Thursday, 8 October 2015

یوسف رضا گیلانی اور ایشوریا رائے

www.swatsmn.com

یوسف رضا گیلانی اور ایشوریا رائے

(Muhammad Anwer, Karachi)

پاکستان کے نووارد وزیراعظم جناب یوسف رضا گیلانی کا ماننا ہے کہ وہ بھارتی اداکارہ ایشوریا رائے کے مداع ہیں اور ایشوریا رائے انہیں اس قدر پسند ہے کہ جب وہ جیل میں تھے تو اپنے لیپ ٹاب پر وہ اکثر ایشوریا رائے کی فلمیں دیکھا کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی گلوکارہ لتا منگیشکر کے بھی وہ مداح ہیں۔

پاکستانی حکمرانوں کی دیگر خصوصیات میں ایک یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ پڑوسی ملک کے دیگر معاملات میں دلچسپی لینے کے ساتھ وہاں کے فنکاروں کے بارے میں بھی غیر معمولی دلچسپی لیا کرتے ہیں۔ لیکن نہ جانے کیوں بھارت کے سیاست داں ہمارے ملک کے فنکاروں کے بجائے صرف سیاست دانوں پر ہی توجہ دیتے ہیں؟ میں نے جب یہ سوال اپنے ایک صحافی دوست مسعود انور سے پوچھا تو اس نے برجستہ کہا کہ یار وہاں کے سیاست دان ہمارے ملک کے سیاست دانوں ہی کو فنکار سمجھتے ہونگے۔ 

ویسے اس میں کوئی شک بھی نہیں کہ سیاست دان چاہے کسی ملک کا بھی ہو فنکارانا صلاحیتیں تو اس میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہیں۔ کیوں کہ ان کو اکثر و بیشتر اپنی انہیں صلاحیتون سے فائدہ اٹھانا پڑتا ہے۔

ہمارے دیس کے سابق صدر مرحوم ضیاءالحق صاحب بھارتی اداکار شتروگن سنہا کے اس قدر مداح تھے کہ انہوں نے سنہا صاحب کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی تھی امید ہے کہ وزیراعظم پاکستان یوسف گیلانی بھی اپنی پسند کے حوالے سے ایسا ہی کریں گے۔

بات ہورہی تھی بھارتی فنکاروں میں پاکستانی سیاست دانوں اور حکمرانوں کی دلچسپی کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمارے موجودہ صدر بھی اس معاملے میں کچھ کم نہیں ہیں وہ تو پورے بھارت سے ہی محبت کرتے ہیں اور وہاں کی اداکارہ رانی مکھرجی ان کو بہت ہی اچھی لگتی ہے ہوسکتا ہے یہ اطلاع غلط ہو مگر اطلاع یہ ہی ہے ۔۔۔۔۔۔ بہرحال جب میں نے اپنے دوست مسعود سے دریافت کیا کہ یار میاں نواز شریف کی دلچسپی کے حوالے سے کیا کہتے ہو؟ مسعود نے ایک گہرا سانس لیکر کہا کہ بھائی وہ نہ صرف وطن پرست ہیں بلکہ اپنے آس پاس ہی اپنے دلچسپی کے معاماملات چاہتے ہیں ان کی دلچسپی فنکاروں کے حوالے سے ایک گلوگارہ پر رہی ہے لیکن وہ بھی اپنے ہی وطن کی تھیں اب یہ واضع نہیں ہے کہ کیا صورتحال ہے اس دلچسپی کی؟

میں سوچ رہا تھا کہ اگر ہماری اگر خاتونِ اول کے اعزاز کی طرح ہمارے وزراء اعظم یا صدور کی پسندیدہ اداکاراؤں کو بھی کوئی اعزاز سے نوازنے کی روایت ہوتی تو یہ اعزازات زیادہ تر بھارتی اداکاراوں کے حصے میں آجاتے اور اگر کوئی بچ جاتا تو ایک آدھ ہماری گلوگارہ کو بھی مل جاتا۔ بہرحال شکر ہےکہ یہ روایت نہیں ہے۔ ورنہ بھارت ہمارے حکمرانوں کی اس کمزوری سے فائدہ اٹھا کر اپنے ملک کے اداکاراؤں کی خدمت حاصل کرنے پر زیادہ توجہ دیتا نہ کہ کشمیر پر۔

دُنیا کی سب سےزیادہ جھوٹی عورت

www.swatsmn.com

دُنیا کی سب سےزیادہ جھوٹی عورت

(Zeeshan Raza Khan, Karachi)

گرمیوں کی لُو سے بھری ایک دوپہر تھی جب وہ اسکول سے گھر لوٹا، گھر میں داخل ہوتے ہی اسے محسوس ہوا جیسے ماں کے چہرے کا رنگ ایکدم تبدیل ہو گیا۔

ماں اسے دیکھ کر مسکرائی اور کہا، جلدی سے کپڑے بدل لو میں کھانا لاتی ہوں۔

جب وہ بیدلی سے کپڑے بدل کر آیا تو سامنےسبزی یا دال کی جگہ کچھ اسکی پسندیدہ ڈش، ایک پیالی میں میٹھا اور گلاس میں ستّو موجود تھا۔

