Thursday, 17 July 2014

کلب کے چیئرمین مولوی عالم کے خلاف جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے الزامات عائد کیے۔

www.swatsmn.com

گزشتہ اتوار کی شب حلیمہ رفیق باتھ روم میں گئی، زہریلا ٹوائلٹ کلینر پیا اور اپنی زندگی کا خاتمہ کردیا۔
یہ وہ بات ہے جو حلیمہ کے خاندان نے بتائی۔
حلیمہ کے بہنوئی راشد لطیف نے ڈان کو بتایا کہ وہ روزے سے تھیں، مگر وہ یہ سمجھنے سے قاصر نظر ہیں کہ جب کوئی کھانے پینے سے دور ہو تو وہ تیزاب کیسے پی سکتا ہے۔
میڈیا رپورٹس میں اس موت کو متنازعہ قرار دیا گیا ہے، جبکہ اس کا خاندان اسے خودکشی قرار دے رہا ہے۔
مگر حلیمہ کا خاندان میڈیا کو خود سے دور رکھنے کوشش بھی کررہا ہے۔ انہوں نے خبروں کے کھوجی رپورٹرز اور مستقل مزاج کیمرہ مینوں کو حلیمہ کی تدفین سے جس حد تک ممکن ہوسکا دور رکھنے کی کوشش کی۔ اس کے علاوہ انہوں نے اس موت کی خودکشی کے طور پر پولیس میں رپورٹ بھی درج نہیں کرائی، جو کہ درج کرائی جانی چاہیئے تھی۔
ان کے پاس اس کی چونکا دینے والی وجوہات ہیں۔ گزشتہ سال جولائی میں ملتان کرکٹ کلب (ایم سی سی) سے تعلق رکھنے والی حلیمہ سمیت تین دیگر لڑکیاں ایک ٹی وی ٹاک شوز میں شریک ہوئیں اور کلب کے چیئرمین مولوی عالم کے خلاف جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے الزامات عائد کیے۔
اگر آپ اس ٹی وی شو کی ریکارڈنگ دیکھیں تو حلیمہ کافی خاموشی سے ایک کونے میں بیٹھی تھی جبکہ دیگر لڑکیاں سابق جج مولوی عالم پر الزامات کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے پر بھی الزامات لگا رہی تھیں۔
حنا غفور اس شو میں حلیمہ کے ساتھ آنے والی لڑکیوں میں سے ایک تھیں، وہ بتاتی ہیں کہ حلیمہ ایک سادہ مزاج لڑکی تھی، جس کے خاندان نے اس شو کے بعد وہ جس کرب سے گزری اس ذہنی کرب میں اس کو سہارا نہیں دیا۔
حنا نے کہا "ہم سب کی طرح حلیمہ کو بھی الزامات سے دستبردار ہونے کے لیے دھمکی آمیز فون کالز آرہی تھیں۔ میں نے ایک ماہ قبل اس سے آخری مرتبہ بات کی تھی تو وہ اس معاملے کے حوالے سے کافی پریشان تھی"۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے ٹی وی شو کے بعد ایک تحقیقاتی کمیٹی قائم کی تھی، مگر اسے الزامات کو ثابت کرنے کے لیے زیادہ شواہد نہیں مل سکے تھے۔ اس لیے کہ حلیمہ اور دیگر لڑکیوں کو کمیٹی کے سامنے بیانات دینے سے تو روکا ہی گیا تھا، اس کے ساتھ ہی ان چاروں کو چھ ماہ کے لیے کرکٹ کھیلنے سے بھی روک دیا گیا۔
ویمن کرکٹ ٹیم کی منیجر عائشہ اشعر کا تو کہنا ہے کہ اس معاملے کو مناسب طریقہ سے لیا گیا تھا اور اب یہ ختم ہوچکا ہے، مگر حنا کا کہنا ہے کہ تحقیقاتی کمیٹی کی تفتیش نامکمل تھی۔
