے سلام کرنے لگے، خواتین جاتیں، ان سے ہاتھ ملاتیں، ان کے ساتھ لگ لگ کر تصاویر بناتیں.. میں کچھ اندر سےگھبرائی ہوئی تھی، اسی اثنامیں جنرل مشرف میری جانب مڑے، مجھے حجاب میں دیکھا تو اپنے دونوں ہاتھ کمر پر باندھ لیے اور جاپانیوں کے طریقہ سلام کی طرح تین بار سر جھکا کر سلام کیا۔ خواتین کا مجمع میری جانب حیرت سے تک رہا تھا... میری آنکھوں میں نمی اور فضاوں میں میرے رب کی گونج سنائی دے رہی تھی...
ترکی میں صدر اردوغان کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش ترک عوام نے ناکام بنا کر سب کو حیران کردیا۔ ناکام فوجی بغاوت کے حوالے سے سوشل اور مین اسٹریم میڈیا پر بحث شروع ہوگئی۔ اس حوالےسے جتنے منہ اتنی باتیں سامنے آتی رہی۔ اس بات پر بحث ہونے لگی کہ اگر پاکستان میں ایسی کوشش ہوتی ہے تو عوامی ردعمل کیا ہوگا۔حالانکہ پاکستان سے موازنہ کرنے سے قبل یہ دیکھنا ضروری ہے کہ آخر وہ کیاوجوہات تھیں جنھوں نے ترک عوام کو رات کے اندھیرے میں سڑکوں پر آکر فوجی بغاوت کو کچلنے پر آمادہ کیا۔ آئیے زرا چند نکات میں ان وجوہات پر غور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔سینئر صحافی عارف الحق عارف صاحب نے فیس بک پر اپنے ایک اسٹیٹس میں ترکی میں فوجی بغاوت ناکام ہونے کی وجوہات کا زکر کیا۔ چند وجوہات پر غور کرلیا جائے تو اندازہ ہوجائے گا کہ ترک قوم اپنے لیڈر کے لئے دیوانہ وار باغیوں کے ٹینکوں سے سامنے دیوار کیوں بن گئے تھے۔
۔
۔ ترکی میں جب طیب اردوغان نے حکومت سنبھالی تو 2002سے 2012 کے درمیان ترکی کےجی ڈی پی میں 64فیصد اضافہ ہواانفرادی سطح پر اقتصادی ترقی کی شرح میں 43فیصد اضافہ ہوا۔ اس ترقی نے نہ صرف ترک عوام بلکہ عالمی سطح پر اردوغان کی پسندیدگی میں اضافہ کیا۔
۔
۔اردوغان کے 2002 میں اقتدار سنبھالتے وقت ترکی کو بھی آئی ایم ایف نے اپنے پنجوں میں جکڑا ہوا تھا اور ترکی 5۔23 بلین ڈالر کا مقروض تھا۔ اردوغان نے حکومت سنبھالنے کے بعد آئی ایم ایف کی سازشوں میں نہ آنے کا فیصلہ کرتے ہوئے مزید قرضہ لینے سے انکار کرددیا اور پرانا قرضہ ادا کرنا شروع کردیا۔ 2012میں یہ قرضہ صرف 9۔0بلین ڈالر رہ گیا تھا۔ جس کی ادائیگی کے بعد آئی ایم ایف کی جانب سے ترکی کے قرضہ ادا کردینے کا اعلان کردیا گیا۔ اور اسی سال طیب اردوغان نے اعلان کیا کہ اگر آئی ایم ایف کو قرضہ درکار ہو تو وہ ترکی سے رجوع کرسکتا ہے۔
۔
۔2002 میں ترکش سینٹرل بینک کے پاس زرمبادلہ کے زخائر 5۔26ملین ڈالر تھے جو 2011میں بڑھ کر 2۔92بلین ڈالر ہوچکے تھے اور ان میں کامیاب اقتصادی پالیسیوں کی وجہ سے مسلسل اضافہ ہوتا جارہا تھا۔