اُس نے پوچھا امی آج اتنا کچھ؟ خیریت تو ہے؟

ماں نے کہا ، ہاں مہمان آئے تھے اس لئے یہ سب بنایا۔

اُس نے کہا، آپ بھی آ جائیں۔

ماں بولی ،"میں نے مہمانوں کے ساتھ کھا لیا تھا اب توپانی پینے کی جگہ بھی نہیں ،تم کھاؤ نا ٹھنڈا ہو جائے گا" یہ کہہ کر ماں پھر سے کچن میں چلی گئی۔

وہ روز منہ بنا کر کھانا کھاتا تھا لیکن آج پسند کا کھانا دیکھ کر جلدی جلدی سب چٹ کر گیا۔ برتن اٹھا کر وہ جیسے ہی کچن میں داخل ہوا تو اُس نے دیکھا کہ "دُنیا کی سب سےزیادہ جھوٹی عورت فرش پر بیٹھی کئی دنوں کے بھوکوں کی طرح باسی روٹی کو پانی میں ڈبو کر کھا رہی تھی۔"

ایک بڑے آدمی کی ڈائری سے چند سطریں، جسے دنیا تو چھوٹا آدمی کہتی ہے لیکن اسکی ماں تو ۔ ۔ ۔

شادیاں ایسی بھی ہوسکتی ہیں

www.swatsmn.com


شادیاں ایسی بھی ہوسکتی ہیں

(Shaikh Wali Khan Almuzaffar, )

جمعرات کی شام ایک دوست کے صاحب زادے کا ولیمہ تھا، مہر میں سونا اور ولیمہ میں کھانا دونوں میں اسراف اور تبذیر سے اتنا کام لیاگیاتھا کہ خوشی کے موقع پر بھی دل ہی دل میں افسوس ہی ہوا ،سمجھ نہیں آتی ،لوگوں کو سادگی اپنانے اور غمی خوشی کے موقع پر افراط وتفریط سے کیسے بچایاجائے ، کونسی زبان میں انہیں سمجھایاجائے، کیاسید التابعین حضرت سعید بن مسیب کا اپنی بیٹی بیاہنے کا طریقہ ہم میں سے کسی کے لئے نمونہ نہیں بن سکتا ؟

امام غزالی احیاء علوم الدین میں رقمطراز ہیں: عبداﷲ بن ابو وداعہ کہتے ہیں،میں حضرت سعید بن مسیب کی خدمت میں حاضر رہا کرتا تھا،اتفاق سے مجھے کئی دن ناغہ کرنا پڑا، آپ نے میری غیر حاضری کے بارے لوگوں سے سوال کیا ،جب میں حاضر خدمت ہوا ،آپ نے پوچھا:تم کہاں تھے ؟میں نے عرض کیا ،میری اہلیہ کا انتقال ہو گیا تھا ،میں اسکی تجہیز وتکفین اور تعزیت کے امورمیں لگاہواتھا․․․آپ نے فرمایا ، مجھے کیوں نہیں بتایا؟میں بھی شریک ہوجاتا،پھر میں نے اٹھنا چاہا ،آپ نے فرمایا :تم نے کوئی لڑکی دیکھی ہے؟میں نے عرض کیا : خد ا آپ کا بھلا کرے ، اب مجھ سے کون نکاح کرائے گا ۔ میرے پاس شاید دو یا تین درھم ہو ں ۔ 

فرمایا : میں اپنی بیٹی سے تمہارا نکاح کراتاہوں ۔ میں نے تعجب سے کہا : آپ نکاح کرائیں گے ؟ فرمایا : ہاں، چنانچہ اسی وقت آپ نے خطبہ پڑھا اور میرانکاح کرادیا،میں آپ کی مجلس سے اٹھا تو مارے خوشی کے مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آتاتھاکہ میں کیا کروں ،پھر میں نے اپنے گھر کی راہ لی ، راستہ میں سوچنے لگا کہ کسی سے کچھ قرض لوں ؟ کسی سے کوئی رقم ادھار لوں ؟ لیکن کچھ بھی نہ کرسکا،مغرب کی نماز ادا کی اور اپنے گھر لوٹا ، گھر پہنچ کر میں نے چراغ جلایا ، میر اروزہ تھا ، ما حضراپنے سامنے رکھا ، وہ بھی کیا تھا ؟ روٹی اور زیتون کا تیل تھا، اچانک مجھے محسوس ہوا کہ کوئی دروازہ کھٹکھٹا رہاہے ، میں نے کہا : کون ہے ؟ آواز آئی : سعید !