دوسری جانب راشد لطیف کا کہنا ہے کہ حلیمہ کو یہ بات معلوم نہیں تھی کہ وہ ایسے ٹی وی شو میں جارہی ہے جہاں اسے دیگر لڑکیوں کے دعوﺅں کا ساتھ دینا پڑے گا۔
راشد کا کہنا تھا "حلیمہ نے اپنے ساتھ کٹ لے لی تھی اور اس کا خیال تھا کہ وہ بہاولپور کھیلنے جارہی ہے، مگر وہ لوگ اسے لاہور کے ایک اسٹوڈیو لے گئے۔ اس نے کبھی ہراساں کیے جانے کے معاملے پر ہم سے یعنی اپنے خاندان سے کوئی بات نہیں کی تھی"۔
حلیمہ کی عمر سترہ سال تھی اور اس نے میٹرک مکمل کرنے کے بعد ایک سال گھر میں گزارا تھا جہاں وہ پانچوں وقت کی نماز کی ادائیگی کے ساتھ اپنی بیوہ ماں کا ہاتھ بٹاتی تھی۔
ہم نے راشد لطیف سے پوچھا کہ زندگی کے آخری سال میں حلیمہ کی کیا مصروفیات تھیں۔
اس کا جواب تھا "وہ بس کرکٹ کھیلنا چاہتی تھیں، وہ بہت اچھی آل راﺅنڈر تھیں اور میں بھی اس کے ساتھ کھیلا کرتا تھا، بلکہ وہ تو بچوں کے ساتھ بھی کھیلتی تھی، وہ کرکٹ کا جنون رکھتی تھی اور ہر اس کھیل سے متعلق قسم کے اعدادوشمار سے واقف تھی"۔
راشد نے مزید بتایا کہ مگر ایسا لگتا تھا کہ کرکٹ کیرئیر اس سے دور ہونے والا تھا، کیونکہ خودکشی سے پہلے جمعے کے روز اسے ایم سی سی چیئرمین مولوی عالم کی جانب سے ٹی وی شو پر دیے گئے بیانات پر دو کروڑ روپے ہرجانے کا سمن موصول ہوا تھا۔
راشد کا کہنا تھا "وہ بہت کم عمر تھیں، اس سمن نے انہیں ہلا کر رکھ دیا تھا، اور جب اس سمن کی خبر اتوار کے اخبار میں شائع ہوئی تو انہوں نے خودکشی کرلی"۔
یہ بات واضح ہے کہ لوئر مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والی اس نوجوان کرکٹر کو دباﺅ برداشت کرنے کے لیے سپورٹ سسٹم حاصل نہیں تھا، مگر اس حوالے سے باقی تفصیلات کافی مبہم ہیں اور ہر فرد کا اپنا الگ ہی بیان ہے۔
حنا اپنے الزامات پر قائم ہیں، راشد ان کی تردید کرتے ہیں، جبکہ ایک مقامی صحافی بھی ان الزامات کو درست مانتا ہے۔
کیا اس نوجوان لڑکی کو زبردستی تو اس معاملے میں گھسیٹا نہیں گیا؟
وہ کم عمر تھیں تو کیا اسے شو میں لے کر جانے سے اس کے خاندان سے پوچھا گیا تھا؟
شو کے پروڈیوسرز یا اس کی ساتھی لڑکیوں نے مشاورت کی تھی؟
کیا تحقیقاتی کمیٹی نے جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے قانون پر مکمل عمل کیا؟
کیا حلیمہ پر اپنے خاندان کی جانب سے الزامات واپس لینے کے لیے دباﺅ ڈالا جارہا تھا؟
کیا وہ میڈیا جو اس طرح کے اسکینڈلز کو اُچھالنا کرنا پسند کرتا ہے، اس نے حلیمہ کے تحفظ کی پروا کی؟
کس پر اس لڑکی کی زندگی کے خاتمہ کی ذمہ داری عائد کی جاسکتی ہے؟
حلیمہ اب اپنے حصے کی کہانی سنانے کے لیے موجود نہیں اور ہمیں لگتا ہے کہ اسے موقع ملتا تو بھی وہ کچھ نہیں کہتی کیونکہ اسے معلوم ہوچکا تھا کہ کرکٹ صرف ایک کھیل ہی نہیں۔