۔
۔اسی طرح ترکی میں طیب اردوغان کے حکومت سنبھالنے کے بعد صرف ایک سال میں ہی مہنگائی میں 23 فیصد کمی ہوئی جس سے ترک عوام کو براہ راست فائدہ ہوا۔
۔
۔اسی طرح 2002 میں ترکی میں ہوائی اڈوں کی تعداد میں 26 تھی جو اب بڑھ کر 50 ہوچکی ہے۔
۔
۔2002سے 2011کے درمیان ترکی میں 13500کلومیٹر طویل ایکسپریس وے تعمیر کی گئی اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ایکسپریس وے کی تعمیر کے ٹھیکے اپنے رشتہ داروں یا پارٹی رہنمائوں کو دینے کے بجائے کے میرٹ پر بین الاقوامی سطح پر اچھی شہرت کے حامل اداروں کو دئے گئے۔
۔
۔ترکی کی تاریخ میں پہلی بار تیز ترین ریلوے ٹریک بچھایا گیا اور 2009 میں تیز ترین ٹرین ترکی میں متعارف کرائی گئی۔عوام کو سہولیات فراہم کرنے کے لئے ان 8 سالوں کے دوران تیز رفتار ٹرین کے لئے1076کلومیٹر ریلوے ٹریک بچھایا گیا جبکہ 5449کلومیٹر طویل ٹریک کی مرمت کرکے اسے تیز ترین ٹرین کے معیار کے مطابق بنایا گیا۔
۔
۔اردوغان نے عوام کی بنیادی ضروریات کا خیال رکھتے ہوئے شعبہ صحت میں بڑے پیمانے پر کام کیا۔ گرین کارڈ پروگرام متعارف کرایا گیا جس کے تحت غریب افراد کو صحت کی مفت سہولیات فراہمی کا سلسلہ شروع کردیا گیا ۔
۔
۔صحت کی طرح تعلیم کے شعبہ پر بھی خصوصی توجہ دی گئی اور تعلیم کا بجٹ2002میں 5۔7بلین لیرا سے بڑھا نا شروع کیا اور 2011میں تعلیمی بجٹ 34 بلین لیرا تک پہنچا دیا۔ قومی بجٹ کا بڑا حصہ وزارت تعلیم کو دیا گیا اور قومی جامعات کا بجٹ ڈبل کردیا گیا۔ اسی طرح 2002 میں ترکی میں جامعات کی تعداد 86 تھیں ۔اردوغان حکومت نے ملک میں جامعات کا جال بچھایا اور 2012 تک ترکی میں 186معیارت جامعات تدریس کا عمل جاری رکھے ہوئے تھیں۔
۔
۔ترکی معیشت کا اندازہ صرف اس نقطہ سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ 1996میں ایک ڈالر ، 222لیرا تھا جبکہ اردوغان حکومت کی کامیاب اقتصادی پالیسیوں کے بعد آج ایک ڈالر 94۔2 لیرا کا ہے۔
بلوچ کا قتل ۔۔ مشرقی معاشرے پر ہرزہ سرائی کیوں؟؟؟****
جس دن سے متنازعہ ماڈل و اداکارہ قندیل بلوچ قتل ہوئی ہیں ۔ کچھ دانشو راپنی پوری آب و تاب کے ساتھ میدان میں کود پڑے ہیں اور یہ ثابت کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں کہ یہ بہت بڑا ظلم ہوا ہے ۔ اس قتل سے بربریت کی داستان رقم کی گئی ہے اور ملتِ اسلامیہ اس عظیم نقصان سے دو چار ہوئی ہے جس کا ازالہ ممکن نہیں اور اس قتل سے پیدا ہونے والا خلا کبھی پُر نہیں ہو گا۔اس قتل کی آڑ میں معاشرے پر خوب لعن طعن کی جا رہی ہے۔ پاکستانی معاشرے کو اس طرح آڑے ہاتھوں لیا جا رہا ہے کہ جیسے یہ خود ساختہ دانشور اس معاشرے کا حصہ نہیں ہیں بلکہ یہ کوئی آسمانی مخلوق ہیں۔اس قتل کے تانے بانے عورت کی آزادی سے ملائے جا رہے ہیں کہ آج کے اس جدید دور میں بھی عورت کو کسی قسم کی آزادی نہیں ہے بلکہ ان پر جبر کیا جاتا ہے۔ سادہ لوح عوام کو گمراہ کرنے کے لیے کہا یہ جا رہا ہے کہ زندگی کے قول و فعل کا ہرانسان خود ذمہ دار ہے اورکسی کو بھی سزا و جزا کا حق نہیں ہے۔بالکل ٹھیک ۔ سزا و جزا کا اختیار کسی فردِ واحد کو نہیں ہے۔ آپ کی بات سے سو فی صد اتفاق ہے کہ سزا وجزا کا حق اور اختیار صرف رب کائنات کے پاس ہے یا حکومتِ وقت غلط عادات و اطوار یا غیر اخلاقی حرکات پر نوٹس لے سکتی ہے مگر حکمرانوں کو تو اپنے’’ اللوں تللوں ‘‘سے ہی فرصت نہیں ہے توپھر آپ سے سوال ہے کہ آپ بتائیں قندیل بلوچ نے سستی شہرت حاصل کرنے ک لیے جو راستہ اختیار کیا تھا اس کو دیکھنے کے بعد اس کے بھائی کیا کرتے ؟؟؟ آپ آزادیِ ا ظہار کے نام پر ہلکان ہو رہے ہیں مگر کیا آپ آزادی اظہار کی تعریف بتانا پسند کریں گے ؟؟؟ کیا آزادی اظہار کی آڑ میں کوئی جو چاہے کرتی پھرے؟؟؟باریک لباس میں فوٹو بنوائے یا مختصر لباس زیبِ تن کرکے نیم برہنہ تصاویر بنوا کر بڑے فخر سے نیٹ یا فیس بک پرUPLOAD کر کے بے حیائی کے فروغ کا باعث بنے ؟؟ بے شرمی و بے غیرتی کی حدیں عبور کرتی پھرے ؟؟؟ کھلونوں کی طرح جسم کی نمائش کرتی پھرے مگر اس کو کوئی پوچھنے والا نہ ہو ؟؟؟اگر آپ کے نزدیک اس کا نام آزادی ہے تو مہربانی فرمائیں اس کو اپنے تک محدود رکھیں کیونکہ اسلام یا مشرقی معاشرہ اس کی اجازت نہیں دیتا مگر اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ غیرت کو بنیاد بنا کرقتلِ عام کا بازار گرم کر دیا جائے کیونکہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل تصور کیا جاتا ہے ۔اگر قندیل اپنے کیے کی خود ذمہ دار تھی تو اس کا بھائی بھی اپنے فعل کا خود ذمہ دار ہے وہ قانون کی حراست میں ہے اور قا نون بہتر فیصلہ کرے گا راقم الحروف نے اپنے گزشتہ کالم میں بھی عرض کیا تھا کہ مجھ کو حیرت ہو رہی ہے ان دانشوروں پر جو قندیل کی موت پہ ہلکان ہوئے جا رہے ہیں۔معلوم نہیں انہیں قندیل کی موت کا افسوس ہے یا اس بات پہ رنجیدہ ہیں کہ ان کی آنکھوں کو جو تسکین قندیل کی نیم برہنہ تصاویر دیکھ کر ملتی تھی وہ چھن گئی ہے۔ان کو قندیل کی موت یا د آ رہی ہے ، قندیل کی بے بسی پر رونا آ رہا ہے ، قندیل کا خونِ نا حق نظر آ رہا ہے ،اس کے بھائی کی سفاکی دکھائی دے رہی ہے مگر قندیل کی بے غیرتی ، بے حیائی اور بے شرمی والی سرگرمیاں اور کہانیاں یا دکیوں نہیں آرہی ہیں؟؟؟