میں نے سعید نامی ایک آدمی کا تصور کیا،کہ وہی سعید ہوسکتاہے ،لیکن سید التابعین ، عظیم محدث اور اہل مدینہ کے امام حضرت سعید بن المسیب ؒ کی طرف میر ا ذہن بھی نہیں گیا، کیونکہ چالیس سال کا عرصہ ان پر ایسا گزرا کہ وہ گھر سے مسجد تک کے علاوہ کہیں نہیں گئے ، میں لپک کر دروازے پر پہنچا ،دیکھا ، حضرت سعید بن المسیب ؒ ہیں ، مجھے وہم ہو ا کہ شاید آپ کا ارادہ بدل گیاہے، میں نے عرض کیا : ابومحمد (یہ حضرت سعید کی کنیت ہے) اگر آپ اطلاع کر دیتے ،میں خود آجاتا،آپ نے فرمایا نہیں ! تم اس کے زیادہ مستحق تھے ،کہ تمہارے پاس آیا جائے ، میں نے عرض کیا : فرمایئے کیا حکم ہے؟ انہوں نے فرمایا : تم غیر شادی شدہ تھے ،اب تمہاری شادی ہوگئی ہے، اس لئے مجھے اچھا نہیں معلوم ہو ا کہ تم رات کا کھانا بھی تنِ تنہا کھاؤُ․․․یہ تمہاری بیوی حاضرہے ، میں نے دیکھا ،تو آپ کی صاحبزادی، یعنی میری اہلیہ آپ کے بالکل پیچھے کھڑی ہے ، آپ نے صاحبزادی کو دروازے سے اند ر داخل ہونے کا کہااور خود لوٹ کرتشریف لے گئے ، وہ بیچاری شرم و حیا کی وجہ سے وہیں گرگئی ،مگر معاً سنبھل گئی ،میں نے دروازہ بند کیا اور اپنا فقیروں والاکھانا ’’ روٹی اور زیتون کا تیل ‘‘ چراغ کے سامنے سے جلدی جلدی ہٹا دیا ،تاکہ اس کی نظر نہ پڑے ، پھر مکان کی چھت پر چڑھ کر پڑوسیوں کو آوازدی ،لوگوں نے جمع ہو کر پوچھا : کیا بات ہے ؟ میں نے کہا : حضرت سعید بن المسیب ؒ نے اپنی صاحبزادی سے میر ا نکاح کردیا ہے ، اور وہ خود ابھی اس کو پہنچا گئے ہیں ۔ لوگوں کو بہت تعجب ہوا ،کہنے لگے : کیا واقعی حضرت سعید نے اپنی صاحب زادی سے آپ کی شادی کرادی ؟ میں نے کہا، ہاں ! انہوں نے کہا ـ: دلہن تمہارے گھر میں ہے؟ میں نے کہا : جی بالکل ! چنانچہ پڑوسی خواتین اسی وقت آگئیں ، اور میری بوڑھی والدہ تک بھی خبر پہنچ گئی، وہ بھی اسی وقت تشریف لے آئیں ، والدہ نے کہا : تین دن تم اس کے قریب نہیں آؤ گے، تاکہ ہم اس کو تیار کرلیں ، ورنہ تمہارا منہ نہ دیکھوں گی ۔

تین دن کے بعد جب میں نے اس سے تخلیہ کیا ، وہ حسن وجمال میں یگانۂ روز گار تھی ، اسے کلام پاک خوب یاد تھا، احادیث نبوی ﷺاس کی نوک زباں پر تھیں ، شوہر اورسسرال کے حقوق کے متعلق اسے کامل واقفیت حاصل تھی ، ایک ماہ تک میں حضرت مرشد کی خدمت میں نہیں گیا اور نہ ہی وہ تشریف لائے ، پھر جب میں حاضر ہوا تو وہاں لوگ خوب جمع تھے ،میں سلام کر کے بیٹھ گیا ، حضرت نے سلام کا جواب دیا ،لیکن کوئی اور بات نہیں کی، پھر جب سب احباب چلے گئے، حضرت نے فرمایا: اُس انسان کا کیا حال ہے ؟ میں نے عرض کیا : اے ابومحمد ! نہایت بہتر ہے ، یہاں تک کہ دوست دیکھ کر خوش ہوں اور دشمن دیکھ کرجلیں ۔ حضرت نے فرمایا : اگر کوئی نا گوار با ت دیکھو تو لاٹھی سے خبر لینا ۔ پھر میں اپنے گھر لوٹ آیا ، حضرت سعید بن المسیب ؒ نے ایک شخص کے ذریعے بیس ہزار درہم مجھے بھجوادیئے ۔

یہ سیدھی سادی اورمبارک شادی کا دلچسپ اور نہایت سبق آموز سچا واقعہ ہے ، قابلِ توجہ بات یہ بھی ہے کہ حضرت کی اس صاحبزادی سے خلیفۂ وقت عبد الملک بن مروان نے اپنے بیٹے ولید بن عبد الملک کی شادی کیلئے رشتہ مانگا تھا ،لیکن امام اہل مدینہ حضرت سعید بن المسیب ؒ نے انکار کردیا ، اور اپنی اس پیاری حسین وجمیل ،حافظہ، عالمہ، فاضلہ اور دین داربیٹی سے نکاح اپنے غریب مگر صالح متوسل سے کرادیا۔

نورانی پہاڑ

www.swatsmn.com


نورانی پہاڑ

(Muhammad Yousuf Attari, Mirpurkhas)
ایک بار حضرت سیدنا عیسٰی روح الله علٰی نبینا و علیہ الصلوٰت والسلام کا گزر ایک جگمگاتے نورانی پہاڑ پر ہوا- آپ علیہ السلام نے بارگاہ خداوندی عزوجل میں عرض کی، یا اللہ عزوجل! اس پہاڑ کو قوت گویائی عطا فرما- وہ پہاڑ بول پڑا، یا روح اللہ (علٰی نبینا و علیہ الصلوٰت والسلام) آپ کیا چاہتے ہیں؟ فرمایا، اپنا حال بیان کر- پہاڑ بولا، “میرے اندر ایک آدمی رہتا ہے-“ حضرت سیدنا عیسٰی روح الله علٰی نبینا و علیہ الصلوٰت والسلام نے بارگاہ خداوندی عزوجل میں عرض کی، یا اللہ عزوجل اس کو مجھ پر ظاہر فرما دے- یکایک پہاڑ شق ہو گیا اور اس میں سے چاند سا چہرہ چمکاتے ھوئے ایک بزرگ برآمد ہوئے