زخمی شیر : پاکستان کرکٹ کی ان کہی داستان

www.swatsmn.com
انتہائی باصلاحیت نوجوانوں، جاوید میاں داد کو بطور قائد سراہا نہ جانا اور ریورس سوئنگ کے کرکٹ پر انقلابی اثرات برطانوی مصنف پیٹر اوبرائن کی نئی کتاب "وُنڈڈ ٹائیگر: اے ہسٹری آف کرکٹ ان پاکستان" کے چند اہم موضوعات میں سے ایک ہیں۔
وُنڈڈ ٹائیگر ایک ڈرامہ تھا جو میلبورن میں 1992ءکے ورلڈکپ کے فائنل سے قبل عمران خان کی جانب سے گھبرائے ہوئے شیر جیسے خطاب پر مبنی تھا، جس کا مقصد چیزوں کو واضح کرنا اور اس دنیا کی گہرائی تک جانا تھا جہاں کرکٹ کو قومی شناخت کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔
پاکستان کرکٹ کا موجودہ عہد اس کتاب کا موضوع ہے جس میں ماضی سے لے کر اب تک کی تاریخ کا احاطہ کیا گیا ہے ، تاہم اس پورے سفر میں وُنڈڈ ٹائیگر اپنے قارئین کو یہ یاد دلاتی رہتی ہے کہ ان افراد میں وہ جادو تھا جو میدان میں کچھ بھی کروا سکتا تھا۔
اوبرائن جو ڈیلی ٹیلیگراف کے چیف سیاسی تجزیہ کار ہیں، کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کرکٹ کے بارے میں اکثر غلط ہاتھ لکھتے ہیں، ایسے افراد جو پاکستان کو پسند نہیں کرتے، وہ اپنے تعصب کی بناء پر پاکستانیوں پر شک کرتے ہیں۔
یہ مصنف اس سے پہلے باسیل ڈاولیوریا پر ایوارڈ یافتہ سوانح حیات "کرکٹ اینڈ کانسپیرسی : دی ان ٹولڈ اسٹوری" سمیت کئی کتابیں تحریر کرچکے ہیں۔
انھوں نے اپنی کتاب کا آغاز اس بات سے کیا ہے کہ کس طرح ہندوستانی مصنفین رام چندرا گواہا اور سشی تھرور نے پاکستان کرکٹ کے بعد اپنی کتابوں میں کس حد تک گمراہ کن حقائق بیان کئے تھے۔
انھوں نے مزید اضافہ کیا کہ انگلش کرکٹرز کی سوانح حیات پر پاکستانی عوام کی جانب سے کافی گرم جوشی کا اظہار کیا جاتا ہے اور انگریز صحافیوں کو اسی جذبے کی پیروی کرنی چاہئے۔
اوبرائن کا اصرار تھا کہ کچھ پاکستانی کرکٹرز کو مضحکہ خیز انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔
ان کے بقول "جاوید میاں داد ایک بدمعاش، عمران خان کو روایتی نوابی انداز کا شہزادہ اور اے ایچ کاردار کو معتصب قرار دیا جاتا ہے جبکہ اس میں کوئی حقیقت نہیں"۔
وُنڈڈ ٹائیگر نہ صرف ان عظیم شخصیات کی حقیقی تصویر پیش کی گئی ہے بلکہ اس میں پاکستان کی خوبصورتی کو سراہا گیا ہے جس نے ہمیشہ اچھا ٹیلنٹ پیش کیا، ریکارڈ بریکنگ نوجوانوں کے ڈیبیو سے لے کر سرپرائز کردینے کی صلاحیت پاکستان کو سب سے منفرد بناتی ہے۔
اوبرائن اس منفرد صلاحیت کا تذکرہ پاکستان کے 1954ءکے دورہ انگلینڈ کے بارے میں لکھتے ہوئے کرتے ہیں، یہ وہ دورہ تھا جس نے سبز پرچم لہرانے والے کھلاڑیوں کو مستقبل میں عظمت کے راستے پر ڈال دیا تھا۔
اوبرائن لکھتے ہیں " اوول میں پاکستان چوتھا ٹیسٹ انتہائی مایوس کن صورتحال میں کھیل رہا تھا، کاردار کی کپتانی داﺅ پر لگی تھی، کیمپ میں اختلاف رائے تھا، پریس مذاق اڑا رہا تھا اور پاکستان کی بطور ٹیسٹ ملک کی حیثیت پر سوالات اٹھ رہے تھے، ان حالات میں بیشتر ٹیمیں گر کر ٹوٹ جاتی ہیں مگر ان میں کاردار کی قیادت میں موجود پاکستانیوں کو شامل نہیں کیا جاسکتا، فضل محمود نے کاردار پر دباﺅ ڈالا کہ وہ بیان جاری کریں کہ پاکستان اوول ٹیسٹ جیت کر دکھائے گا"۔
اوبرائن کی کتاب کا اختتام پاکستان کی کرکٹ دنیا میں تنہائی پر ہوتا ہے مگر اہم پیغام یہ ہے کہ مصباح الحق کی ٹیم کا مستقبل روشن اور خوشیاں ان کی منتظر ہیں۔

ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں ھیں

www.swatsmn.com
وہ دن مجھے آج بھی یاد ھے کہ میں ماں کیساتھ بازار گیا ہوا تھا تو کلائی پہ باندھنے والی ایک گھڑی پر دل آ گیا میں نے ماں سے ضد کی مجھے گھڑٰی خرید کر دیں لیکن گھڑی مہنگی ھونے کے سبب ماں نہ دلوا سکیں اور ھم ضد کرتے روتے روتے ماں کیساتھ گھر آ گئے اور گھر آتے ہی گھر سر پر اُٹھا لیا اُس وقت کی خوش قسمتی یہ تھی کہ والدِ محترم گھر موجود نہ تھے ورنہ اتنا شور مچانے کی مجال ہی نہ ہوتی اور گھڑی کی حسرت صرف حسرت ہی رہ جاتی پر تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ پھر صاحب ھوا کچھ یوں کہ ماں نے کھانہ دیا اور ھم نے انکار کیساتھ ساتھ کھانا بھی اُٹھا مارا وھاں ماں کو تھوڑا غصہ آیا اور آخر کہہ ہی دیا نہیں کھانا نہ کھائو مرو جا کر کہیں تمہارے نخرے اُٹھانے کیلئے ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں ھیں دفع ھو جائو اور مجھے دوبارہ شکل مت دکھانا تو صاحب انا بھی ہمارے اندر خُدا نے دبا دبا کر شروع سے ہی بھری ہوئی ھے ماں کے یہ الفاظ سننا تھے کہ اُٹھ کھڑے ھوئے اور منہ اُٹھا کر گھر سے چل دیے غالباً چھ سے سات گھنٹے ھم نے جتنی بے فکری سے گُذارے شاید ماں نے اپنی زندگی کے سب سے زیادہ کرب ناک گُذا...رے ھوں گے اس بات کا اندازہ اُس وقت ھوا جب ھم نے ایک مسجد کے اسپیکر سے اپنی گمشدگی کا اعلان سُنا تو گھر کی جانب رُخ کر لیا راستے میں میرا پھوپھو زاد ملا جو مجھے ہی ڈھونڈنے نکلا تھا مجھے گھر لے گیا جاتے ہی کیا دیکھا ماں ایک ھاتھ میں گھڑی ، ایک ھاتھ میں کھانا اور آنکھوں میں میری نادانی یعنی آنسو لیے بیٹھی میری راہ تک رہی تھیں مجھے دیکھتے ہی گلے سے لگایا ، ماتھا چومتے ھوئے گھڑی باندھی ، کہا تم نے دوپہر سے کھانا بھی نہیں کھایا کیا حشر کر لیا اپنا اور جو کرنے کا حکم مجھے دیا تھا اپنے اُوپر لے لیا کہتیں اگر میں مر جاندی تے فیر ساری عمر تو گھڑیاں ای پانیاں سی ۔۔ اُس دن ھونے والا ایک واقعہ جو مجھے اب کبھی یاد آئے تو سارا دن بال نوچنے کو جی کرتا ھے اگر رات میں یاد آئے ساری رات بستر پر نہیں کانٹوں پہ گُزرتی ھے۔ ھاسٹل میں رھتے ھوئے جی کرتا ابھی اُڑ کر ماں کے پاس چلا جائوں اور سر پیٹ پیٹ کر انہی قدموں میں جان دے دوں جب یہ یاد آتا ھے کہ جب ماں جہیز میں ملی ہوئی ہزاروں کی ملکیت رکھنے والی کان کی بالیاں صرف پانچ سو میں بیج کر اُس دن میرے لئے گھڑی لائی۔

فیملی رجسٹریشن سرٹیفیکیٹ کی کاپی کے حصول سے متعلق ارسلان افتخار کی درخواست مسترد کر دی ہے

www.swatsmn.com

ارسلان افتخار کی درخواست مسترد، خاندان کی تفصیلات غیر متعلقہ شخص کو فراہم کرنا غیر قانونی ہے: نادرا


ارسلان افتخار کی درخواست مسترد، خاندان کی تفصیلات غیر متعلقہ شخص کو فراہم کرنا غیر قانونی ہے: نادرا
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے عمران خان کی فیملی رجسٹریشن سرٹیفیکیٹ کی کاپی کے حصول سے متعلق ارسلان افتخار کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ نادرا کے ترجمان نے کہا ہے کہ کسی بھی شہری کے خاندان کی تفصیلات غیر متعلقہ شخص کو فراہم کرنا غیر قانونی ہے۔واضح رہے کہ سابق چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کے بیٹے ارسلان افتخار نے عمران خان کی فیملی رجسٹریشن سرٹیفیکیٹ کے حصول کیلئے نادرا کو درخواست دی تھی جسے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ ایف آر سی یا فارم بی شہری خود یا پھر خاندان کا کوئی رکن حاصل کر سکتا ہے۔واضح رہے کہ ارسلان افتخار نے عمران خان پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے نادرا میں رجسٹریشن کے دوران فیملی سے متعلق حقائق چھپائے ہیں جس کے باعث وہ آئین کے آرٹیکل 62,63 پر پورا نہیں اترتے۔ قبل ازیں ارسلان افتخار نے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے عمران خان کے کاغذاتِ نامزدگی کی کاپی فراہم کرنے کی درخواست کی تھی جسے قبول کر لیا گیا تھا۔ الیکشن کمیشن سے ملنے والے کاغذات نامزدگی میں عمران خان نے دو بیٹوں قاسم خان اور سلمان خان کے نام ہی درج کر رکھے ہیں۔