انسانیت کے ان ٹھیکے داروں کو اس کا غیر مہذبانہ اندازِ زندگی کیوں نظر نہیں آ رہا ہے ؟؟؟ اس کی وہ حرکات و سکنات کیوں نظر نہیں آرہی ہیں جسے دیکھ کر معصوم اذہان غلط راستے کی طرف راغب ہوتے تھے ۔قندیل کے بھائیوں کے دل پہ کیا گزرتی ہو گی؟؟؟ اس کا احساس نہیں ہو رہا ہے۔پاکستانی اورمشرقی معاشرے کو ’’کوڑھ زدہ ‘‘ معاشرہ قرار دینے والوں سے میں یہ پوچھنے کی جسارت ضرور کروں گا کہ اگر آپ کی بہو ، بیٹی یا بہن قندیل بلوچ کے اختیار کردہ راستے کو اپنا لے تو کیا آپ اس کو اپنے ماتھے کا جھومر بنا لیں گے؟؟؟ کیا آپ اس کو اپنے گلے لگا کر خراجِ تحسین پیش کریں گے ؟؟؟بالکل نہیں۔ ہر گز نہیں۔ آپ سے تو میرے یہ الفاظ برداشت نہیں ہو رہے ہیں۔ آپ کا خون کھول رہا ہے اوردل میں نہ جانے کیا کیا ’’صلواتیں‘‘ سنا رہے ہیں تو پھر یاد رکھیں جہاں آپ کو یہ بات یاد ہے’’ سز وجزا کا مالک صرف اللہ ہے‘‘ یا یہ یاد ہے کہ’’ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے‘‘ تو وہاں نبی اکرم حضرت محمدﷺ کا یہ ارشادِ گرامی بھی ذہن میں رکھیں کہ’’ اپنے بھائی کے لیے وہی چیز پسند کرو جو تم کو اپنے لیے پسند ہے‘‘ اپنی اولاد کی اچھی تعلیم و تربیت کے خواہش مندوں کے منہ میں اس وقت کیوں رال ٹپکنے لگتی ہے جب وہ قندیل بلوچ کی نیم عریاں لباس میں تصاویر دیکھتے ہیں۔ارشاد نبویﷺ ہے کہ ’’ مُردوں کو بُرا مت کہو ‘‘ اس لیے میں قندیل بلوچ کی سرگرمیوں کے متعلق کچھ نہیں کہنا چاہتا مگر آپ کی خدمت میں ضرور عرض کرنا چاہوں گا قندیل بلوچ کی موت کی آڑ میں مشرقی و پاکستانی معاشرے کے خلاف ہرزہ سرائی کی جو گردان آپ نے شروع کر رکھی ہے اس کو بند کریں اور ان دانشوروں کی عقل پر تو ویسے ہی ماتم کرنے کو دل کر رہا ہے جو یہ ارشاد فرمارہے ہیں کہ قندیل بلوچ نے یہ راستہ غربت دور کرنے کے لیے اختیار کیا تھا۔ کیا کہنے آپ کی سوچ کے ۔۔۔ کیا منطق لائے ہو ڈھونڈ کر ۔۔ کیا غربت دور کرنے کا یہ طریقہ ہے جو قندیل بلوچ نے اپنایا ؟؟؟؟ہمہ وقت دوسروں کا دل لبھانے کے لیے تیار رہنا۔۔ غربت دور کرنے کا طریقہ ہے ؟؟؟ آپ لوگ جتنی ہمدردی کا آج اظہار کر رہے ہیں اسکی زندگی میں اس کی مالی مدد کر کے اس کی چادر اور چار دیواری کا تحفظ کرنے میں اہم کردار ادا کرتے۔۔۔ بند کریں ایسی من گھڑت تاویلیں۔قندیل بلوچ کے قتل کی مذمت ضرور کریں مگر الفاظ کا چناؤ سوچ سمجھ کر کریں کیونکہ یہ معاشرہ صرف آپ جیسے آزاد خیال لوگوں پر ہی مشتمل نہیں ہے۔ اللہ ہم سب کو صراطِ مستقیم پر چلنے کی توفیق دے ۔ آمین