 انہوں نے عرض کیا، “میں حضرت سیدنا موسٰی کلیم اللہ (علٰی نبینا و علیہ الصلوٰت والسلام) کا امتی ہوں میں نے اللہ عزوجل سے یہ دعا کی ہوئی ہے کہ وہ مجھے اپنے پیارے محبوب نبی آخرالزمان صلیٰ اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی بعثت مبارکہ تک زندہ رکھے تاکہ میں ان کی زیارت بھی کروں اور ان کا امتی بننے کا شرف بھی حاصل کروں-الحمدللہ عزوجل میں اس پہاڑ میں چھہ سو سال سے اللہ عزوجل کی عبادت میں مشغول ھوں-“ حضرت سیدنا عیسٰی روح الله علٰی نبینا و علیہ الصلوٰت والسلام نے بارگاہ خداوندی میں عرض کیا، یا اللہ عزوجل! کیا روئے زمین پر کوئی بندہ اس شخص سے بڑھ کر بھی تیرے یہاں مکرم ہے؟ ارشاد ھوا، اے عیسٰی علیہ السلام! امت محمدی میں سے جو ماہ رجب کا ایک روزہ رکھہ لے وہ میرے نزدیک اس سے بھی زیادہ مکرم ہے- (نزھتہ المجالس ج ١ ص ١٥٥)

جنسی بھوک

www.swatsmn.com

جنسی بھوک اور انٹرنیٹ

(Roshan Khattak, Peshawar)
پاکستان میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تقریبا بیس لاکھ سے زائد لوگ انٹر نیٹ کا استعمال کرتے ہیں، ایک بہت بڑے تعلیمی ادار ے میں پڑھاتے ہو ئے جب میں نے طلباء کے درمیان انٹرنیٹ سے متعلق گفتگو سنی ، تو میرے لئے ان کی مسکراہٹ اور چہروں سے یہ اندازا لگانا مشکل نہ تھا کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔میں نے اس بارے میں کچھ تحقیق کی سو جھی۔ دوسرے دن اپنے بعض شاگردوں کو ایک ایک کرکے آ فس بلایا اور انہیں اعتماد میں لے کر انٹر نیٹ استعمال اور اس پر فحش مواد دیکھنے کے بارے میں سوالات پو چھے۔مجھے یہ سن کر حیرت ہو ئی کہ 85فی صد طلباء نے انٹر نیٹ پر فحش مواد دیکھنے کے اشا ر تا تصدیق کر دی۔چونکہ ایک استاد اور شاگرد کے درمیان ادب و احترام کا ایک خاص رشتہ مو جود ہو تا ہے ، اس لئے اس مو ضوع پر کسی سے کھل کر با ت نہ ہو سکی لہذا میں نے دوسروں سے اس مو ضوع پر گفتگو کر نے کا سوچا، ہمارے معا شرے میں جنس پر کسی سے گفتگو کرنا نہایت معیوب اور غیر اخلاقی سمجھا جا تا ہے اس لئے اس بارے معلومات حاصل کرنے میں کسی حد تک مشکل بھی پیش آ ئی ۔ اب یہ کالم لکھتے ہو ئے بھی خطرہ محسوس کر رہا ہوں کہ میرے قا رئین کہیں اس مو ضو ع پر لکھنے کی وجہ سے کو ئی فتویٰ ہی نہ لگا دیں۔ پشاور کے معروف شاہراہ یو نیو ر سٹی روڈ پر واقع ایک نیٹ کیفے پر بیٹھے نو جوان کا کہنا تھا کہ دو سال پہلے کی بات ہے میں نے اپنے کو رس سے متعلق بعض معلومات حاصل کرنے کی غرض سے انٹر نیٹ کا استعمال شروع کیا تھا، پھر موسیقی اور شا عری کی تلاش شروع کی۔ دریں اثنا بعض دوستوں نے میری توجہ نیٹ پر موجود فحش مواد کی طرف دلائی، تجسس پیدا ہوا۔ اور میں نے سرفینگ کی تو ایک نئی چیز سا منے آ ئی اب میں روزانہ کم از کم ایک گھنٹہ فحش سائٹس ضرور دیکھتا ہوں ۔ جب میں نے ان سے پو چھا کہ اس کا آپ کو کیا فا ئدہ یا نقصان ملتا ہے تو بولا ، فا ئدہ تو کو ئی نہیں ، نقصان ہی نقصان ہے مگر کیا کروں، جوان ہوں، شیطان ساتھ لگا ہو ا ہے، وہ ورغلا دیتا ہے اور میں فحش سائٹ کھو ل دیتا ہوں۔بعض دوسرے نو جوانوں کے بھی تقریبا یہی تا ثرات تھے۔ ان کا کہنا تھا ، تجسس انسان کا فطری خاصہ ہے۔جب ہمارے ساتھی اس بارے میں گپ شپ لگاتے ہیں تو قدرتی طو ر پر تجسس کا جزبہ بیدار ہو تا ہے اور مو قعہ ملتے ہی ہم ایسے سائٹس کو کھول لیتے ہیں اور پھر اسے دیکھنے کی لت پڑ جا تی ہے۔