بھارت ہمارے اہم بولر پر پابندی کیلیے منفی ہتھکنڈے استعمال کررہا ہے

www.swatsmn.comلندن: جیمز اینڈرسن کے معاملے پر ’بگ 2‘ آپس میں الجھ پڑے، انگلینڈ اور بھارت میں تناؤ بڑھ گیا، معاملہ سلجھانے کیلیے آئی سی سی کے وکیل کی ہنگامی آمد کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا۔
انگلش ٹیم منیجر نے بھارتی آل راؤنڈر رویندرا جڈیجا پر ضابطہ اخلاق کے لیول ٹو کی خلاف ورزی کا چارج لگا دیا، وہ ایک ٹیسٹ یا2 ون ڈے میچز کی پابندی کا شکار ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب میزبان کپتان الیسٹرکک نے کہاکہ بھارت ہمارے اہم بولر پر پابندی کیلیے منفی ہتھکنڈے استعمال کررہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق بھارت نے انگلینڈ اور آسٹریلیا کے ساتھ گٹھ جوڑ سے آئی سی سی پر قبضہ کرلیا، مگر اب اسی کونسل کو اپنے ہی پارٹنر کیخلاف استعمال کرنے کی کوشش کررہا ہے۔
اس سے بگ 2 میں پھوٹ پڑتی ہوئی دکھائی دینے لگی۔ جیمز اینڈرسن کے معاملے پر دونوں بورڈز کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہورہا ہے،یہ معلوم ہوا ہے کہ جب بھارتی ٹیم منیجر سنیل دیو نے اینڈرسن پر اپنے آل راؤنڈر رویندرا جڈیجا کو گالیاں اور دھکا دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے انھیں مبینہ طور پر لیول تھری کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا تو آئی سی سی کا ایک وکیل خصوصی طور پر دبئی سے انگلینڈ پہنچا، اس نے دونوں فریقین سے بات کرکے معاملے کو سلجھانے کی کوشش کی مگراس کا کوئی بھی فائدہ نہیں ہوا، اس وجہ سے رپورٹ کے  24 گھنٹوں کے بعد آئی سی سی کو اس معاملے پر قانونی طریقہ کار پر عمل کرنا پڑا، جس کے تحت اب جوڈیشل کمشنرکا تقرر کیا جائیگا جو معاملے کی سماعت کریگا،اگر جیمز اینڈرسن قصور وار قرار پائے گئے تو ان پر کم سے کم 2 ٹیسٹ میچز کی پابندی عائد ہوسکتی ہے۔
جمعرات سے لارڈز میں شروع ہونے والے ٹیسٹ میں اینڈرسن کی شرکت بدستور متوقع ہے کیونکہ ابھی تک جوڈیشل کمشنر کا تقرر نہیں ہوا،اس کیلیے آئی سی سی کی جانب سے انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کو بھیجے جانے والے نوٹس کا جواب موصول ہونا بھی ضروری ہے، دوسری جانب انگلینڈ نے جوابی اقدام کے طور پر جڈیجا کیخلاف کوڈ آف کنڈکٹ لیول ٹوکی خلاف ورزی کا الزام لگا دیا،  وہ ایک ٹیسٹ یا2 ون ڈے میچز کی پابندی کا شکار ہو سکتے ہیں۔ انگلش کپتان الیسٹر کک نے کہاکہ بھارت کی جانب سے رائی کا پہاڑ بنانے کی کوشش کا مقصد ہمارے اسٹرائیک بولرپر پابندی کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔

Wednesday, 16 July 2014

سکا و ٹ تحریک افادیت

www.swatsmn.com
سکا و ٹ تحریک افادیت 
پردول خان 
ڈسٹرکٹ سکاوٹ سکریٹری ضلع سوات 
انسانی زندگی میں بچپن کو بہت اہمیت حا صل ہے ۔آ نے والی زندگی کی خو شی اور کا میا بی کا دار ومدار انہی ابتدائی وا قعات اور تجریبا ت پر ہے ۔اگر روز اول سے بہترین تعلیم و تر بیت حا صل ہو سکے اور سا تھ سا تھ خوش گوار ماحو ل سیدو تفریح کی مناسب سہو لتیں اور منبت سر گر میوں میں بھر پوحصّہ لینے کے مو قع ملتے رہیں ۔تو آنے والی زندگی میںخو شی اور شخصی توازن کے امکا نا ت بہت بڑھ جا تے ہیں ۔ اسکا وٹ تحریک کا مقصد نئی نسل کے کر دار میں ایک صحت مند انقلاب لا نے کے لئے معروف عمل ہے ۔کیونکہ معا شرہ قوم کی کے تو نہا لوں سے تشکیل دیا جا تا ہے ۔ایک فردکا کردار پوری قوم کے کردار کی غما زی کر تا ہے ۔اس سے اچھی طرح اندازہ لگا یا جا سکتا ہے ۔کہ ایک بچے کی صحت تر تیب قومی کردار کی تعمیر میں کس قرار اہمیت کی حا صل ہے ۔ایک ما ہر تعلیم کا قول ہے کہ بچے کی قوت تخلیق کو متحر ک کیا جا ئے تا کہ اس کی دما غی اور جسما نی قو توں کو اجگر ہو نے کا مو قع ملے ۔تعلیم کے سا تھ سا تھ شخصیت کی تعمیر انتہا ئی ضروری ہے اور وہ اس طرح ممکن ہے کہ علم کو عمل کے ذریعے پختہ کیا جا ئے ۔اس لئے اسکا وٹ علم اور عمل پریکسان تو جہ دیتی ہے ۔تر بیتی کیمپوں کے دوران تعلیمی کا م کے سا تھ سا تھ عملی کا م پر بھی ذیا د ہ تو 

جہ دیا جا تا ہے ۔کیو نکہ بچہ اپنے سیکھے ہو ئے کا م پر عمل کر کے دلی مسرت محسوس کر تا ہے ۔ان میں بچپن سے محنت ومشقت کی صلا حیتیں پیدا کر دیتی ہیں ۔سکا وٹ میشن اور مقصد ہے کہ بچوں کو معا شرتی اقدار سکا وٹ وعدہ ، قا نون کی پا سدار ی کر تے ہو ئے ۔ایسی سر گر میاں اور مشا غل مہیا کر نا ہے جس سے ان کو معا شرے کا مفید فرداور اچھا پا کستانی بننے میں مدد سکا وٹ بچوں اور جوانوں کی روحا نی ، ذہنی جسما نی وسما جی نشو ونما میں مدد دیتا ہے تا کہ وہ علا قا ئی اور بین الا قو امی سطح پر ایک ذمہ دار فرد کی حیثیت سے فرائض سرانجام دے سکیں ۔سکا وٹ سر گر میاں بچوں کی کردار اور شخصیت کی تعمیر میں مفید ثا بت ہو تی ہیں ۔ سکا وٹ کے مفید سر گر میوں کی وجہ سے بچوں میں احساس ذمہ دا ری پیدا ہو کر ملک و ملت کے لئے بہترین افراد بن جا تے ہیں ۔سکاوٹ بچوں میںقیادت کی امنگ اور اچھے شہری کی خصو صیات پیدا کر تی ہیں ۔آج سکا وٹ تحریک کی ایک ایسا قا بل تعریف نظام تعلیم کا حصّہ بن گئی ہے ۔اس سکا وٹ تحریک ہی کے ذریعے نو جوانوں بلا واسط معا شرے میں اس مسا ئل کے حل میں مدددیتے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں اور مدد کر تے ہیں ۔جو آج معا شرے میں انسا نیت اور نو جو ان نسل کو در پیش مسائل میںبلکہ سکا وٹس ایسے ہزاروں تعمیر ی کا م کر تے ہیں جو 
یقینا ایک بہتر معا شرہ اور ایک بہتر دنیا کی تعمیر کے لئے نہا یت ضروری ہیں ۔اس سکاوٹ تحریک میں شا مل ہو کر بچوں اور نو جوانوں کے لئے تمام برائیوں سے پاک ایک ایسا پا کستان بننے میں اہم کر دار اداکر سکے جس کی وجہ سے انے والے نسل ہمیں اچھے الفا ظ سے یاد کر تے رہیں ۔