میں نے پھر ایک نیٹ کیفے چلانے والے سے سوال کیا کہ اس کے کیفے پر آ نے والے لوگ فحش مواد کے سائٹس کھولتے ہیں یا علمی مواد اور ای میلز وغیرہ دیکھنے آ تے ہیں تو انہوں نے بتا یا کہ ہمارا مقصد تو کسی کو فحش مواد دکھانا ہر گز نہی، مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ لو گ یہا ں آکر فحش سائٹس ضرور دیکھتے ہیں۔ہمارے پا س ایسی سائٹس فلٹر کرنے کا کو ئی طریقہ نہیں ہے۔یہ تو حکومتِ پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان غیر اخلاقی سائٹس کو بلاک کر دے۔پی ٹی سی ایل ذرائع سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ اگر چہ پی ٹی سی ایل نے اب تک ہزاروں فحش سائٹس کو بلا کیا ہے مگر کیا کریں روزانہ سینکڑوں کے حساب سے نئی فحش ویب سائٹس معرضِ وجود میں آ تی ہیں۔

فحش ویب سائٹس بنانے اور مشتہر کرنے کے لئے بے شمار کمپنیاں کام کر رہی ہیں ، لہذا اسے مکمل طور پر بند کرنا پی ٹی سی ایل کی بس کی بات ہی نہیں۔مغربی ممالک میں اسے باقاعدہ ایک صنعت کے طور پر اسے چلایا جاتا ہے۔۔<<<<<<<<<<<<<<<<<<<

فحش مواد دیکھنے کا رجحان دنیا بھر میں مو جود ہے مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ایک مسلمان ملک ہوتے ہو ئے پاکستان میں ایسے غیر اخلاقی سائٹس دیکھنے کا رجحان سب سے زیا دہے۔ ماہرِ نفسیات اس کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ ہمارے معا شرے میں چو نکہ جنس پر گفتگو کرنا غیر اخلاقی اور بے ادبی کے زمرے میں شمار کیا جاتا ہے اور جنسی تعلقات کو صرف شادی تک محدود رکھنے کی اجازت ہے،مردوں اور  عورتوں کے ما بین تعلقات کو بہت زیادہ محدود رکھا جاتا ہے، بوجہ ازیں جنسی معلومات کے بارے میں کافی تجسس پا یا جاتا ہے جس کی وجہ سے لو گ انٹر نیٹ پر فحش سائٹس دیکھتے ہیں۔

بحر حال اس میں شک نہیں کہ انٹر نیٹ کا استعمال اب دنیا بھر میں عام ہو چکا ہے اور پاکستان میں ہنو ز اسے لکھا پڑھا طبقہ استعمال کر رہا ہے مگر وقت کے ساتھ ساتھ اس کے استعمال میں اضا فہ ہو رہا ہے، طلباء کو مفت لیپ ٹاپ دئیے جا رہے ہیں ۔جس کی وجہ سے نو جوان نسل میں خصوصا انٹرنیٹ کے استعمال میں بے تحاشا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ۔بے شک انٹر نیٹ پر انسان بے شمار معلومات حا صل کر سکتا ہے اور اگر اس کا استعمال مثبت طریقے سے کی جا ئے تو یہ معلومات کا ایک بیش بہا انمول خزانہ ہے مگر اسکا منفی استعمال نو جوان نسل کے لئے تباہی و بربادی کا با عث بن سکتا ہے لہذا والدین کو چا ہئیے کہ وہ انٹر نیٹ استعمال کرنے والے اپنے بچوں پر نظر رکھے۔ان کو ہر سہولت کے مثبت اور منفی استعمال کے فوائد اور نقصانات سے آگا ہ رکھے۔اور ممکن ہوتو حکومت فحش مواد والے تمام سائٹس کو بند کرنے کا اہتمام کرے۔

بیوی کا عاشق

www.swatsmn.com

بیوی کا عاشق

(Mohammed Masood , Meadows nottingham )

کسی جگہ ایک بوڑھی مگر سمجھدار اور دانا عورت رہتی تھی جس کا خاوند اُس سے بہت ہی پیار کرتا تھا۔ دونوں میں محبت اس قدر شدید تھی کہ اُسکا خاوند اُس کیلئے محبت بھری شاعری کرتا اور اُس کیلئے شعر کہتا تھا۔ عمر جتنی زیادہ ہورہی تھی، باہمی محبت اور خوشی اُتنی ہی زیادہ بڑھ رہی تھی۔ جب اس عورت سے اُس کی دائمی محبت اور خوشیوں بھری زندگی کا راز پوچھا گیا کہ آیا وہ ایک بہت ماہر اور اچھا کھانا پکانے والی ہے؟ یا وہ بہت ہی حسین و جمیل اور خوبصورت ہے؟ یا وہ بہت زیادہ عیال دار اور بچے پیدا کرنے والی عورت رہی ہے؟ یا اس محبت کا کوئی اور راز ہے؟

تو عورت نے یوں جواب دیا کہ
خوشیوں بھری زندگی کے اسباب اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی ذات کے بعد خود عورت کے اپنے ہاتھوں میں ہیں۔ اگر عورت چاہے تو وہ اپنے گھر کو جنت کی چھاؤں بنا سکتی ہے اوراگر یہی عورت چاہے تو اپنے گھر کو جہنم کی دہکتی ہوئی آگ سےبھی بھر سکتی ہے۔

مت سوچیئے کہ مال و دولت خوشیوں کا ایک سبب ہے۔ تاریخ کتنی مالدار عورتوں کی کہانیوں سے بھری پڑی ہے جن کے خاوند اُن کو اُنکے مال متاب سمیت چھوڑ کر کنارہ کش ہو گئے۔

اور نا ہی عیالدار اور بہت زیادہ بچے پیدا کرنے والی عورت ہونا کوئی خوبی ہے۔ کئی عورتوں نے دس دس بچے پیدا کئے مگر نا خاوند اُنکے مشکور ہوئے اور نا ہی وہ اپنے خاوندوں سے کوئی خصوصی التفات اور محبت پا سکیں بلکہ طلاق تک نوبتیں جا پہنچیں۔

اچھے کھانا پکانا بھی کوئی خوبی نہیں ہے، سارا دن کچن میں رہ کرمزے مزے کے کھانے پکا کر بھی عورتیں خاوند کے غلط معاملہ کی شکایت کرتی نظر آتی ہیں اور خاوند کی نظروں میں اپنی کوئی عزت نہیں بنا پاتیں۔

تو پھر آپ ہی بتا دیں اس پُرسعادت اور خوشیوں بھری زندگی کا کیا راز ہے؟ اور آپ اپنے اورخاوند کے درمیان پیش آنے والے مسائل اور مشاکل سے کس طرح نپٹا کرتی تھیں؟

اُس نے جواب دیا: جس وقت میرا خاوند غصے میں آتا تھا اور بلا شبہ میرا خاوند بہت ہی غصیلا آدمی تھا، میں اُن لمحات میں ( نہایت ہی احترام کے ساتھ) مکمل خاموشی اختیار کر لیا کرتی تھی۔ یہاں ایک بات واضح کر دوں کہ احترام کےساتھ خاموشی کا یہ مطلب ہے کہ آنکھوں سے حقارت اور نفرت نا جھلک رہی ہو اور نا ہی مذاق اور سخریہ پن دکھائی دے رہا ہو۔ آدمی بہت عقلمند ہوتا ہے ایسی صورتحال اور ایسے معاملے کو بھانپ لیا کرتا ہے۔

اچھا تو آپ ایسی صورتحال میں کمرے سے باہر کیوں نہیں چلی جایا کرتی تھیں؟

اُس نے کہا: خبردار ایسی حرکت مت کرنا، اس سے تو ایسا لگے گا تم اُس سے فرار چاہتی ہو اور اُسکا نقطہ نظر نہیں جاننا چاہتی، خاموشی تو ضروری ہے ہی، اس کے ساتھ ساتھ خاوند جو کچھ کہے اُسے نا صرف یہ کہ سُننا بلکہ اُس کے کہے سے اتفاق کرنا بھی اُتنا ہی اشد ضروری ہے۔ میرا خاوند جب اپنی باتیں پوری کر لیتا تو میں کمرے سے باہر چلی جایا کرتی تھی، کیونکہ اس ساری چیخ و پکار اور شور و شرابے والی گفتگو کے بعد میں سمجھتی تھی کہ اُسے آرام کی ضرورت ہوتی تھی۔ کمرے سے باہر نکل کر میں اپنے روزمرہ کے گھریلو کام کاج میں مشغول ہو جاتی تھی، بچوں کے کام کرتی، کھانا پکانے اور کپڑے دھونے میں وقت گزارتی اور اپنے دماغ کو اُس جنگ سے دور بھگانے کی کوشش کرتی جو میری خاوند نے میرے ساتھ کی تھی۔

تو آپ اس ماحول میں کیا کرتی تھیں؟ کئی دنوں کیلئے لا تعلقی اختیار کرلینا اور خاوند سے ہفتہ دس دن کیلئے بول چال چھوڑ دینا وغیرہ؟

اُس نے کہا: نہیں، ہرگز نہیں، بول چال چھوڑ دینے کی عادت انتہائی گھٹیا فعل اور خاوند کے ساتھ تعلقات کو بگاڑنے کیلئے دو رُخی تلوار کی مانند ہے۔ اگر تم اپنے خاوند سے بولنا چھوڑ دیتی ہو تو ہو سکتا ہے شروع شروع میں اُس کیلئے یہ بہت ہی تکلیف دہ عمل ہو۔ شروع میں وہ تم سے بولنا چاہے گا اور بولنے کی کوشش بھی کرے گا۔ لیکن جس طرح دن گزرتے جائیں گے وہ اِس کا عادی ہوتا چلا جائے گا۔ تم ایک ہفتہ کیلئے بولنا چھوڑو گی تو اُس میں تم سے دو ہفتوں تک نا بولنے کی استعداد آ جائے گی اور ہو سکتا ہے کہ تمہارے بغیر بھی رہنا سیکھ لے۔ خاوند کو ایسی عادت ڈال دو کہ تمہارے بغیر اپنا دم بھی گھٹتا ہوا محسوس کرے گویا تم اُس کیلئے آکسیجن کی مانند ہو اور تم وہ پانی ہو جس کو پی کر وہ زندہ رہ رہا ہے۔اگر ہوا بننا ہے تو ٹھنڈی اور لطیف ہوا بنو نا کہ گرد آلود اور تیز آندھی۔