کا ش میں دوسری جماعت کا طالب العلم ہو تا

www.swatsmn.com
تحریر : فضل غفور با چا S.P.E.T 
گور نمنٹ ہا ئیر سیکنڈری سکول منگورہ حاجی بابا
ریاست سوات کے دور حکو مت میں فٹ بال میچوں کا آنکھوں دیکھا حال ہا ئی سکول منگورہ ہائی سکول سید و شریف ، کبل ،مٹہ ،خوا زہ خیلہ ،گا گرہ ، گد یزی ، طو تا لئی ، مدین ،بریکوٹ وغیرہ کے ٹیمیں آپس میں مقابلے کر تے تھے ۔ ایک دن ہا ئی سکول گا گرہ کی فٹ بال ٹیم سفید رنگ کی قمیص اور کا لے رنگ کے نیکر میں میدان میں نکل آئے ۔ جبکہ کچھ کھلاڑیوں کے پاﺅں میں بو ٹس بھی نہ تھے ۔اور دوسرے طرف ہائی سکول سیدو شریف جو کہ آجکل ودودیہ کا نام سے مشہور ہیں ۔کوندِل خان کی کپتا نی میں کا لے رنگ کے قمیص ور نیکر قمیص پر بڑا سا چاند وتا را تھا ہوں کی گوبچ میں نکل آئے ۔ہائی سکول گا گرہ کے ٹیم نے احتجاج کیا کہ ہمارے کھلاڑیوں کے بو ٹس نہیں جبکہ مخالف ٹیم کے کھلا ڑیوں کے بو ٹس ہیں ۔ ریفری اوکمیٹی نے اُن کو چپل میں کھیلنے کی اجا زت دیدی اورہا ف ٹیم تک ہا ئی سکول گا گرہ پر تیرہ گول ہو ئے تھے ۔ جب کبھی گا گرہ کی کھلا ڑی کِک لگا تے تو فٹ بال ایک طرف اور چپل دو سری طرف ہو ا میں لہرائی جا تی تھی ۔ اور پھر یہ مشہو ر ہو ا ! بعد میں جس ٹیم پر زیادہ گول ہو تے تو یہ ایک مثال بن گیا ،، کہ گا گرہ ہے ،، اس سے میرا مراد یہ ہے کہ اُس دور میں کھلا ڑیوںکو اتنی سہو لت بھی میسرنہ تھی جب کہ اجکل اتنی سہو لیا ت کے با وجود کھیلوں کا یہ حال ہے۔اس سال سوات بور ڈ کے زیہ احتما م گرا سی گرا ونڈ میں فضل غفور با چا S.P.E.T  GHSS منگورہ کے زیر نگرانی گور نمنٹ ہا ئی سکول گد یزی بوینر اور جہا نزیب کا لج سوات کے درمیان فٹ بال کا مقا بلہ ہو ا ۔جس میں گدیز ی کی سکول نے جہا نزیب کا لج کو صفہ کے مقا بلہ میں پا نج گو ل سے شکست دیگر انٹر بورڈ ٹو رنا منٹ جیت کیا ۔ اور کھیل کے دو ران شا یقین فٹ بال میں سے گلد نا نے نا می شخص جو کہ فٹ بال کا پُرانا مرا ح ہے ۔ چیخ چیخ کر پکا ر رہے تھے کہ جہا نزیب کا لج سے تو گا گرہ بن گیا ۔ جس پر تمام بو نیر والے ہنس رہے تھے ۔آخر کا ر ہا ئی سکول سید و شریف اور ہا ئی سکول منگورہ جو کہ بنٹر کے نام سے مشہو ر ہیں فا ئنل کے لئے میدان میں نکلے ۔ ہا ئی سکول منگورہ بنڑ کی قیا دت سکندر حیا ت خان کر رہے رتھے جبکہ سید و شریف کی ٹیم کی قیا دت کو ندِل خان کہ رہے تھے ۔ چا ر دن تک کا نٹہ دا ر مقا بلہ ہو ا لیکن کو ئی ٹیم ہا ر تسلیم نہیں کر تی ۔ جنا ب شا ہی رو م خان جو کہ ہا ئی سکول منگورہ کے ہیڈ ما سٹر تھے اور جنا ب حُسین خان (مر حوم ) سید وشریف کے ہیڈ ما سٹر تھے ۔ہر وقت مقا بلے کے لئے تیار رہتے ۔ بات وا لی سوا ت تک جا پہنچی ۔ والی سوات نے اُس وقت کے مشیرا علٰی جنا ب سیف الملوک صاحب کو ر یفری کے فرا ئض انجام دینے کا حکم دیا ۔ کہ کل گیارہ بجے دو نوں ٹیموں کے در میان مقا بلہ ہو گا ۔عبد الحمید خان تھا نیدار (مر حوم )اپنے نفری کے ہمرا ہ گرا ونڈمیں داخل ہو ئے ۔ منگور ہ اور سید و شریف کے تمام کا رو بار بند ہو ا ۔ اور تمام طلبا ءاور لوگ گرا سی گراونڈ کی طرف رو انہ ہو ئے ۔ عثمان خان (مر حوم )جو کہ نشا ط ہو ٹل کے مالک تھے سا ونڈ سسٹم کے تمام انتظا مات اُن کے ذمے تھے ۔سیدو شریف کی طرف سے جیتے گا بھئی جیتے گا سیدو شریف جیتے گا سید و شریف جیتے گا نعرے لگا تے ہو ئے ہا ئی سکول سید و شریف کا ٹیم نمودار ہو ا جبکہ دوسری طرف جیتے گا بھئی جیتے گا نوںکی گو نج میں ہا ئی سکول منگو ر ہ کی ٹیم نمودار ہو ا ۔جب ریفری میدان میں نکلے تو یہ گا نا شروع ہوا ۔( زہ انتظار کومہ ستادہ سترگو ،۔ والے پنا ہ شوے تہ زما دستر گو) کھیل شرو ع ہو ا تو ایک طرف سکندر حیات اور د وسری طرف محمد شیرین سیسہ پھیلا ئی دیوا ر کی طرح ایک دو سری کے حملے پسپا کر تے تھے ۔
 کو ندِل خان اور بنڑ کا ایک کھلاڑی جو کہ مجے کے نام سے مشہور ہے ایک دو سری پر حملے کر تے تھے ۔ عبدالودود (وکیل ) اور اسمعیل (مر حوم ) گول کیپر تھے ۔ جو کہ اس وقت کے مشہو ر گولی کیپر تھے گول بچا نے کے لئے سر تو ڑ کو شش کو رہے تھے ۔منگورہ کی طرف سے ننگر و ٹیم ھئی ھئی کی آواز بلند ہو ا ۔ جبکہ سیدو شریف کی طرف ت ترو والا ھئی کی آواز یں بلند ہو تی ۔آخر کا ر آخر وقت میں منگورہ کی ٹیم نے سید و شریف کی خلا ف ایک گول کر کے فا ئیل جیت لیا ۔میرا والد صا حب جو کہ اس وقت ہائی سکول منگورہ میں استاد تھے ۔ اتنے خوش تھے کہ میں بیان نہیں کر سکتا ۔ اور سچ تینوں بھا ئی جو کہ سید و شریف کے طا لب العلم تھے اتنے پر شیا ن تھے کہ رات کی رو ٹی تک نہیں کھا ئی ۔ ایسا مقا بلہ میری زندگی میں ابھی تک نہیں ہو ا ۔ کیو نکہ ہر طرف جشن کا سماں تھا۔ آخر میں صدر پا کستا ن محمد ایوب خان نے اپنے دست مبارک پر گرا سی گرا ونڈ میں انعا ما ت تقسیم کئے ۔ جناب والی سوا ت کھیلوں سے اتنا محبت رکھتے تھے ۔ کہ کا لج ٹیم کو اپنی در با ر میں بلا کر اُن کو دعو ت دیتے اور اُن کی خوب حو صلہ افزائی کرتے ۔کا ش والی سوات کا دور ہو تا تو ہر طرف کھیل کے میدان ہو تے اور دُنیاکی زیا دہ مقا بلے سوا ت ہی میں ہو تے ۔کیونکہ مجھے خوب یا د ہے کہ ہندو ستان کی ٹیم گرا سی گراونڈ میں فٹ بال میچ کے لئے آئی تھی ۔وہ وقت ابھی بھی مجھ یا د ہے کہ جس طرح بچے آجکل اپنے آپ کو افر یدی ، میا ندا ر ، عمران خان ، کہتے ہیں اس وقت ہم پُرا نے کپڑوں سے فٹ بال بنا کر اپنے آپ کو سکندر حیا ت ، کو ندل خان ، یعقوب خان ، محمدشرین ، مجے ، شرین بہا ر ، احسان اللہ ، شا ہ بخت اور کریم الہا دی کہتے تھے اور اُس پر فخر کر تے ۔اُس وقت بغیر سہو لیا ت کے اُن لو گو ں کو کھیل سے اتنی محبت تھی ۔ اور آج اتنی سہو لیا ت کے با و جو د کھیلوں کا یہی صو رتحال کیوں ۔،،،،،،،،

10th National Desert Hike 2025 (Rambler Badge Hike for Rover Scouts)

10th National Desert Hike 2025  (Rambler Badge Hike for Rover Scouts) Chulistan ,روحی   نیشنل ڈزرٹ ہائیک 2025 تاریخِ عالم اس امر کی شاہد ہے ...