اُس کے بعد آپ کیا کیا کرتی تھیں؟

اُس عورت نے کہا: میں دو گھنٹوں کے بعد یا دو سے کچھ زیادہ گھنٹوں کے بعد جوس کا ایک گلاس یا پھر گرم چائے کا یک کپ بنا کر اُس کے پاس جاتی، اور اُسے نہایت ہی سلیقے سے کہتی، لیجیئے چائے پیجیئے۔ مجھے یقین ہوتا تھا کہ وہ اس لمحے اس چائے یا جوس کا متمنی ہوتا تھا۔ میرا یہ عمل اور اپنے خاوند کے ساتھ گفتگو اسطرح ہوتی تھی کہ گویا ہمارے درمیان کوئی غصے یا لڑائی والی بات ہوئی ہی نہیں۔

جبکہ اب میرا خاوند ہی مجھ سے اصرار کر کے بار بار پوچھتا تھا کہ کیا میں اُس سے ناراض تو نہیں ہوں۔جبکہ میرا ہر بار اُس سے یہی جواب ہوتا تھا کہ نہیں میں تو ہرگز ناراض نہیں ہوں۔ اسکے بعد وہ ہمیشہ اپنے درشت رویئے کی معذرت کرتا تھا اور مجھ سے گھنٹوں پیار بھری باتیں کرتا تھا۔

تو کیا آپ اُس کی ان پیار بھری باتوں پر یقین کر لیتی تھیں؟

ہاں، بالکل، میں اُن باتوں پر بالکل یقین کرتی تھی۔ میں جاہل نہیں ہوں۔

کیا تم یہ کہنا چاہتی ہو کہ میں اپنے خاوند کی اُن باتوں پر تو یقین کر لوں جو وہ مجھ سے غصے میں کہہ ڈالتا تھا اور اُن باتوں پر یقین نا کروں جو وہ مجھے پر سکون حالت میں کرتا تھا؟ غصے کی حالت میں دی ہوئی طلاق کو تو اسلام بھی نہیں مانتا، تم مجھ سے کیونکر منوانا چاہتی ہو کہ میں اُسکی غصے کی حالت میں کہی ہوئی باتوں پر یقین کرلیا کروں؟

تو پھر آپکی عزت اور عزت نفس کہاں گئی؟

کاہے کی عزت اور کونسی عزت نفس؟ کیا عزت اسی کا نام ہے تم غصے میں آئے ہوئے ایک شخص کی تلخ و ترش باتوں پر تو یقین کرکے اُسے اپنی عزت نفس کا مسئلہ بنا لومگر اُس کی اُن باتوں کو کوئی اہمیت نا دو جو وہ تمہیں پیار بھرے اور پر سکون ماحول میں کہہ رہا ہے!

میں فوراً ہی اُن غصے کی حالت میں دی ہوئی گالیوں اور تلخ و ترش باتوں کو بھلا کر اُنکی محبت بھری اور مفید باتوں کو غور سے سنتی تھی۔

جی ہاں، خوشگوار اور محبت بھری زندگی کا راز عورت کی عقل کے اندر موجود تو ہے مگر یہ راز اُسکی زبان سے بندھا ہوا ہے

قوم کا ہیرو - ڈاکٹر عبدالقدیر خان

www.swatsmn.com

قوم کا ہیرو - ڈاکٹر عبدالقدیر خان

(Zahid Sharjeel, Lahore)

6 فروری 2009 کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک بنچ نے اپنے فیصلے میں ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو تمام الزامات سے بری کرتے ہوئے انہیں ایک آزاد شہری قرار دے دیا۔ عدالت نے انہیں وی آئی پی سیکورٹی فراہم کرنے کا حکم بھی جاری کیا ہے۔

ڈاکٹر عبدالقدیر 1936 میں بھارت کے شہر بھوپال میں پیدا ہوئے۔ ان کے خاندان نے 1952 میں پاکستان کی طرف ہجرت کی۔انہوں نے کراچی یونیورسٹی کے علاوہ ہالینڈ اور بلجیئم کی یونیورسٹیوں سے تعلیم حاصل کی۔ 1974 میں ہندوستان نے ایٹمی دھماکوں کے ذریعے ساری دنیا کو حیران کردیا۔ بھارت کے ایٹمی طاقت بن جانے کے بعد پاکستان کا دفاع کمزور ہوگیا تھا۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ پاکستان بھی ایٹمی ہتھیار بنائے۔ یوں پاکستان کی تاریخ کا وہ عظیم منصوبہ شروع ہوا جس نے پاکستان کو دنیا کے چند ملکوں کی صف میں لاکھڑا کرنا تھا اور ہندوستان کے غرور کو خاک میں ملا دینا تھا۔ اس منصوبے میں بہت سے لوگوں نے بے مثال قربانیاں دیں۔ ان تمام سائنسدانوں اور پراجیکٹ پر کام کرنے والوں کے سرخیل ڈاکٹر عبدالقدیر خان تھے۔ انہوں نے دن رات ایک کر کے قوم کو ایٹمی ہتھیار رکھنے والے ممالک کی صف میں لاکھڑا کیا۔28 مئی 1998 وہ یادگار دن تھا جب پاکستان نے چاغی کے مقام پر دھماکے کرکے ساری دنیا کو بالعموم اور بھارت کو بالخصوص بتلادیا تھا کہ وہ پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہ کرے۔

قوم کے دفاع کو مضبوط بنانے والے اس عظیم محسن کو اس وقت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جب مغرب کی غلامی کرنے والے حکمرانوں نے اپنے آقاؤں کے حکم پر انہیں ایٹمی ٹیکنالوجی کی اسمگلنگ میں ملوث قراردیا۔ مغربی اشاروں پر قوم کے محسن کو مجرم بنادیا گیا۔ پھر 4 فروری 2004 کو قوم نے دیکھا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان سرکاری ٹیلی ویژن پر وہ کچھ کہہ رہے ہیں جس کا یقین شاید کسی پاکستانی نے، کبھی بھی نہیں کیا۔ قومی معاملات اور سیاست سے واقف لوگ جانتے تھے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا یہ بیان اس وقت کے فوجی جرنیل اور صدر پرویز مشرف سے ملاقات کے بعد سامنے آنے کا کیا مطلب ہے؟ (ایسی ہی ملاقات پرویز مشرف اور جسٹس افتخار احمد چوہدری کے درمیان مارچ 2007 میں بھی ہوئی تھی)۔ اس بیان کے بعد انہیں ان کے گھر میں نظربند کر کے ان پر پابندیاں لگادی گئیں۔ ساری قوم مغربی قوتوں کے الزامات اور حکمرانوں کے اقدامات کے باوجود انہیں ملک کا ہیرو مانتی رہی اور ان کے وقار اور عزت میں کوئی کمی نہیں آئی۔ ان کی رہائی اور آزادی کے حق میں مظاہرے ہوتے رہے۔ ایک قومی اخبار نے تو ان کی نظربندی کے دنوں کو گننے کا سلسلہ شروع کیا۔ اس اخبار میں ہرروز ایک اشتہار شائع ہوتا تھا جس میں یہ بتایا جاتا تھا کہ محسن قوم کی نظربندی کو کتنے دن گزر چکے ہیں۔

محسن قوم کی وسیع القلبی کا اندازہ اس جواب سے لگایا جاسکتا ہے جو انہوں نے اپنے گھر کے باہر موجود صحافیوں کو انٹرویو دیتے ہوئےدیا۔ ایک صحافی نے ان سے سوال کیا کہ کیا وہ پرویز مشرف کے خلاف کسی قانونی کاروائی کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ان کا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ اور پرویز مشرف کو تو اس کے کیے کی سزا مل چکی ہے۔ وہ آج سڑک پر نکلنے اور عوام میں جانے کی جرات نہیں کرسکتا۔ اگر آج میں اور پرویز مشرف اکٹھے اسلام آباد کی سڑکوں پر ، آب پارہ یا کہیں نکل جائیں تو مجھے یقین ہے کہ پرویز مشرف کا تن ڈھانپنے کے لیے مجھے اپنی قمیض دینی پڑے گی۔

اس مختصر اور جامع جواب میں چھپی ہوئی حقیقت سے خود پرویز مشرف بھی انکار نہیں کرسکتا۔ جس شخص کو مجرم قراردیا گیا تھا وہ آج بھی قوم کا ہیرو ہے۔ اس کی نظربندی کے خاتمے سے لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ دوسری جانب وہ شخص ہے جس نے اپنے آقاؤں کے کہنے پر اس عظیم شخص کو معتوب کیا تھا۔ کرسی چھوڑنے سے قبل قوم سے خطاب کرتے ہوئے بھی اس نے خود کو قوم کو مقبول ترین شخص کہنے سے گریز نہیں کیا۔ آج اس کی مقبولیت کا عالم یہ ہے کہ اس کے آقاؤں کے دیس امریکہ میں بھی لوگ جوتے پکڑے اس کا استقبال کرنے کے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔ اپنے تیئں خود کو ہیرو، لیڈر یا مقبول کہنے والے کبھی ہیرو نہیں بنتے۔ ہیرو وہی ہوتے ہیں جو ملک کے لیے قربانی دیں، اس کی خدمت کریں ۔ ہیرو وہی ہوتے ہیں جن کی رہائی کے لیے لوگ سڑکوں پر نکل آئیں۔ وہ ہیرو نہیں ہوتے عوام اور خواص جن کے مواخذے کا مطالبہ کریں۔ ہیرو وہ ہوتے جو وطن کے دفاع کو مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ وطن اور اس کے وسائل کو غیرملکی طاقتوں کے حوالے کرنے والے ہیرو نہیں ہوسکتے۔ ہیرو وہ ہیں جنہوں نے ایٹمی ہتھیاروں اور میزائلوں سے ملکی افواج کو مضبوط کیا ، تاکہ عوام چین کی نیند سوسکیں۔ اپنے ہی عوام کو ڈالروں کے عوض امریکہ کے حوالے کرنے والے قوم کے ہیرو نہیں ہوسکتے۔

10th National Desert Hike 2025 (Rambler Badge Hike for Rover Scouts)

10th National Desert Hike 2025  (Rambler Badge Hike for Rover Scouts) Chulistan ,روحی   نیشنل ڈزرٹ ہائیک 2025 تاریخِ عالم اس امر کی شاہد ہے ...